یوں تو مولانا کے عالمِ خیال میں بیسوں اسکیم بنتے اور بگڑتے تھے مگر ان میں سے مولانا نے جو اپنی زندگی کے آخری دور میں دارالمصنفین کا اسکیم مرتب کیا تھا وہ درحقیقت نہایت اہم اور ضروری ہے جس کی طرف اب تک اربابِ علم و ہنر نے مطلق توجہ نہیں کی تھی۔ لکھنو اور الہ آباد میں کئی مہینہ تک دارالمصنفین کی عمارت کے لیے ایک خاموش اور پُر فضا خطۂ زمین کی تلاش کی مگر ناکام رہے۔ آخر میں اپنے وطن یعنی اعظم گڑھ میں اس مفید ترین اسکیم کو عملی صورت میں لانے کا مصمم ارادہ کر لیا اور اپنا وسیع مکان اور باغ مع قیمتی کتب خانہ دارالمصنفین کے نذر کر دیا۔ اور اس کے لیے مستقل سرمایہ کی فراہمی کی کوشش کی۔ چنانچہ اس کا آغاز اعظم گڑھ میں ہو چکا ہے اور مولانا حمیدالدین صاحب اور مولوی سید سلیمان صاحب اور مولوی مسعود علی صاحب اس کے انتظام میں مصروف ہیں۔ اس ضروری اور مفید تحریک کا مقصد یہ ہے کہ وہ علم دوست اشخاص جو تالیف و تصنیف کے کاموں سے دلچسپی رکھتے ہیں اور اپنی زندگی اس کے لیے وقف کرنا چاہتے ہوں وہ بہ اطمینان اس کام کو انجام دے سکیں۔ اسی لیے مولانا کا خیال تھا کہ مصنفین کو پچاس روپیہ ماہواری گذارہ ملنا چاہیے تاکہ وہ بفراغت علمی تحقیقات میں مصروف ہو سکیں اور ایک عالی شان کتب خانہ بھی جمع کیا جائے جس سے مطالعہ میں آسانی ہو اور اسی جگہ قیام بھی کریں۔۔
امید ہے کہ مولانا کی آخری کوشش جلد بار آور ہو گی۔ اور قدر دانِ علم و ہنر اس کی سرپرستی اور اعانت میں دریغ نہ کریں گے۔۔
علامہ شبلی کی ساری زندگی علم میں گذری۔ تالیف و تصنیف کا مشغلہ ابتدا سے تھا۔ حق یہ ہے کہ وہ علم کے لیے پیدا کیے گئے تھے۔ جب تک جیئے علم کے لیے جیے۔ دم واپسین تک اپنی آخری تصنیف سیرت نبوی کا تذکرہ کرتے رہے۔ ان کے وہ احباب و اعزا جو وفات کے وقت موجود تھے، بیان کرتے ہیں، بجز سیرت ان کی زبان پر نزع کے وقت بھی کوئی دوسرا لفظ نہ تھا۔
مولانا کی مختلف النوع خدمات کا بہترین ثبوت ان کی تصانیف ہیں جن کی فہرست حسب ذیل ہے: (1) مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم (2) مثنویِ صبحِ امید (3) المامون (4) الجزیہ (5) سیرت النعمان (6) مجموعۂ نظمِ فارسی (7) سفر نامۂ روم و مصر و شام (8) الفاروق (9) الغزالی (10) سوانحِ مولانا روم (11) فلسفۂ اسلام (12) تاریخِ اسلام (13) الکلام (14) علم الکلام (15) موازنۂ انیس و دبیر (16) شعر العجم 4 جلدیں (17) رسائل شبلی (18) مقالات شبلی (19) جرجی زیدان پر تنقید (20) اورنگ زیب (21) سیرت نبوی زیر تالیف۔
(مولانا کے علمی کارناموں پر تنقید ایک مستقل عنوان ہے جو زمانہ میں غالبًا آئندہ شائع ہوگا)
مولانا کے اخلاق و عادات نہایت دلکش اور مرغوب خاص و عام تھے۔
مولانا کی طبیعت فطرتًا غیور اور خود دار واقع ہوئی تھی۔ مرحوم کے برادر عزیز مولوی محمد اسحاق مرحوم ایک روز مولانا کے حالات بیان کرنے لگے، اور فرمایا کہ مولانا کبھی بھولے سے بھی کسی شے کی فرمایش اپنے والدین سے نہیں کرتے تھے۔ ایک بار سردی کے موسم میں مولانا کے پاس کوئی رزائی یا لحاف نہ تھا۔ شب کو دری اوڑھ کر راتیں گذار دیتے مگر زبان کھول کر اپنے والدین سے کبھی درخواست نہ کرتے۔
جب سے مولانا نے ملازمت اختیار کی اپنی آبائی جائداد سے ایک حبہ بھی نہیں لیا، بلکہ ذاتی آمدنی پر قانع رہے۔ حیدرآباد سے قطعِ تعلق کر کے جب مولانا لکھنو واپس آئے تو صرف ایک سو روپیہ ماہوار کا منصب مولانا کو ملتا تھا۔ بعض اوقات مولانا کا گذر اس میں نہ ہوتا۔ ایک بار مولوی اسحاق کو معلوم ہوا، وہ جانتے تھے کہ مولانا اُن سے مالی امداد براہ راست نہ لیں گے۔ اس لیے ایک رئیس کے نام سے کچھ روپیہ روانہ کیا مگر مولانا نے اس کے لینے سے بھی یکقلم انکار کر دیا۔ اسی طرح جب کسی ریاست میں مولانا جاتے تو رخصتی کے وقت حسبِ دستور و بہ حیثیتِ عالم ہونے کے مولانا کو ایک معقول رقم دی جاتی اور مولانا اس کو کبھی منظور نہیں کرتے تھے۔
مولانا مرحوم کی شرافتِ نفس اور وضعداری کا یہ حال تھا کہ اپنے سخت سے سخت مخالف اور بد گو کی بھی برائی نہیں چاہتے تھے، بلکہ خاص کر ایسے اشخاص کے ساتھ وہ سلوک کرنے کی بیحد کوشش کرتے۔ مولانا نہایت بلند نظر اور حوصلہ مند شخص تھے۔ قومی معاملات سے ان کو خاص دلچسپی تھی۔ ہندو و مسلمان کے اختلافات کو نہایت افسوس کے ساتھ دیکھتے تھے۔ ایک روز مجھ سے نہایت حسرت آمیز لہجہ میں فرمانے لگے کہ پولٹیکل اختلافات کی وجہ سے اگر ہندو و مسلمان ایک جا ہو کر نہیں چلتے تو علمی میدان اتحاد و ارتباط پیدا کرنے کے لیے کیا کم ہے؟ کیوں نہ ہم لوگ آپس میں ایک دوسرے سے علمی پلیٹ فارم پر آ کر ملیں اور تبادلہ خیالات کریں۔۔
مولانا مرحوم کا یہ خیال تھا کہ ہندوستان کی حقیقی ترقی بغیر ہندو مسلمانوں میں اتحاد پیدا کیئے ہوئے ممکن نہیں، اسی لیے ”مسلمانوں کی پولٹیکل کروٹ“ کے عنوان سے تین چار مضامین مسلم گزٹ میں شائع کیے تھے،
بہر حال مولانا کی وفات سے ملک و قوم کو جو نقصان پہنچا ہے اس کی تلافی ناممکن ہے اور آپ کے محاسن کی یاد عرصہ دراز تک تازہ رہے گی۔
|
بعد از وفات تربت مادر زمین مجو |
|
|
ترجمہ میری وفات کے بعد میری قبر زمین میں مت ڈھونڈنا |
|
|
در سینہ ہائے مردم عارف مزار ماست |
|
|
ترجمہ عارف لوگوں کے سینوں میں ہمارا مزار ہے |
|
