جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ہندوستان کے احسانات جاپان پر

اس زمانے میں اس مندر کی پشت پر ایک جنگل تھا اور اس میں ایک بوڑھا زاہد رہتا تھا، وہ اُس وقت تک کسی سے بولتا نہ تھا، اپنے جپ تپ میں محو رہتا تھا۔ لوگ اس کو بوڑھا بابا کہتے تھے۔ مندر میں براہمن مشنری کے وجدانی نغموں کی دلکش آواز ایک دن اس بوڑھے بابا نے بھی سنی۔ پریم اور وحدت کی بھنک کان میں پہنچتے ہی وہ مون دھاری بابا جنگل سے نکل کر دوڑتا ہوا مندر میں آیا۔ برہمن اس وقت عالمِ وجد میں ناچ رہا تھا، یہ وفورِ جوش و مستی سے اس کے ساتھ ناچنے لگا اور پریم کے آنسو بہاتا ہوا اونچے سُر میں گا گا کر کہنے لگا کہ ”وقت آ گیا ہے“، ”وقت آ گیا ہے“، ”او“، ”او“۔ غالباً یہ آخری شبد ”اوم“ ہوگا کیونکہ ”او“ کے سنسکرت میں ایسے موقع پر کچھ معنی نہیں نکلتے اور ”وقت آ گیا ہے“ سے مطلق صرف یہی سمجھ میں آ سکتا ہے کہ اب جاپان میں وقت آ گیا کہ ہندو دہارمک فلاسفی اور روحانی کمالات کی اشاعت ہو، انھیں خیالات میں مستغرق ہو کر وہ مرتاض اس برہمن کے ساتھ ناچتا ہوگا۔ بہر حال اس واقعہ سے اُس وقت جاپانی بڑے متاثر ہوئے، کچھ تو دو زاہدوں کی روحانی کمالات کی وجہ سے، اور کچھ اس خیال سے کہ یہی پہلے الفاظ تھے جو ایک مدت کے بعد اس مون دھاری بابا کی زبان سے نکلے تھے۔ بعض مورخوں کا یہ بھی خیال ہے کہ یہ مون دھاری مرتاض بھی در اصل ایک ہندو رشی تھا جو ایک زمانۂ دراز سے ہندوستان سے آ کر جاپان آ بسا تھا۔

کچھ عرصے کے بعد برہمن بودھی سینا نے ”دمینجی“ مندر میں رہائش اختیار کی اور جاپانی خانقاہوں کے زاہدوں کو سنسکرت زبان پڑھانے لگا۔ وہ بدھ مذہب کے اصولوں کا بڑا مداح تھا۔ اس نے جاپانیوں کو سنسکرت میں گنڈویوہا سوتر GAND. VYUHASUTAR پڑھایا، اور کئی جاپانی زاہد اس برہمن مہاتما کے باقاعدہ چیلے بنے۔ 760ء میں اس کا انتقال ہو گیا اور اس کے دس برس بعد 4 اپریل 770ء میں اس کے ایک جاپانی چیلے شومئی نے اپنے ہندو گرو کی سوانح عمری لکھی۔

جاپانی آفیشل ریکارڈ سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاہِ جاپان کے دربار میں اس برہمن کو خاص رسوخ حاصل تھا، اور عوام اُس کی تہِ دل سے تعظیم کرتے تھے۔ اس ہندو مشنری کی آخری عمر یعنی 750ء میں، اس کو شہنشاہِ جاپان کے حکم سے جاپان کے تمام مندروں میں زاہدوں کے ”ہیڈ سوجو“ (اسقف اعظم) کی عزت دی گئی۔ بادشاہ نے دربارِ عام میں اس کو ایک دفعہ خلعت بھی عطا کیا تھا۔ یہ اعزاز جاپان میں اُس زمانے اور اُس سے پہلے کے کسی بزرگِ اعظم کو نصیب نہ ہوا تھا، اور جب ”ڈے تبسو“ کے مندر میں بھگوان بُدھ کی سب سے بڑی مورتی رکھی گئی، تو شہنشاہِ جاپان نے اس بزرگِ اعظم برہمن رشی سے اس عظیم الشان جلسے کی صدارت کی درخواست کی۔

قدیم تواریخِ جاپان میں اس برہمن کے اس قدر حالات کے علاوہ یہ بھی لکھا ہے کہ نیڈا جی کے بڑے مندر کے چار مشہور جاپانی بانیوں میں اس قابلِ تعظیم برہمن بودھی سین کا مقدس نام بھی شامل ہے، یعنی اس مندر کے تین مشہور جاپانی بانیوں، شہنشاہ شہومو، پیشوائے زاہدان گیوگی، اور رومن کے ساتھ چوتھا نام برہمن بودھی سین کا قرار دیا گیا ہے۔

بودھی سین نے اپنی آخری عمر میں ایک اور مندر ”رائیسونا“ نامی قائم کیا۔ آخر، یہ فاضل ہندو رشی ستاون سال کی عمر میں اپنے جاپانی چیلے اور مداحوں کو رنج و الم کی حالت میں چھوڑ کر 25 فروری 760ء کو اس جہان فانی سے رحلت کر گیا، اور اُس کی یادگار مقامِ ٹومی یامہ میں مدفون کی گئی۔

جاپان کے قدیم قومی لٹریچر میں پرنس ٹکامیا کی نظمیں بہت مشہور و مقبول ہیں، جاپانی مورخوں کا خیال ہے کہ ان نظموں میں پاکیزہ خیالات برہمن بودھی سین کے بھرے ہوئے ہیں، مگر مدتِ مدید گزر جانے پر ہندو واعظوں نے سمندر پار جانا چھوڑ دیا، تو یہ واقعات بھی صرف کتب خانوں تک محدود ہو گئے، اور ان سے عام جاپانی اور نیز ان اولوالعزم ہندو مشنریوں کے ہم وطن بھی ناواقف ہو گئے۔

ایک اور قدیم جاپانی تاریخ ”شوکو مے ہون کی“ سے ظاہر ہوتا ہے کہ برہمن بودھی سین کو معاملاتِ سلطنت میں بھی بہت کچھ دخل و اختیار حاصل ہو گیا تھا اور شہنشاہ شومو نے اس قابلِ تعظیم ہندو مشنری کو درباری خطابات دے کر اس کی عزت افزائی کی تھی۔ جاپانی مردوں کو جلا کر اُن کی راکھ بطورِ یادگار مقبرہ کے اندر دفن کر دیتے ہیں۔ مردوں کے جلانے کے سائنٹفک طریقہ جاپان میں بُدھ مذہب کے اثر سے رائج ہوا ہے۔

جاپان کا مشہور زاہد ریورینڈ ڈیٹو شما جی لکھتا ہے کہ زمانۂ قدیم کی تواریخ سے ثابت ہوتا ہے کہ برہمن بودھی سین جاپان میں روحانی تعلیم دینے کے لیے آیا تھا۔

ایک اور قدیم تواریخ سے رشی بودھی سین کے متعلق معلوم ہوتا ہے کہ جنوبی ہند کا ایک براہمن بودھی سین نامی دھارمک مشنری بن کر جاپان آیا تھا۔ اس کا کیریکٹر نہایت اعلیٰ تھا، اپنے وطن جنوبی ہندوستان میں بھی وہ اپنے اعلیٰ کیریکٹر اور علم و کمال کی وجہ سے مشہور تھا۔ وہ 703ء میں پیدا ہوا تھا۔ اس کو ممالکِ غیر میں ہند کے پاک روحانی دھرم کی اشاعت کا از حد اشتیاق تھا، اور اسی مقدس مشن کے لیے وہ عالم شباب ہی میں ہندوستان سے روانہ ہوا تھا۔ کچھ عرصہ تک وسطی ایشیا میں سیر و سیاحت کرتا رہا، پھر دشوار گزار سفر طے کر کے وہ چین پہنچا۔ جاپانی زاہد ہیرا نومی، جاپانی سفیر اور زاہد رکو یوجو اس وقت چین کی بڑی خانقاہ میں بطور طالبِ علم رہتے تھے۔ وہ برہمن مع ایک چینی زاہد ڈوسن نامی کے اس جاپانی جماعت کے ساتھ 18 مئی 736ء کو جاپان پہنچا تھا۔ بدھ سین 25 برس تک جاپان میں رہا۔ وہ ایک منتر اسمِ اعظم کا اچارن کرتا تھا، یہاں تک کہ مرتے دم تک وہ اسی منتر کا اُچارن نہایت استقلال، مستعدی اور بشاشت کے ساتھ کرتا رہا۔

براہمن بودھی سین نے اپنا فلسفہ مہان3 ”ویپلولی بدھ و تام ساکا“ کے اصول پر قائم کیا، جس کی اس زمانے میں بڑی تعظیم ہوتی تھی۔ وہ ہندو مشنری تانتر ازم کا بھی معتقد تھا۔

شہنشاہ شومو، شہنشاہ کوکن اور ہیڈ زاہد گیوگی اس برہمن فاضل کی بڑی قدر و منزلت کرتے تھے۔ شہنشاہ شومو نے اس کو ”سوجو“ یعنی بشپ کا خطاب دیا تھا۔

آخر اس براہمن فاضل نے 25 فروری 760ء کو ستاون سال کی عمر میں اس جہان سے کوچ کیا۔

پادری شن شو، کوریا کا مشہور مشنری اور جاپان میں ”مہان وے پولی بدھا و تام ساکا فلسفہ کے معتقدوں کا مسلمہ لیڈر تھا)، چینی پادری ڈوسن (جو اُس زمانہ میں جاپان میں مسئلۂ دھیّان کا ماہر عظیم گنا جاتا تھا)، اور جاپانی ہیڈ زاہد گیوگی اس براہمن کی کمال عزت کرتے تھے۔ دراصل یہ بزرگانِ دین اُس ہندو رشی کی روحانی تعلیم و کمالات سے اس قدر موثر ہوئے کہ آخر میں اس کے مرید ہی ہو گئے۔ ان مشہور زاہدوں کے علاوہ دیگر اُمرا اور شاہزادے بھی اُس براہمن رشی کی کمال تعظیم کرتے تھے۔

ایک اور جاپانی تواریخ میں لکھا ہے کہ ”جاپان کی قدیم تاریخ میں مشہور و لائق براہمن بودھی سینا کے مستقل و دیر پا احسانات ہیں جو کبھی مٹ نہیں سکتے۔“

تعجب ہے کہ یہ واقعات جاپانی تواریخوں میں تو موجود ہیں، مگر ہندوؤں کی تواریخ ان حالات سے کوری ہے، ہندوؤں نے اپنے اولوالعزم مہارشیوں کی جانفشانیاں حرفِ غلط کی طرح مٹا دی ہیں۔ اگر اب بھی اہلِ ہنود اپنے آباؤ اجداد کی روحانی فتوحات اور اخلاقی کارناموں کی طرف توجہ نہ دیں گے تو اُن کی محسن کشی میں کیا شک ہو سکتا ہے؟

ہماری فتح دنیا کی نظروں میں شکست معلوم ہو، لیکن وہ شکست حقیقت میں شکست نہیں، کاش کہ ہم بہادر نیلسن کی طرح یہ کہہ سکیں کہ اس میں اگر مگر کا کیا کام ہے، جیسے یہ بہادر دریائے نیل کی لڑائی میں بلا شبہہ فتح دیکھتا تھا، اس نے آخر فتح حاصل کر لی۔ اسی طرح ہم بھی اپنی روز مرہ کی کشمکشوں میں یقینی فتح دیکھ سکیں۔

دھرم جیون یا روحانی زندگی کی اہم لڑائی میں بہت سے لوگ ذرا ذرا سی مشکلات دیکھ کر ڈر جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ بس اب ہارے اور اب ہارے۔ لیکن بہادر لوگ نا موافق حالات میں بھی ایسے موقعے نکال لیتے ہیں جن سے فائدہ اٹھا کر وہ اس جنگ میں کامیابی حاصل کرتے ہیں۔

اگر تم دوسروں کی بے غرضانہ بھلائی اور روحانی پاک سیوا کا کچھ کام کرتے ہو تو مبارک ہو۔ کوشش کرو کہ اس پہلو میں روز بروز اور بھی مفید اور بہتر بنو، لیکن اگر ابھی تک ایسا نہیں کرتے تو جو لوگ اس خدمت کو پورا کر رہے ہیں، ان کو کچھ نہ کچھ امداد دینے کا آج سے ہی سادھن کر لو۔

ہم سب اس دنیا کی جنگ میں سپاہی ہیں اور ایشور ہمارے سپہ سالار ہیں۔ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم برابر وفادار سپاہیوں کی طرح اپنے اعلیٰ افسر کے احکام کی تعمیل کیے جائیں، اپنی مرضی کو اس کی مرضی کے تابع کر دیں، پھر اس میں کچھ شبہ ہی نہیں ہے کہ ہمیں اصلی فتح حاصل ہو گی۔