ہم سنگ مرمر کے چوڑے زینے سے اوپر پہنچے ہی تھے کہ اک مرمر کی شہ نشین ہمیں ملی۔ دن گرم تھا۔ چھت کے ٹھنڈے سائے میں پہنچنے کے لیے ہمارے تیز قدم مرمر کے فرش پر جلد جلد پڑ رہے تھے۔ جن کی وجہ سے فرش سے آواز نکل رہی تھی۔ یہ آوازیں جو ان چوڑے دروازوں میں سے گزر کر جو اک دوسرے کے مقابل میں کھلے ہوئے تھے۔ وسیع کمروں میں عکسِ صدا پیدا کرتی تھیں اور ان آوازوں کی وجہ سے اور ان سے زیادہ ان کمروں میں دور خاموش مگر معنی دار عظمت کے ساتھ ان آوازوں کو سننے والے سنگین بتوں سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ہوا میں مُردوں کے سائے رہے ہیں۔ اور اس سے ہمارے اوپر ایک مبہم خوف طاری ہوتا تھا۔ بالآخر ہم ان کمروں میں پہنچے جہاں دن کی روشنی بھی مدھم ہو کر پہنچتی تھی۔ جہاں خاموشی مطلق طاری تھی۔ جہاں ہم ماضی اور ماضی کے ساکنوں کے سامنے تھے۔
ہم جب مزاروں میں سے گزرتے ہیں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ انسانیت جو نہ معلوم ابھی اور کتنی اونچی پرواز کرے گی، پر شکستہ ہو گئی ہماری قابلیتِ نمو سر تسلیم خم کیے ہوئے نظر آتی ہے۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ فطرت جو ہر چیز کو فنا کی مملکت میں لیے جا رہی ہے، ہمیں بھی اپنے تاریک پردوں میں لپیٹ رہی ہے۔ اک دن، دس دن، اک سال، دس سال، مختصر یہ کہ اک مدت مدید بھی جس کے لیے اک لمحہ ہے، وہ فطرت ہم کو عدم کی طرف گھسیٹے لیے جا رہی ہے۔ یہ حس میوزیم میں جا کے اور زیادہ قوت حاصل کر لیتا ہے۔ وہاں ہم کو احساس ہوتا ہے کہ بشریت کے تمام مظاہر، ان کی تجلیات ظاہری و معنوی، ان کے عشق، ان کی روح، ان کی صنعت، غرض کہ ان کی زندگی کے چھوٹے سے چھوٹے نمونے جنہیں انہوں نے سنگ تراشی کے ذریعہ قائم و دائم رکھنا چاہا ہے وہ بھی دفن ہو جائیں گے۔ تنہا وہی نہیں، بلکہ اپنی ملت، اپنی تہذیب و مدنیت کے ساتھ زیرِ زمیں چلے جائیں گے، نہ مرنے کے لیے انسان کی بھی کس قدر مصرانہ، کس قدر درد انگیز، کس قدر تمسخر آمیز کوششیں ہیں۔ ہمیں قبر اس خیال سے ڈراتی ہے کہ ہم فنا ہو جائیں گے، لیکن یہ ہمارے افکار و آثار کی زینت ہوں گے اور دنیا کوشش سے اور شوق سے انہیں قائم رکھے گی، یہ خیال ہمارے فکر و روح کے پوشیدہ ترین غرور، حساس ترین نقطۂ قلب کو خوش کرتا ہے۔ میرے قریب ماضی کی حسین شکلیں جو پتھر نے ہم تک پہنچائیں، ٹوٹی پھوٹی پڑی تھیں۔ ان کی زینتیں، زندگی کے لوازمات کے متعلق ان کی چھوٹی چھوٹی چیزیں پھیلی ہوئی تھیں۔ میں ان میں پھر رہی تھی، مگر مجھے ایسا محسوس ہوا کہ اس خاموش مقام میں، ان بیجان سنگین انسانوں کے ہونٹوں پر ایک تبسم تھا۔ جس سے یہ معلوم ہوتا تھا کہ وہ متبسم اگر نوازش کارانہ ہے، تو تھوڑا سا مستہزانہ بھی ہے، یعنی ماضی کے یہ انسان ہم نئے انسانوں پر ایک خندۂ زیرِ لب سے نظر ڈال رہے تھے۔ یہ کیا سوچ رہے ہیں، کیا کر رہے ہیں؟ معمائے حیات، سِرِّ حیات جنہیں ہم نہ جان سکے، کیا یہ انہیں جانتے ہیں؟ اسے ان سے پوچھنے، ان سے سمجھنے کے لیے میرا کس قدر دل چاہتا ہے! مگر ساتھ ہی اس کے یہ بھی جانتی ہوں کہ ان کی زندگیاں، خواہ ہیچ ہوں، خواہ اک نور صمدانی سے منور، کچھ بھی ہوں، ان میں شریک ہونے کے لیے مطلقاً ان جیسا ہونا پڑے گا۔ یہ بھی جانتی ہوں کہ وہ یہی کہیں گے کہ “ہم بھی ایک وقت جب انسان تھے، تو تمہاری ہی طرح روئے، ہنسے، عاشق ہوئے، نفرتیں کیں” مگر کیسے پوچھوں؟
اُدھر خشمناک چہرے اور قہارانہ و جبارانہ انداز سے ہونٹ بنائے ہوئے، شہنشاہ ہیڈرین پڑا ہوا ہے، ادھر اپنے حسن سماوی کی وجہ سے مغرور اور اسی قدر انسانوں سے دور، اک اپولو کھڑا ہے۔ اک ستون پر ایک موٹا تازہ بچہ اپنے ہاتھ پر سر رکھے سو رہا ہے۔ اک طرف اک مقدس برنجی بوگا انسانوں کے ریوڑ کو اپنے نعلوں کے نیچے پیس رہا ہے، غرض کہ جوان، بوڑھے، مرد، عورت، دیوتا، اپنی خوبصورتی، اپنی بدصورتی کو لیے ہوئے، جس سے انہوں نے دنیا کو اک رنگ خاص دیا اور اپنی شہرت اور افسانوں اور روایتوں سے زندگی کو منور کیا، سنگین بتوں میں کہیں بگڑے ہوئے ناراض چہرے لیے ہوئے، کہیں خوش و خنداں کھڑے تھے، کہیں کسی کمرے میں نفیس و نازک زیوروں میں لدے ہوئے، سحارانہ چمک رہے تھے۔ نہ معلوم انہوں نے کن ہوسات، اعتراضات میں زندگیاں گزاری ہیں، نہ معلوم کس قدر عشق کی سازشیں کی ہیں، نہ معلوم کن حسین آنکھوں کے سب سے زیادہ جاذب تبسموں کو اپنی طرف مائل کیا ہے، نہ معلوم کتنے ان قدموں کو جنہوں نے راہ راست پر چلنے کا عزم بالجزم کر رکھا تھا، ڈگمگا دیا ہے۔
ہم اک کمرے میں داخل ہوئے جس کی سنہری قبّے سے آفتاب کی طلائی شعاعیں پڑ رہی تھیں، خدمت گاروں نے جو ہماری حیرت کے منتظر معلوم ہوتے تھے، سرخ پردہ اٹھایا، اس کمرے میں خوبصورت عورتوں کے سنگین بت اک قطار میں کھڑے تھے۔ یہ زبان خاموشی سے مصروفِ مکالمہ تھیں، یہ شریف دلبر و دلربا قدیم روما کے حسین اپنے بالوں کے نفیس تموج، اپنے چہرے کی متکبرانہ نظر، اپنی جاکٹوں کی چھوٹی سے چھوٹی شکنوں میں دو ہزار سال پہلے کے تقدم و عظمت کو اب تک قائم رکھے ہوئے تھے۔ ان کے بالوں کی سرخی مائل لہروں کو، ان کی جاکٹوں کے چمک دار رنگوں کو صدیوں نے خراب نہ کیا تھا۔ بلکہ ان میں اک اور زیادہ صوفیانہ پن پیدا کر دیا تھا۔ ان پر ایک شاندار اور شاہانہ سایہ پڑ رہا تھا۔ ہم نے جب یہ کہا کہ ’’یہ تو سارے میوزیم سے زیادہ قیمتی ہیں‘‘، تو خدمت گاروں نے معترضانہ اور مغرورانہ انداز سے، اوپر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ ’’ان سے بھی زیادہ قیمتی چیزیں وہاں ہیں‘‘۔ اک کمرے میں اک متحشم، مدور مرمر کا حمام رکھا ہوا تھا۔ جس کے گرد زنجیروں سے محافظت کے لیے احاطہ بنایا گیا تھا۔ میرے سوال پر “کلیوپیٹرا کا حمام” کہا گیا۔ اس فقرے پر میری روح کی گہرائیوں میں سے اک لرزش پیدا ہوئی۔ نیل گوں نیل، سبز خرما کی شاخوں اور حرارت آور فضا کی یہ حقیقی ملکہ کتنے تاجدار سروں، کتنے شاہانہ دلوں، کتنی دیوانہ دار پرستشوں کی حاکمہ رہ چکی تھی! اس حمام کے اوپر گنبد کے شیشوں میں سے آفتاب کا نورِ طلائی ذرہ ہائے خاک میں گزر کر آ رہا تھا۔ اس نے اک نورانی ستون کی شکل اختیار کر لی تھی۔ جس میں ذرے اک نور متحرک بن کر رقص کر رہے تھے۔ میرا ذہن دنیا کے اس بزرگ ترین ماجرائے عشق کی طرف منتقل ہوا۔ اور میں بہت دیر تک عالم استغراق میں رہی۔ میری آنکھیں اس ذراتِ ضیا کے نورانی رقص پر گڑی ہوئی تھیں۔ مگر وہاں سے مجھے موت نے نہیں، عشق نے لبیک کہا، روشنی کے ان ذرات میں ایک سفید و منور غبار نے ایک عورت کی شکل اختیار کی جو کلیوپیٹرا کے حمام سے بلند ہو رہی تھی۔ اس نورِ جاری میں اک ایثری شکلِ مبہم جسے چشمِ دل محسوس کر سکتی تھی، اٹھتی نظر آتی تھی۔ اس کے سیاہ لہراتے ہوئے بال ایک سنہرے ریشمی فیتے میں بندھے ہوئے تھے۔ اس کے عریاں اور حسین شانے نازک و خیانت کار تموجات سے اوپر کی طرف مائل تھے۔ اس کا عشوہ آفریں شباب، جس میں ایک صنعت کار کی روح نفوذ کیے ہوئے تھی، ایک باریک قمیص سے اس کے جسم کے تمام جادو، تمام قدرتِ بے اماں کو ظاہر کر رہا تھا۔ اس تصویر کو اس منور ذروں کی چادر میں مَیں نے دیکھا۔ اس کے عارض گلگوں جن میں ناقابلِ بیاں نرماہٹ تھی اور جن میں نہایت دلکش خمدار خطوطِ تبسم پیدا ہوتے تھے، ایک سرخ و سفید ٹھوری پر جا کر ختم ہوتے تھے، جن کی کشش کا انسان مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اس کی پیشانی کے نیچے، دو ابرؤوں کی تلواریں تھیں۔ جو اس مملکت کی (جو اپنی بادامی آنکھوں کے لیے دنیا میں مشہور ہیں) دو بہترین بادامی آنکھوں پر سایہ فگن تھیں۔ یہ آنکھیں، یہ وہ بدیع و مستثنیٰ آنکھیں تھیں جن کی مثال دنیا نے دوسری دفعہ نہ دیکھی۔ میں ان کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکتی تھی۔ لیکن اتنا میں جانتی ہوں کہ اس کی آنکھوں میں ایک آتش، ایک حیاتِ سیاہ مشتعل تھی، یہ ضیاء مظلم، یہ روشنی سیاہ اس مہلک عشق کے اسرار و اختصاصات کی نور پاشی کر رہی تھی جس نے ایک نیاز آگیں، نوازش آمیز، سحر کار، مگر متحکم عورت کی شکل اختیار کر لی تھی۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ اس زریں اور متحرک چادر کے نیچے سے جو آفتاب کی سنہری شعاعوں نے بنا رکھی تھی، وہ اپنے بازو دعوت آمیز طریقے سے اٹھا کر اپنی شیریں آواز سے کہہ رہی تھی۔
’’مارکس انٹو نیس! میرے ہونٹوں میں ابدیت، میری آنکھوں میں جنت ہے۔‘‘
