جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سر سید کی ظرافت

مولانا حالی نے غالب کے حسن بیان اور ظرافت کے متعلق کہا ہے کہ اگر ان کو حیوانِ ناطق کے بجائے حیوانِ ظریف کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اور ان کی حاضر جوابی کی مثالیں اور دلچسپ لطیفے جمع کئے جائیں تو اچھی خاصی کتاب تیار ہو سکتی ہے۔

کم و بیش یہی حال سر سید مرحوم کا ہے۔ اگر وہ ایک طرف خودداری کو ہاتھ سے نہ جانے دیتے اور قوم کے لئے نمونہ پیش کرتے تو دوسری طرف زندہ دلی اور ظرافت سے بھی گریز نہ کرتے تھے۔

ان کی فصاحت آمیز ظرافت، ان کے مضامین و تقریروں اور حاضر جوابیوں سے ظاہر ہوتی ہے۔ خطوط میں مختصر جملوں میں پورے مفہوم کو ادا کرنے اور بات بات میں سے بات پیدا کرنے میں ان کو ملکہ حاصل تھا۔ بلخصوص ’’مسئلہ تعددِ ازدواج‘‘ پر ان کا بحث مباحثہ، اسلامی دسترخوان کی تصویر اور لفظ ’’انشاء اللہ‘‘ پر لطیفہ وغیرہ کے پڑھنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ظرافت کا عنصر ان پر کتنا غالب تھا اور یہ چیز کتنی ان کی رگ و ریشہ میں کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔

ان کی تصانیف اور پرلطف چٹکلوں کو پڑھنے کے بعد نہ صرف ان کی زندہ دلی کا پتہ چلتا ہے بلکہ قدرتِ زبان کا ثبوت بھی ملتا ہے۔

علی گڑھ کالج کے قائم کرنے کا خیال ان کے سر میں ایسا سمایا تھا کہ باوجود ضعیفی وہ ہر قسم کی ذلت کو برداشت کرنے کو تیار ہو جاتے تھے۔ چنانچہ اپنی قوم کے مفاد کی خاطر انھوں نے کالج کی عمارت کے چندے کے لئے ایک تھیٹر میں گانا بھی پسند کیا۔

ان کی سوانح حیات کے قطع نظر یہاں ان کی ظرافت کی مثالیں ان کی زبان ہی میں پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی تاکہ ان کے زورِ بیان اور معانی آفرینی کا کامل نمونہ پیش نظر ہو سکے اور ان کے قلب و دماغ کے باریک نکات اور ان کے دلچسپ طرز بیان کا اندازہ ہو جائے۔

سر سید ایک بار ادب کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ وہ بخوبی جانتے تھے کہ ہندوستانی تعلیم یافتہ طبقہ میں بھی اس کے معنی سراسر غلط سمجھائے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بے جا پابندی کی وجہ سے اس ملک کا بچہ نہایت غبی، ڈرپوک اور کمزور فطرت کا (حامل) ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: ’’ہمارے ہاں ادب کے معنی ہیں کہ لڑکا اپنے بزرگوں کے ڈر کے مارے کوئی سچی بات منہ سے نہ نکال سکے۔ اور جھک جھک کر بلا ضرورت سلام پر سلام کرے۔ یہ ویسا ہی ادب ہے جیسا کہ ایک بندر والا اپنے بندر کو سکھاتا ہے کہ ٹانگ اٹھا کر کھڑا رہے۔ ہاتھ جوڑ کر گردن جھکا کر سامنے آئے۔ اور ایک اشارے کے ساتھ ڈگڈگی پر چڑھ یٹھے۔ مگر یہ ادب نہیں بلکہ سوء ادب ہے کیونکہ اس سے لڑکے کو ریا کاری و ظاہر داری کی تعلیم ہوتی ہے‘‘۔

سر سید کی دلچسپ گفتگو سے نہ صرف جدت اور ندرت کا اظہار ہوتا ہے بلکہ بحث طلب چیزوں پر بلحاظِ تحقیق و تدقیق کافی روشنی بھی پڑتی ہے۔ اور اس زمانے کے مولویوں اور ملاؤں کے فتووں کی گرم بازاری میں ان کی آزاد خیالی کی کامل جھلک نظر آتی ہے۔

ایک بار سہارنپور کی مسجد کے چندے کے لئے ایک شخص نے دست سوال دراز کیا۔ سر سید نے کہا صاحب میں تو خدا کے زندہ گھروں کی تعمیر میں ہوں اور آپ اینٹ، پتھر چونے کے مکانوں کی فکر میں ہیں۔ جائیے میں کچھ نہ دوں گا۔

سر سید تہذیب الاخلاق میں لکھتے ہیں۔ (جو صاحب یہاں مولوی علی بخش خاں مرحوم صدر الصدور گورکھ پور کی طرف اشارہ ہے۔ جنھوں نے بغلبۂ آراء مولوی اور ملّا، سر سید پر کفر کا فتویٰ صادر کیا اور بغرضِ منظوری مکہ معظمہ بھی گئے تھے)

’’ہماری تکفیر کا فتویٰ لینے کو تشریف لے گئے تھے۔ ان کو ہمارے کفر کی بدولت حج اکبر نصیب ہوا (کیونکہ وہ حج کا زمانہ تھا)، ان کے لائے ہوئے فتوے ہم بھی دیکھنے کے خواہشمند ہیں۔ سبحان اللہ ہمارا کفر بھی کیا کافر ہے کہ کسی کو حاجی اور کسی کو ہاجی (ہجو کرنے والا) اور کسی کو کافر اور کسی کو مسلمان بنا دیتا ہے‘‘۔

انھوں نے ان خیالات کا اظہار ایسے زمانہ میں کیا اور مضامین اس وقت لکھے جبکہ ہندوستان کی فضا بہت مکدر ہو گئی تھی۔ مولویوں نے جس کو چاہا کافر کہہ دیا اور لوگ اس پر ایسے ٹوٹ پڑتے کہ اس کی زندگی دوبھر ہو جاتی تھی۔ چنانچہ مولانا حالی نے اسی زمانہ میں یہ شعر کہا ہے

اسلام اے فقیہو ہے ممنون بہت تمہارا

امت کو چھانٹ ڈالا کافر بنا بنا کر

یہی وہ زمانہ تھا جبکہ مولانا نذیر احمد کی کتابوں کو ہولی کی طرح جلا کر لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور سر سید کے نیچری مذہب سے دور رکھنے کی دونوں ہاتھ اٹھا کر خدا سے یوں دعا مانگی جاتی

طفیل شافع محشر بچا لے نیچری شر سے

مسلمانوں کو تیری ذات کا ہے آسرا باقی

اگرچہ وہ مخالفین کے مجمع میں تقریریں کرتے تھے لیکن آزاد روی کو ہاتھ سے نہ دیتے اور کبھی پست ہمت نہ ہوتے تھے۔

سر سید غرض مند کا کام کرتے اور ہر ہاتھ بٹاتے تھے لیکن کبھی کسی کی سفارش نہ کرتے۔ ایک شخص جو اس چیز سے ناواقف تھا ان سے جا کر ملا اور کہا کہ گذشتہ رات اس نے خواب دیکھا ہے کہ ایک محسنِ قوم جو بڑے بزرگ معلوم ہوتے تھے ایک بلند جگہ پر بیٹھے ہیں اور جو حاجت مند آتا تھا اس کی مراد پوری کر دیتے تھے۔ اس کا ایقان ہے کہ وہ ہستی ان ہی کی ہو سکتی ہے لہذا اس کی حاجت پوری کی جائے۔

سر سید نے کہا حضرت اس معاملہ میں آپ کو کچھ دھوکا ہوا ہے۔ میں کسی کی سفارش نہیں کرتا۔ وہ جن کو آپ نے خواب میں دیکھا ہے میں نہیں بلکہ کوئی شیطان ہو گا۔

سر سید جب لندن‌London میں تھے تو ہندوستان سے مختلف اخباروں اور روزناموں کو جمع کر کے اور جس طرح انھوں نے انتظام کیا تھا ہر ماہ ڈاک کے ذریعے تمام پرچے ان کو بھیجے جاتے تھے۔ ان پرچوں میں وہ ہندوستان کی فضا اور مولویوں کی ان کے خلاف تقریریں، بحثیں اور فتوے جاری کرنے کے واقعات کا غائرانہ مطالعہ کرتے تھے۔

انہی ہنگاموں میں ایک بار ان کے پاس ’’شعلہ طور‘‘ کا پرچہ پہنچا جس میں مولوی امداد علی نے (یہ وہی مولوی ہیں جن کی نذیر احمد سے خوب چلی تھی) الفنسٹن‌Elphinstone کی تاریخ کے ترجمہ کے حوالے سے سر سید پر کفر کا فتویٰ لگایا تھا۔ اور لکھا تھا کہ جس شخص نے یہ ترجمہ خود لکھا ہو وہ کیسا جہنمی ہے؟

سر سید نے اس کے جواب میں لکھا کہ ’’دیکھو دشمنی انسان کو ایسا اندھا کر دیتی ہے۔ مولوی صاحب اس اخبار (شعلہ طور) میں تاریخ الفنسٹن کے مضمون کو آپ نقل کر کے فرماتے ہیں کہ جس شخص نے یہ ترجمہ خود لکھا ہو وہ کیسا جہنمی ہے؟ حالانکہ خود بھی اس عبارت کو لکھ چکے ہیں۔ اچھا تو مجھ میں اور ان میں فرق صرف اتنا رہا کہ میں نے انگریزی سے نقل کیا اور انھوں نے اردو سے‘‘۔

سر سید ہمیشہ دوسرے درجہ (سکنڈ کلاس) میں سفر کرنے کے بہت شوقین تھے۔ ایک بار ان سے چند خوش پوش حضرات سے گفتگو ہونے لگی۔ ان میں سے ایک سر سید کو نہ جانتے ہوئے ان کی برائی کرنے لگا۔ اور ان کی بے دینی الحاد اور کورانہ تقلیدِ مغرب کے جھوٹے قصے دہرانے لگا۔

سر سید چپکے بیٹھے سنتے رہے۔ مگر جب وہ صاحب ریل سے اترنے لگے تو حسبِ قاعدہ ان سے دریافت کیا کہ جناب کا اسمِ گرامی؟ انھوں نے جواب دیا وہی ننگِ قوم جس کی شان میں آپ نے اتنا کچھ ابھی کہا۔ یعنی سر سید۔ یہ سنتے ہی وہ صاحب بہت شرمندہ ہوئے۔

سر سید نے ایک بار بے علمی کو ایک نعمت عظمیٰ قرار دیتے ہوئے عجیب پرلطف جملوں میں اس کا اظہار کیا ہے۔ کہتے ہیں۔

’’بے علمی ایک عجیب صفت موصوف کی ہے۔ دل کو راحت میں، طبیعت کو طمانیت میںرکھنے والی جیسی بے علمی ہے ایسی کوئی چیز نہیں۔ جاہل جو کچھ جانتا ہے اس کو سچ سمجھتا ہے۔ جو کچھ کہتا ہے وہ اس کو ٹھیک جانتا ہے۔ یہ ایک جھیل ہے جس میں کوئی لہر نہیں کناروں تک پانی بھرا ہوا ہے۔ مگر ہلتا نہیں۔ نہ اس میں کوئی مچھلی ہے جو تیرے اور نہ کوئی مینڈک ہے کہ اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر غوطہ لگائے۔ نہ دل میں کچھ کھٹکا ہے نہ کسی بات کے سوچنے کی حاجت‘‘۔

سر سید مرحوم کو اس زمانہ میں دہریہ اور نیچری کہا جاتا تھا۔ ان کی بے دینی کے قصے عام طور پر زبان زد تھے۔ چنانچہ اس طوفان کے تھپیڑوں سے نواب محسن الملک مرحوم اور مولانا نذیر احمد بھی بچ نہ سکے۔ ان کی حرکات و سکنات پر نظمیں لکھی گئیں جن کا اسلوب تضحیک آمیز ہوتا تھا اور جن کو اخباروں میں شائع کیا جاتا تھا۔