جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

شمس العلما مولانا شبلی نعمانی مرحوم

کریں جدائی کا کِس کِس کے رنج ہم اے ذوق

کہ ہونے والے ہیں سب ہم سے عنقریب جُدا

دنیا میں ہر روز لاکھوں آدمی پیدا ہوتے اور مرتے ہیں لیکن ان کی موت و زندگی سے صرف چند ہی اشخاص کچھ روز متاثر رہ کر انھیں ہمیشہ کے لیے فراموش کر دیتے ہیں۔ مگر چند ہستیاں ان میں ایسی ہوتی ہیں جن کی ذات سے ایک معتد بہ گروہ کو انواع و اقسام کے فائدے پہنچتے ہیں۔ یہ برگزیدہ اشخاص اپنی زندگی کے بہترین اوقات کو خلقِ اللہ کی خدمت میں صرف کرتے ہیں اور اپنی ذاتی نمود و آسایش کا مطلق خیال نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ مغتنم ہستیاں ہم سے ہمیشہ کے لیے جُدا ہوتی ہیں تو ہمیں ان کی جُدائی بیحد شاق گذرتی ہے۔

علامہ شبلی نعمانی کا وجود بھی انھیں مغتنم ہستیوں میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ جن کی ذات اور علمی کارناموں سے ہندوستان کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کو عظیم الشان فائدہ پہنچا ہے۔ اُن کے انتقال سے قوم کو ایک نا قابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ جن کی جگہ قوم کے چند بہترین افراد بھی مل کر پوری نہیں کر سکتے۔

مولانا مرحوم اُس پر آشوب زمانہ میں جو غدر 1857ء سے منسوب کیا جاتا ہے بمقام اعظم گڑھ ایک قدیم اور آسودہ حال خاندان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک کامیاب وکیل اور آنریری مجسٹریٹ تھے۔ لائق اور علم دوست تھے۔ اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت پر کافی توجہ دیتے تھے اور تحصیل علم کی نہ صرف تاکید بلکہ سختی بھی کرتے تھے۔ گو وہ نہایت مرفع الحال تھے اور نازو نعم کے ساتھ اپنی اولاد کی پرورش کر سکتے تھے، مگر اصولاً ان کو اس امر پر اصرار تھا کہ تا زمانہِ طالب علمی ان کی اولاد نہایت سیدھی سادھی اور طالب علمانہ زندگی بسر کریں۔ چنانچہ مولانا مرحوم کی ابتدائی تعلیم و تربیت اپنی آنکھوں کے سامنے کرائی، بعد ازاں مولانا کو غازی پور میں مولوی محمد فاروق صاحب چریا کوٹی کی خدمت میں روانہ کیا۔ جن سے مرحوم نے معقولات اور فلسفہ حاصل کیا۔ پھر سہارنپور جا کر مولانا احمد علی محدث سے حدیث و فقہ پڑھا۔ اسی اثناء میں حج کو تشریف لے گئے۔ وہاں سے واپس آ کر کچھ عرصہ تک لاہور میں علم ادب حاصل کیا اور پنجاب یونیورسٹی کا امتحان مولوی فاضل پاس کیا اور میور سنٹرل کالج الہ آباد کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اسی سلسلہ میں مولانا نے مختاری کا امتحان بھی پاس کیا۔ مگر اس پیشہ سے انھیں کبھی رغبت نہیں رہی۔

1882ء میں سرسیّد احمد خان نے ان کی خدا داد قابلیت اور علمی شغف کو دیکھ کر علی گڑھ کالج میں عربی و فارسی کا پروفیسر مقرر کیا۔ سرسید مولانا کی نہایت قدر و منزلت کرتے۔ راقم الحروف کو یہ قطعی طور پر نہیں معلوم کہ تالیف و تصنیف کا آغاز علی گڑھ کے قیام سے ہوا یا اس کے قبل ہی سے یہ سلسلہ جاری ہو گیا تھا۔ بہر کیف اس میں شک نہیں کہ مولانا کے طبعی رجحان اور علمی تحقیقات میں علی گڑھ کے قیام سے جو فوائد مترتب ہوئے اس کا اعتراف خود مرحوم کو تھا۔ مولانا کی معرکۃ الآرا تصنیف الفاروق کا خاکہ علی گڑھ ہی میں کھنچا اور جدید علوم و فنون سے ایک حد تک واقفیت پیدا کرنے کا شوق بھی اسی مقام میں پیدا ہوا۔

سولہ برس تک علی گڑھ کالج کی خدمت انجام دی۔ اس عرصہ میں سرسیّد۔ مسٹر آرنلڈ اور حالی مرحوم کی صحبت میں تبادلہِ خیالات کا نہایت اچھا موقع ملا۔ مسلمانان ہند کی بیداری و ترقی کے اہم کام میں مولانا سرسیّد کے ہمیشہ شریک حال رہے۔ اور مذہبی نقائص و زواید سے قوم کو خبردار کیا اور اپنے مسلسل جد و جہد سے مسلمانان ہند میں احیاءِ قومیت و اشاعت علوم کی ایک زبردست خواہش پیدا کی۔

زمانہِ قیامِ علی گڑھ میں جب آپ الفاروق لکھنے کے لیے مسالہ جمع کر رہے تھے تو روم و مصر و شام کا سفر اس شوق و غرض سے اختیار کیا کہ وہ نایاب کتابیں جو ہندوستان میں دستیاب نہیں وہاں کے کتب خانوں میں جا کر مطالعہ کریں تا کہ اس تصنیف کو مکمل کر سکیں۔

ان اسلامی ممالک میں مولانا کی خوب قدر افزائی ہوئی۔ بعد واپسی 1894ء میں مولانا کو گورنمنٹ نے بھی شمس العلماء کا خطاب عطا فرمایا۔ اس وقت مولانا کی عمر 37 سال کی تھی۔

دو تین سال خانہ نشین رہ کر الفاروق کو ختم کیا اور پھر ریاستِ حیدرآباد دکن تشریف لے گئے۔ اتنے عرصہ میں مولانا کو علمی دنیا میں کافی شہرت ہو چکی تھی۔ سرکارِ نظام نے ناظم علوم و فنون کے جلیل القدر عہدہ پر مامور کیا۔ چار برس تک یہاں قیام کیا اور تالیف و تصنیف کا ایک مستقل صیغہ قائم کیا۔ اسی اثنا میں جب کہ آپ حیدرآباد میں ناظم علوم و فنون تھے ایک مشرقی یونیورسٹی کا نظام بھی مرتب کیا۔ اس کے بعد آپ نے ندوۃ العلما کی بنیاد ڈالی۔

مولانا جب علی گڑھ میں پروفیسر تھے تو مسلمانوں کے تعلیمی حالات پر غور و خوض کا کافی موقع حاصل تھا، جس سے وہ اس نتیجہ پر پہنچے تھے کہ محض انگریزی تعلیم سے مسلمانوں کی دینی اور دنیوی نجات ممکن نہیں۔ اور بغیر تحصیل علوم مشرقیہ مفر نہیں، مولانا کا خیال تھا کہ قوم کو ایسے عالموں کی ضرورت ہے جو علومِ دینیہ اور علوم مشرقیہ میں پوری دستگاہ رکھنے کے علاوہ جدید علوم و فنون اور تحقیقات اور انکشافات سے بھی پوری واقفیت رکھتے ہوں۔ اسی غرض سے وہ ندوہ کے بقا و قیام کو مسلمانوں کی اصلی ترقی کا راز سمجھتے۔۔

اس سے زیادہ مولانا کے ایثار اور قومی درد کا کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ وہ ریاستِ حیدرآباد کی ملازمت کو ترک کر کے آستانہِ ندوہ پر آ بیٹھے اور اپنی وفات کے ایک سال پیشتر تک اُس کی خدمت میں ہمہ تن مصروف رہے۔ چند نا عاقبت اندیش اور خود بیں اصحاب نے خدماتِ ندوہ کے متعلق مولانا کی سخت مخالفت کی اور اکثر لغو و لاطائل الزام بھی لگائے۔ مگر مولانا کے دلِ پُر درد پر ندوہ کے مقاصد کا خیال اس درجہ حاوی تھا کہ اُن عارضی مخالفتوں کا اُن پر کچھ اثر نہ ہوا۔ مولانا کے اکثر خالص احباب اور اعزا نے مولانا سے درخواست کی کہ وہ ندوہ کے معاملات سے دلچسپی لینا ترک کر دیں مگر مولانا اس خیال سے باز نہ آئے۔

مولانا کی زندگی کے عملی کارناموں میں قانونِ وقف علی الاولاد کے پاس کرانے کی تحریک و کوشش جو مسلمانوں کے لیے بہت بڑی ہمت ہے ہمیشہ یاد گار رہے گی۔ اس مسئلے کے طفیل میں مسلمانان ہند کی آئندہ نسلوں کو جو بے شمار مالی و اقتصادی فوائد پہنچنے والے ہیں اُن پر یہاں زیادہ تفصیل اور توضیح سے لکھنا طوالت کا باعث ہو گا۔

گورنمنٹ کے اعلیٰ حکام پر مولانا کی بے لوث رائے اور علمی تجربے کا سکہ جما ہوا تھا۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کی غرض سے جو کمیٹی یا کانفرنس گورنمنٹ منعقد کرتی، اس میں علامہ مرحوم خصوصیت کے ساتھ مدعو کیے جاتے اور اُن کی آزادانہ رائے اور پختہ تجربہ قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔

1911ء میں مشرقی علوم کے احیاء اور ترقی کے لیے شملہ میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی تھی جس میں سر ہارکورٹ بٹلر صدر تھے۔ اس میں مولانا نے عربی و فارسی تعلیم کے متعلق بہت سے مفید اور کارآمد تجاویز پیش کیں جن میں سے اکثر اب عمل میں لائے جا رہے ہیں۔

لوکل گورنمنٹ نے مذہبی اور اخلاقی تعلیم کے مسئلہ پر غور اور رائے زنی کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کے مولانا بھی ممبر تھے۔ اردو اور ہندی کے متعلق بھی ایک کمیٹی قائم ہوئی تھی جس کی کارروائی غالبًا پرائیویٹ تھی۔ مولانا نے اس کمیٹی میں ایک پُر زور اور مدلل تحریر پیش کی تھی جس کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا اور ہر ممبر نے آپ کی دلائل اور براہین کو توجہ سے مطالعہ کیا۔ بعدہ ڈاکٹر سندر لال صاحب کی تحریک سے مولانا کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا گیا۔

گذشتہ سال ہندو مسلمانوں میں اتحاد و ارتباط بڑھانے اور اختلافی مسائل کا فیصلہ کرنے کی غرض سے نواب لفٹنٹ گورنر صاحب بہادر نے سربر آوردہ اور با اثر ہندو مسلمان اصحاب کی ایک منتخب کمیٹی قائم کی تھی جس میں مولانا مرحوم بھی مدعو کیے گئے تھے۔