اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

کامیابی

اس کے بعد اس دیو نے گرج کے کہا، ’’یہ قلہ حرص کا ہے۔ جو لوگ اعتدال سے گزر کر حرص کی بلا میں پڑ جاتے ہیں ان کی یہی سزا ہے۔ اور ابھی کیا ہے، سزا تو باقی ہے۔‘‘ یہ کہہ کے اس نے ایک ایک کو پکڑ پکڑ کے اور چاروں طرف دکھا دکھا کے نیچے پھینک دیا۔ بظاہر اسباب وہ لوگ پاش پاش ہو گئے ہوں گے مگر کسی کو بھی نہ معلوم ہوا کہ کہاں گرے کیونکہ جس طرف اس نے پھینکا تھا ایسا نشیب کا مقام تھا اور اس قدر تاریکی تھی کہ کسی کو پتا نہیں معلوم ہوتا تھا۔(جو لوگ حرص میں مبتلا ہیں وہ بدنامی کے بعد گمنامی کے غار میں پھینک دیے جاتے ہیں)۔ اور شاید خود سے کوئی اس مقام تک پہنچ بھی نہ سکتا ہو۔ ہم اور ہمارے ساتھی اطمینان کے ساتھ چلے جاتے تھے۔ جاتے جاتے سبھوں نے پھر اس تصویر کو نظر اٹھا کر دیکھا۔ بہ نسبت سابق کے اب قریب تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ گویا ہم لوگ بہت پاس پہنچ گئے ہیں۔ خوشی کے ساتھ دل میں شوق اور جوش نے ترقی کی۔ وہ کہیے خدا کو کچھ بھلائی منظور تھی کہ اس جوش کے ابھرنے کے وقت ہم اپنی معمولی چال چلا کیے۔ مگر ہمارے ہمراہی تیزی سے بڑھے۔ صاف صاف کیوں نہ کہیں اپنی قوت بھر دوڑنے لگے۔ اور اس طرح کی نظر تو اس تصویر کی طرف تھی اور پاؤں سنگستانی زمین پر پڑ رہے تھے۔ یکایک ہماری راہ میں بھی ایک ایسا مقام پڑا جس کے آگے ایک بہت ہی گہری گھاٹی تھی۔ وہ لوگ جو رو میں دوڑتے چلے جاتے تھے بے دیکھے بھالے وہاں تک پہنچ پہنچ کے گرنا شروع ہوئے۔ ہم پیچھے سہولت سے آ رہے تھے لہٰذا حیرت تھی کہ یہ لوگ وہاں پہنچ پہنچ کے کیا ہو جاتے ہیں۔ دل میں ڈرے اور سنبھل سنبھل کے چلنے لگے۔ جب وہاں پہنچ کے دیکھا تو ہوش اڑ گئے۔ ہمارے ساتھی نیچے چوٹ کھائے پڑے تھے۔ اور دردناک آواز میں نالہ و فریاد کر رہے تھے۔ چند منٹ ان کے حال پر افسوس کر کے اپنی فکر ہوئی کہ اب ہم کس طرف سے جائیں۔ یہ مقام نہایت پر خطر تھا۔ بغور دیکھا تو معلوم ہوا کہ داہنے ہاتھ کی طرف ایک راستہ گیا ہے اور چکر کھا کے اسی طرف گیا ہے جدھر ہم جانا چاہتے تھے۔

اسی طرف مڑے اور دل میں ٹھان لی کہ کسی طرح کوشش کر کے منزلِ مقصود تک پہنچ جانا چاہیے۔ جب یہ چکر نکل گیا تو راستہ بہت صاف معلوم ہوا۔ مگر ہم اسی طرح سہولت سے آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے ہوئے چلے جاتے تھے۔ کیونکہ بخوبی تجربہ ہو چکا تھا۔ الغرض مرتے کھپتے اور یہاں تک بہ خوشیٔ خاطر پہنچ جانے پر خوش ہوتے ہم اور ہمارے چند ہمراہی جا رہے تھے۔ یہاں پہنچ کے ہم سب نے پلٹ کے دیکھا کہ دیکھیں ہم کس قدر بلندی پر چڑھ آئے ہیں۔ دنیا بہت نیچی معلوم ہوئی۔ اور سب لوگ بدحواسی کے ساتھ ہماری طرف دوڑتے اور ٹھوکریں کھاتے نظر آئے۔ ہم نے اپنی خوش نصیبی پر خدا کا شکر کیا۔ مگر ہمارے ساتھیوں کے دل میں کچھ ایسا غرور تھا کہ ان لوگوں کی طرف دیکھ کے بہت ہنسے۔ اور جوش میں آ کر کودنے لگے۔ یہ لوگ کچھ ایسی مستانہ روی سے کودتے اچھلتے چلے کہ اتنی دور کے تھکے ہوئے پاؤں من من بھر کے ہو گئے۔ طاقت نے جواب دے دیا۔ اور بالکل چلنے کے کام کے نہ رہے۔ آخر تھک کے بیٹھ گئے۔ اور اس تصویر کو جو اب بہت ہی نزدیک تھی حسرت کے ساتھ دیکھنے لگے۔ یہ اپنے ہاتھوں سے پاؤں سہلاتے جاتے تھے۔ اور اس میدان میں بیٹھے اپنی ناکامی پر افسوس کر رہے تھے۔ غرور کرنے والے اپنی کوششوں میں آپ تھک جاتے ہیں۔ ہم نے ہمدردی کی راہ سے پاس جا کے چاہا کہ ان میں سے کسی کو اٹھائیں۔ اور اپنے ساتھ لے جائیں۔ مگر افسوس، ہم ان کی بالکل مدد نہ کر سکے۔ ان میں اتنی بھی طاقت نہ تھی کہ کسی کے سہارے سے چل سکیں۔

خلاصہ یہ کہ ہم نے سب کا ساتھ چھوڑا اور تن تنہا آگے روانہ ہوئے۔ اب وہ مقام بالکل قریب ہی تھا۔ اور ہم تھوڑی ہی محنت سے اس تصویر تک پہنچ گئے۔ یہ تصویر ایک نہایت ہی حسین و نازنین عورت کی تھی۔ سر سونے کا تاج تھا اور اس تاج پر لکھا ہوا تھا، ’’کامیابی‘‘۔ تصویر کے برابر ایک دروازہ تھا۔ یہ دروازہ نہایت خوش نما بنا ہوا تھا۔ اور اس کی عظمت و شانداری سے معلوم ہوتا تھا کہ اس کے اندر جو کچھ ہوگا خوب ہوگا۔ چونکہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے ہم بہت تھک گئے تھے اور یہاں پہنچ کر استغنا سا ہو گیا تھا اس لیے اطمینان سے بیٹھ گئے۔ پہلے تو بیٹھے بیٹھے اس تصویر کو دیکھا کہ جس کے دیکھنے سے کسی طرح سیری نہیں ہوتی تھی۔ اس کے بعد اپنی پشت کی طرف دیکھنا شروع کیا۔

یہ وہ مقام تھا جس سے زیادہ بلند کوئی مقام نہیں۔ ساری دنیا ہمیں اپنے سامنے نظر آ رہی تھی۔ جب تک ہم اس پہاڑ کے نیچے تھے اس وقت تک دنیا نہایت بری اور فکرمندی کی جگہ معلوم ہوتی تھی۔ دل میں کچھ ایسی فکریں سمائی ہوئی تھیں کہ دنیا کی کوئی چیز بھلی نہیں معلوم ہوتی تھی۔ مگر اس بلندی پر چڑھ کے دیکھا تو دنیا کا مجموعی سین نہایت ہی دلفریب معلوم ہوا۔ واقعی دنیا کا چہرہ نہایت خوبصورت ہے۔ قدرت نے اسے عجب پیاری صورت دی ہے۔

ہم کیا کہیں کہ اس وقت ہمارے سامنے کیا تھا؟ سمندر لہریں لے رہے تھے۔ پہاڑوں کی چوٹیاں آسمان سے باتیں کر رہی تھیں۔ دریا بہہ رہے تھے۔ نہریں جاری تھیں۔ کہیں دھوپ تھی، کہیں سایہ تھا اور کہیں پانی برس رہا تھا۔ ہوائیں چل رہی تھیں۔ طیور زمین کے پیارے چہرے پر ادھر ادھر قربان ہوتے پھرتے تھے۔ سڑکیں کوسوں تک چلی گئی تھیں۔ کہیں آبادی تھی اور کہیں ویرانہ تھا۔ کسی جگہ گھنے جنگل سطح زمین کو چھپائے ہوئے تھے۔ اور کسی مقام پر ہزاروں کوس کے صحرا و بیابان پر شوق ہاتھوں کی طرح دامنِ آرزو پھیلائے تھے۔ عالی شان عمارتیں کہیں دنیا کی قدامت کو یاد دلاتی تھیں اور کہیں نئی جدتوں کا نمونہ دکھاتی تھیں۔ جابجا باغات تھے۔ اونچے اونچے درخت جھوم رہے تھے اور چھوٹے چھوٹے پودے امنگوں پر آئے ہوئے پری رخوں کی طرح اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ پھولوں کے تختوں پر مختلف رنگوں نے عجب بہار کا سماں پیدا کر رکھا تھا۔ ہرے بھرے کھیت اور سبزہ زار لہلہا رہے تھے۔

اس سین کے ساتھ دنیا کے لوگوں کو دیکھا تو نسلِ انسانی عموماً اسی تصویر کی طرف متوجہ معلوم ہوئی جس کا شوق ہمیں اس مقام پر کھینچ لایا تھا۔ ہر پیشے اور ہر فرقے، ہر قوم و مذہب، ہر ملک اور ہر جزیرے کے لوگ ہمیں اپنی ہی طرف آتے نظر آئے۔ عرب کے قافلے، افریقہ کے اونٹوں کی قطاریں، فرانس کے تاجر، امریکہ کے طباع، انگلستان کے انجینئر، روس کی فوجیں، ترکی کے بہادر، چین کے صناع، ایران کے فصحا، ہندوستان کے مفلس، سلطنتوں کی فوجیں، ملکوں کی رعایا، مذہبوں کے مقتدا، سب اسی طرف چلے آتے تھے۔ سمندر کی کشتیاں، خشکی کی گاڑیاں، بڑے بڑے جہاز، لمبی لمبی ریلوے ٹرینیں جسے دیکھا اسے اپنی ہی طرف آتے پایا۔ قسم قسم کے اوزار، وضع وضع کے اسلحہ، طرح طرح کی کتابیں ان لوگوں کے ہاتھوں میں تھیں جو ایک جوش و خروش کے ساتھ ادھر لپکے چلے آتے تھے۔

ان لوگوں کو آتے دیکھ کر دل میں خیال آیا کہ کہیں ایسا نہ ہو ہم یہ تماشا ہی دیکھا کریں اور یہ لوگ پہنچ کے دروازے کے اندر کی سیر کر آئیں۔ اٹھے اور دروازے کے قریب گئے۔ دروازہ بند تھا اور محراب میں کچھ لکھا نظر آیا۔ پڑھا تو یہ عبارت کندہ تھی: ’’جسے دائمی زندگی اور سچی خوشی پسند ہو اسی کے لیے یہ باغ اور محل ہے مگر اس کے اندر وہی داخل ہو سکتا ہے جس نے اولوالعزمی کی منزل طے کی ہو۔ اور اس ملکہ کی تصویر تک پہنچ گیا ہو جو کامیابی کا تاج دیے بیٹھی ہے۔‘‘

اتنے میں چند اور شخص آ گئے۔ یہ بالکل یوروپین وضع کے تھے۔ انگریزی ٹوپیاں سر پر تھیں۔ اور کوٹ پتلون زیبِ بدن تھا۔ ان لوگوں نے آتے ہی دروازے پر دستک دی۔ ایک نورانی صورت کا فرشتہ اندر سے نکلا۔ اور نہایت تپاک سے ہاتھ ملا کر اندر لیے چلا گیا۔ ہم نے دل میں کہا خوب ترکیب معلوم ہو گئی۔ بڑھ کر ہم نے بھی دستک دی۔ وہی فرشتہ نکلا اور ہماری صورت دیکھنے لگا۔ ہمیں نہایت حیرت ہوئی کہ تپاک سے ملنے کی جگہ وہ صرف ہماری صورت دیکھ رہا تھا۔ جب اس سے کوئی حرکت نہ محسوس ہوئی تو ارادہ کیا کہ خود ہی بے تکلف دروازے کے اندر چلے جائیں۔ ہمارا قدم بڑھانا تھا کہ اس نے لپک کر ہاتھ پکڑ لیا اور کہا، ’’ہوش میں ہو کہ نہیں؟‘‘

ہم: ’’ہوش میں نہ ہوتے تو یہاں تک کیوں کر آتے؟‘‘

فرشتہ: ’’خواب میں آنے کا اعتبار نہیں۔ صرف تم کو یہ راستہ دکھایا گیا ہے کہ اپنے ہم ملکوں کو لے آؤ۔ ورنہ ابھی تم یہاں کے مجاز نہیں۔‘‘

ہم: (جھلّا کر) ’’سوتے آپ ہوں گے۔ ہم تو اچھے خاصے جاگ رہے ہیں۔‘‘

یہ کہنا تھا کہ اس نے ہمارے دونوں ہاتھ پکڑ کر اس زور سے ہلائے کہ بے تحاشا آنکھ کھل گئی۔ آنکھیں ملتے اٹھ بیٹھے۔ دیکھا تو اسی مقام پر تھے جہاں سے چلے تھے اور اتنی محنت کر کے پہنچے تھے۔ افسوس!