اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ وَکَفٰی وَسَلَامٌ عَلٰی عِبَادِہِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰی۔ اَمَّا بَعْدُ
دنیا میں ان گنت آدمی پیدا ہوئے اور مر گئے، مگر کتنے آدمیوں کو دنیا نے یاد رکھا؟ تاریخ کے صفحات پر گنتی کے آدمیوں کے نام ملتے ہیں۔ یہ آدمی وہ ہیں جو اپنی زندگی میں باقی آدمیوں سے ممتاز رہے اور ایسے کارنامے کر گزرے جنھیں دنیا بھلا نہ سکی۔ شیخ سعدی ایسے ہی ایک خوش نصیب آدمی تھے۔
نام
شرف الدین، لقب مصلح، اور تخلّص سعدی۔ شیراز کو وطن ہونے کا شرف حاصل ہے: وہ شیراز، جو صدیوں ایران کا پایۂ تخت اور علوم و فنون کا مرکز رہ چکا ہے۔ پیدائش غالباً 589ھ (1193ء) میں۔ اور وفات 691ھ میں ہوئی۔ اس طرح شیخ نے ایک سو سال سے زیادہ عمر پائی۔ بعضوں نے تو ایک سو بیس سال عمر لکھی ہے۔ تخلص سعدی قرار دینے کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ شیخ کا باپ عبد اللہ شیرازی، بادشاہ اتابک سعد زنگی کا ملازم تھا اور شیخ نے اسی بادشاہ کے عہد میں شاعری شروع کی، اس لئے اُس کے نام کی نسبت سے اپنا تخلص سعدی قرار دیا۔
بچپن
شیخ کا باپ عبد اللہ، باخدا آدمی تھا اور گھر میں دینداری کا چرچا تھا۔ اسی لئے بچپن ہی میں اسے روزہ نماز کے ضروری مسائل یاد کرا دیئے گئے تھے اور اس چھوٹی سی عمر میں بھی عبادت، شب بیداری اور تلاوتِ کلام اللہ کا کمال شوق اُس میں پیدا ہو چکا تھا۔ باپ اس کی تربیت میں بڑا چست تھا۔ کڑی نگرانی رکھتا تھا اور بے موقع زبان کھولنے پر بھی زجر و توبیخ کرتا تھا۔ شیخ نے اپنی تربیت کا بڑا سبب اسی باپ کی تادیب اور زجر و توبیخ کو قرار دیا ہے (دیکھو بوستان)
لیکن شیخ ہی کے اشعار سے معلوم ہوتا ہے کہ کم سنی میں یتیم ہو گیا اور غالباً ماں نے تربیت کی، جو شیخ کی جوانی تک زندہ تھی۔ شیخ نے آنکھ کھولی، تو شیراز میں علماء، فضلاء، مشائخ و بلغاء کا ہجوم تھا۔ اس ماحول میں بچے سعدی میں تحصیلِ علم کا ولولہ پیدا ہو جانا قدرتی تھا۔ مگر اس وقت ملک ابتری اور طوائف الملوکی کا شکار تھا۔ جنگوں کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری تھا۔ اور خود شیراز پر بھی تباہیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ اس فضا میں شیخ کا ولولۂ علم پورا نہیں ہو سکتا تھا، چنانچہ شیخ نے ترکِ وطن کی ٹھانی۔ اور شیراز سے چل کر بغداد پہنچ گیا۔
تعلیم
بغداد ابھی تک ہلاکو خاں کے ہاتھوں برباد نہیں ہوا تھا۔ بدستور دار الخلافہ تھا اور علم و علما کا مرکز، شہرۂ آفاق دار العلوم نظامیہ آباد تھا۔ یہ دار العلوم، نظام الملک طوسی نے 459ھ میں قائم کیا تھا اور اس کی شہرت پوری اسلامی دنیا میں گونج رہی تھی۔ شیخ کو نظامیہ کی کشش، بغداد میں کھینچ لائی اور نظامیہ میں داخل ہو گیا۔
بغداد میں شیخ نے جن علماء و فضلاء سے علم حاصل کیا، ان میں ایک بزرگ ایسے بھی ہیں جن کی کفش برداری پر ہر صاحبِ علم کو فخر ہونا چاہیئے۔ یہ علامہ ابو الفرج عبد الرحمن بن جوزی ہیں جو اپنے زمانے میں امامِ وقت تھے۔ ابنِ جوزی سے شیخ کا تلمذ ہی شیخ کی بڑائی کے لئے کافی تھا، اگر اور بہت سی بڑائیاں اس میں موجود نہ بھی ہوتیں۔
شیخ بچپن ہی سے خوش بیانی اور حسنِ تقریر کا مالک تھا۔ مدرسہ نظامیہ کے بعض طالب علم حسد سے جلے جاتے تھے۔ ایک دن شیخ نے اپنے استاد ابن جوزی سے حاسدوں کی شکایت کی، تو اُستاد نے فرمایا ’’وہ بھی اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں، اور تم بھی، وہ رشک و حسد سے اور تم بدگوئی و غیبت سے!‘‘
شیخ کی طبیعت تصوف اور درویشی کی طرف مائل تھی اور وجد و سماع کی مجلسوں میں وہ شریک ہوا کرتا تھا۔ اس کے اُستاد ابن جوزی اس چیز کو بُرا سمجھتے اور شیخ کو سختی سے منع کرتے تھے، مگر وہ باز نہ آتا تھا۔ آخر ایک بدآواز قوال سے پالا پڑ گیا اور ساری رات اسی مکروہ صحبت میں بسر ہوئی، جب صحبت ختم ہوئی تو شیخ نے سر سے عمامہ اتارا اور جیب سے ایک دینار نکالا، پھر یہ دونوں چیزیں قوال کی نذر کر دیں۔ ساتھیوں نے تعجب کیا، تو شیخ نے کہا، قوال صاحب کرامت بزرگ ہے۔ استاد کی نصیحت نے وہ اثر نہیں کیا، جو اس کے ’’لحنِ داؤدی‘‘ نے کیا ہے۔ اور اب میں سماع سے توبہ کرتا ہوں۔
سیاحی
شیخ نے کتنی مدت طالب علمی کی، بعض تذکروں میں تیس برس لکھا ہے۔ بہر حال شیخ جب تحصیلِ علم سے فارغ ہوا، تو دفترِ کائنات کے مطالعہ کی ٹھانی اور سیاحی پر کمربستہ ہو گیا۔ بعضوں نے لکھا ہے کہ شیخ کی سیاحی بھی تیس برس جاری رہی۔ یہ صحیح ہو یا نہ ہو، مگر یہ واقعہ ہے کہ شیخ بہت بڑا سیاح گزرا ہے۔
شام یا عراق کے ایک شہر میں شیخ کو ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ قاضیٔ شہر کی مجلس جمی ہوئی تھی۔ شیخ بھی پہنچ گیا، مگر پھٹے پرانے کپڑے پہنے تھا۔ خدام نے اٹھا دیا اور بڑی مشکل سے وہ کسی کونے میں دبک بیٹھا۔ مجلس میں کسی مسئلے پر گرما گرم بحث ہو رہی تھی مگر عقدہ کسی سے کھلتا نہ تھا۔ شیخ سے نہ رہا گیا اور سر اٹھا کر بلند آواز سے گفتگو کی اجازت چاہی۔ شاندار لباس میں ملبوس علماء، خرقہ پوش درویش کو دیکھ کر متعجب ہوئے مگر جب شیخ نے مسئلے کو نہایت خوبی و فصاحت سے صاف کر دیا، تو قاضی صاحب نے مسند چھوڑ دی اور عمامہ سر سے اُتار کر شیخ کے سامنے رکھ دیا۔ شیخ نے کہا یہ غرور کا اوزار ہے، مجھے نہیں چاہیئے! (بوستان)
شیخ کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ بے سر و سامان متوکل درویشوں کی طرح سفر کرتا اور ہر قسم کی تکلیفیں جھیل جاتا تھا، مگر اُف تک نہ کرتا تھا۔ ایک مرتبہ دمشق میں تھا، مگر وہاں والوں سے ناراض ہو کر فلسطین کے بیابان میں جا بیٹھا۔ یہ صلیبی جنگوں کا زمانہ تھا، وہاں عیسائیوں نے اُسے پکڑ لیا اور طرابلس الشرق کے علاقے میں خندق کھودنے کے کام پر دوسرے قیدیوں کے ساتھ لگا دیا۔ شیخ صبر و شکر سے، جو اہل اللہ کا خاصہ ہے، یہ مشقت برداشت کرتا رہا۔ مدت کے بعد حلب کا ایک معزز آدمی اس طرف سے گزرا۔ وہ شیخ کو جانتا تھا۔ اس حالت میں دیکھ کر بہت ملول ہوا۔ دس دینار دے کر شیخ کو قیدِ فرنگ سے چھڑایا اور اپنے ساتھ حلب لے گیا۔ اسی قدر نہیں بلکہ شیخ سے اپنی ناکتخدا بیٹی کا نکاح بھی سو دینار مہر پر کر دیا۔ مگر بیوی سخت بدمزاج اور زبان دراز نکلی۔ شیخ کا دم ناک میں کر دیا۔ ایک دن شیخ کو طعنہ دیا ’’حضور وہی تو ہیں جنھیں میرے باپ نے دس دینار میں خریدا ہے‘‘۔ شیخ نے برجستہ جواب دیا ’’جی ہاں، میں وہی ہوں۔ آپ کے باپ نے مجھے دس دینار میں مول لیا اور سو دینار میں آپ کے ہاتھ بیچ ڈالا!‘‘
شیخ گلستاں میں لکھتا ہے، ’’میں نے زمانے کی سختی کا کبھی شکوہ نہیں کیا لیکن ایک موقعہ پر دامنِ استقلال ہاتھ سے چھوٹ گیا۔ نہ میرے پاؤں میں جوتی تھی اور نہ جوتی خریدنے کا مقدور تھا۔ اسی حالت میں غمگین و تنگدل، کوفے کی جامع مسجد میں پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں ایک شخص پڑا ہے جس کے سرے سے پاؤں ہی نہیں ہیں۔ اس پر میں نے خدا کا شکر ادا کیا اور اپنے ننگے پاؤں غنیمت سمجھے‘‘۔ شیخ صبر و قناعت کے ساتھ عزتِ نفس کی دولت سے بھی مالا مال تھا۔ وہ اسکندریہ میں سخت قحط کے زمانے میں موجود تھا اور دوسرے درویشوں کے ساتھ بھوک کی سختیاں جھیل رہا تھا۔ شہر میں ایک ہیجڑا بڑا دولت مند تھا، اور غریبوں، پردیسیوں پر اُس کی ڈیوڑھی کھلی رہتی تھی۔ شیخ کے بعض رفقاء نے اس ہیجڑے کی دعوت میں چلنے کی ترغیب دی، تو شیخ نے نہایت خود دارانہ جواب دیا ’’شیر بھوک سے مر بھی جاتا ہے، مگر کتے کا جھوٹا نہیں کھاتا!‘‘
چینی ترکستان کے صدر مقام، کاشغر میں شیخ کی زندہ دلی کا ایک واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے کہ تاتاریوں اور خوارزمیوں میں عارضی صلح ہو چکی ہے۔ ایک طالب علم کو دیکھا کہ کتاب ہاتھ میں لئے ’’ضرب زیدٌ عمراً‘‘ رٹ رہا ہے۔ شیخ لڑکے سے کہنے لگا، کیوں میاں صاحبزادے، خوارزم و خطا میں تو صلح ہو گئی، مگر زید و عمر میں مار پیٹ چلی جاتی ہے! طالب علم ہنس پڑا اور شیخ کا وطن پوچھا۔ شیراز کا نام سُنا تو فرمائش کی سعدی کا کچھ کلام یاد ہو تو سُناؤ۔ شیخ نے حسبِ موقعہ یہ شعر موزوں کر کے پڑھا
|
اے دل عشاق بدام تو صید |
ما بتو مشغول و تو با عمرو زید |
|
ترجمہ اے دل، عاشق تیرے جال کے قیدی ہیں، ہم تجھ میں مشغول ہیں اور تُو غیروں (عمرو اور زید) میں مگن ہے۔ |
|
