جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

اسکندریہ کے عجائب خانہ میں چند گھنٹے

ہم آخر میوزیم کے خاص ہال تک پہنچے۔ جو خدمت گار ہمیں سیر کرا رہا تھا، اس نے بے پروایانہ طریقے سے چند شیشے کے بکسوں کو دکھا کر کہا۔ ’’ان میں مومیائیاں ہیں۔‘‘ یہ چیز جس کو کچھ اہمیت نہ دی گئی تھی، میری جنس کی حقیقی بقیہ یادگار تھی، اس کے قریب پہنچتے ہی میں گویا زمین میں جکڑ دی گئی۔ یہ پتھر! اور ان کی زینتیں، سب خیالی، وہمی چیزیں ہو سکتی ہیں، مگر یہ انسانی گوشت اور ہڈیوں کے ٹکڑے! یہ ہمارے گزشتہ کل والوں کی تمثالِ شخصی! وہ تصور جو فنا کے خیال سے گریز کرتا ہے، اس کو دیکھ کر فرار کے دروازے اس پر بند ہو جاتے ہیں۔ ہمارا عجز، ہماری بیچارگی، برہنہ اور عریاں حالت میں، ہمارے سامنے نظر آتی ہے۔ شفقت و ترحم آمیز حرمت کے ساتھ میں آگے بڑھی، اور میں نے ہر صندوق کے اندر نظر ڈالی، اس نظر میں تجسس و حیرت نہ تھی۔ میری نظر ماضی میں نفوذ کرنا، ان بیچارے انسانوں کی ہڈیوں سے اپنا ایک نقطۂ ارتباط پیدا کرنا چاہتی تھی۔ پہلا صندوق اونچا اور چوڑا تھا۔ اس میں تین مومیائیاں تھیں جن کے کپڑے بوسیدہ ہو گئے تھے، گوشت خشک تھا، ہڈیاں بھی خاک ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ ایک بہت لمبا مرد اپنے دونوں بازو جسم سے ملائے ہوئے پڑا تھا۔ اس کے قریب ایک عورت، مرد کے بازؤوں پر سر رکھے، اپنے سرخ بال پھیلائے لیٹی ہوئی تھی۔ اس کے خشک چہرے میں گہری نیند اور خوشی کے علائم نمودار تھے۔ ان کے بعد، مگر ان کے ہی پہلو میں، ایک ننھا منّا سا ڈھانچہ پڑا ہوا تھا۔ میرے دل میں اس مسرت و سعادت مجسم کے مقابلے میں تھوڑی سی رقت، مگر اس سے زیادہ حسد پیدا ہوا! اپنے خوابِ مسرت کو تا ابد اپنی ہڈیوں کی راکھ میں لانے والے اس جوڑے نے زندگی کی انتہائے انبساط اور مقصودِ الفت کو یہاں تک پہنچایا تھا۔ اپنے شریکِ حیات، اپنے ثمرۂ حیات کے ساتھ، وہ یہاں لیٹے ہوئے تھے۔ ان کے اجزا ایک دوسرے سے مل رہے تھے، اور ان ہڈیوں سے جو یہاں خوابِ راحت میں تھیں، ان تین انسانوں کی ہڈیوں سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں تھی۔ سب کچھ عیاں تھا۔ میں نے اپنا سر ان کے سامنے خم کیا، اور میں آگے بڑھ گئی۔ مُردوں میں بھی زندوں کی طرح شخصیت والے اور غیر شخصیت والے ہوتے ہیں۔ مُردوں کے اس جمِ غفیر میں مجھے ایک چہرہ نظر آیا جو اس وقت بھی مضطرب تھا، جس کے اعصاب سے تشنج ہویدا، جس کی جبیں پر چیں، جس کی آنکھوں میں اضطراب تھا، یہ بیزینٹم (قسطنطنیہ قدیم) کا ایک پوپ تھا۔ شاید اپنے بیمار اعصاب کو راحت پہنچانے کے لیے مصر کے بیابان و ریگستان میں گھسٹتا کھسٹتا آیا ہو گا، موت میں بھی اس کی مریض روح، اس کی شکنوں کو نہ ہٹا سکی۔ سب سے آخر میں میری نظر روما کی ایک عورت کی مومیائی پر پڑی۔ اپنی اوڑھنی کے نیچے، اس کے چہرے کے بلیغ و معنی آفریں خطوط نہ معلوم کتنے سو برس سے قائم تھے۔ اس کے خوبصورت چھوٹے پاؤں کے ناخنوں پر سونے کے خول چڑھے ہوئے تھے، شاید یہ ایک نشانِ عالی خاندانی ہو گا۔ اس کے دلکش چہرے میں اس کی بڑی بڑی آنکھیں، اس کے بھرے ہوئے ہونٹ، اس کی ستواں ناک، صاف بتا رہے تھے کہ وہ ایک حسین عورت تھی۔ اس کے سینہ کی شاہانہ گولائی، اس کی اوڑھنی کے نیچے بگڑنا شروع ہو گئی تھی۔ صندوق کے شیشے پر ٹیک لگا کر میں دیر تک اس کے جسم کو دیکھتی رہی اور اس کے جسم کی ہیئتِ کذائی میں نفوذ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ میری آنکھیں جو دیکھتے دیکھتے تھک گئی تھیں، انہیں ایسا معلوم ہوا کہ اس عمیق سکون میں ایک حرکت پیدا ہوئی، اس کی بڑی بڑی آنکھوں نے ایک دوستانہ تبسم سے مجھے دیکھا۔ مجھ سے کیا کہنا چاہتی ہے؟ کیا مجھے کسی طول طویل لطفِ مکالمہ کا نیوتہ دے رہی ہے؟

میں نہیں کہہ سکتی کہ یہ کیا تھا۔ کیا یہ ایک خواب تھا؟ چاروں طرف تاریکی تھی، میں میوزیم کے چوڑے زینے سے جا رہی تھی کہ مجھے اس قدیم روما کی عورت نے بلایا اور میں اس کی طرف گئی۔ اگر مجھ سے کوئی پوچھتا کہ “تم کس سے ملنے جا رہی ہو؟” تو میں کیا کہوں گی کیونکہ میں اس کا نام بھی نہ جانتی تھی، مگر نہ معلوم کیوں، مجھ سے کسی نے کچھ سوال نہ کیا، کیا اس بزمِ رفتگاں میں جب صحبتِ مکالمہ شروع ہوئی، تو میوزیم کے خدّام سو گئے تھے؟ اور نہ بھی سو گئے تھے تو وہ کر کیا سکتے تھے؟ اس پُر اسرار گفتگو کو وہ کیا سمجھ سکتے تھے، اور اس میں کیا مداخلت کر سکتے تھے؟ اس تاریکی میں مجھے معلوم ہوا کہ کئی جسموں کو حرکت ہوئی، گفتگوئیں شروع ہوئیں، لمبی، گہری گفتگوئیں شروع ہوئیں۔ مجھے ایک ہاتھ بڑے دروازے تک کھینچے لے گیا۔ میں اس صندوق تک پہنچی جسے میں نے دن میں دیکھا تھا۔ میرے قدم وہاں گڑ گئے۔ صندوق میں ایک حرکت پیدا ہوئی۔ اس میں سے ایک آواز آہستہ آہستہ نکلی جو کہہ رہی تھی۔

’’میرا نام لکریشیا ہے۔ شہنشاہ اڈریاں کے زمانے میں اسکندریہ کا جو حاکم تھا، میں اس کی ہمشیر زادی ہوں۔ میں خوبصورت تھی؟ بیشک، میں اس زمانہ کی سب سے زیادہ حسین عورت تھی۔ میرا ماموں مجھ سے کہا کرتا تھا کہ ‘یہیں نہیں، روما میں بھی تو حسین عورتوں کی سردار ہو گی، مگر روما تک جانے کی ضرورت ہی نہ پیش آئی۔ شہنشاہ اور شہنشاہ بیگم، مع اپنے رفقا کے افریقہ کی سیاحت کو تشریف لائے۔ ہم نے کیسی شاندار، گلریز، تخیل آفریں دعوتوں، ضیافتوں، کھیل تماشوں سے ان کا استقبال کیا! یہ میرے لیے ایک بڑی کامیابی کی ابتدا تھی۔ روما کے وزیر زادے، امیر زادے میری آنکھوں کے سحر کے مقابلہ میں اپنا ثبات و متانت کھو بیٹھے تھے اُن میں سے ہر ایک، ایک ایک کر کے، میرے حسن کی فتراک کا اسیر ہو گیا۔ دو اک نے تو انتہائے یاس میں خود کشی تک کر لی۔ ولی عہد انٹو نیس کا یہ حال تھا کہ ہر وقت نوکر کی طرح میری خدمت میں حاضر رہتا۔ شہنشاہ بیگم نے مجھ پر لطف و نوازش کی بوچھاڑ کر دی اور مجھے اپنی خاص معزز خواصوں کے زمرے میں داخل کر لیا۔ آہ! کیا شان تھی، کیا شہرت تھی، کیا دبدبہ و طنطنہ تھا، کیا دن تھے! اسکندریہ سے لے کر روما تک میرے حسن کا آوازہ پہنچ گیا تھا۔ لیکن ایک دن! ایک دن شہنشاہ کے حضور میں مَیں نے ایک نوجوان کو دیکھا۔ مجھے اس وقت معلوم ہوا کہ اپولو دنیا میں اتر آیا ہے، اور اس کی محبت کا شعلہ میرے دل میں اس قدر بھڑکا کہ شہنشاہ اڈریاں کی بندگی، جس نے اپنے تئیں روما کے دیوتاؤں میں داخل کر دیا تھا، میں نے پس پشت ڈال دی، میرا تاجِ مظفریت ٹکڑے ٹکڑے ہو کر ایک نوجوان کے قدموں کے نیچے بکھرا ہوا پڑا تھا۔ اس زمانہ کی تصویر آپ میں سے ایک شخص نے اپنی کتاب میں کھینچی ہے نا؟ میں نے اس برفانی مگر حسین شخص کو اپنی طرف کھینچنے کے لیے کیا کیا کچھ نہ کیا۔ میں نے اس عظمت کو جو روما کی عورتوں کے نزدیک سب سے زیادہ مقدس ہے، پائمال کیا، لیکن وہ کبھی ایک منٹ، ایک سیکنڈ کے لیے اپنی حسین آنکھوں کی تھکی ہوئی نظریں مجھ پر نہ ڈالتا تھا۔ مجھ سے بعد میں لوگوں نے کہا کہ وہ یونان کی اک بدشکل اور لنگڑی لڑکی پر عاشق ہے۔‘‘

یہاں اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی، مگر اس میں یادِ ایام کے ساتھ اشتیاق شامل تھا۔ کمرے میں اوروں کا مکالمہ جاری تھا، وہ کہے گئی۔

’’ایک دن شہنشاہ بیگم نے مجھے شہنشاہ کے پاس کوئی بات دریافت کرنے کے لیے بھیجا۔ بادشاہ اکثر راتوں کو ستارہ بینی کیا کرتا تھا۔ دربان نے مجھ سے کہا کہ بادشاہ سلامت اس وقت رصد گاہ کے مینار میں ہیں، اور ان کے ساتھ اس کا ندیمِ خاص انٹوینو ہے؛ میرے دل میں خیال آیا جس کی لذت نے مجھے مست کر دیا۔ میں نے کہا ‘میرے ہاتھ میں ایک کاغذ ہے، اور ملکہ کا حکم ہے کہ میں اس کاغذ کو بادشاہ کے ہاتھ میں خود پہنچاؤں؛ دربان نے مجھے راستہ دے دیا۔

کمرے کی نیم تاریکی میں بادشاہ کے کوچ پر چیتے کی کھال بچھی ہوئی تھی، انٹونیو دراز تھا، اور اپنے حسین چہرے کو دلربایانہ انداز سے اپنے بازو پر رکھے ہوئے سو رہا تھا۔ اس وقت مجھے قطعی طور پر یہ محسوس ہوا کہ اپولو نے اس نوجوان کے جسم میں جنم لیا ہے، اس مرمر کے خالی کمرے میں گھٹنوں کے بل آہستہ آہستہ چل کر نہایت خاموشی کے ساتھ اس تک پہنچی، میرے بال، میرے پاؤں میں الجھتے تھے اور میرے چلنے میں مانع ہوتے تھے، آخر میں اس تک پہنچ گئی۔ میں نے اس کے کندھے سے چادر اٹھائی۔ اور اس کے سر کو اٹھا کے نہایت آہستہ سے اپنے بازو پر رکھا۔ اور والہانہ نظروں سے اسے دیکھا۔ یہ اتصال شاید ایک منٹ سے زیادہ نہ رہا ہو گا، مگر اس نے میرے جگر تک پہنچ کر ایک آتش سے مجھے جلا ڈالا کہ اتنے میں سلامی کے لیے ہتھیاروں کا کھٹاکا مجھے سنائی دیا اور اس کے بعد بادشاہ کمرے میں داخل ہوا۔ میرا یہ حال تھا کہ میرے ہاتھ، اپنی تمام حساسیت کے ساتھ، ایک آتشِ سیال اس کے جسم کو پہنچا رہے تھے اور میں پریشان و بیتاب تھی۔ اڈریاں پر میری نظر پڑی، تو میں نے دیکھا کہ غصے سے اس کی رگیں ابھری ہوئی ہیں، آنکھوں میں بجلیاں کوند رہی ہیں۔ اس کے ہاتھ کو جو ایک حاکمانہ لباس میں ملبوس تھا، اس نے اٹھایا اور دروازے کی طرف اشارہ کیا۔ میں جیسے دبے پاؤں آئی تھی، ویسے ہی اس سے نکلی، اور ملکہ کے پاس جانا میرے خیال میں بھی نہ آیا۔ میں سیدھی اپنے کمرے میں گئی، اور کپڑے اتار کر مرمر کے اوپر اوندھی گر پڑی۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ سرد سنگِ مرمر کیا، اسکندریہ کی مرطوب و سرد رات بھی میری حرارت سے گم ہو گئی ہے۔ مجھے ہر لمحہ یہ انتظار تھا کہ بادشاہ کا کوئی سخت حکم آتا ہو گا؛ ضرور مجھے کوئی سخت سزا دی جائے گی۔ زیادہ وقت نہیں گزرا کہ چوبدار نے دروازہ کھولا۔ اس کے ہاتھ میں ایک چاندی کی کشتی تھی، جس پر ایک خط رکھا ہوا تھا اور ایک سونے کا گلاس تھا، جس میں ایک سرخ شربت بھرا ہوا تھا۔ چوبدار نے کمال احترام سے سر جھکا کر مجھ سے کہا، ’جہاں پناہ نے حکم دیا ہے کہ یہ خط لیجئے اور یہ شربت۔‘ میں نے اس متانت سے جو ایک روما کی عورت کے آخری لمحوں کی شایان شان تھی، کہا، ’بادشاہ سلامت کا حکم بجا لایا جائے گا۔‘ میں نے گھٹنوں پر رکھ کر اس خط کی شاہانہ مہر کو توڑ کر کھولا، جسے دیکھتے ہی میرے جسم کی حرارت یکایک برودت میں تبدیل ہو گئی۔ حکم تھا کہ یا تو اس اندھے، بدشکل یونانی مسخرے کے ساتھ جو بادشاہ و ملکہ کے دربار میں فیلسوفی و مسخرگی کرتا تھا، شادی کروں، ورنہ بصورتِ انحراف پیالہ اس کے آخری قطرے تک پیوں، اوّل میرا دل ایک ضربِ بغاوت سے دھڑکا۔ اس کے بعد ایک دم میرے ذہن میں وہ بہشت کے چند منٹ آئے جو اس کے سر کو اپنے بازو پر رکھ کر میں نے گزارے تھے۔ میں نے اپنا ہاتھ پیالہ کی طرف بڑھایا اور اُس آتشیں محبت کو یاد کر کے میں نے تہیہ کر لیا کہ موت، عدم اس یاد کو قائم و دائم رکھتی ہوئی مجھ تک پہنچے گی۔‘‘

میں نے اپنا ہاتھ صندوق کے شیشے کی طرف بڑھایا اور اس کے بازو کو شفقت سے ہاتھ لگایا کہ اتنے میں اس شخص کی بیمار و خستہ آواز، جسے میں نے قسطنطنیۂ قدیم کا پوپ خیال کیا تھا، کہتی ہوئی سنائی دی۔ ’’کیا میری بھی داستان عشق نہ سنو گی؟‘‘

’’نہیں، نہیں! اب مجھ میں اور داستانِ عشق سننے کی طاقت نہیں۔“ میں گھبرا کر سیدھی زینے کی طرف بھاگی۔ میں اپنے خواب سے بیدار ہوئی۔ اسکندریہ کی فضائے روشن میں آفتاب کھڑکیوں سے گزر کر میرے بستر تک نور برسا رہا تھا۔