زہرخوف کے جملہ ختم کرنے سے پہلے ہی موسیو بائیو ایک چھوٹے لیمپ کی روشنی میں دروازہ کھول کر باہر نکلا۔ وہی موسیو بائیو جس کو اس نے تصویر میں دیکھا تھا۔
’’آپ کو تکلیف دینے کا بہت افسوس ہے،’’ زہرخوف نے سلسلۂ کلام جاری رکھا، ’’لیکن مادام بائیو کا حکم تھا کہ ان کا لباس جلد سے جلد روانہ کر دیا جائے! ہاں، میں مادام کاٹش کا بھائی ہوں۔ اور موسم نہایت ناخوشگوار ہے۔‘‘
’’بہت خوب،‘‘ بائیو نے ٹوکرا لیتے ہوئے کہا۔ ”آپ کی بہن کا شکریہ۔ میری بیوی نے اپنے لباس کا ایک بجے تک انتظار کیا، کوئی موسیو اس کا اسباب لے کر آنے والے تھے۔“
اور جناب مہربانی کر کے یہ گلدستہ اور مکھن بھی مادام بائیو کو دے دیجیے گا۔ وہ اسے مادام کاٹش کے یہاں بھول آئی تھیں۔
بائیو نے مکھن اور گلدستہ لے لیا اور ان کو یکے بعد دیگرے سونگھا۔ اور پھر دروازہ بند کیے بغیر کھڑا رہا۔ وہ زہرخوف کی طرف دیکھتا رہا اور زہرخوف اس کی طرف۔ ایک لحظے تک خاموشی طاری رہی۔ زہرخوف کو یاد آگیا کہ اس کو آج کی افتاد اپنے دوستوں سے مزاحیہ پیرائے میں بیان کرنی تھی۔ اس نے فرانسیسی سے مذاق کرنا چاہا مگر اس کو کوئی مذاق بھی نہ سوجھا۔ فرانسیسی اس کی طرف کھڑا دیکھتا رہا۔
’’خطرناک موسم،‘‘ زہرخوف بڑبڑایا، ”تاریکی، نمی اور کیچڑ میں بالکل شرابور ہو چکا ہوں۔“
’’ہاں موسیو، آپ بالکل بھیگ چکے ہیں۔‘‘
’’طرفہ تماشا یہ ہے کہ میری گاڑی بھی روانہ ہو چکی ہے، سمجھ میں نہیں آتا کہاں جاؤں؟ جناب، آپ کی بڑی مہربانی ہو گی اگر آپ بارش کے رکنے تک برآمدے میں ٹھہرنے کی اجازت دیں گے۔‘‘
’’آہ، معزز موسیو، اپنے جوتے اتار کر اندر آئیں، کوئی مضائقہ نہیں۔ بہت خوب۔‘‘
بائسیو نے دروازہ بند کر کے زہرخوف کی ایک چھوٹی نشستگاہ کی طرف رہنمائی کی۔ زہرخوف نے کمرے کو حسب معمول پایا۔ فرق اتنا تھا کہ میز پر شراب کا ایک ساغر بھی رکھا ہوا تھا۔ اور کمرے کے درمیان میں کرسیوں پر ایک تنگ چٹائی پڑی ہوئی تھی۔
’’بڑی سردی ہے،‘‘ بائسیو نے میز پر لیمپ رکھتے ہوئے کہا، ’’میں پیرس سے کل ہی اس ملک میں آیا۔ سب ممالک گرم اور خوشگوار ہیں، مگر یہاں روس میں سردی اور مچھر چچازاد بھائیوں کی طرح بہت سخت تکلیف پہنچاتے ہیں۔‘‘ اور پھر اس نے شراب کا نصفِ جام زہر مار کیا۔
’’رات بھر نیند نہیں آتی،‘‘ وہ چٹائی پر سر رکھ کر کہنے لگا۔ مچھر تھے ہی اور کوئی حیوان نما انسان آکر زیلیشکن کی بابت سوال کرنے لگا۔
فرانسیسی نے خاموش ہو کر سر جھکا لیا گویا وہ بارش کے تھمنے کا منتظر ہے۔ زہرخوف نے خیال کیا کہ اس وقت اس سے گفتگو کرنا سلیم الطبعی کا باعث ہوگا۔
’’آپ نہایت پرلطف زمانے میں پیرس میں تھے،‘‘ اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا ”آپ کے قیام پیرس ہی کے زمانے میں تو بولا نگر نے استعفٰی داخل کیا۔“ پھر زہرخوف نے گرپوی دریولدے اور ژولا وغیرہ کی نسبت باتیں کرنی شروع کیں، مگر اسے معلوم ہو گیا کہ اس کے مخاطب نے پہلی مرتبہ ان مشہور فرانسیسی سیاست دانوں کے نام سنے۔ پیرس میں بائسیو صرف چند کارخانہ داروں اور اپنی پھوپھی مادام بلیسر کو جانتا تھا اور پھر کسی کو نہیں جانتا تھا۔ سیاسی اور ادبی گفتگو کا یہ نتیجہ ہوا کہ بائسیو سراسیمہ اور خشمناک نظر آنے لگا کیونکہ وہ ان دونوں میدانوں میں نابلد محض تھا۔۔ بہرحال وہ شراب کا ایک جام چڑھا کر چٹائی پر دراز ہو گیا۔ ’’کمبخت مچھر!“ وہ چلایا اور اپنی ٹانگیں کھجلاتا ہوا دوسرے کمرے میں چلا گیا جہاں زہرخوف نے اسے کسی کو جگاتے اور فرانسیسی میں یہ کہتے ہوئے سنا، ’’ال یے لا موسیو کس کوی تا ایپورتے لا روب۔‘‘ واپس آکر اس نے شراب کا ایک اور جام چڑھایا اور ’’میری بیوی آتی ہو گی،‘‘ اس نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا۔
’’میرے خیال میں تم کو روپے کی ضرورت ہے۔‘‘
”چہ خوش!“ زہرخوف نے خیال کیا، ’’نادیشدا آسیپونا آتی ہو گی، مگر مجھے یہ ظاہر کرنا پڑے گا کہ میں اس کو نہیں جانتا۔‘‘
لباس کی رگڑ سنائی دی، دروازہ کسی قدر کھلا اور زہرخوف نے اپنی محبوبہ کا گیسودار چہرہ سرخ رخسار اور مخمور آنکھیں دیکھیں۔
’’مادام کاٹش کے یہاں سے کون آیا ہے؟‘‘ نادیشدا آسیپونا نے سوال کیا، مگر زہرخوف کو دیکھ کر اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکل گئی، مگر وہ قہقہہ لگاتی ہوئی اندر داخل ہوئی، ’’اوہ، یہ تم ہو؟ مگر یہ کیا گت ہے؟ تمہارے کپڑے اس قدر نم اور گرد آلود کیوں ہیں؟‘‘
زہرخوف لال پڑ گیا۔ اس کی آنکھیں سنجیدہ ہو گئیں اور ایک عالمِ کشمکش میں اس نے بیچارگی کے ساتھ بائسیو کی طرف دیکھنا شروع کیا۔
’’آہ، اب میں سمجھی!‘‘ خاتون نے کہنا شروع کیا، ’’تم جاکس باسیو سے ڈرتے ہو؟ شاید تمہاری ملاقات نہیں ہے؟ وہ میرا شوہر بائسیو ہے۔ تم میرا لباس لے آئے، بہت شکریہ۔ آؤ، مجھے نیند آرہی ہے۔‘‘ پھر اس نے اپنے شوہر کی طرف مڑ کر کہا، ’’جاکس، تم سو جاؤ تو سفر کی تکان دور ہو جائے گی۔‘‘
بائسیو نے زہرخوف کو تعجب سے دیکھا اور اپنے شانوں کو جنبش دے کر ایک جام چڑھا گیا۔ زہرخوف نے بھی اپنے شانوں کو جنبش دی اور نادیشدا آسیپونا کے ساتھ دوسرے کمرے میں چلا گیا۔
زہرخوف نے افقی آسمان اور گرد آلود سڑک کو دیکھا اور خیال کرنے لگا، ’’اے گردوغبار، شیطان تعلیم یافتہ کو کس قدر بہکاتا ہے!“پھر وہ حقیقت اور غیر حقیقت، پاک باطنی اور خبثِ نفس پر غور کرنے لگا، اور ان لوگوں کی طرح جو افتادِ زمانہ کے ہاتھوں مجبور ہو کر بہت سے سبق حاصل کر چکے ہوں، گھر جانے کا ارادہ کرنے لگا۔ وہ نشستگاہ سے جھپٹ کر داخل ہوا اور سوتے ہوئے جاکس بائسیو کے پاس سے ہو کر گزرا۔
راستے بھر وہ خاموش رہا اور حتی الامکان بائسیو کا خیال نہ آنے دیا، کیونکہ وہ بائسیو سے ناانصافی کرنے پر شرمندہ تھا، اور اس مرتبہ اس نے گاڑی والے سے کوئی بات نہ کی، اور اس کا دل سخت بیتاب تھا۔
