چیخوف روس کا مشہور افسانہ نگار ہے۔ اس کا تخیل بہت حد تک مشرقی ہے۔ اس لئے اردو میں اس کے افسانوں کے تراجم بہت مقبول ہو رہے ہیں۔ چیخوف زندگی کی آمد کی تصویر کھینچنے میں کمال رکھتا ہے۔ لیکن خود ان سے متاثر نہیں ہوتا۔ اگرچہ اس افسانہ میں چیخوف کی خصوصیات نمایاں نظر نہیں آتیں لیکن یہ افسانہ اپنی بعض خصوصیات کی وجہ سے اس قابل ہے کہ اسے چیخوف کے بہترین نتائجِ فکر میں شمار کیا جائے۔
”گاڑی والے تمہارے پہلو میں دل نہیں، پتھر ہے۔ تم کبھی دامِ الفت میں گرفتار نہیں ہوئے! بوڑھے میاں، اسی وجہ سے تم میرے فلسفۂ دل کو نہیں سمجھ سکتے۔ یہ بارش میری دلی حرارت کو سرد نہیں کر سکتی۔ بالکل اسی طرح جیسے کہ آگ بجھانے والی جماعت شعلۂ آفتاب کو سرد نہیں کر سکتی۔ میں اپنے تئیں کس شاعرانہ حیثیت سے پیش کر رہا ہوں! مگر تم تو شاعر نہیں ہو، ہے نا گاڑی والے؟“
”ہاں، فی الحقیقت میں شاعر نہیں ہوں۔“
”اچھا تو اب ادھر دیکھو۔“
زہرخوف کرایہ دینے کو اپنی جیبیں ٹٹولنے لگا “میرے دوست، ہم نے سوا روبل کرایہ ٹھہرایا تھا۔ لو یہ رہا تمہارا کرایہ ایک روبل اور تین کاپک۔ اور لو یہ پانچ کاپک انعام۔ خداحافظ۔ مجھے بھولنا نہیں۔ اور ہاں ذرا یہ ٹوکرا اٹھا کر زینے پر رکھ دو۔ اس میں اس عورت کا لباسِ رقص ہے جو مجھے اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔”
گاڑی والے نے طوعاً و کرہاً ٹوکرا اٹھایا اور اندھیرے میں کیچڑ میں پھسلتا ہوا راستہ طے کر کے اسے پھاٹک تک لے گیا، جہاں اسے سیڑھیوں پر رکھ دیا۔
’’کیسا خراب موسم ہے!‘‘ وہ بڑبڑایا اور پھر ایک آہِ سرد اور ایک چھینک کے بعد اپنی نشست گاہ پر بیٹھ گیا۔ اور اپنے بوڑھے گھوڑے کو ایک چابک لگایا جو غیر متعین قدموں سے کیچڑ میں گاڑی گھسیٹنے لگا۔
”میرے خیال میں وہ تمام چیزیں جن کی ضرورت تھی موجود ہیں‘‘، زہرخوف گھنٹی ٹٹولتے ہوئے بولا۔ نادیا نے مجھے درزن کے پاس بھیجا تھا کہ اس کے کپڑے لیتا آؤں، سو وہ یہ لیتا آیا۔ اس نے مجھ سے مٹھائی اور مکھن کی فرمائش کی تھی، سو وہ یہ ہے۔ اور گلدستہ یہ رہا۔ پھر وہ گانے لگا۔’’مرحبا اے معبد ما مرحبا‘‘
پھر وہ بولا ’’مگر گھنٹی کدھر گئی؟‘‘ لیکن سخت تاریکی کے باوجود زہرخوف نے گھنٹی کا سراغ لگا ہی لیا اور اس کو بجانے پر دروازے کی دوسری جانب قدموں کی چاپ سنائی دی۔
’’کون ہے؟ ذیمتری گریگوریوچ زہرخوف نا؟‘‘ ایک خادمہ کی آواز نے سرگوشی کی۔
’’ہاں ونشیا، میں ہی ہوں۔‘‘ زہرخوف نے جواب دیا۔ ’’جلدی سے دروازہ کھولو۔ میں بھیگ کر بالکل شرابور ہو چکا ہوں۔‘‘ خادمہ ونشیا نے دروازہ کھول کر تاثر آمیز آواز میں سرگوشی کی ”اتنے میں زور سے مت بولئے اور اندر نہ آیئے گا۔ ”آقا“ آج ہی پیرس سے آیا ہے، آج ہی شام کو آیا۔“
’’آقا‘‘ کے لفظ پر زہرخوف چونک پڑا۔ اور ایک لحظے کے لئے اس پر وہی خوف طاری ہو گیا جو بہادر آدمی پر اپنی محبوبہ کے شوہر کے ملنے کے خیال پر پیدا ہوتا ہے۔ خادمہ دروازہ بند کر کے چلی گئی۔
’’چہ خوش!‘‘ زہرخوف نے خیال کیا۔ ’’اب کیا؟ کیا اس کے معنی ’’رجعت قہقری‘‘ ہیں۔ اف مجھے اس کا خیال تک بھی نہ تھا‘‘۔
دفعتاً وہ خوش اور خندہ جبیں ہو گیا۔ آدھی رات کو طوفانِ ابر و باد میں اس کو قصبے سے یہاں آنا تعجب خیز معلوم ہوتا تھا اور اب نادیشدا کے شوہر کے ملنے کے خیال نے اسے اور بھی زیادہ متحیر کر دیا۔
”خدا کی قسم بہت دلچسپ لطیفہ ہے‘‘، اس نے کہا ’’مگر اب میرا کیا حشر ہو گا؟ گھر واپس چلوں؟ ہونہہ؟‘‘
موسلادھار پانی برس رہا تھا اور ہوا درختوں میں شور کر رہی تھی مگر اندھیرے میں نہ بارش نظر آتی تھی، نہ درخت۔ پانی اس انداز سے سرسراتا ہوا غاروں میں گر رہا تھا کہ گویا اس پر خندہ زن ہے یا اس پر طنز کر رہا ہے۔ وہ زینے جن پر وہ کھڑا تھا، بے سایہ تھے، اس لیے وہ بالکل بھیگ گیا تھا۔
”وہ آیا بھی تو خاص طور پر ایسے موسم میں‘‘، اس نے ایک قہقہے کے ساتھ خیال کیا ”شیطان تمام شوہروں کو غارت کرے‘‘۔ نادیشدا آسیپونا سے اس کا عشق ایک مہینہ پہلے شروع ہوا تھا مگر اب تک وہ اس کے شوہر سے نہ ملا تھا۔ وہ صرف اس قدر جانتا تھا کہ نادیشدا کا شوہر ایک فرانسیسی ہے جس کا نام بائیو ہے۔ اس کی تصویر سے زہرخوف نے یہ اندازہ لگایا تھا کہ وہ متوسط طبقے کا ایک معمولی چہل سالہ انسان ہے۔ اس کی فرانسیسی سپاہیوں جیسی چھوٹی مونچھیں اور داڑھی اس کو نپولین کا ہم قوم ظاہر کرتی تھیں۔ اور اس کو دیکھ کر آپ یہ سوال ضرور پوچھ بیٹھتے ’’کیا خبر ہے موسیولی سرجنٹ؟‘‘
زہرخوف نم کیچڑ میں گرتا پڑتا چند قدم آگے بڑھا اور پکارنے لگا ”گاڑی۔ گاڑی۔‘‘ گاڑی والےنے کوئی جواب نہ دیا۔ ’’ذرا بھی آواز نہیں!‘‘ زہرخوف سیڑھیوں کی طرف تاریکی میں بڑھتے ہوئے بڑبڑایا۔
”اپنی گاڑی میں نے واپس کردی اور یہاں دن کو بھی گاڑی نہیں مل سکتی۔ خوب پھنسے صبح تک یہیں ٹھہرنا پڑے گا، ٹوکرا بھیگ جائے گا اور لباس خراب ہو جائے گا۔ اس میں دو سو روبل خرچ ہوئے ہیں خوب مٹی پلید ہوئی۔“
زہرخوف کو اپنے اور ٹوکرے کے لئے جائے پناہ سوچتے ہوئے یاد آگیا کہ اس گرمائی محل کے پاس ایک میدانِ رقص تھا جہاں ایک ذرا سا خیمہ تھا۔
’’کیا اسی خیمے میں چلوں؟‘‘ اس نے خود سے سوال کیا ”خیال تو ٹھیک ہے لیکن کیا میں ٹوکرے کو اتنی دور تک لاد کر لے جا سکوں گا؟ اچھا خاصا خچر بھر کا بوجھ ہے۔ گلدستہ اور مکھن کو شیطان کے سپرد کرتا ہوں‘‘
اس نے ٹوکرا اٹھایا لیکن خیمے کے راستے میں اسے یاد آگیا کہ پانچ منٹ کے اندر ہی ٹوکرا بھیگ جائے گا۔ اور کپڑے برباد ہو جائیں گے۔
’’ایں ہم اندر عاشقی بالائے غم ہائے دگر‘‘ وہ ہنسنے لگا، ”چہ خوش! پانی میری گردن پر سے بہ رہا ہے۔ اررر۔ نمی سردی اور خمار اور پھر لطف یہ ہے کہ کوئی گاڑی والا بھی موجود نہیں۔ اب میری تمنا یہی ہے کہ اس کا شوہر چھڑی ہاتھ میں لے کر باہر نکلے اور مجھے اس قدر سزا دے کہ میں نیلا پڑ جاؤں۔ خیر۔ میں یہاں صبح تک ٹھہر ہی نہیں سکتا ورنہ لباس برباد ہو جائے گا۔ خیر میں پھر گھنٹی بجاتا ہوں اور یہ چیزیں خادمہ ونشیا کے سپرد کرتا ہوں کہ وہ ان کو نادیشدا تک پہنچا دے اور خود خیمے میں پناہ لوں گا۔“
زہرخوف نے آہستہ سے گھنٹی بجائی ایک لحظے کے بعد قدموں کی چاپ سنائی دی اور دروازے کی درز سے روشنی آنے لگی۔
’’کون ہے؟‘‘ ایک کرخت مردانی آواز نے غیر ملکی لہجے میں سوال کیا۔
”جنگو کی قِسم، یہ اس کا شوہر ہے‘‘، زہرخوف نے خیال کیا۔ ’’اب مجھے کوئی قصہ تراشنا پڑے گا۔‘‘ پھر اس نے بآواز بلند کہا ’’کیا یہ زیلیشکن کا مکان ہے؟‘‘
’’کون شیطان؟ یہاں کوئی زیلیشکن نہیں اور تم زیلیشکن کو کلبۂ ابلیس میں تلاش کرو۔‘‘
کسی وجہ سے زہرخوف قدرے گھبرا گیا، اور معافی چاہتے ہوئے کھانسنے لگا۔ زینے سے نیچے اترتے ہوئے اس کا پیر پھسلا اور اس نے اپنے تئیں کیچڑ میں شرابور پایا۔ اس کو غصہ آیا مگر وہ فوراً قہقہہ لگانے لگا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اپنی اس افتاد کو وہ مزاحیہ پیرائے میں اپنے دوستوں اور شاید اپنی نادیشدا سے بھی بیان کرے گا اور اس کے دوست ہنستے ہنستے لوٹ جائیں گے۔
”صرف ایک چیز سنگِ راہ ہے۔ لباس بھیگ جائے گا،“ اس نے خیال کیا، ’’اور اگر نادیشدا کا لباس میرے پاس نہ ہوتا تو میں کب کا خیمے کی چھت کے تلے سوتا ہوتا۔‘‘
وہ ٹوکرے کو بچانے کے خیال سے اس پر بیٹھ گیا مگر اس کے لباس اور ٹوپی پر سے پانی بادلوں سے بھی زیادہ زور سے برس رہا تھا۔
نصف گھنٹے تک پانی میں کھڑے رہنے کے بعد زہرخوف نے اپنی صحت کے متعلق خیال کرنا شروع کیا۔
”مجھے بہت آسانی سے زکام ہو جائے گا۔ بڑے پھنسے! پھر گھنٹی بجاؤں؟ ہوں، میرے خیال میں بجانا ہی پڑے گا اور اس کا شوہر دروازہ کھولے گا تو میں یہ ٹوکرا اس کے سپرد کروں گا۔ کوئی قصہ تراش کر خود صبح تک آرام کروں گا۔ خیر، ہر چہ باداباد، پھر گھنٹی بجاتا ہوں۔‘‘
جس طرح کوئی طالب علم اپنے مدرسے کا دروازہ کھٹکھٹائے، زہرخوف نے گھنٹی بجائی۔ کچھ دیر خاموشی رہی، پھر اس نے دوبارہ گھنٹی بجائی۔
’’کون ہے؟‘‘ کسی غصیلی آواز نے کرخت فرانسیسی لہجے میں سوال کیا۔
’’کیا مادام بائیو یہیں رہتی ہیں؟‘‘ زہرخوف نے ادب سے کہا۔
’’ہاں لیکن۔۔۔تم کیا چاہتے ہو؟‘‘
”مادام کاٹش درزن نے مادام بائیو کو اس کا لباس تیار کر کے بھیجا ہے۔ معاف کیجیے، دیر بہت ہو گئی! واقعہ یہ ہے کہ مادام بائیو نے کہا تھا کہ ان کا لباس جلد سے جلد بھیج دیا جائے۔ صبح ہونے سے پہلے موسم بہت ناخوشگوار ہے۔ ہوں۔ بڑی مشکل سے میں یہاں پہنچا، شام کو قصبے سے نکلا تھا لیکن۔۔۔‘‘
