(1)
”عاشق بننے کے لیے نہ بی اے ہونے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ ایم۔ اے ہونے کی نہ صاحبِ جائداد کی قید ہے نہ شریف خاندان کی جس کو اللہ توفیق دے عاشق بن سکتا ہے اور جس طرح شیلے۔ شیکسپیر۔ غالب، مومن، حافظ وغیرہ کا نام ہمیشہ سے زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا اسی طرح مجنوں اور فرہاد اور ان کی طرح دوسرے عاشقوں کا نام دس مرتبہ ایک غزل میں آنے کا قانوناً مستحق ہو جاتا ہے۔ آخر مجنوں بھی آدمی تھا فرہاد بھی ہماری طرح انسان تھا ان دونوں میں کون سے سرخاب کے پر لگے ہوئے تھے کہ آج تک ہر شاعر جب تک ان کا نام لے کر غزل شروع نہ کرے شعر کہہ ہی نہیں سکتا۔ نہ بہت پڑھے لکھے تھے نہ ایسے مال دار تھے نہ ان کے حسن میں کوئی خاص بات تھی بلکہ اگر سچ پوچھئے تو ان سے زیادہ پڑھے لکھے مال دار، خوبصورت نہ سہی مگر خیر پھر بھی انسان کی صورت کے ہم خود ہیں جب ان لوگوں نے عشق کر کے ایسا نام حاصل کر لیا تو کیا ہم یہ بھی نہیں کر سکتے اور اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو سمجھ لینا چاہئے کہ ہم سے اب دنیا کا کوئی کام نہ ہو گا“۔
بڈھن کے ذہن میں اسی قسم کے خیالات کا طوفان موجزن تھا اور وہ اپنے خیالات میں اتنا محو تھا کہ سڑک پر لیٹا ہوا کتا بھی دکھائی نہ دیا کتے پر پیر پڑا اور اس کی بھوں بھوں نے تمام محویت کے نشہ کو ہرن کر دیا اچھل کر ایک دکان پر چڑھ گئے۔ حیرت ہوئی کہ کتے نے کاٹا واٹا نہیں لیکن اگر یہ حادثہ پیش نہ آ جاتا تو اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ گھر پہنچتے پہنچتے بڈھن نہ معلوم کب کے عاشق بن چکے ہوتے۔ کتے پر پیر پڑ جانے سے خیالات پریشان ہو گئے لیکن اس عاشق بن جانے کی اسکیم پر اطمینان سے غور کرنے کا ارادہ کر کے گھر پہنچے اور اچکن وغیرہ اتار کر اسی فکر میں چار پائی پر لیٹ گئے۔ بڈھن اس مسئلہ پر جتنا جتنا غور کرتے تھے ان کی امیدیں بڑھتی جاتی تھیں اور ہر پہلو سے عاشق بن جانا اچھا ہی نظر آتا تھا۔ مگر پھر انہوں نے سوچا کہ لاؤ ذرا بیوی سے بھی مشورہ کر لیں ایک سے دو کی رائے مناسب ہو گی ممکن ہے کہ وہ کوئی بہتر بات بتا دیں۔ بہر حال یہ ایک لا جواب ترکیب ہے اور بالکل الہامی طریقے سے ذہن میں آئی ہے۔ بات یہ ہے کہ جب انسان کے دن پھرنے والے ہوتے ہیں تو خود بخود اس کے اسباب پیدا ہو جاتے ہیں یہ بھی کیا خدا کی قدرت ہے۔ دیکھیں بیگم کیا کہتی ہیں؟
سنتی ہو؟ ارے سننا؟؟ ذرا سنو تو سہی
بیگم طلبی پر ہانڈی چولھا چھوڑ فوراً حاضر ہو گئیں اور بڈھن کے چہرے پر خلاف معمول تازگی اور چمک دیکھ کر خود بھی منتظر ہو گئیں کہ کیا بات کہتے ہیں۔
بڈھن نے نہایت امید افزا چہرہ بنا کر کہنا شروع کیا۔
”ذرا قریب بیٹھو۔ آج ایک ترکیب سوجھی ہے وہ لا جواب کہ واللہ تم بھی کیا کہو گی تم بہت کہا کرتی ہو کہ تم سے کچھ نہ ہو گا یوں ہی بیکار بیٹھے رہو گے اور یہ اور وہ مگر آج دیکھو میں نے کیا ترکیب نکالی ہے“۔
بیگم۔ ”کہو گے بھی یا بس تعریفیں ہی ہوا کریں گی میرا گوشت جلا جاتا ہے ابھی روٹی پکانے کو پڑی ہے“۔
بڈھن۔ ”اجی لعنت بھیجو گوشت کو اور چولھے میں ڈالو روٹی کو تم تو اطمینان سے سنو جو کچھ میں کہتا ہوں میں نے وہ ترکیب سوچی ہے کہ جب تک دنیا ہے میرا نام باقی رہے گا اور بڑے بڑے لوگ میرے نام کا وظیفہ پڑھیں گے“۔
بیگم۔ ”توبہ ہے کسی طرح ختم ہی نہیں ہو چکتی“۔
بڈھن۔ ”سنو تو سہی تم تو بات کاٹ دیتی ہو، بھلا تم نے مجنوں کا نام بھی سنا ہے؟“
بیگم۔ ”ہاں سنا ہے پھر؟“
بڈھن۔ ”اگر اسی طرح میں بھی عشق کر لوں تو کہو کیسی رہے؟ ہزاروں لاکھوں برس تک لوگ مجھ کو نہ بھولیں گے۔ وہ شہرت ہو گی کہ تم بھی یاد کرو گی“۔
بیگم۔ ”اے تمہیں خدا سمجھے ایسی عقل پر پتھر پڑیں جو بات کی موئی اوندھی جان بوجھ کر اپنے کو سڑی بنا رکھا ہے میری قسمت میں تمہارا ایسا خبطی لکھا تھا خدا اس سے تو مجھے موت دے دیتا۔ خدا میرے ماں باپ کی روح خوش کرے جنہوں نے میرا ایسے سودائی سے باندھا ہے“۔
بڈھن۔ ”ہائیں۔ ہائیں۔ کچھ عقل ماری گئی ہے۔ کچھ پاگل ہو گئی ہو۔ یعنی میں نے تو ایک اچھی بات کہی اس کی داد یہ ملی کہ سڑی سوا اور نہ معلوم کیا کیا بنا ڈالا۔ واللہ تم سے بھی بات کہہ کے طبیعت خوش نہیں ہوئی۔ عجیب بے وقوف قسم کی ہو جاؤ تم اپنا گوشت پکاؤ تم سے ایسی باتوں میں مشورہ لینا ہی میری حماقت تھی لا حول ولا قوۃ“۔
(2)
حالانکہ بیوی سے سخت مخالفت ہو چکی تھی مگر بڈھن کا دل گواہی دے رہا تھا کہ عاشق بن جانا ہی اس کا ایک علاج باقی ہے اور اگر یہ بھی نہ ہوا تو پھر ڈوب مرنا چاہئے خدا کی شان مجنوں اور فرہاد ایسے جاہل کندہ نا تراش عاشق بن جائیں اور کچھ نہ بنے مگر جب تک یہ بات ذہن میں نہیں آئی تھی اسی وقت تک کی دیر تھی اب تو اس نے ارادہ کر لیا تھا کہ عشق کروں گا اور عاشق بن کر رہوں گا مگر سوال یہ تھا کہ عشق کرنے میں کم از کم ایک معشوق کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ کہاں سے لایا جائے لیکن اس نے کر لیا کہ جب وہ عشق کرنے پر تیار ہو گیا تو خدا مسبب الاسباب ہے معشوق مل ہی جائے گا۔ ایک مرتبہ یہ خیال پیدا ہوا کہ ”لاؤ بیوی سے عشق کر لیں“ مگر پھر خود ہی اس خیال پر ہنسی بھی آئی کہ اپنی بیوی سے خود ہی عشق کرنا کس قدر مہمل بات ہے جیسے اپنا شعر پڑھ کر خود ہی سبحان اللہ کہہ دینا اور پھر خود ہی سلام کر لینا اپنی دعوت خود ہی کرنا اور خود ہی مدعو ہو جانا عشق بیوی سے نہیں کیا جاتا بیوی سے تو نکاح ہوتا ہے اور عشق ہوتا ہے معشوق سے۔ لہذا یہ عشق کا قصہ اس وقت تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ جب تک کوئی مناسب سا معشوق نہ ملے۔ اور معشوق کی جستجو شروع کر دی۔ جستجو جس چیز کی بھی کی جائے اس کا نہ ملنا کیسا؟ ہاں ڈھونڈھنے والا چاہئے۔ بڈھن نے معشوق کی جستجو میں سارا شہر چھان مارا ایک ایک گلی ایک ایک کوچہ نہ چھوڑا آخر کار معشوق مل کر رہا لیکن ذرا گھر سے دور۔ خیر اس سے کیا ہوتا ہے۔ عشق کے نزدیک فاصلہ واصلہ کوئی چیز نہیں مجنوں تو نجد1 کے معلوم نہیں دن بھر کتنے چکر لگاتا تھا اور ذرا بھی نہیں تھکتا تھا چہ جائیکہ اتنا سا فاصلہ کہ چار پیسے دیئے اور کھٹ سے یکے پر بیٹھ کر کوچۂ جاناں میں جا پہنچے۔ تھوڑی دیر عشق کیا اور پھر واپس آ گئے۔ دو تین روز تک بڈھن اسی طرح آتے جاتے رہے لیکن ابھی ان کو عشق کرنا نہیں آتا تھا آخر ایک دن غور کیا کہ عشق کس طرح کریں معشوق بھی خدا کے فضل سے مل گیا ہے اور عاشق بھی ہم ہیں لیکن عشق کرنے کا طریقہ تو معلوم ہونا چاہئے۔ یہ سوچ کر قصہ لیلیٰ مجنوں شروع سے آخر تک رات بھر میں پڑھ ڈالا اور نہایت غور سے پڑھا۔ صبح ہوتے ہی گھر سے نکل کر اپنے بیٹھکے میں آئے اور عاشق کی صورت بنانا شروع کی اچکن اتاری، قمیض کو پھاڑ کر پھینک دیا صرف گریباں گلے میں ڈال لیا پاجامے کو لنگوٹی کی شکل میں پھاڑ کر باندھ لیا اور ننگے سر ننگے پاؤں گھر سے نکل کر یکے کی تلاش میں چلے۔ لیکن کوئی یکے والا بٹھانے پر راضی نہ ہوا ایک آدھ سے لڑائی بھی ہو گئی۔ یہ لاکھ کہتے رہے کہ ”ابے جانتا نہیں ہے کہ ہم عاشق ہیں عاشق“ لیکن کسی نے ایک نہ سنی۔ کوئی ہنستا کوئی مذاق اڑاتا رہا۔ بہر حال سب نے متفقہ طور پر پاگل سمجھ کر ان کو یکے پر نہ بٹھایا اور مجبوراً بیچارے کو پیدل جانا پڑا۔ راستہ میں کتے بھونکے۔ لڑکوں نے ڈھیلے مارے۔ لوگوں نے مذاق کیا مگر یہ اپنی رو میں سیدھے کوچۂ یار میں آ کر ٹھہرے اور خدا کا شکر ادا کیا کہ آج کچھ کچھ عشق رنگ لایا ہے۔ اس لئے کہ مجنوں پر بھی شروع شروع میں کتے بھونکے تھے اور یہی تمام واقعات گذرے تھے۔ جب عشق کے رنگ لانے کی طرف سے اطمینان ہو گیا تو معشوق کی کھڑکی کے نیچے پہنچے اور اظہار عشق کا عزم بالجزم کر لیا ایک کوئلہ سے کاغذ پر لکھا۔
|
مرتا ہوں ترے عشق میں اے یار خبر لے |
