جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

مومن

لطف بیان

اس وسعتِ بیان سے جی تنگ آ گیا

ناصح تو میری جان نہ لے دل گیا گیا

مصرعہ اولیٰ میں ناصح کی طولانی نصیحت سے تنگ آنے کا بیان اور مصرعہ ثانی (وہ جان نہ لے) کے لطف کو ملاحظہ فرمائیے۔ یہی مطلب ہے کہ معشوق نے تو فقط دل لیا تھا۔ مگر حضرت ناصح جان کے خواہاں ہیں۔

نالۂ شب نے یہ ہوا باندھی

ہو گیا گُل چراغ بُلبُل کا

ترکیب کے لحاظ سے مومن کا یہ شعر بالکل نیا ہے۔ نالۂ شب نے ہوا باندھ کر بلبل کے چراغ ’’گُل‘‘ کو گُل کر دیا یعنی ہوا کے زور سے گرا دیا۔ اور بلبل کی آنکھوں میں چمن تاریک ہو گیا۔ گر بلاغتِ معنوی کو دیکھیے تو چراغ کو بجھا کر پھر قائم کر دیا۔ گل میں جو خوبی پیدا کی ہے وہ مومن کی استادی کا ثبوت کافی ہے۔

بیکاریٔ امید سے فرصت ہے رات دن

وہ کاروبارِ حسرت و حرماں نہیں رہا

کہتے ہیں جب حسرت و حرماں کو ترک کیا کہ ہماری امید بالکل بیکار اور معطل ہو گئی اور اس لیے اب ہم کو فرصت ہے۔ خلاصہ مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ اب عشق و محبت کا جوش و خروش نہیں رہا۔

مومن نے اسی زمین میں ایک ایسا شعر کہا ہے جو غالب کے ایک شعر سے با اعتبار مفہوم ملتا ہوا ہے۔ مومن بھی اپنے گھر کی خرابی میں بہار اور آبادی کی کیفیت دیکھ رہے ہیں اور غالب بھی۔

(مومن)

بے سیرِ دشت و بادیہ لگنے لگا ہے جی

اور اس خراب گھر میں کہ ویران نہیں رہا

(غالب)

اگ رہا ہے در و دیوار سے سبزہ غالب

ہم بیاباں میں ہیں اور گھر میں بہار آئی ہے

دونوں شعر مذاق ملتے ہوئے بہ ایں فرق آتا ہے کہ مومن جنگل کی سیر کو نہیں گئے ہیں اور یہ اس کے لیے کہ گھر اس قدر خراب اور ویران ہوا ہے کہ اس میں کثرت سے روئیدگی نباتات ہو گئی ہے اور اس سبزہ زار کی سیر میں اس قدر دلبستگی پیدا ہوئی ہے کہ دشت نوردی بیکار خیال کر لی گئی ہے لیکن غالب گھر کی تباہی سے جوشِ وحشت میں بیاباں کو چل کھڑے ہوئے لیکن وہاں جا کر سنا کہ ہائے گھر کی در و دیوار پہ سبزہ اگ آیا ہے۔ (یہ بھی انتہائی ویرانی ہے) اور ہم یہاں بیاباں میں ہیں۔ عجب دلکش انداز سے گھر کی یاد دلائی ہے۔

مومن یہ لافِ الفتِ تقویٰ ہے کیوں مگر

دلی میں کوئی دشمنِ ایمان نہیں رہا


اس جوشِ طپش پر بڑی مشکل سے رسائی

صد شکر گذر غیر کا تا بام نہ ہو گا

کس نئے طریقہ سے اظہارِ رقابت کیا ہے اور اس پیرایہ میں غیر کی ناکامی پر اظہارِ مسرت کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ میں اپنی انتہائی طپش کے باوجود یار کے بامِ بلند تک پہنچ چکا۔ لیکن غیر سوجھ سے نہ پہنچ سکے گا کہ اس میں میری سی طرب نہیں ہے۔


ہم جان فدا کرتے گر وعدہ وفا ہوتا

مرنا ہی مقدر تھا وہ آتے تو کیا ہوتا

کہتے ہیں کہ اگر وہ چہرہ وفا کرتے اور ہمارے ہاں آتے تو بھی ہم فرطِ خوشی میں جان نثار کرتے اور وعدہ کے نہیں آئے تو غم میں جان دے دیتے۔ خلاصہ یہ کہ ہماری موت ہر حال میں مقدر تھی۔ ناکامیٔ بخت کی تصویر کس طور پر اتاری ہے۔ گر شعر کے مفہوم سے یہ بات نکلتی ہے کہ اگر وہ وعدہ پر آتے تو تمہارا مرنا خوشی کا ہوتا اور نہیں آئے تو موت غمناک ہو گئی۔ بہت ہی اچھا خیال ہے۔

عدم میں رہتے، تو شاد رہتے، اُسے بھی فکرِ ستم نہ ہوتا

جو ہم نا ہوتے تو دل نہ ہوتا، جو دل نہ ہوتا تو غم نہ ہوتا

حسن و عشق کے تعلقات کو کس خوبی کے ساتھ بیان کیا ہے۔ بالکل سچا مضمون ہے۔ رنج و غم کا لگ بندھ زندگی کے ساتھ ہے۔


وصال کو ہم ترستے ہی تھے جو اب ہوا تو مزا نہ پایا

عدو کے مرنے کی تب خوشی تھی کہ اُس کو رنج و الم نہ ہوتا

رنگِ تغزل میں بلاغتِ معنوی کو دیکھیے۔ کہتے ہیں کہ جب تک عدو زندہ رہا وہ (معشوق) اس کے بس میں رہا اور جب اس کو موت آئی تو وہ (معشوق) اس کے رنج و الم میں گرفتار ہے۔ گویا غمِ رقابت نہیں رہا لیکن غمِ رقیب فراقِ وصلِ یار ممکنات سے ہے۔ لیکن جب وہ غمگین ہے تو ہم وصل سے کیوں کر خوش ہو سکتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہم لطف و کرم سے اب تک محروم ہیں۔

قتلِ عدو میں عذرِ نزاکت گراں ہے اب

مجھ میں ستم اٹھانے کی طاقت کہاں ہے اب

اظہارِ غمِ رقابت کا اسلوبِ بیاں ملاحظہہو۔ معشوق سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ جب تم نے ہمارے ہوتے ہوئے عدو کا قتل کیا تو عذرِ نزاکت گراں ہے (اچھا نہیں معلوم ہوتا) اور اب تمہارا عذرِ نزاکت گویا مجھ پر ستم کرنا ہے۔ اور مجھ میں غم اٹھانے کی طاقت نہیں (یہ ضعف گویا معشوق کی نزاکت کا جواب ہے)۔ اور یہی مطلب ہو سکتا ہے کہ جب مومن نے اپنے قتل کی آرزو کی تو معشوق نے عذرِ نزاکت کیا اور اس پر مومن نے یوں اظہارِ طنز کیا۔

جنگ حسن و عشق

واں طعنہ تیرِ یار یاں شکوہ زخم ریز

باہم تھی کس مزے کی لڑائی تمام رات

سودا تھا بلا کا جوش پر رات

بستر پہ بچھائے نیشتر رات

افسابی سمجھ کے سو گئے وہ

کام آئی فغانِ بے اثر رات

تارے آنکھیں جھپک رہے تھے

تھا بام پہ کون جلوہ گر رات

مومن کے تینوں شعر حد درجہ دلکش ہیں۔ مطلع میں یہ ثابت کرتے ہیں کہ رات کو سودا کا جوش اس درجہ بڑھا ہوا تھا کہ مجھے بستر پر نشتر بچھانے پڑے۔ تا کہ نشتر کی خلش سے خونِ فاسد نکل جائے اور جوشِ سودا کم ہو۔ رنگِ تغزل میں حکیمانہ مسلک بھی بیان کر دیا۔ گویا بے سودائے عشق کے بستر پر پھولوں کے عوض نشتر بچھائے گئے۔ ایسے ہی شعر کو تیر و نشتر کہا جاتا ہے۔ دوسرے شعر میں اپنے فسانۂ غم سے معشوق کو سلا دیا لیکن معشوق کے سو جانے سے بھی یہ متبلائے فکر رہے کہ اس کو پاسِ ادب سے جگا نہیں سکتے۔ تاروں والے شعر میں ایک خاص لطف کیفیت ہے جو محتاجِ بیان نہیں۔ تاروں کی آنکھ جھپکنا بالکل بدیہی بات ہے۔ گر مومن اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رات کو اپنے بام پر جلوہ گر ہوئے۔ ان کے فروغِ حسن یا آفتاب آنکھوں کو دیکھ کر تارے شرم سے آنکھیں چھپکانے لگے۔


میں ایک سخت جان ہوں گردوں سے پوچھ لو

تم کو خیال ہے مرے آزار کا عبث

معشوق کو ترکِ آزار پر کس طرح آمادہ کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں ایسا سخت جان ہوں کہ فلک سا ظالم مجھے نہ ستا سکا۔ لہٰذا تم میری فکرِ آزار عبث کر رہے ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم مجھ پر رحم کرو۔

ہو نہ بیتاب ادا تمہاری آج

ناز کرتی ہے بیقراری آج

کس شان کا مطلع ہے۔ معشوق سے کہتے ہیں کہ آج تمہاری ادا بہت بیتاب نہ ہو کیونکہ آج میری بیقراری بھی اپنے اوپر ناز کر رہی ہے۔ اس لیے تمہاری ادا و ناز انجلی ہے۔ ورنہ میری بیقراری سے مقابلہ ہو گا۔ یہ گویا شبِ وصل کے جذبات کی تصویر اتاری ہے۔


پنجۂ رشتہ سے تو زلفِ گرہ گیر نہ کھینچ

دل سے دیوانہ کو مت چھیڑ یہ زنجیر کو کھینچ

لاے ستم پیشہ مرے بعد کہاں نشۂ عشق

دیکھ خمیازۂ حسرت ہے یہ شمشیر نہ کھینچ

پہلا شعر میر کے رنگ کا ہے اور دوسرے شعر میں غالب کا رنگ ہے۔ شمشیرِ خمیدہ سے خمیازہ کی کیا تصویر اتاری ہے۔


ہوتے ہیں قتل غیر، ادھر ہے نگاہِ لطف

ارماں مرے نکلتے ہیں تلوار کی طرح

کس نئی ترکیب سے اظہارِ رقابت کیا ہے۔ معشوق کی نگاہِ لطف نے جو ارماں ان کے مٹائے تھے وہ قتلِ غیر کے لیے تلوار کا کام دے رہے ہیں۔ مضمون نیا نہیں مگر ترکیب بالکل نئی ہے اور اس سے شعر میں جدت پیدا ہو گئی۔


شوقِ وصال دیکھ کر آیا عدو کے گھر

سوجھا نہ کچھ مجھے شبِ مہتاب دیکھ کر

اس شعر میں صرف شبِ ماہتاب کے جوش انگیز اثر کو دکھایا ہے۔ واقعی عاشق مزاجوں اور رندوں کے نزدیک یہ بہت ہی لطف انگیز ہے۔ کہتے ہیں کہ جب شبِ مہتاب کے لطف کو دیکھا تو میں شوقِ وصالِ یار میں گھر سے نکلا اور مجھے یہ بھی نہ سوجھا کہ شبِ مہتاب میں نہ سوجھنا پر مذاق بات ہے کہ میرا دوست عدو کے گھر میں ہے اور مجھے وہاں نہ جانا چاہیے، گر اضطراری حالت میں مجھ سے دل پر اختیار نہ رہا۔

اعجاز