اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

آنحضرتؐ کی پیشین گوئیاں اور بشارات توریت اور انجیل میں

انجیلِ لوقا باب بستم و چہارم آیت 49۔ ’’اور دیکھو میں بھیجتا ہوں وعدہ اپنے باپ کا تم پر لیکن تم ٹھہرو شہرِ یروشلم میں جب تک کہ عطا ہو تم کو قوت اوپر سے۔‘‘

روح القدس تو حواریوں میں آ چکی تھی اور یروشلم میں ٹھہرا رہنا یعنی اس کو معبد سمجھنا معرفت تھا اور وہ تبدیل ہو گیا اور اس کے مبعوث ہونے پر جس نے کعبہ معبد قرار دیا۔ پس جس کے بھیجنے کا اس آیت میں ذکر ہے اس سے مراد آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔

انجیلِ یوحنا باب یکم آیت بیس سے پچیس تک میں لکھا ہے ’’اُس نے یعنی حضرت یحییٰ نے اقرار کیا اور انکار نہ کیا اور اقرار کیا کہ میں کرسٹاس‌Christos یعنی مسیح نہیں ہوں اور اُنہوں نے پوچھا اس سے کہ پھر کون؟ کیا تو الیاس (یعنی خضر) ہے اور اس نے کہا کہ میں نہیں ہوں۔ تو وہ نبی ہے؟ اور اس نے جواب دیا نہیں تب اُنہوں نے اُس سے کہا کہ کون ہے تو تاکہ ہم جواب دے سکیں اُن کو کہ جنہوں نے ہم کو بھیجا ہے۔ اپنے تئیں تو کیا کہتا ہے؟ اُس نے کہا میں آواز اس کی جو کہ جنگل میں چلّاتا ہے۔ سیدھا کرو رستہ خداوند کا جیسا کہ نبی اشعیاہ نے کہا۔ اور وہ جو بھیجے گئے تھے فردوسی تھے اور اُنہوں نے اُس سے پوچھا اور اس سے کہا کہ تو کیوں اصطباغ کرتا ہے۔ جب کہ تو نہ کرسٹاس یعنی عیسیٰ مسیح ہے اور نہ الیاس اور نہ وہ نبی۔

حضرت یحییٰ سے یہودیوں نے الیاس کو اس لیے پوچھا کہ یہودی اُن کو زندہ مانتے تھے۔ مسیح کے آنے کے متوقع تھے اور علاوہ حضرت مسیح کے ایک اور نبی کے آنے کے متوقع تھے۔ پس ’’وہ‘‘ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا اور کسی کی طرف اشارہ نہیں ہو سکتا جس کی نسبت خدا نے موسیٰ سے کہا تھا کہ میں بنی اسرائیل کے بھائیوں میں سے مثل موسیٰ کے ایک نبی پیدا کروں گا۔

اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ پانزدہم (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور، 1963ء)، صفحہ 231 تا 236 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔ کتاب میں اس مضمون کی اصل اشاعت کا حوالہ درج نہیں۔