لکھا اور کاغذ کو ایک پتھر میں باندھ کر سیٹھ جی کی لڑکی پر پھینک دیا کاغذ تو ہوا سے اڑ گیا۔ لیکن پتھر پیغامِ عشق لے کر سیدھا پیشانیٔ معشوق پر جا کر اس طرح لگا کہ خون بہنا شروع ہو گیا اور ”ہائے مار ڈالا۔ ہائے مار ڈالا“ کی آواز سے سارا محلہ جمع ہو گیا بڈھن معشوق کی ان اداؤں کو دیکھ کر خوش ہو رہے تھے کہ معشوق کی انگلی کے ایک اشارے سے چار پانچ آدمیوں نے عاشق کو گرفتار کر لیا۔
(3)
پولیس کی چوکی بھی عجیب و غریب جگہ ہوتی ہے اور پھر ایک عاشق کے لئے۔ وہاں کسی بات میں شعریت ہی نہیں پس ”ابے تبے“ کر کے معاملات کی باتیں پوچھ لیں اور حوالات میں بھیج دیا نہ کسی کے احساسات کا خیال نہ لطیف جذبات کا پاس بس ان کو تو اپنے کام سے کام ہوتا ہے۔ بڈھن کو بھی وہاں جا کر قلبی اذیت ہوئی جس کو دیکھئے ”ابے تو کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ کیا نام ہے؟ یہ تو نے کیا کیا؟ بولتا ہے کہ نہیں؟“ یہی کہہ رہا ہے اب کوئی ان سے کیا کہے کہ جس سے تم اس طرح مخاطب ہو وہ کس مرتبہ کا انسان ہے، ایک آدھ مرتبہ بڈھن نے کہا بھی کہ ”بھائی ہم عاشق ہیں عاشق“ مگر اس پر کسی نے کان بھی نہ دھرے بس یہی پوچھا کہ ”عاشق علی یا عاشق حسین؟“ اب ان کو کون سمجھاتا کہ عاشق کے لئے صرف عاشق کہہ دینا ہی کافی ہے جب ان کا اس طرح اطمینان نہ ہوا تو کہا کہ ”بھائی ہم عاشق ہیں ہمارا نام بڈھن ہے“ کسی نے سن کر کہا سڑی ہے کوئی بولا بنتا ہے کسی نے رائے قائم کی کہ بدمعاش ہے کسی کا خیال ہوا کہ خفیہ پولیس ہے ایک لال بجھکڑ نے بہت غور کے بعد کہا کہ ”انقلاب پسند جماعت کا آدمی معلوم ہوتا ہے بم باز ہے“ آخر ایک صاحب نے گھر کا پتہ پوچھا تو بتایا گیا۔ انہوں نے کہا ”ہم ابھی چلیں گے ہم کو چل کر اپنا مکان بتاؤ“ بڈھن نے کہا ”بسم اللہ چلئے آپ کا گھر ہے“۔
پولیس کے سپاہیوں میں گھرے ہوئے بیچارے بڈھن اپنے گھر پہنچے مگر گھر میں نہ جانے پائے بیوی کو خبر ہوئی تو اس نے سر پیٹ لیا۔ محلہ والوں نے شناخت کی اور سب نے متفقہ طور پر یہی رائے قائم کی کہ ”بیچارہ اچھا خاصا تھا آج دماغ ختم ہو گیا“۔ بیوی نے کہا ”نہیں دماغ میں کل شام سے کچھ خلل ہے۔ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ میں مجنوں کی طرح عشق کر کے نام کر لوں کیا رائے ہے“۔
بیوی کی آواز سن کر بڈھن کو پھر غصہ آیا اور کہنے لگے:
”پاگل ہو تم تمہارا کیا؟ یہ دماغ کی خرابی کی بات ہے یا نام پیدا کرنے کی ترکیب ہے؟ تم نے کل بھی جہالت کی باتیں کی تھیں اور آج بھی وہی حماقت تم سے کون پوچھ رہا ہے تم جاؤ کھانا پکاؤ۔ کسی کا کیا اجارہ ہے ہم نے عشق کیا اچھا کیا خوب کیا اور کریں گے ہزار مرتبہ کریں گے دیکھیں تو ہمارا کیا کرتی ہو؟“
بیوی۔ ”اے اپنی گت تو دیکھو ہائے میں لٹ گئی!“
بڈھن۔ ”گت کیا دیکھیں عاشقوں کی یہی شان ہوتی ہے تم ماشاء اللہ پڑھی لکھی ہو ذرا قصہ لیلیٰ مجنوں اٹھا کر دیکھو کہ مجنوں جس کا آج ڈنکا بج رہا ہے کس شان سے رہتا تھا“۔
بیوی۔ ”ہائے میں لٹ گئی۔ ہائے میں کہیں کی نہ رہی“
بڈھن۔ ”اس میں لٹنے کی کون سی بات تھی ایک قمیض میں نے اپنے شوق کے لیے پھاڑی تو یہ لٹ گئیں تم کو میرا عشق ایسا ہی برا معلوم ہے تو جانے دو میں نہیں کروں گا عشق لاؤ کرتہ پاجامہ بکس میں سے نکال دو مگر اب مجھ کو بیکاری کا طعنہ نہ دینا“۔
