جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ڈاکٹر سر رام کرشن بھنڈارکر

متذکرہ بالا علمی مشاغل کے علاوہ ڈاکٹر بھنڈارکر نے بمبئی گزیٹیر کے لیے قدیم دکن کی ایک تاریخ لکھی جس پر ہر ایک صورت سے تاریخ کا صحیح اطلاق کیا جا سکتا ہے۔ وہ نہ صرف واقعات کی ایک جامع فہرست ہے بلکہ اس سے اسلامی حملوں سے قبل کے طرزِ معاشرت، رسم و رواج، اور آئین و قوانین پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ اس تاریخ کا مسالہ ادھر اُدھر منتشر پڑا ہوا تھا۔ ان کو جمع کرنا اُن کی تقدیم و تاخیر کا تصفیہ اور ان بکھرے ہوئے سنگریزوں سے ایک عالی شان عمارت کھڑی کرنا دشوار کام تھا۔ حق یہ ہے کہ ڈاکٹر بھنڈارکر خلقتاً طالب علم واقع ہوئے ہیں۔ فطرت نے اُنھیں جانچ پڑتال کا زبر دست ملکہ عطا کیا ہے۔ علم سے اُنھیں عشق ہے۔ ایک پیاس ہے جو کسی طرح نہیں بجھتی۔ وہ جب کسی طرح علمی مسئلہ کو ہاتھ میں لیتے ہیں تو اس کی تحقیق میں ہمہ تن محو ہو جاتے ہیں، اور اُس کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سطحی معلومات سے اُن کی تحقیق پسند طبیعت کو تسکین نہیں ہوئی۔ بیدلی اور کم توجہی سے اُنہوں نے کوئی کام نہیں شروع کیا۔ اور اپنے شاگردوں میں بھی اس عادت کو کبھی روا نہیں رکھا۔ مناظرہ و مجادلہ میں بھی اُنھیں کمال حاصل ہے۔ وہ بہت تعمیم و توجیہ کے بعد علمی مسئلے قائم کرتے ہیں، اور تنقید و تبصیر کے تیز ترین شعلے بھی اُن کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ عالمانہ ضد سے بھی اُنہوں نے کافی حصہ پایا ہے، اور جب اَڑ جاتے ہیں تو کسی طرح نہیں ٹلتے۔ وہ ایک وقت ایک ہی مسئلے کی طرف رجوع ہوتے ہیں، اور اپنے دماغ کی مجموعی قوت اُس پر صرف کر دیتے ہیں۔ اس لیئے جب کبھی مباحثہ کی ضرورت ہوتی ہے تو استدلال اور تمثیل سے کامل طور پر مسلح ہو کر میدان میں اُتر آتے ہیں۔

پروفیسر بھنڈارکر کا اپنے شاگردوں کے ساتھ ہمیشہ بہت شریفانہ اور ہمدردانہ برتاؤ رہتا تھا۔ ایک اچھے اتالیق کے فرائض یہ ہیں کہ وہ اپنے شاگردوں کا رہنما، دوست، مشیر کار ہو۔ ڈاکٹر بھنڈارکر نے اس معیار کو ہمیشہ پیش نظر رکھا ہے۔ ہونہار لڑکوں کی آپ بقدرِ ضرورت مالی امداد بھی فرمایا کرتے تھے۔ اُن کے طلباء کو اُن پر کامل اعتماد تھا، اور اپنی ترددات و مشکلات میں وہ ڈاکٹر صاحب ہی سے مشورہ کرتے اور اُس پر کار بند ہوتے۔ بیشتر پروفیسروں کی طرح وہ اپنی ذمہ داریوں کو صرف لیکچر ہال تک محدود نہیں کرتے تھے۔

طلباء کے لیے اُن کے مکان پر کسی وقت روک ٹوک نہ تھی۔ ایک زندہ مثال سے جو تعلیمی اور اخلاقی مقاصد پورے ہو سکتے ہیں وہ پند و نصائح کے دفتروں سے بھی نہیں ہو سکتے۔ ڈاکٹر بھنڈارکر اپنے طلباء کے لیے ہمدردی، حسنِ اخلاق، اور آزادی کی زندہ مثال تھے۔ اور چونکہ یہ ان کے نمایشی نہیں بلکہ طبعی اور ارادی اوصاف تھے اس لیے طلباء کے دلوں پر نقش ہو جاتے تھے۔ سنسکرت کے پروفیسروں کو اکثر یہ شکایت رہتی ہے کہ طلباء دیگر مضامین کے مقابلہ میں اس کی طرف بہت کم توجہ کرتے ہیں۔ حالانکہ سنسکرت ادب کی خوبیاں اور نازک خیالیاں ان کی ضیافتِ طبع کا کافی سامان مہیا کرتی ہیں۔ ڈاکٹر بھنڈارکر کو کبھی یہ شکایت نہیں ہوئی۔ ان کے لیکچر ہمیشہ محویت سے سنے جاتے تھے۔ طلباء کو وقت کی شکایت ذرا بھی محسوس نہ ہوتی۔ کچھ تو مضمون متعلقہ اُن کی کاملانہ قدرت، اور کچھ اُن کی طبعی سرگرمی اور زندہ دلی توجہ اور خیال پر جادو کا اثر کر دیتی۔ بمبئی میں اُنہوں نے سنسکرت کے مطالعہ کا شوق پیدا کرنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کے شاگردوں میں ایسے شاذ ہی نکلیں گے جنھیں سنسکرت زبان کی لطافت کا چسکا نہ پڑ گیا ہو۔ اُنہوں نے ہمیشہ معاملاتِ زندگی میں آزادانہ روش اختیار کی۔ تملق اور بیجا خوشامد سے اُنہوں نے اپنی زبان کو آلودہ نہیں کیا، اور غالباً کبھی اسباب خارجی سے دبکر اپنے اصول اور عمل میں نا موافقت نہیں ہونے دی۔ اُن کی زندگی ترغیبات سے بے لوث رہی ہے۔ اُتنی ہی جتنی کہ انسان کے امکان میں ہے۔ اُنھیں شاید کسی بات سے اتنا روحانی صدمہ نہیں جتنا کہ اپنے اخلاق پر بیجا حملے سے۔ اُنہوں نے مراعات و عنایات کی کبھی ہوس نہیں کی۔ شہرت و جاہ طلبی سے محترز رہے۔ یہ وہ کمزوریاں ہیں جو بعض اوقات بہترین انسانوں کو گمراہ کر دیتی ہیں۔ آزاد اور بے لوث دلوں پر اُن کا جادو نہیں چلتا۔ تا ہم گورنمنٹ کی نظرِ الطاف اُن کی مساعدت کرتی رہی۔ وہ اعلیٰ ترین اعزازات اور خطابات جن کے لیے لوگ ترستے ہیں اُنھیں بے مانگے مل گئے۔ سی۔ آئی۔ ای پہلے ہی ہو چکے تھے۔ جشنِ دربار کے موقع پر اُنھیں سی۔ ایس۔ آئی کا خطاب عطا ہوا۔ اگر ثبوت درکار ہو تو یہ اس امر کا کافی ثبوت ہے کہ موردِ عنایات ہونے کے لیے ہمیں اپنی خود داری اور حق پسندی کے خون کرنے کی مطلق ضرورت نہیں۔ جو لوگ ایسا سمجھتے ہیں اور اُن کی تعداد بے تعداد ہے، وہ نہ صرف اپنی کم نگاہی کا اظہار کرتے ہیں، بلکہ گورنمنٹ کی نسبت و انصاف اور دانائی کو بدنام کرتے ہیں۔ حالانکہ بہت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات گورنمنٹ کے آئینِ التفات اس خیال کی تصدیق کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ آزادی اور حق پسندی اُس کے لیے چنداں ضروری نہیں ہے۔

ڈاکٹر بھنڈارکر میں ایک بڑا وصف یہ ہے کہ وہ عالمانہ تعصب سے پاک ہیں۔ دیگر علما کی طرح اُنہوں نے کبھی اپنے ہمعصروں کی ناقدری نہیں کی، بلکہ شروع سے اُن کا رویّہ یہ رہا کہ دوسروں کے دل میں بھی تحقیق و تلاش کا شوق پیدا کریں، اُن کی حوصلہ افزائی کریں، اور مشورہ اور ہدایت سے اُن کے معاون ہوں تا کہ اُن کے بعد اس شعبہ میں دلچسپی لینے والوں کا قحط نہ ہو جائے۔

الغرض ڈاکٹر بھنڈارکر کی ذات مبارک ہندوستان کے لیے مایہ ناز ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ ہندوستانی لوگ علم کے دقیق شعبوں میں بھی یورپین علما کے دوش بدوش گام زن ہو سکتے ہیں۔ جرمن، فرانس، انگلستان سبھی ملکوں کے علما آپ کے معتقد ہیں، اور ہم کو، جو اُن کے ہم وطن ہونے کا فخر رکھتے ہیں، اُن کی زندگی ایک کھلی ہوئی کتاب ہے۔ جس میں جلی حروف میں لکھا ہوا ہے کہ ”استقلال، انتظام اور نگاہ کامیاب زندگی کے راز ہیں“۔ جسٹس چندر وارکر نے، جن کو آپ سے فخرِ تلمذ حاصل ہے، آپ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے۔

”سر بھنڈارکر نے، باوجود متعدد مشکلات کے، اپنے برتاؤ میں لگاؤ نہیں رکھا، اور کبھی شہرت کی فکر نہیں کی۔ اُنہوں نے ہمیشہ حق کی وکالت کی ہے“۔ مگر حق کو ملائم اور شیریں الفاظ میں چھپا کر نا حق پسندوں کی دلجوئی اور دلداری نہیں کی۔ آپ برہمو سماج کے پیرو ہیں اور ذات پات اور چھوت چھات کی تفریق کو قومیت کے منافی سمجھتے ہیں۔ بھگوت گیتا اور اُپنشد آپ کی زندگی کے نورِ ہدایت ہیں۔ یہی آپ کی روحانی تشفی اور صفائیِ قلب کے ذریعے ہیں۔ مورتی پوجن یا اصنام پرستی پر آپ کا اعتقاد نہیں۔ آپ کو ویدوں اور اُپنشدوں اور بھگوت گیتا میں مورتی پوجن کی کوئی سند نہیں ملتی۔ آپ نے بہت تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ رسم ہندوؤں نے جین اور بدھ فرقوں سے لیا ہے۔ اگر چہ جینیوں اور بودھوں کا خالقِ بالا و صاف پر عقیدہ نہیں تھا، مگر جب اُن کے علما اور اولیا انتقال کرتے تو وہ اُن کی یاد گار میں بت اور پیکر نصب کیا کرتے تھے۔ ہندوؤں نے یہ رواج اُن سے لیا، اور اُسی نے اب بت پرستی کی صورت اختیار کر لی ہے۔ باوجود اس کے، اکثر تعلیم یافتہ ہندو مورتی پوجن کے ایسے گرویدہ ہیں اور اُس پر ایسا پختہ اعتماد ہے گویا یہی ہندو مت کی جان ہے۔ تمدنی معاملات میں آپ اصلاح کے پیرو ہیں، اور عملی طور پر اس کا اظہار کر چکے ہیں۔ مئی 1891ء میں آپ نے اپنی بیوہ لڑکی کی شادی کر کے اپنی اخلاقی جرات کا ثبوت دے دیا۔ جو مدعیانِ اصلاح میں ایک کامیاب وصف ہے۔ جس قوم میں ایسے نفس پاک پیدا ہوتے رہیں اُس کے مستقبل کی نسبت کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔