جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ڈاکٹر سر رام کرشن بھنڈارکر

ڈاکٹر بھنڈارکر کے حالاتِ زندگی اُن لوگوں کے لیے خاص طور پر سبق آموز ہیں جن کا صیغہِ تعلیم سے تعلق ہے۔ اُن کی زندگی سے ہم کو سب سے بڑا سبق یہ ملتا ہے کہ اپنے ارادے کا مضبوط اور دُھن کا پورا آدمی خواہ کسی صیغہField میں کیوں نہ ہو عزت و نیک نامی کے اونچے سے اونچے مینار پر چڑھ سکتا ہے۔ ڈاکٹر بھنڈارکر کی ذات میں ذہنی اوصاف کے ساتھ مضبوط ارادہ اور سخت جفا کشی کا ایسا اتحاد ہو گیا ہے جو بہت کم دیکھنے میں آتا ہے۔ اور جو کبھی ناکام نہیں رہ سکتا۔ تاریخی تلاش و تحقیقات میں کوئی ہندوستانی عالم اس وقت آپ کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔ سنسکرت ادب اور صرف و نحو کے آپ ایسے جید عالم ہیں کہ یورپ اور امریکہ کے بڑے ماہرِ السنہ آپ کے سامنے فرقِ عقیدت خم کرتے ہیں۔ پراکرت زبانوں کا اس ملک میں اب نام بھی باقی نہیں۔ پالی، ماگدھی بھاشاؤں کا سمجھنے والا تو درکنار، ان کے حروف شناس بھی مشکل سے ملیں گے۔ اگر علمائے یورپ نے ادھر توجہ نہ کی ہوتی تو یقینًا ان بھاشاؤں کا دنیا میں وجود قائم نہ رہ سکتا۔ ڈاکٹر بھنڈارکر پراکرت زبانوں کے نہ صرف مسلم الثبوت ماہر ہیں۔ بلکہ آپ نے ان میں کتنی ہی تحقیقاتیں بھی کی ہیں۔ تاریخِ زباندانی اور علمِ الاسلاف کے ہر ایک صیغہ میں ڈاکٹر بھنڈارکر کو دستگاہ ہے۔ جرمنی کی مشہور گاٹنگن یونیورسٹی نے آپ کو ڈاکٹر کا خطاب دیا ہے۔ اور گونمنٹ نے آپ کو کے۔ سی۔ ایس۔ آئی۔ اور سر کے خطاب سے عزت افزائی کر کے آپ کے کمالات کا اعتراف کیا ہے۔ آپ کا سن اس وقت 76 سال ہے۔ مگر آپ کا علمی انہماک ابھی تک قائم ہے۔

ڈاکٹر بھنڈارکر کے والد ایک قلیل تنخواہ کے محرر تھے۔ اور اتنا مقدور نہ تھا کہ آپ اپنے لڑکوں کو انگریزی تعلیم کے لیے کسی شہر میں بھیج سکتے۔ مگر حسنِ اتفاق سے 1847ء میں ان کا تبادلہ رتنا گری کو ہوا۔ یہاں ایک انگریزی اسکول کھلا ہوا تھا۔ بچہ رام کرشن نے اسی اسکول میں انگریزی شروع کی اور چھے سال میں یہاں کی تعلیم ختم کر کے ایلفنسٹن کالج میں شریک ہونے کے لیے بضد ہوئے۔ ان کے والد نے پہلے تو انھیں روکنا چاہا۔ کیونکہ ان کی آمدنی اتنی وافر نہ تھی کہ کالج کی تعلیم کے مصارف اُٹھا سکتے۔ مگر لڑکے کو بیقرار دیکھا تو راضی ہو گئے۔ اس وقت تک بمبئی یونیورسٹی قائم نہ ہوئی تھی۔ اور ڈگریاں بھی نہ دی جاتی تھیں۔ مسٹر دادا بھائی نوروجی اُس وقت اس کالج میں پروفیسر تھے۔ رام کرشن نے اپنی ذہانت اور محنت سے بہت جلد طلبا میں ایک ممتاز جگہ حاصل کر لی۔ اور کالج کی تعلیم ختم کرنے کے بعد اسی کالج میں پروفیسر ہو گئے۔ اسی زمانہ میں آپ کو سنسکرت کے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا۔ اور اوقاتِ فرصت اس کی نذر کرنے لگے۔

اسی اثناء میں بمبئی یونیورسٹی قائم ہوئی اور پروفیسروں کو تاکید ہوئی کہ وہ بی۔ اے کی ڈگری حاصل کریں ورنہ اپنے عہدے سے معزول کیے جاویں گے۔ ڈاکٹر بھنڈارکر نے وقتِ معینہ کے اندر ایم اے پاس کر لیا۔ اور حیدر آباد، سندھ کے ہائی اسکول کے ہیڈ ماسٹر مقرر ہو گئے۔ سال بھر کے بعد وہ اپنی پرانی تعلیم گاہ رتنا گری اسکول کی ہیڈ ماسٹری پر تبدیل کیے گئے۔ یہاں اُنہوں نے سنسکرت کی پہلی اور دوسری کتابیں تصنیف کیں۔ یہ کتابیں بہت مقبول ہوئیں۔ اس وقت تک ان کے بیسیوں ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔ سنسکرت زبان کا مطالعہ ان کی بدولت مقابلتاً بہت آسان ہو گیا ہے، اور ان کا رواج ایسا عام ہے کہ کسی مبتدی کا جزدان اُن سے خالی نظر نہ آئے گا۔ دس برس تک آپ ایلفنسٹن اور دکن کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ یہاں تک کہ 1879ء میں ڈاکٹر کیل مارن کے مستعفی ہونے کے بعد آپ دکن کالج میں مستقل پروفیسر ہو گئے۔ اور تب سے پنشن لینے تک اسی عہدہ پر مامور رہے۔

ڈاکٹر بھنڈارکر نے آثار قدیمہ کی تحقیقات اور کھوج میں عالمگیر شہرت حاصل کر لی ہے۔ انھیں یہ شوق کیونکر پیدا ہوا۔ اس کا تذکرہ بہت دلچسپ ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپ جس کام میں ہاتھ لگاتے ہیں اُسے ادھورا نہیں چھوڑتے۔ 1870ء میں ایک پارسی صاحب کو تانبے کی ایک لوح ہاتھ آ گئی۔ یہ کسی پُرانے کھنڈر میں دفن تھی۔ اور اس پر زمانہِ قدیم کی دیو ناگری رسمِ الخط میں کچھ عبارت منقوش تھی۔ پارسی صاحب نے لوح ڈاکٹر بھنڈارکر کو دی کہ شاید وہ کچھ عبارت کا مطلب نکال سکیں۔ ڈاکٹر صاحب اُس وقت تک قدیم حروف سے نا آشنا تھے۔ عبارت کو نہ پڑھ سکے۔ مگر پراکرت کے رسم الخط کا علم حاصل کرنے کی دُھن پیدا ہو گئی۔ یورپین علما نے اس صیغہِ تعلیم میں نہ صرف پیشروؤں کا کام کیا بلکہ اُنھیں اس کا مسیح سمجھنا چاہیئے۔ ڈاکٹر بھنڈارکر نے اس موضوع پر متعدد کتابیں جمع کیں اور نہایت سرگرمی کے ساتھ تحصیل میں مصروف ہوئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اُنہوں نے سال بھر کے اندر اُس لوح کی عبارت کو نہ صرف سمجھ لیا بلکہ اس پر مجلسِ علما میں ایک معرکے کی تقریر کی۔ محض اتنا ہی نہیں بلکہ اس شعبہِ علم سے انھیں مناسبت پیدا ہو گئی۔ اور علمی تفتیش و تحقیقات کا کام شروع ہو گیا۔ آپ نے آثارِ قدیم اور قدیم تاریخی مسائل پر متعدد مضامین لکھے۔ پراکرت اور قدیم تاریخی مسائل باہم اس قدر مخلوط ہیں کہ ایک کو جاننا اور دوسرے سے نابلد رہنا غیر ممکن ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر بھنڈارکر نے پراکرت میں بھی عالمانہ مزاولت حاصل کر لی۔ 1874ء میں لندن میں مُستشرقین کی ایک کانگرس ہوئی۔ آپ بھی مدعو ہوئے۔ مگر خانگی وجوہات کے باعث شریک نہ ہو سکے۔ تا ہم آپ نے ایک محققانہ مضمون لکھ کر بھیجا جس کی وسیع تحقیقات کی بہت تعریف کی گئی۔

1876ء میں السنہ قدیمہ کی ترویج کے خیال سے پروفیسر ولسن کی یادگار میں سالانہ تدریس و تقریر کے لیے ایک جگہ قائم کی گئی۔ اور اس عالمانہ منصب پر ڈاکٹر بھنڈارکر فائز ہوئے۔ اُنھیں کئی انگریز علما کے مقابلہ میں ترجیح دی گئی۔ ہندوستان میں اس منصب کے وہی مستحق تھے۔ اپنی خلقی سرگرمی و یکسوئی کے ساتھ وہ اس کام میں مصروف ہوئے۔ اور سنسکرت، پراکرت اور موجودہ بھاشاؤں پر اُنہوں نے جو لکچر دیئے وہ کمالِ تحقیق اور تاریخی انکشافات کے لحاظ سے بہت عرصہ تک یادگار رہیں گے۔ ان کی تیاری میں ڈاکٹر بھنڈارکر کو ریاضت شاقہ کرنی پڑی۔ مگر ایسی خدمات کا جو کچھ بہترین صلہ مل سکتا ہے وہ ہاتھ آ گیا۔ علما نے بڑی کشادہ دلی سے داد دی۔ اور گورنمنٹ کو بھی عملی طور پر قدر دانی کرنے کا جلد موقع مل گیا۔ یہ تجویز کچھ عرصہ سے درپیش تھی کہ ہندوستان کے قدیم غیر مطبوع مسودات سنسکرت کی تلاش کی جائے اور ان کا مجموعہ تاریخی تحقیقات کے لیے علماء کے روبرو رکھا جائے۔ کیونکہ مورخین کا خیال تھا کہ ہندوستان میں ازمنہ قدیم کی مستند تاریخ مدون کرنے کے مسالہ کی کمی نہیں۔ وہ جا بجا کھنڈروں میں پرائیویٹ کتب خانوں میں حوادثِ روزگار سے جانیں بچا بچا کر چھپے پڑے ہوئے ہیں۔ اور اُن کے مطالعہ سے اس زمانہ کی تاریخ پر بہت کچھ روشنی پڑ سکتی ہے۔ مگر اُن کو ڈھونڈھ نکالنا آسان کام نہ تھا۔ یہ اہم خدمت ڈاکٹر بھنڈارکر کو عطا ہوئی۔ اور اُنہوں نے اس کام کو جس قابلیت سے انجام دیا وہ حسنِ تعریف سے مستغنیٰ ہے۔ نہ صرف متعدد بیش بہا مسودے ڈھونڈھ نکالے۔ بلکہ اُن پر محققانہ رپورٹ بھی تیار کی جو پانچ ضخیم جلدوں میں ختم ہوئی ہے۔ اس صیغہ میں ڈاکٹر بھنڈارکر نے پیشرو کا کام کیا ہے۔ اور مزید تحقیقات کے لیے میدان صاف کر دیا ہے۔ مفصل تفصیل کی ضرورت نہیں، کہ اُنھیں اس کام میں کبھی کبھی موانعات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس ملک میں جس شخص کے قبضہ میں کوئی پُرانی کتاب ہے، خواہ وہ حُسن و عشق کا قصہ ہی کیوں نہ ہو، وہ اُسے نسخہ کیمیا سمجھے ہوئے بیٹھا ہے، اور گوارا نہیں کرتا کہ کسی غیر کی پردہ شکن نگاہ اُس پر پڑے۔ ایسے لوگوں کی تالیفِ قلب کرنا ڈاکٹر صاحب ہی کا کام تھا۔ آج یہ ضخیم رپورٹ علما و مورخین کے لیے نظارۂ حیرت بنی ہوئی ہے۔ اور شاید کچھ دنوں تک اُسے لوگ دقیق مطالعہ، صحیح امتیاز اور مورخانہ تحقیق کا نمونہ سمجھتے رہیں گے۔

1886ء میں ویانا میں مستشرقین کی ایک کانگرس پھر منعقد ہوئی۔ اب کی بار ڈاکٹر بھنڈارکر نے دعوت منظور کر لی۔ اور یورپ کے حالات کا غائر نگاہوں سے مطالعہ کیا۔ اس کے ایک سال بعد گورنمنٹ آف انڈیا نے اُنھیں سی۔ آئی۔ ای۔ کا خطاب عطا کر کے علم و فضیلت کی قدر دانی فرمائی۔ مطالعہ اور تحقیقات کا یہ شغل جاری رہا۔ یہاں تک کہ پنشن کا زمانہ آ پہنچا، اور ڈاکٹر بھنڈارکر نے پونا میں سکونت اختیار کی، مگر ملک کو ایسی اُن کی خدمات کی ضرورت تھی۔ 1901ء میں آپ بمبئی یونیورسٹی کے وایس چینسلر مامور ہوئے۔ یہ ان کے مسلسل احسانات اور حسنِ خدمات کا اعتراف تھا۔