جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

فنِ بلاغت

معانی و الفاظ کی مناسبت

حسنِ کلام کا ایک بڑا نکتہ یہ ہے کہ مضامین کی نوعیت کے لحاظ سے الفاظ استعمال کیے جائیں۔ لفظ چونکہ آواز کی ایک قسم ہے اور آواز کی مختلف اقسام ہیں۔ مُہیب، پُررعب، سخت، نرم، شیرین، لطیف۔ اسی طرح الفاظ بھی صورت اور وزن کے لحاظ سے مختلف طرح کے ہوتے ہیں۔ بعض نرم، شیریں، اور لطیف ہوتے ہیں۔ بعض سے جلالت، اور شان ٹپکتی ہے، بعض سے درد، اور غمگینی، ظاہر ہوتی ہے۔ اسی بنا پر غزل میں سادہ، شیریں، سہل، اور لطیف، الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔ قصیدے میں پُرزور اور شاندار الفاظ کا استعمال پسندیدہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح رزم و بزم، مدح و ذم، فخر و ادعا، وعظ و پند ہر ایک کے لیے جدا جدا الفاظ ہیں۔ شعرا میں سے جو اس نکتہ سے آشنا ہیں وہ ان مراتب کا لحاظ رکھتے ہیں اور یہ ان کے کلام کی تاثیر کا بڑا راز ہے۔ لیکن جو اس فرقِ مراتب سے واقف نہیں، یا ہیں لیکن ایک خاص رنگ اُن پر اس قدر چڑھ گیا ہے کہ ہر قسم کے مضامین میں ایک ہی قسم کے لفظ ان کی زبان سے ادا ہوتے ہیں، ان کا کلام بجز ایک خاص رنگ کے بالکل بے اثر ثابت ہوتا ہے۔ یہی نکتہ ہے کہ سعدی سے رزم، اور فردوسی سے بزم، نہیں نبھ سکتی۔ فردوسی نے جہاں حضرت یوسف کی نالہ و زاری کو اپنی کتاب یوسف زلیخا میں لکھا ہے، لکھتا ہے

ع۔ بغرید یوسف دگر بارہ زار

ترجمہ یوسف ایک بار پھر زار و قطار چلّائے۔

رزم، بزم، فخر، حسرت، شوق۔ ہر ایک مضمون کے لیے خاص خاص قسم کے الفاظ موزوں ہیں اور ان مضامین کے لیے انہی الفاظ کو استعمال کرنا چاہیے۔ مثلاً ایک شاعر نے جلال اور غیظ کو ان الفاظ میں ادا کیا ہے۔

کم تھا نہ ہمہمہ اسدِ کردگار سے

نکلا ڈکارتا ہوا ضیغم کچھار سے

کیا جانے کس نے ٹوک دیا ہے دلیر کو

سب دشت گونجتا ہے یہ غصہ ہے شیر کو

تھا یہ بپھرا ہوا عباس مرا شیر جوان

سینۂ حُر پہ رکھے دیتا تھا نیزہ کی سنان

لرزہ تھا رعبِ حق سے ہر اک نابکار کو

روکے تھا ایک شیرِ جری دس ہزار کو

ان اشعار میں جو الفاظ آئے ہیں، جس طرح اُن کے معنی غیظ و غضب کے ہیں اُسی طرح ان الفاظ کی آواز اور لہجہ سے بھی ہیبت اور غیظ و غضب کا اظہار ہوتا ہے۔

کلام کی فصاحت

یہ بحث مفرد الفاظ سے متعلق تھی۔ لیکن کلام کی فصاحت میں صرف، لفظ کا فصیح ہونا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی ضرور ہے کہ جن الفاظ کے ساتھ وہ ترکیب میں آئے، ان کی ساخت، ہیئت، نشست، سُبکی، اور گرانی کے ساتھ اس کو خاص تناسب اور توازن ہو، ورنہ فصاحت قایم نہ رہے گی۔ قرآن مجید میں ہے مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَى۔ فواد، اور قلب، دو ہم معنی الفاظ ہیں، اور دونوں فصیح ہیں۔ لیکن اگر اس آیت میں فواد کے بجائے قلب کا لفظ آئے تو خود یہی لفظ غیر فصیح ہو جائے گا۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ گو قلب کا لفظ بجائے خود فصیح ہے لیکن ما قبل اور ما بعد کے جو الفاظ ہیں اُن کی آواز کا تناسب، قلب کے لفظ کے ساتھ نہیں ہے۔

میر انیس کا مصرعہ ہے۔

فرمایا آدمی ہے کہ صحرا کا جانور

صحرا اور جنگل ہم معنی ہیں اور دونوں فصیح ہیں۔ انیس نے مختلف موقعوں پر ان دونوں لفظوں کا استعمال کیا ہے اور ہم معنی ہونے کی حیثیت سے کیا ہے۔ لیکن اگر اس مصرعہ میں صحرا کے بجائے جنگل کا لفظ آ جائے تو یہی لفظ غیر فصیح ہو جائے گا۔ ذیل کے شعر میں۔

طائر ہوا میں مست، ہرن سبزہ زار میں

جنگل کے شیر گونج رہے تھے کچھار میں

اگر جنگل کے بجائے صحرا لاؤ تو مصرع کا مصرع پھُس پھُسا ہو جاتا ہے۔

شبنم اور اوس ہم معنی ہیں اور برابر درجہ کے فصیح ہیں لیکن اس شعر میں ۔

کھا کھا کہ اوس اور بھی سبزہ ہرا ہوا

تھا موتیوں سے دامن صحرا بھرا ہوا

اگر اوس کے بجائے شبنم کا لفظ لایا جائے تو فصاحت خاک میں مل جائے گی۔ یہی اوس کا لفظ جو اس موقع پر اس قدر فصیح ہے، اس مصرع میں

شبنم نے بھر دیئے تھے کٹورے گلاب کے

شبنم کے بجائے لایا جائے، تو فصاحت بالکل ہوا ہو جائے گی۔

اس میں نکتہ یہ ہے کہ ہر لفظ چونکہ ایک قسم کا سُر ہے، اس لیے یہ ضرور ہے کہ جن الفاظ کے سلسلہ میں وہ ترکیب دیا جائے اُن آوازوں سے اُس کو خاص تناسب بھی ہو ورنہ گویا دو مخالف سُروں کو ترکیب دینا ہو گا۔ نغمہ اور راگ مفرد آوازوں یا سُروں کا نام ہے۔ ہر سُر بجائے خود دلکش اور دلاویز ہے۔ لیکن اگر دو مخالف سروں کو باہم ترکیب دے دیا جائے تو دونوں مکروہ ہو جائیں گے۔ راگ کے دلکش اور موثر ہونے کا یہی گُر ہے کہ جن سُروں سے اُس کی ترکیب ہو اُن میں نہایت تناسب اور توازن ہو۔

الفاظ بھی چونکہ ایک قسم کی صوت اور سُر ہیں، اس لیے ان کی لطافت، شیرینی، اور روانی، اُسی وقت تک قائم رہتی ہے جب گرد و پیش کے الفاظ بھی لَے میں اُن کے مناسب ہوں۔

دبیر کا مشہور مصرع ہے،

زیرِ قدمِ والدہ فردوس بریں ہے

اس میں جتنے الفاظ ہیں یعنی زیر۔ قدم۔ والدہ۔ فردوس۔ بریں۔ سب بجائے خود فصیح ہیں لیکن ان کے باہم ترکیب دینے سے، جو مصرعہ پیدا ہوا ہے وہ اس قدر بھدا اور گراں ہے کہ زبان اس کا تحمل نہیں کر سکتی۔ شاید تم کو خیال ہو کہ مصرعہ کی ترکیب چونکہ فارسی ہو گئی ہے۔ اس لیے ثقل پیدا ہو گیا ہے، لیکن یہ صحیح نہیں۔ سیکڑوں شعروں میں اس قسم کی فارسی ترکیبیں ہیں، لیکن یہ ثقل نہیں پایا جاتا۔ مثلاً میر انیس کہتے ہیں۔

میں ہوں سردارِ شبابِ چمنِ خُلدِ بریں

میں ہوں خالق کی قسم دوش محمد کا مکیں

پہلے مصرعہ میں فارسی ترکیب کے علاوہ، توالیِ اضافات بھی موجود ہے، لیکن یہ بھدا پن اور ثقل نہیں ہے۔

جب کسی مصرعہ یا شعر کے تمام الفاظ میں ایک خاص قسم کا تناسب، توازن، اور توافق، پایا جاتا ہے اور اس کے ساتھ وہ تمام الفاظ بجائے خود بھی فصیح ہوتے ہیں، تو وہ پورا مصرعہ یا شعر فصیح کہا جاتا ہے۔ یہی چیز ہے جس کو بندش کی صفائی، نشست کی خوبی، ترکیب کی دلاویزی، برجستگی، سلاست، اور روانی، سے تعبیر کرتے ہیں، یہی چیز ہے جس کی نسبت خواجہ حافظؒ فرماتے ہیں۔

آن را کہ خوانی اُستاد، گر بنگری بتحقیق

صنعت گر است اما شعرِ روان ندارد

ترجمہ جسے تم استاد کہتے ہو، اگر تحقیق سے دیکھو۔ وہ کاریگر تو ہے لیکن اس کی شاعری میں روانی نہیں ہے ۔

الفاظ کے توازن و تناسب سے کلام میں جو فرق پیدا ہو جاتا ہے وہ ایک خاص مثال میں آسانی سے سمجھ میں آ سکتا ہے۔ میر انیس حضرت علی اکبرؑ کی اذان دینے کی تعریف ایک موقع پر اس طرح کرتے ہیں

تھا بلبل حق گو کہ چہکتا تھا چمن میں

اسی مضمون کو دوسرے موقع پر اس طرح ادا کرتے ہیں

بلبل چہک رہا ہے ریاض رسول میں

وہی مضمون ہے، وہی الفاظ ہیں، لیکن ترکیب کی ساخت نے دونوں مصرعوں میں کس قدر فرق پیدا کر دیا ہے۔

ایتلاف الوزن مع المعنی

ترکیب الفاظ کے لحاظ سے شعر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ کلام کے اجزاء کی جو اصلی ترتیب ہے وہ بحال خود قائم رہے۔ مثلاً فاعل، مفعول، مبتدا، خبر، متعلقاتِ فعل، جس ترتیب کے ساتھ ہر وقت بول چال میں آتے ہیں، یہی ترتیب شعر میں باقی رہے۔ اگرچہ اس میں شبہ نہیں کہ اس ترتیب کا بعینہ قائم رہنا قریب قریب ناممکن ہے۔ صرف ایک آدھ شعر یا بہت سے بہت، شعر دو شعر میں اتفاقیہ یہ بات پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً سعدیؒ کے یہ اشعار۔

بدو گفتم کہ مُشکی یا عبیری

کہ از بوئے دلاویزِ تو مستم

ترجمہ میں نے اس سے کہا کہ تُو مُشک ہے یا عنبر۔ کہ میں تیری دلکش خوشبو سے مست ہوں۔

بگفتا من گلے نا چیز بودم

ولیکن مدتے با گل نشستم

ترجمہ اُس (مٹی) نے کہا میں ایک حقیر مٹی تھی ۔ لیکن کچھ عرصہ پھول کی صحبت میں رہی ۔

جمال ہمنشین در من اثر کرد

وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم

ترجمہ ہم نشین کے جمال (اچھی صحبت) نے مجھ پر اثر کیا ہے ۔ ورنہ میں تو وہی خاک ہوں جو میں (حقیقتاً) ہوں۔

لیکن چونکہ نظم کا در حقیقت، سب سے بڑا کمال یہی ہے کہ اگر اُس کو نثر کرنا چاہیں تو نہ ہو سکے اور یہ اُسی وقت ہو سکتا ہے جب شعر میں الفاظ کی وہی ترتیب باقی رہے جو نثر میں معمولاً ہوا کرتی ہے۔ اس بنا پر شاعر کو کوشش کرنی چاہیے کہ اگر اصلی ترتیب پوری پوری قائم نہیں رہ سکتی تو بہر حال اس کے قریب قریب پہنچ جائے۔ جس قدر اس کا لحاظ رکھا جائے گا اُسی قدر شعر زیادہ صاف، برجستہ، روان، اور ڈھلا ہوا ہو گا۔ مثلاً یہ اشعار۔

کچھ تو ہوتے بھی ہیں وحشت میں جنوں کے آثار

اور کچھ لوگ بھی دیوانہ بنا دیتے ہیں

دل نہیں مانتا جہاں جاؤں

ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں