نعیمہ نے اُسی انداز سے جواب دیا۔ تم نے مجھے بیوی بنا کر نہیں، معشوق بنا کر رکھا۔ تم نے مجھے ناز برداریوں کا عادی بنا دیا لیکن فرض کا سبق نہیں پڑھایا۔ تم نے کبھی نہ اپنی باتوں سے، نہ فعلوں سے، مجھے یہ خیال کرنے کا موقعہ دیا کہ اس محبت کی بنیاد فرض پر ہے۔ تم نے مجھے ہمیشہ رعنائیوں اور مستیوں کے طلسم میں پھنسا رکھا اور مجھے نفس کی وارفتگیوں کا غلام بنا دیا۔ جس کی کشتی پر اگر فرض کا ناخدا نہ ہو تو پھر اُسے بجز دریا میں ڈوب جانے کے اور کوئی چارہ نہیں۔ لیکن اب ان باتوں سے کیا حاصل۔ اب تو تمہاری غیرت کی کٹار میرے خون کی پیاسی ہے اور یہ سرِ تسلیم اُس کے سامنے خم ہے۔ ہاں میری اب آخری تمنا ہے اگر تمہاری اجازت پاؤں تو کہوں؟
یہ کہتے کہتے نعیمہ کی آنکھوں میں اشک کا سیلاب آ گیا اور حیدر کی غیرت اُس کے سامنے نہ ٹھہر سکی۔ غمگین انداز سے بولا۔ کیا کہتی ہو؟
نعیمہ نے کہا۔ اچھا اجازت دی ہے تو انکار مت کرنا۔ مجھے ایک بار پھر اُن اچھے دنوں کی یاد تازہ کر لینے دو۔ جب موت کی کٹار نہیں۔ محبت کے پیکان جگر کو چھیدا کرتے تھے۔ ایک بار پھر مجھے اپنے آغوش الفت میں لے لو میری آخری التجا ہے۔ ایک بار پھر اپنے ہاتھوں کو میرے گردن کا حمائل بنا دو۔ بھول جاؤ کہ میں نے تمہارے ساتھ دغا کی ہے۔ بھول جاؤ کہ یہ جسم گنہ آلود اور ناپاک ہے۔ مجھے سینہ سے لگا لو۔ یہ تلوار مجھے دے دو تمہارے ہاتھوں میں یہ زیب نہیں دیتی۔ تمہارے ہاتھ میرے اوپر نہ اُٹھیں گے۔ دیکھو کہ ایک کمزور عورت کس دلیری سے غیرت کی کٹار کو اپنے جگر میں رکھ لیتی ہے۔
یہ کہہ کر نعیمہ نے حیدر کے کمزور ہاتھوں سے وہ شمشیر آبدار چھین لی اور اُس کے سینہ سے لپٹ گئی۔ حیدر جھچکا، لیکن وہ صرف عارفانہ جھچک تھی۔ غیرت اور جذبہ انتقام کی دیوار ٹوٹ گئی۔ دونوں ہم آغوش ہو گئے اور دونوں کی آنکھیں اُمڈ آئیں۔
نعیمہ کے چہرہ پر ایک دلاویز جان بخش تبسم نظر آیا اور متوالی آنکھوں میں مسرت کی سُرخی جھلکنے لگی۔ بولی آج کیسا مبارک دن ہے کہ دل کی سب آرزوئیں پوری ہوتی جاتی ہیں لیکن یہ کمبخت آرزوئیں کبھی پوری نہیں ہوتیں۔ اس سینہ سے لپٹ کر اب مئے اُلفت کے بغیر نہیں رہا جاتا۔ تم نے مجھے کتنی بار پریم کے پیالے پلائے ہیں۔ اُس شیشہ و ساغر کی یاد نہیں بھولتی۔ آج ایک بار پھر مئے اُلفت کے دور چلنے دو۔ بادۂ مرگ سے پہلے الفت کی شراب پلا دو۔ ایک بار پھر میرے ہاتھوں سے پیالہ لے لو اور میری طرف اُنھی پیار کی نگاہوں سے دیکھ کر، جو کبھی آنکھوں سے نہ اُترتیں تھیں، پی جاو۔ مرتی ہوں تو ہنسی خوشی سے مروں۔
نعیمہ نے اگر عصمت کھو کر عصمت کی قدر جانی تھی تو حیدر نے بھی محبت کھو کر محبت کی قدر جانی تھی۔ اس پر اس وقت ایک مدہوشی کا عالم طاری تھا۔ ندامت اور التجا اور سرِ تسلیم، یہ غصہ اور انتقام کی مہلک دشمن ہیں اور ایک نازنین کے نازک ہاتھوں میں تو اُن کی کاٹ شمشیر آبدار کو بھی مات کر دیتی ہے۔ مئے ناب کے دور چلے اور حیدر نے مستانہ بلانوشی کے ساتھ پیالے پر پیالے خالی کرنے شروع کیے۔ اُس کے جی میں بار بار آتا تھا کہ نعیمہ کے پیروں پر سر رکھ دوں اور اُس سے التجا کروں کہ پھر میرے اُس اُجڑے ہوئے آشیانے کو آباد کر۔ پھر سُرور کی کیفیت پیدا ہوئی اور اپنے قول و فعل پر اُسے اختیار نہ رہا۔ وہ رویا، گڑگڑایا، منتیں کیں، یہاں تک کہ اُن دغا کے پیالوں نے اُسے سر نگوں کر دیا۔
(5)
حیدر کئی گھنٹے تک بے سُدھ پڑا رہا۔ وہ چونکا تو رات بہت کم باقی رہ گئی تھی۔ اُس نے اُٹھنا چاہا لیکن اُس کے ہاتھ پیر ریشم کی ڈوریوں سے مضبوط بندھے ہوئے تھے۔ اس نے بھوچک ہو کر اِدھر اُدھر دیکھا۔ نعیمہ اُس کے سامنے وہی خنجر آبدار لیے کھڑی تھی۔ اُس کے چہرے پر ایک قاتلانہ تبسم کی سُرخی تھی۔ فرضی معشوق کی سفاکی و خنجر بازی کے ترانے وہ بارہا کہہ چکا تھا مگر اُس وقت اُسے اس نظارہ سے شاعرانہ لطف اُٹھانے کا جیوٹ نہ تھا۔ خطرہ جان نشہ کے لیے ترشی سے بھی زیادہ قاتل ہے۔ گھبرا کر بولا نعیمہ؟
نعیمہ نے تیز لہجہ میں کہا۔ ہاں میں ہوں نعیمہ۔
حیدر غصہ سے بولا۔ کیا پھر دغا کی وار کی؟
نعیمہ نے جواب دیا۔ جب وہ مرد جسے خدا نے شجاعت اور قوت اور حوصلہ دیا ہے دغا کی وار کرتا ہے تو اُسے مجھ سے یہ سوال کرنے کا کوئی حق نہیں۔ دغا اور فریب یہ عورتوں کے ہتھیار ہیں۔ کیونکہ عورت کمزور ہوتی ہے لیکن تم کو معلوم ہو گیا ہو گا کہ عورت کے نازک ہاتھوں میں یہ ہتھیار کیسی کاٹ کرتے ہیں۔ یہ دیکھو یہ وہی شمشیر آبدار ہے جسے تم غیرت کی کٹار کہتے تھے اب یہ غیرت کی کٹار میرے جگر میں نہیں تمہارے جگر میں چبھے گی۔ حیدر! انسان تھوڑا کھو کر بہت کچھ سیکھتا ہے۔ تم نے غیرت و حرمت۔ ننگ و ناموس سب کچھ کھو کر بھی کچھ نہ سیکھا۔ تم مرد تھے، ناصر تمہارا رقیب تھا۔ تمھیں اُس کے مقابلہ میں اپنی تلوار کے جوہر دکھانا تھا۔ لیکن تم نے نرالی روش اختیار کی اور ایک بیکس عورت پر دغا کا وار کرنا چاہا۔ اور اب تم اُسی عورت کے سامنے بے دست و پا پڑے ہوئے ہو۔ تمہاری جان بالکل میری مٹھی میں ہے میں ایک لمحہ میں اُسے مسل سکتی ہوں اور اگر میں ایسا کروں تو تمھیں میرا منت گزار ہونا چاہیئے کیونکہ ایک مرد کے لیے غیرت کی موت بے غیرتی کی زندگی سے اچھی ہے۔ لیکن میں تمہارے اوپر رحم کروں گی۔ میں تمہارے ساتھ فیاضی کا برتاؤ کروں گی کیونکہ تم غیرت کی موت کے مستحق نہیں ہو۔ جو غیرت چند میٹھی باتوں اور ایک پیالہ شراب کے ہاتھوں بک جائے وہ اصلی غیرت نہیں ہے۔ حیدر تم کتنے سادہ لوح ہو۔ کیا تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ جس عورت نے عصمت جیسی بے بہا جنس دے کر یہ عیش اور تکلف پایا ہے وہ زندہ رہ کر ان نعمتوں کا سُکھ لوٹنا چاہتی ہے۔ جب تم سب کچھ کھو کر زندگی سے بیزار نہیں ہو تو میں سب کچھ پا کر کیوں موت کی خواہش کروں۔ اب رات بہت کم رہ گئی ہے۔ یہاں سے جان لے کر بھاگو ورنہ میری شفاعت بھی تمھیں ناصر کے غصہ کی آگ سے نہ بچا سکے گی۔ تمہاری یہ غیرت کی کٹار میرے قبضہ میں رہے گی اور تمھیں یاد دلاتی رہے گی کہ تم نے عزت کے ساتھ غیرت بھی کھو دی۔
