دوسرے لوگوں کی طرح میں بھی اسے مونی ہی کے نام سے جانتا تھا، مونی کا نام تو شاید کچھ اور تھا۔ لیکن ہر شخص اسے نہایت بے تکلفی سے مونی کہتا تھا، ایک بات جو میں نے خاص طور پر دیکھی۔ وہ یہ تھی کہ مونی کبھی کسی سے رسمی طریقے سے نہ ملتا، ناواقف سے بھی وہ ہاتھ پر ہاتھ مار کر کوئی بھونڈا سا مذاق کر دیتا۔ عام طور پر وہ لوگوں سے نہایت ٹوٹی پھوٹی اردو میں بات کرتا، جس سے وہ ظاہر یہ کرنا چاہتا تھا کہ وہ اچھی انگریزی میں گفتگو کر سکتا ہے۔ ’’بھائی صاحب اور یار‘‘ ان دو نقطوں کا سہارا لے کر وہ تمام باتیں کرتا، مونی کے فقرے کچھ اس قسم کے ہوتے،
’’اب تو بھائی صاحب میری بات مانو گے نا یار‘‘؟
مجھے تو مونی سے پہلی ہی ملاقات میں نفرت ہو گئی۔ چھوٹتے ہی اس نے مجھ سے پوچھا ’’آپ ایران گئے ہو بھائی صاحب‘‘؟ میں نے کہا ایران تو بہت دور ہے، میں تو بمبئی بھی نہیں گیا، اس نے کہا ’’چھوڑو یار! تم نے دیکھا کیا ہے یار‘‘ پھر اس نے نہایت لچھے دار انگریزی میں کہا کہ اسے وہ دن کبھی نہیں بھولیں گے جب وہ عراق میں تھا۔ یہ کہہ کر وہ چلا گیا۔ میں نے اپنے جاننے والوں سے کہا کہ اس کا ذہن بہت ناپختہ ہے۔
مونی کی عمر زیادہ سے زیادہ پندرہ برس کی ہو گی۔ لیکن ابھی سے وہ اپنی تازہ تازہ اگی ہوئی مونچھوں کی تراش میں بہت وقت صرف کرتا تھا، گو ابھی اس کی مونچھیں ایسی تھیں جن کا ایک ایک بال گنا جا سکتا ہے، ہر روز وہ ایک نیا سوٹ پہنتا اور پھر جان بوجھ کر گھاس پر بیٹھ جاتا جیسے اسے اپنی پتلون کی کریز کا کوئی احساس ہی نہیں۔ ایک دن اس نے میرے ایک دوست سے کہا کہ اس کا باپ ہر مہینے اسے چار سو روپے بھیجتا ہے لیکن اس کا خرچ پھر بھی زیادہ ہو جاتا ہے، میرے دوست نے جب یہ بات مجھے بتائی تو میں نے کہا ’’مونی کی کیا بات کرتے ہو، وہ تو بالکل بچہ ہے‘‘۔
جب میری اس سے دوسری ملاقات ہوئی تو وہ اپنے چند دوستوں میں بیٹھا اپنے متعلق ڈینگیں مار رہا تھا، میں نے سوچا۔ آخر اس کی ہاں میں ہاں ملانے میں ہرج ہی کیا ہے۔ چنانچہ میں نے ہر بات میں اس کی تائید کرنی شروع کر دی، باتوں باتوں میں اس نے کہا کہ اگر میں چاہوں تو کالج میں سٹرائک کرا دوں۔ میں نے فوراً کہا ہاں واقعی تمہاری تو ہر لڑکے سے دوستی ہے۔ وہ بڑے غصے سے بولا۔ آپ تو نئے نئے آئے ہو، بھائی صاحب، کہیں پچھلے سال ہوتے تو تمہیں پتہ چلتا۔ یہ کہتے وقت اس کا چہرہ ایسا بن گیا جیسے اسے کوئی دکھ پہنچا ہو۔ لیکن جلد ہی وہ ہنسنے لگا۔ ہنستے وقت مونی کا چہرہ عجیب سا بن جاتا ہے۔ بالکل جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ گدگدی کئے جانے پر ہنسنے لگے، مونی ہنستا ہوا بڑا پیارا معلوم ہوتا ہے۔ یا کم از کم مجھے اس وقت وہ بہت بھلا لگا، گفتگو کہیں سے کہیں پہنچ گئی لیکن میں اس کے چہرے کو دیکھتا رہا۔ وہ خوبصورت نہیں تھا۔ اور نہ اس میں کوئی خاص کشش تھی۔ لیکن کچھ عجیب بے داغ سا چہرہ تھا اس کا، بالکل صاف اور متناسب، نرم نرم سا چہرہ۔ یہ مجھے یاد نہیں کہ کتنی دیر اس کو تکتا رہا۔ لیکن میں اس وقت چونکا جب مونی اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مار کر ہنس رہا تھا۔ بڑے سخت ہاتھ تھے اس کے، لمبی لمبی سوکھی سی انگلیاں، اور میرا جی چاہا کہ مونی میرے زور سے تھپڑ مارے لیکن وہ فوراً اٹھ کر چلا گیا، کچھ عرصے کے لئے مجھے احساس ہوا کہ شاید اسے میری خواہش کا پتہ چل گیا ہے۔ لیکن وہ جا چکا تھا، میں بھی اٹھ کھڑا ہوا،
اسی شام جب میں تھکا ماندہ ہوسٹل کو لوٹا تو اپنے کمرے میں بیٹھنے کو دل نہ چاہا۔ میں نے کامن روم کا رخ کیا، مونی کا کمرہ بیچ ہی میں پڑتا تھا، خواہ مخواہ میں اس کے کمرے کی طرف مڑ گیا، وہ بیٹھا اپنا سکاؤٹنگ چاقو صاف کر رہا تھا۔ میں نے جاتے ہی اپنے آپ کو اس کے بستر پر گرا دیا، مجھے احساس ہوا جیسے میری نبض بہت تیز چلنے لگی ہے، کچھ دیر خاموشی رہی۔ اس کے بعد۔
’’آپ بہت تھکے ہوئے ہو یار‘‘؟
’’بہت‘‘
’’کرکٹ کھیلتے رہے ہو‘‘؟
’’نہیں، پڑھتا رہا ہوں‘‘۔
پھر اس نے کہا۔ ’’کیا پڑھنا ہے آپ نے بھائی صاحب۔ میں اگر پڑھوں تو یونیورسٹی میں ریکارڈ رکھ دوں‘‘۔
میں نے کہا ’’تم بہت لائق ہو‘‘۔
اس نے چاقو میرے قریب لاتے ہوئے کہا، اب یہ بڑا تیز ہو گیا ہے۔ گردن صاف کر دیتا ہے، تمہیں مار کر دیکھوں۔ اور کوئی ہوتا تو میں ایک ہی جملے میں اس کی طبیعت صاف کر دیتا، لیکن اس وقت میں نے کہا ’’تم بیشک مار دو‘‘ وہ ہنسا، میں بھی ہنس پڑا۔ اس نے پوچھا تمہیں کبھی کوئی ایسی لڑکی بھی ملی ہے۔ جس نے پی رکھی ہو۔ میں نے اسے بتایا کہ میں لڑکیوں کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ اور اسے چاہئے کہ کبھی میرے ساتھ لڑکیوں کی باتیں نہ کرے۔ میں نے صاف جھوٹ بولا تھا۔
مونی پھر خاموش ہو گیا۔ شاید وہ کچھ سوچ رہا تھا۔ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ زندگی کے متعلق کچھ غور کر رہا ہوں۔
میں نے بڑی نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ ابھی وہ بہت چھوٹا ہے اور اسے ایسی باتیں نہیں سوچنی چاہئیں، دراصل میں چاہتا تھا کہ وہ کچھ بات کرے۔ لیکن اسے میری نصیحت بالکل پسند نہ آئی چنانچہ اس نے پوچھا۔
’’تمہاری عمر کیا ہے‘‘؟
میں نے اس کا ہاتھ دباتے ہوئے کہا کہ کسی کی عمر نہیں پوچھنی چاہئے، لیکن وہ اصرار کرتا رہا، چند منٹ کے بعد میں نے اسے ایک اور ترغیب دی،
تمہیں یاد ہے میں کل پنگ پانگ میں تم سے ایک پکچر ہارا تھا۔ چلو آج تمہیں وہ دکھا دیں، وہ میری طرف دیکھنے لگا۔ اکثر لوگ اس سے فلم کی شرط لگا کر ہار جاتے تھے۔ لیکن کبھی کسی نے وعدہ پورا نہ کیا تھا۔ وہ حیران ہو رہا تھا کہ کیا میں واقعی اتنا دیانتدار ہوں۔
سینما میں پہنچ کر وہ بہت خاموش ہو گیا۔ میں نے سب سے اونچی کلاس کا ٹکٹ لیا تھا کہ کہیں وہ یہ نہ جان جائے کہ میں اتنا امیر نہیں ہوں۔ اس کلاس میں صرف پانچ چھے لوگ بیٹھے تھے اور وہ بھی ایک دوسرے سے کافی دور، اس لئے کہ یہ لوگ اپنے ساتھ کرائے کی لڑکیاں لائے ہوئے تھے، میں نے مونی سے پوچھا۔ ’’تم اداس کیوں ہو گئے ہو‘‘؟ وہ چپ رہا، میں نے اپنا ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ کر کہا، دیکھو تو آج ہم تم دوست بن گئے ہیں، وہ مسکرانے لگا، میں نے اپنا ہاتھ اٹھا لیا اور تصویر دیکھنے لگا، لیکن تصویر بہت ہی پھیکی تھی، مونی بولا، اس ہیرو کو تو عشق کرنا بھی نہیں آتا۔ میں نے کسی ہندوستانی فلم کے ہیرو کی طرح کہا۔ عشق کرنا تو کوئی ہم سے سیکھے، اس کے بعد میں اور مونی بہت گندی گندی باتیں کرنے لگے۔ جنہیں میں یہاں دہرانا نہیں چاہتا۔ لیکن کافی عرصے کے بعد جب ہم تھک کر خاموش ہو گئے تو مجھے خیال آیا کہ اگر میں مونی سے کہوں کہ وہ میرا بہترین دوست بن جائے تو شاید وہ برا نہ مانے۔ لیکن میرا ذہن ایک دم تین سال پیچھے کو دوڑ گیا۔ جب میں نے ایک لڑکے سے جس کے ہاتھ مردانہ اور خوبصورت تھے۔ بہت کوشش کے بعد دوستی پیدا کی تھی۔ اور جس سے اب ملنے میں مجھے پھر ہچکچاہٹ ہوتی تھی۔ لیکن جلد ہی ان خیالات کو میں نے اپنے دماغ سے نکال دیا اور سوچنے لگا کہ مونی کو کون سی ریستوران میں کھانا کھلاؤں۔
فلم ختم ہو گئی، ہم دونوں باہر نکل آئے، آسمان پر بادل گرج رہے تھے۔ ہر طرف کیچڑ پھیلا ہوا تھا،
میں نے سوچا اب کیا بات کروں، آخر میں نے پوچھا، تمہارے دستانے بہت اچھے ہیں، کہاں سے لئے؟ اس نے فوراً کہا ’’مانچسٹر کے بنے ہوئے ہیں‘‘ ـــــــــ کیچڑ سے بچتے بچتے ہم سڑک پر چل رہے تھے، میں نے ڈرتے ڈرتے پوچھا، کس ہوٹل میں کھانا کھائیں، لیکن وہ مصر تھا کہ واپس چلا جائے۔ ایک لمحے کے لئے مجھے بھی یہ خیال آیا کہ ان روپوں کو جو ڈکشنری خریدنے کے لئے گھر سے لایا ہوں۔ اس بیدردی سے لٹاؤں، لیکن میں نے سوچا اللہ مالک ہے، اور اسے گھسیٹ کر ایک ریستوران میں لے ہی گیا۔
کھانا کھاتے ہوئے مونی بولا، میں چھٹیوں میں ایران جا رہا ہوں، خوب مزہ رہے گا، میں نے کہا مجھے بھی لے چلو گے نا، وہ اس طرح میری طرف دیکھنے لگا جیسے سوچ رہا ہو کہ مجھے کس طرح ٹالا جائے، میں نے اسے تسلی دی اور کہا میں تو یونہی مذاق کر رہا تھا۔
