ایرانی اخبارات میں اس قسم کی نظمیں شائع کیا کیجیے۔ مغربی اور وسطی ایشیا کی مسلمان قومیں اگر متّحد ہو گئیں تو بچ جائیں گی۔ اور اگر ان کے اختلافات کا تصفیہ نہ ہو سکا تو اللہ حافظ ہے۔ مضامینِ اتحاد کی سخت ضرورت ہے۔ میرا مذہبی عقیدہ یہی ہے کہ اتّحاد ہوگا اور دنیا پھر ایک دفعہ جلالِ اسلامی کا نظارہ دیکھے گی۔ ہندوستان میں بظاہر مہاتما گاندھی کی گرفتاری کے بعد اَمن و سکون ہے مگر قلوب کا ہیجان حیرت انگیز ہے۔ اتنے عرصے میں اتنا انقلاب تاریخِ اُمم میں بے نظیر ہے۔ ہم لوگ جو انقلاب سے خود متاثر ہونے والے ہیں، اس کی عظمت اور اہمیت کو اس قدر محسوس نہیں کرتے۔ آیندہ نسلیں اس کی تاریخ پڑھ کر حیرت میں ڈوب جائیں گی۔ ایشیا کی مسلمان اقوام کی حرکت بھی کم حیرت انگیز نہیں۔ کیا عجب کہ اس نئی بیداری کو ایک نظر دیکھنے کے لیے میں بھی جولائی یا اگست کے مہینے میں ایران جا نکلوں۔ میرے ایک دوست سردار جوگندر سنگھ ایڈیٹر، ایسٹ اینڈ ویسٹ، اصرار کر رہے ہیں کہ اُن کے ساتھ کوئٹے کے رستے ایران چلوں۔ اگر ممکن ہو سکا تو ضرور اُن کا ساتھ دوں گا۔ اس دفعہ مجھے دردِ نقرس13 (گوٹ) کی وجہ سے سخت تکلیف رہی۔ کامل دو ماہ چار پائی سے اتر نہیں سکا۔ چونکہ میری فطرت کو ایران سے ایک مناسبتِ خاص ہے، ممکن ہے وہاں کی آب و ہوا کا اچھا اثر مجھ پر ہو۔
’’سفینۂ طالبی‘‘ میں نے یہاں تلاش کی، افسوس نہ مل سکی۔ آپ کو نثر کی جو عمدہ کتب مل سکیں بھیج دیجیے۔ نظم نہ ملے تو نہ سہی۔ نثر کی زیادہ ضرورت ہے۔ اگر حکایات کی کوئی عمدہ کتاب ہو تو وہ بھی ارسال کیجیے۔ یعنی ایسی کتاب جس میں چھوٹی چھوٹی حکایات لطیف اور معنی خیز ہوں۔
مُلّا صدرا کی تفسیر بھی پہنچ گئی تھی۔ بعض مقامات تو خوب ہیں۔ مگر بحیثیتِ مجموعی اُس کا پایہ تفاسیر میں بہت کم ہے۔
اُردو نظم خضرِ راہ، جو میں نے حال میں لکھی ہے، ارسالِ خدمت کروں گا۔ گوئٹے کے دیوان کے جواب میں ’’پیامِ مشرق‘‘ میں نے لکھی ہے جو قریب الاختتام ہے۔ امید ہے اس سال کے اختتام سے پہلے شائع ہو جائے گا۔
باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہو گا۔ فارسی کتب جہاں تک ممکن ہو جلد ارسال کیجیے۔
مخلص محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (6) — 3 فروری 1924ء (جلد دوم، خط 296)
لاہور، 2؍ فروری 1924ء14
مخدومی السلام علیکم
خط آپ کا ابھی ملا ہے جسے پڑھ کر مجھے بڑی خوشی ہوئی۔ آپ کو اسلامی ممالک کے سفر سے بہت فائدہ ہوا ہے اور ہوگا۔ اشعار جو آپ نے بھیجے ہیں نہایت دلچسپ ہیں اور بالخصوص مسلمانے نمی بینم‘‘ نے تو مجھے رُلا دیا۔ اللّٰھم زد فزد15۔ میں نے ایک عرصہ ہوا آپ کو بغداد کے پتے پر خط لکھا تھا۔ یا شاید شیراز کے پتے پر۔ امید نہیں کہ وہ خط آپ تک پہنچا ہو۔ کیونکہ اس خط میں اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں۔ اس عرصہ میں میں نے ایک کتاب پیامِ مشرق نام لکھ کر شائع کی ہے۔ چونکہ آپ کا مستقل پتہ معلوم نہ تھا اور آپ نے خط اُس وقت لکھا جب آپ طہران سے رخصت ہونے والے تھے۔ اس واسطے میں نے احتیاطاً اُسے نہ بھیجا۔ اس خیال سے کہ ضائع نہ ہو جائے۔ اب اُس کی پہلی ایڈیشن ختم ہو چکی ہے۔ دوسری ایڈیشن جس میں بہت سا اضافہ ہے چند روز تک شائع ہو جائے گی۔ جہاں آپ کا مستقل قیام کچھ عرصہ کے لیے ہو، مطلع فرمائیے تاکہ میں کتاب آپ کی خدمت میں ارسال کر سکوں۔ یہ کتاب گوئٹے کے مغربی دیوان کے جواب میں لکھی گئی ہے۔
باقی خدا کے فضل و کرم سے خیریت ہے۔ امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ دنیا کے دل میں انقلاب ہے۔ اس واسطے قلوبِ انسانی اس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلام کی عظمت کا زمانہ انشاء اللہ قریب آ رہا ہے۔ والسلام
مخلص محمد اقبال 2 فروری 24ء
(اقبال نامہ)
خط (7) — 17 مارچ 1925ء (جلد دوم، خط 341)
لاہور16
17؍ مارچ 25ء
ڈیر مسٹر اکبر منیر!
السلام علیکم۔ آپ کا خط ابھی ملا ہے۔
زندگی کا راز یہی ہے جہاں رہو، جس حالت میں رہو، خوش اور مطمئن رہو۔ دنیا میں بہت کم آدمی ہیں جو اپنی زندگی کے مختلف احوال و مقاصد سے آگاہ ہوتے ہیں۔ عام طور پر ہم سب لوگ اپنی زندگی کا محض ایک خارجی مشاہدہ کر سکتے ہیں۔ اندرونی علل و اسباب و نتائج ہماری نظر سے مخفی رہتے ہیں۔ ہاں! لاہور میں بہار کا آغاز ہے مگر
|
دلم بہ ہیچ تسلی نمی شود حاذق!17 |
بہار دیدم و گل دیدم و خزاں دیدم |
ماہِ نو ضرور مرتب کیجئے۔ اس سے بہت فائدہ ہو گا۔ زبورِ عجم کے لیے ایک مدت درکار ہو گی۔ بہت سے اور مشاغل ہیں جن کی طرف توجہ ضروری ہے۔ اگر اسی کام میں سراپا محو ہو سکتا تو اب تک ختم ہو گیا ہوتا۔
والسلام
محمد اقبال
(اقبال نامہ)
خط (8) — 9 نومبر 1928ء (جلد دوم، خط 426)
لاہور 9؍ نومبر 1928ء
مائی ڈیر مسٹر منیر!
آپ نے اپنے بھائی کی وساطت سے نظموں کا جو مجموعہ ارسال فرمایا، اس کے لیے شکریہ قبول فرمائیے۔ میں نے اس مجموعہ کو نہایت دلچسپی سے پڑھا ہے۔ آپ کا قیامِ ایران یقیناً آپ کے لیے نہایت سود مند ثابت ہوا ہے۔ اس کی بدولت آپ کے کلام میں ایک سادگی، قوّت اور جِلا آ گئی ہے۔ مجھے اُمید ہے ماہِ نو، جلد بدرِ کامل میں مبدّل ہو جائے گا۔
آپ کا محمد اقبال
(انگریزی)
(اقبالنامہ)
خط (9) — مارچ (جلد سوم، خط 186)
لاہور مارچ18 33ء
ڈیر اکبر منیر!
آپ کا خط ابھی ملا۔ جس کے لیے تشکر گزار ہوں۔
میں 11؍ مارچ کی شام یہاں سے دہلی جاؤں گا۔ غالباً 14؍ مارچ کی صبح واپس آؤں گا۔ 11؍ مارچ کے دن کسی وقت آپ مجھ سے مل سکتے ہیں۔
امید کہ آپ کا مزاج بخیر ہوگا۔ والسلام
محمد اقبال
(اقبال نامہ)
