کھانا کھا کر ہم ہال میں آ بیٹھے۔ جہاں بہت بھیڑ تھی، ناچ شروع ہونے والا تھا، وہی ناچ جو ہر بار دیکھے جانے پر مجبور کرتا ہے۔ لیکن بعد میں طبیعت بھی مکدر بھی کر دیتا ہے، مجھے خیال آیا کہ مونی کو مرعوب کرنا چاہئے۔ لیکن میں اس قدر باتیں کر چکا تھا کہ بالکل خالی الذہن ہو چکا تھا۔
میرے بائیں طرف دو اینگلو انڈین لڑکیاں بیٹھی ہوئی کسی کا انتظار کر رہی تھیں۔ اسی لئے وہ بغیر چائے یا کافی سامنے رکھے خاموش بیٹھی تھیں،
کافی عرصہ ادھر ادھر دیکھنے کے بعد جب میں نے اپنی دائیں طرف دیکھا تو مونی غائب تھا۔ میں نے دس پندرہ منٹ اس انتظار میں گزار دئیے کہ شاید وہ باہر ہوا کھانے گیا ہے۔ لیکن آدھ گھنٹہ گزرنے پر بھی مونی نہ آیاـــــــ پھر میری نظر اپنے پیچھے کی میز پر چلی گئی۔ وہ وہاں بیٹھا تھا۔ نہایت اجڈ قسم کے آدمیوں کے ساتھ۔ وہ آدمی جو کبھی اس بات کی پروا نہیں کرتے کہ وہ عورتوں کے سامنے نہایت غلیظ قسم کی گالیاں دے رہے ہیں۔ یہ لوگ جنگ میں ٹھیکوں کی بدولت بہت امیر ہو گئے ہیں اور اب دن رات ہوٹلوں میں بسر کرتے ہیں اور مونی ان کے ساتھ بیٹھا چائے پی رہا تھا۔ اور بہت ہنس ہنس کر باتیں کر رہا تھا۔ میں نے پھر ان اینگلو انڈین لڑکیوں کی طرف دیکھا جو اب تک کسی کا انتظار کر رہی تھیں اور جو ایک دوسرے سے بات چیت کئے بغیر چپ چاپ بیٹھی تھیں، حالانکہ وہ دونوں بہنیں تھیں۔ لیکن کسی نے بھی چائے کا نام نہ لیا۔
بارہ بج چکے تھے۔ ہر شخص کی آنکھوں میں نیند تھی۔ میری آنکھیں بھی جھپکنے لگیں، پھر میری آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں، میرے سامنے مونیکا ناچ رہی تھی۔ مونیکا جو اب میرے لئے خواب ہو چکی تھی۔ جس نے اور میں نے کئی دن اور رات اکٹھے گزارے تھے، پچھلے ڈیڑھ برس سے بیمار تھی۔ اور پہاڑ پر تھی مگر اب بالکل تندرست، پہلے سے بھی زیادہ سرخ میرے سامنے ناچ رہی تھی۔ وہ مجھے جیسے دیکھ ہی نہیں رہی تھی، کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا تھا۔ اور مونی ابھی تک نہیں آیا تھا۔ مونیکا چکر کاٹ کر پھر میرے سامنے سے گزری، اس کے ہاتھ بہت گداز اور بھرے بھرے تھے، میں نے مونی کی طرف دیکھا، ہنستا ہوا وہ کس قدر احمق معلوم ہوتا تھا۔ اس کے دانت آگے سے مڑے ہوئے تھے، اور اس کے ہاتھ سوکھے ہوئے تھے۔
سگرٹوں کا دھواں تمام ہال میں پھیل چکا تھا۔ مجھے سارا ماحول بہت پراگندہ معلوم ہوا۔ آخر یہ تمام لوگ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں یہ اٹھ کے چلے کیوں نہیں جاتے۔
لیکن اینگلو انڈین لڑکیاں اب اور انتظار نہ کر سکتی تھیں، وہ ہینڈ بیگ اٹھا کر چل دیں۔
میں نے ایک بار پھر مونی کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا اور جب ہال سے باہر نکلا تو مونی بھی آگیا۔ اس نے چڑ کر پوچھا، تم اتنی جلدی کیوں اٹھ آئے ہو؟
میں نے کہا تم بیٹھو مونی! میرے سر میں بہت درد ہے۔ وہ واپس اندر چلا گیا تو سڑک پر چلتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ آسمان بالکل صاف ہو چکا ہے اور میری نبض جیسے اپنی اصلی حالت پر آگئی ہے پھر۔
