اردو جریدہ

جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

پیش لفظ

بعد میں کسی نے بتایا کہ سعدی یہی ہیں، مگر اب شیخ، کاشغر سے رخصت ہو رہا تھا!

شیخ نے ہندوستان آ کر سومنات کا مندر بھی دیکھا تھا۔ دیکھا ہی نہیں تھا بلکہ ہندو بن کر اس میں رہا بھی تھا۔ سومنات کا یہ واقعہ شیخ نے بوستاں کے آٹھویں باب میں لکھا ہے، مگر جس طرح لکھا ہے، اس واقعہ نے افسانے کی صورت اختیار کر لی ہے۔

وطن کو واپسی

 طویل سیاحت کے بعد شیخ قتلغ خاں ابو بکر سعد کے عہدِ حکومت 655ھ‌1257ء میں شیراز واپس آیا۔ بادشاہ علماء سے بدظن اور جاہل فقراء سے خوش عقیدہ رہتا تھا۔ دینی مصلحتوں کے پیشِ نظر شیخ پورا پورا درویش بن گیا اور شیخ نے یہ بہت اچھا کیا، جیسا کہ واقعات شاہد ہیں۔ درویش کے روپ میں اُسے موقع مل گیا کہ اپنا اصلاحی مشن پوری کامیابی سے چلائے اور اس نے بڑی خوبی و دلیری سے اُسے چلایا۔ گلستاں اور بوستاں اُس کی یہ دونوں کتابیں، اس کی کامیابی کی زندہ شہادتیں ہیں۔ ان کتابوں میں شیخ نے نقلی درویشوں اور بدراہ بادشاہوں کی خوب خوب قلعی کھولی ہے۔

گلستاں

شیخ کی جادو بیانی اور فصاحت و بلاغت کا شہرہ اُس کی زندگی ہی میں تمام ایران، ترکستان، تاتار، اور ہندوستان میں اس قدر پھیل گیا تھا کہ اُس زمانے کی حالت پر لحاظ کرنے کے بعد، جب نہ ریل تھی، نہ تار، نہ اخبار، سخت حیرت ہوتی ہے۔ خود شیخ کو بھی اپنی اس خوش نصیبی کا حال معلوم تھا، چنانچہ آسودگیٔ دل کے ساتھ گلستاں کے دیباچہ میں لکھتا ہے۔

’’ذکرِ جمیلِ سعدی کہ در افواہ عوام افتادہ و صیتِ سخنش کہ در بسیطِ زمین رفتہ‌سعدی کا ذکرِ خیر جو عوام کی زبانوں پر ہے اور اس کے کلام کی شہرت جو روئے زمین پر پھیل گئی ہے!‘‘

یہ شہرہ ہی تھا کہ دو بار، خان شہید سلطان محمد قاآن نے ملتان آنے کی دعوت بھیجی، مگر شیخ بڑھاپے کے سبب نہ آ سکا۔ شیخ کی تصانیف میں گلستاں اور بوستاں ایسی کتابیں ہیں کہ فارسی زبان میں کوئی کتاب ان سے زیادہ مقبول اور مطبوعِ خاص و عام نہیں ہوئی۔ ایران، ترکستان، تاتار، افغانستان اور ہندوستان میں ان کتابوں کی تعلیم تقریباً سات سو برس سے برابر جاری ہے۔ بچپن میں ان کی تعلیم شروع ہوتی ہے اور بڑھاپے تک مطالعہ کا شوق رہتا ہے۔ لاکھوں استادوں نے انھیں پڑھایا اور کروڑوں شاگردوں نے انھیں پڑھا۔ ان کے بے شمار نسخے خوشنویسوں کے قلم سے لکھے گئے اور بے حساب ایڈیشن چھاپے گئے۔ مشرق و مغرب کی اکثر زبانوں میں ان کے ترجمے ہوئے۔ مشائخ اور علماء نے ان کی عزت کی۔ بادشاہوں نے ان کو سلطنت کا دستور العمل بنایا۔ انشا پردازوں اور شاعروں نے ان کی فصاحت و بلاغت کے آگے سر جھکایا اور ان کے تتبع سے عاجز رہنے کا اقرار کیا۔ ان کا نام جس طرح ایشیا میں مشہور ہے، اسی طرح یورپ و امریکہ میں بھی عزت سے لیا جاتا ہے۔

غور تو کرو گلستاں میں نہ غزل عاشقانہ ہے، نہ قول عارفانہ، نہ بہادروں کے کارنامے، نہ فوق العادت قصے، نہ حقائق و معارف، نہ اسرارِ شریعت، نہ نکاتِ طریقت، بلکہ اس کی بنیاد محض اخلاق و پند و موعظت پر رکھی گئی جس سے زیادہ بے نمک مضمون نہیں ہو سکتا۔ اس پر بھی وہ اس قدر مقبول ہوئی، اور محض اس لئے ہوئی کہ فصاحت و بلاغت، حسن و بیان اور لطفِ ادا کے لحاظ سے تمام فارسی ادب میں بے مثل اور لاجواب ہے۔ اس ہی لئے دنیا کی ہر زندہ قوم نے گلستاں کا اپنی زبان میں ترجمہ کیا ہے اور گلستاں زندۂ جاوید بن چکی ہے۔ (از حیاتِ سعدی)

احقر سجاد حسین صدر مدرس مدرسہ عالیہ فتحپوری دہلی

14 رجب المرجب 1379ھ‌جنوری 1960ء مطابق 14 جنوری 1960ء