اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

آنحضرتؐ کی پیشین گوئیاں اور بشارات توریت اور انجیل میں

میں نے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات پر ایک مفصل خطبہ خطباتِ احمدیہ میں لکھا ہے جس میں موافق اصولِ مذہب کے مقلدانہ یعنی بعد تسلیم اُن امور کے جو عیسائی و مسلمان نسبت بشارات کے تسلیم کرتے ہیں، بحث کی ہے اور توریت و انجیل سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات کو ثابت کیا ہے۔ اس مقام پر بلا کسی بحث کے توریت و انجیل کی وہ آیتیں لکھ دی جاتی ہیں جن میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارات لکھی ہیں۔

ابوالفرح مالطی یعنی مالٹا‌Malta کا رہنے والا جو ایک عیسائی عالم ہے، اُس نے ایک کتاب عربی زبان میں لکھی ہے جس کا نام ’’تاریخ مختصر الدول‘‘ ہے اور وہ کتاب 1663ء میں آکسفورڈ میں چھپی ہے۔ اُس کے صفحہ 165 میں یہ عبارت مندرج ہے:

وقد ادعی علماء الا سلاطین درود ذکرہ فی کتاب اللہ المنزلۃ اما فی التوریہ فقی آیۃ جاء اللہ من سینا و اشرف من ساعیروا متعلق من حیل فامان۔ قالوا ھذہ اشارۃ الی نزول للتوراۃ علی موسیٰ والانجیل عای عیسیٰ والقرآن علی محمدؐ۔ واما فی لزبور فقی آیۃ۔ یظھر اللہ من صیھون اکلیلا محمودا۔ قالوا لا کلیل رمز علی الملک والمحمود علی محمدؐ واما فی الانجیل فقی آیۃ۔ ان انا لم اذھب۔ الغار قلیط لا یحبیکم۔

ترجمہ: اور علمائے اسلام نے دعویٰ کیا ہے کہ اُن کا ذکر اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب میں آیا ہے۔ توریت میں تو اس آیت میں کہ اللہ سینا سے آیا اور ساعیر سے چمکا اور فاران کے پہاڑ سے ظاہر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ یہ موسیٰ پر توریت، عیسیٰ پر انجیل اور محمدؐ پر قرآن کے نازل ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ اور زبور میں اس آیت میں کہ اللہ صیہون سے ایک محمود (یعنی قابلِ تعریف) تاج ظاہر کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ تاج بادشاہی کی علامت ہے اور محمود سے مراد محمدؐ ہیں۔ اور انجیل میں اس آیت میں کہ اگر میں نہ گیا تو فارقلیط تمہارے پاس نہیں آئے گا۔

توریت سفرِ پنجم باب ہژدہم آیت 15 — 18 میں یہ لکھا ہے۔ ’’قائم کرے گا تیرا معبود تیرے لیے نبی تجھ میں سے تیسرے بھائیوں میں سے مجھ سا مانیو۔ اُن کے بھائیوں میں سے نبی تیرا سا قائم کروں گا اور اپنا کلام اُس کے منہ میں دوں گا اور جو کچھ میں اُس سے کہوں گا وہ اُن سے کہہ دے گا۔‘‘

بنی اسرائیل کے بھائی بنی اسماعیل ہیں جس سے اشارہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہے اور سوائے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی دوسرا نبی موسیٰ کی مانند نہیں ہوا اور ان الفاظ سے کہ اپنا کلام اس کے منہ میں رکھوں گا، قرآنِ مجید کے نزول کرنے کی طرف اشارہ ہے۔

توریت سفرِ پنجم باب سی و سوم آیت 2 میں لکھا ہے ’’اور کیا خدا سینا سے نکلا اور سعیرہ سے چمکا اور فاران کے پہاڑ سے ظاہر ہوا۔ اُس کے دہنے ہاتھ میں شریعت روشن ساتھ لشکرِ ملائکہ کے آیا۔‘‘

کتابِ حبقوق باب سوم، آیت 3۔ ’’آئے گا اللہ جنوب سے اور قدس فاران کے پہاڑ سے آسمانوں کو جمال سے چھپا دیا اُس کی ستائش سے زمین بھر گئی۔‘‘ فاران خاص مکۂ معظمہ کے پہاڑوں کا قدیم نام ہے۔ پس اُن آیتوں میں نبیِ حجازی کا ذکر لکھا ہے۔

سرودِ سلیمان باب پنجم کی دسویں آیت سے سولھویں آیت تک یہ لکھا ہے۔ ’’میرا دوست نورانی گندم گوں ہزاروں میں سردار ہے۔ اُس کا سر سرے کا سا چمک دار ہے۔ اُس کی زلفیں مسلسل مثل کوے کے کالی ہیں۔ اس کی آنکھیں ایسی ہیں جیسے پانی کے کنڈ پر کبوتر۔ دودھ میں دھی ہوئیں۔ نگینہ کی مانند جڑی ہوئیں خانہ میں۔ اُس کے رخسارے ایسے ہیں جیسے ٹٹی پر خوش بو دار بیل چھائی ہوئی اور چکلے پر خوش بو رگڑی ہوئی۔ اُس کے ہونٹ پھول کی پنکھڑیاں جن سے خوش بو ٹپکتی ہے۔ اُس کے ہاتھ میں سونے کے ڈھلے ہوئے جواہر سے جڑے ہوئے۔ اس کا پیٹ جیسے ہاتھی دانت کی تختی، جواہر سے لپی ہوئی۔ اُس کی پنڈلیاں ہیں جیسے سنگِ مرمر کے ستون، سونے کی بیٹھکی پر جڑے ہوئے۔ اُس کا چہرہ مانند ماہتاب کے۔ جوان مانند صنوبر کے۔ اُس کا گلا نہایت شیریں اور وہ بالکل محمدیم (محمد) یعنی بہت تعریف کیا گیا ہے۔ یہ ہے میرا دوست اور میرا محبوب اے بیٹو یروشلم کے۔‘‘

عبری زبان کے قاعدے میں نام کو بھی بلحاظِ تعظیم جمع بنا دیتے ہیں جیسے لعل کو بعالیم لیکن محمدیم کو اگر صفت ہی کیا جائے تو بھی اُس سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اشارہ ہے۔

کتاب ہجی باب یازدہم آیت 70 میں لکھا ہے۔ ’’سب قوموں کو ملا دوں گا اور ’’ہمدث‘‘ (احمد) سب قوموں کا آئے گا اور اس گھر کو بزرگی سے بھر دوں گا۔ کہا خداوندِ خلائق نے۔

ہمدث عبری لفظ میں حرف (ث) مبالغہ کے لیے ہے یعنی سب قوموں کا بہت بڑا محمود اور اس عبری لفظ کے مقابلہ میں احمد کا صیغہ جو حمد کے مادہ سے نکلا ہے بالکل درست آتا ہے۔ پس خواہ اُس لفظ کو صرف نام قرارداد و خواہ صفت، اس آیت میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر لکھا ہے۔

کتابِ اشعیاہ نبی باب بست و یکم آیت 7۔ ’’اور ایک جوڑی سواروں کی دیکھی ایک سوار گدھے کا اور ایک سوار اونٹ کا اور خوب متوجہ ہوا۔‘‘

حضرت اشعیا نبی نے اپنے مکاشفہ سے دو نبیوں کے پیدا ہونے کی خبر دی۔ ایک کو گدھے کے سوار سے تعبیر کیا ہے جس سے حضرت عیسیٰ مراد ہیں کیوں کہ جب حضرت عیسیٰ بیت المقدس میں داخل ہوئے تو گدھے پر سوار تھے۔ دوسرے کو اونٹ کے سوار سے تعبیر کیا ہے جس سے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں کیوں کہ جب آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکۂ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں تو اونٹ پر سوار تھے۔

انجیلِ یوحنا باب شانزدہم آیت 7۔ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ یہ بھلا ہے تمہارے لیے یہاں سے میں چلا جاؤں کیوں کہ اگر میں نہ جاؤں تو فارقلیط (احمد) تمہارے پاس نہ آئے گا۔

فارقلیط اصل میں یونانی لفظ نہیں ہے بلکہ در اصل کالدی زبان کا لفظ ہے جو عبرانی کی مانند زبان ہے۔ مسلمانوں میں اس کا املا اور تلفظ عربی زبان کے موافق ہے جو کالدی یا عبری زبان سے چنداں بعید نہیں ہے مگر حضرت یوحنا نے اپنی انجیل یونانی میں لکھی تھی، اس لیے اس لفظ کا تلفظ اور املا یونانی زبان کے موافق لکھا تھا جو کالدی یا عبری زبان سے نہایت بعید ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یونانی زبان میں اس کا تلفظ مختلف طرح پر ہوا اور اسی سبب سے قدیم و جدید یونانی نسخوں میں اس کا املا بھی مختلف طور پر لکھا گیا جس کے سبب تلفظ بھی اور معنی بھی کسی قدر بدل جاتے ہیں۔ مسلمان تو اس لفظ کا ترجمہ موافق قدیم یونانی تلفظ و املا کے احمد کرتے ہیں، مگر اس زمانے کے عیسائی اُس قدیم املا کو تسلیم نہیں کرتے اور موافق جدید تلفظ و املا کے اُس کے متعدد ترجمے کرتے ہیں۔

نہایت قدیم عربی ترجمہ جو روم کبیر میں 1671ء میں چھپا، اُس میں تو اس لفظ کا ترجمہ ’’فارقلیط‘‘ ہی کیا ہے۔

ایک عربی ترجمہ میں جو بطور خلاصہ چاروں انجیلوں کے فلارنس‌Florence میں 1774ء میں چھپا ہے اُس میں بھی اس لفظ کا فارقلبط ہی ترجمہ کیا ہے۔

ایک عربی ترجمہ میں جو 1811ء میں چھپا، اس کا ترجمہ ’’مسلی‘‘ کیا ہے یعنی تسلی دہندہ اور خاص اس آیت میں اس کا ترجمہ ہی نہیں کیا بلکہ لفظ ’’المغری، بطور اشارہ‘‘ کے لکھا ہے۔

اس کے بعد جس قدر ترجمے فارسی اردو کے چھپے ہیں اُن سب میں اس کا ترجمہ تسلی دینے والا کیا گیا ہے۔

لیکن اس املا کے تغیر و تبدل اور ترجموں یا معنی کے اختلاف سے مسلمانوں کے اس دعوے میں کہ اس آیت میں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بشارت ہے کچھ فرق نہیں آتا۔ کیوں کہ کسی بشارت میں اس کا جس کی بشارت ہے خاص نام بتایا نہیں جاتا بلکہ اس کی صفت بیان کی جاتی ہے۔ پس اس لفظ کے کوئی صفتی معنی کو وہ سوائے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی پر صادق نہیں آتے کیوں کہ حضرت عیسیٰ کے بعد کوئی اور نبی موسیٰ کی مانند سوائے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں ہوا۔ قرآنِ مجید میں بھی خاص نام آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان نہیں ہوا بلکہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسمِ مبارک کی صفت احمدؐ بیان ہوئی ہے یعنی ’’یاتی من بعدی اسمہ احمد‘‘ ای اسمہ یحمدہ لان افعل یحیی لمبالغۃ الفاعل والمفعول۔1 بالفرض اگر اُس سے نزولِ روح القدس مراد ہو تو بھی حضرت عیسیٰ کے بعد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی پر نازل ہوئی ہے کیوں کہ حواریوں پر جیسا کہ انجیلوں میں بیان ہے قبل اُس کے نازل ہو چکی تھی۔