کھانے کا طریق
اس کھانے کے کمرے میں نہایت عمدہ انتظام ہوتا ہے۔ اس میں ممبروں کو اختیار ہے کہ تنہا کھاویں یا چند ممبر جو آپس میں نہایت دوست ہیں، ایک میز پر کھاویں؛ وہ خانساماں کو حکم دیتے ہیں کہ پانچ آدمی یا چھ آدمی یا زائد یک جا کھاویں گے، یہ فی الفور اسی مقدار کی میز کو آراستہ کر دیتا ہے۔ جو ممبر وہاں جاتے ہیں اکثر ٹفن اور رات کا کھانا وہیں کھاتے ہیں، رات کے کھانے میں آپس میں بولنے، ہنسنے، بات چیت کرنے کی کچھ ممانعت نہیں ہے۔
سرسید کلب کے ڈائننگ ہال میں
ہم بھی اس کمرے میں چند دفعہ گئے ہیں مگر ایک رات جب کہ ہمارے دوست ایڈورڈ ٹامسن صاحب نے بلایا تھا، نہایت لطف تھا۔ قریب پندرہ سولہ آدمیوں کے ایک میز پر تھے اور اس میز پر تین شخص ایشیا کے رہنے والے تھے: ایک میں، ایک حاجی محمد حسین خاں سفیرِ شاہِ ایران اور ایک منشی صاحب جن کا نام اس وقت یاد نہیں ہے اور مدرسۃ العالیہ روس کے مدرسِ اول زبانِ فارسی کے تھے اور اسی زمانے میں سینٹ پیٹرزبرگ (پیٹرو گراڈ) سے لندن کی سیر کو آئے تھے۔ نہایت لطف سے وہ کھانا ہوا جس میں سوائے میرے اور سب لوگ نہایت عالم و فاضل و نامی و گرامی اور ایک نہ ایک فن میں مشہور و کامل تھے۔
اوپر کی منزل
اوپر کی منزل اس سے بھی زیادہ عجیب ہے؛ ایک کمرہ نوکروں کے حاضر رہنے کا ہے، ایک کمرہ اس لیے ہے کہ وہاں جا کر چرٹ پی سکیں یا ٹہل سکیں۔
لائبریری
علاوہ اس کے ایک نہایت وسیع کمرہ ہے، سب کمروں سے زیادہ وسیع؛ اس میں جا بجا لکھنے پڑھنے کی میزیں لگی ہوئی ہیں اور اس کے پاس نہایت عمدہ و نفیس کتب خانہ ہے جس میں داروغۂ کتب خانہ حاضر رہتا ہے۔ جو ممبر کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں یا کوئی کتاب یا رسالہ تالیف کرتے ہیں، کوئی مضمون لکھنا چاہتے ہیں یا کسی بات کی تحقیقات پر کچھ لکھتے ہیں، وہ اس کمرے میں جاتے ہیں اور جو جگہ ان کے لیے تجویز ہوتی ہے، وہاں بیٹھ کر اپنا کام کرتے ہیں، جو کتاب درکار ہوتی ہے فی الفور کتب خانے سے ملتی ہے۔
لائبریری میں کامل یکسوئی
یہ کمرہ درحقیقت تصویر کا عالم ہے؛ بات کرنی یا آواز دینی تو درکنار، کھانسنا بھی نامناسب خیال کیا جاتا ہے، اس قدر آہستہ سے اٹھنا اور چلنا ہوتا ہے کہ ذرا آواز نہ ہو بلکہ بقول شخصے کہ حرکت بھی معلوم نہ ہو۔ ہر ایک شخص اپنے خیال میں اور اپنی دھن میں ایسا مصروف ہوتا ہے کہ اس کو دنیا و مافیہا کی خبر نہیں ہوتی۔ بڑے بڑے عالم، دانش مند اپنی فکر اور اپنے علم اور اپنی تحقیقات کا نتیجہ قلم کی زبان سے اس مقام پر دنیا کی اطلاع کے لیے ظاہر کرتے ہیں۔
ایک فاضل انگریز سے ملاقات
اسی کمرے میں ہم نے ڈین اسٹانلے کو دیکھا جو نہایت مشہور عالم لندن میں ہیں۔ وہ کسی امر کی تحریر میں مشغول و مستغرق تھے۔ پہلی دفعہ انھوں نے بے انتہا مہربانی ہم پر یہ کی کہ کرسی پر سے اٹھ کر ہم سے ہاتھ ملایا اور پھر چپکے بیٹھ گئے، یہ پہلی ملاقات تھی۔ ہم خاموش ایک کونے میں کھڑے ہو گئے اور چپکے ان عالموں کو دیکھا کیے جو اپنے اپنے کام میں مصروف تھے۔ ان کو دیکھ کر خدا کی قدرت یاد آتی تھی اور عقل متحیر ہوتی تھی کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں۔
پال مال گزٹ کا ذکر
لندن میں ایک اخبار چھپتا ہے جس کا نام ’’پال مال گزٹ‘‘ ہے۔ ہم کو شبہ پڑ گیا ہے کہ یہ اخبار اسی کلب سے متعلق ہے یا اس سے علیحدہ مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ اس کلب کے اکثر ممبروں کے مضمون اور آرٹیکل اس اخبار میں چھپتے ہیں اور اسی لیے وہ اخبار نہایت عمدہ اور ذی وقعت خیال کیا جاتا ہے۔
ہندوستانی کلب میں کیا ہوتا ہے؟
ہمارے ہم وطن اس مضمون کو پڑھ کر کسی قدر خیال کر سکیں گے کہ یورپ میں کلب کس مقصد کے لیے قائم ہوتا ہے اور کیا نتیجہ اس کلب سے حاصل ہوتا ہے۔ ہندوستان میں اگر کوئی کلب قائم ہو تو اس کا نتیجہ بجز اس کے کہ ایک مکان میں چند صورتیں جمع ہو جاویں اور حقے کی گڑ گڑ بلند آواز ہو اور پانوں کی تواضع کی جاوے اور آپس میں مل کر کچر کچر لغو و بیہودہ باتیں کریں اور قہقہہ اڑاویں، اور کیا ہو سکتا ہے؟ زیادہ ترقی ہو تو ایک دوسرے کو کچھ سخت کہہ بیٹھے، کیا عجب ہے کہ نوبت رنجش اور سخت کلامی و ہاتھا پائی کی پہنچے۔ ان تمام چیزوں کے لیے وہ لیاقت چاہیے جس کے لیے ایسے مجمعے موضوع ہیں۔ جب ہم میں ایسے لوگ ہی موجود نہیں ہیں جو ایسے مقاموں اور ایسے مجمعوں کے لائق ہوں تو کیا نتیجہ ہو سکتا ہے۔
علی گڑھ سائنٹیفک سوسائٹی کا ذکر
ہم نے علی گڑھ سائنٹیفک سوسائٹی قائم کی، اس کے لیے ایسا عمدہ و عالیشان مکان بنایا جو اس وقت تک ہندوستان کے ہندوستانی مجمعوں کے لیے نہیں ہے؛ پھر اس سے کیا نتیجہ ہے؟ ہم وہ آدمی کہاں سے لاویں جو اپنے ملک، اپنی قوم کی بھلائی و ترقی کے لیے کچھ محنت اختیار کریں۔ اس کو جانے دو؛ ہم کو تو ایسے دو چار آدمی بھی نہیں ملتے جو اس مکان میں بیٹھ کر اگر کچھ نہ کریں تو اپنی قوم کی ابتر حالت پر رو ہی دیں۔
سوسائٹی کا باغ
ہاں اس مکان کا باغ ایسا عمدہ آراستہ ہے جو بہت ہی کم اپنا نظیر رکھتا ہے۔ وہ بھی کسی ہندوستانی کی سعی و کوشش کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک فیاض و عالی ہمت اور نیک دل، نیک خصلت، فرشتہ سیرت، ہمہ تن نیکی و سر تا پا خیر، مجسم یورپین لیڈی کا نتیجہ ہے جس نے اپنے شوق و محنت سے اس کو آراستہ کر دیا ہے۔ ہماری قوم میں تو اتنی بھی لیاقت نہیں ہے کہ اس پر فضا باغ کی سیر کے بھی لائق ہوں۔ پس کسی جگہ کلب یا سوسائٹی قائم ہونے سے ہم کو کیا خوشی ہو سکتی ہے؟
ہم وطنوں کو نصیحت
اے ہمارے عزیز ہم وطنو! ہماری قوم کے جو لوگ بوڑھے ہیں وہ کَے دن کے ہیں، ان کو خدا جلد بہشت نصیب کرے گا؛ جو جوان ہیں، ان سے ہاتھ اٹھاؤ، جب درخت کی شاخ سخت (خشک) ہو جاتی ہے وہ ٹوٹ جاتی ہے، پر کسی طرف پھر نہیں سکتی۔ ہاں اپنی اولاد کی جو چھوٹی پود ہے، خبر لو، ان کی تعلیم و تربیت کا فکر کرو۔ تمھاری حالت تمھارے باپ دادا کی حالت سے زیادہ خراب ہے اور تمھاری اولاد کی حالت تم سے بہت بھی زیادہ بدتر اور ابتر ہوگی۔ اگر تم اس کی فکر نہ کرو گے تمھاری ارواح قبر میں ان کے لیے روویں گی۔
قوم کی بہتری تعلیم پر منحصر ہے
سکرٹری محمدن کلب الہ آباد نے اپنی رپورٹ میں مدرسۃ العلوم علی گڑھ کا ذکر کیا ہے۔ ہم نہایت سچے دل سے اور تمھاری نہایت خیر خواہی سے کہتے ہیں کہ صرف یہی ایک علاج ہے جو تمھاری اولاد کی بھلائی و بہتری کے لیے ہو سکتا ہے۔ اے عزیز ہم وطنو! تم نے اس مدرسے کی نہایت ناشکری کی ہے اور بہت کچھ جھوٹ اور محض غلط باتیں اپنی بد اقبالی اور بدقسمتی سے اس کی نسبت کہی ہیں۔ تم کو لازم ہے کہ تم آؤ اور اس کی حالت کو دیکھو اور خود اپنی دریافت اور اپنی تحقیقات سے اس پر رائے قائم کرو اور اس کی تکمیل پر ہمت باندھو۔ دیکھو، سمجھو! یہی تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اس وقت تم جھوٹی باتیں بنا کر ہنس لو، قہقہے اڑا لو مگر یقین جان لو کہ اس کے بعد رونا اور دانت پیسنا ہے۔
سید احمد
