جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سر سید کی ظرافت

لیکن وہ اپنی قوم کی بہبودی کو ہر دم پیش نظر رکھتے تھے اور کسی مخالف کی تذلیل سے کبھی پست ہمت نہ ہوتے تھے۔ باوجود ان ہنگاموں کے وہ اپنی قوم کے متعلق ایک لکچر کے دوران میں اپنے جذبات کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں۔

’’خدا کا شکر کرتا ہوں کہ میں اس پاک شخص کی ذریت میں ہوں جس کے کلمۂ مبارک جب آخری وقت میں نکلتے تھے تو امی امی پکارتے تھے۔ اس طرح مجھ کو بھی اپنے فخرِ عالم دادا کا پوتا ہونے کا حق ہے کہ جو اس وقت ادا کروں گا جبکہ مرنے سے کچھ پہلے میرے سانس میں گنجائش نہ ہوگی۔ اور اس وقت میں قومی قومی کہتا ہوا مروں گا‘‘۔

سر سید نے جس چیز پر روشنی ڈالی ہے اس کے ہر پہلو کو واضح کیا اور روزمرہ میں بڑی پتے کی باتیں بتلائی ہیں۔ ہر محفل میں ان کی باتیں بڑے شوق سے سنی جاتی تھیں۔

ایک وقت شبلی، مولوی ممتاز علی اور سر سید بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ اثنائے گفتگو میں سر سید کا ایک کاغذ کھو گیا بہت تلاش کی گئی کہیں نہ ملا۔ جب سر سید کچھ پریشان ہوئے تو شبلی نے کسی طرح اس کاغذ کو پا لیا اور سر سید کو ستانے اور تماشا دیکھنے کی خاطر اس پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔

سر سید نے تاڑ لیا کہ مولانا خوش طبعی کے لئے کاغذ دبائے بیٹھے ہیں۔ انھوں نے ان کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا: بزرگوں کا قول صحیح ہے کہ جو چیز گم ہو جاتی ہے اسے شیطان اپنے ہاتھ کے تلے دبا کر بیٹھ رہتا ہے۔ ذرا دیکھنا تو میرا وہ کاغذ تمہارے ہاتھ کے تلے تو نہیں۔ اس پر مولانا نے ہاتھ اٹھا لیا اور کاغذ نظر آیا پر خوب ہنسی ہوتی رہی۔

یوں تو سر سید نے کئی تقریروں میں اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا لیکن انگریزی زبان کی اشاعت، اور انگریزوں کو اہل کتاب مانتے ہوئے ان کی ہر چیز کی تقلید کرنے حتیٰ کہ گردن مروڑی ہوئی مرغی کو بھی حلال کہنے کی وجہ سے لوگ ان کو عیسائی سمجھنے لگے تھے۔ کبھی کبھی وہ کوٹ پتلون بھی پہنتے تھے اور انگریزوں سے بے تکلف میل جول رکھتے اور ان کے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاتے تھے اس لئے لوگ ان کو نیچری بھی کہتے تھے۔ اسی وجہ سے ان سے اسی قسم کے سوالات کئے جاتے اور استفسار کرنے والوں سے ان کا ناطقہ بند رہتا تھا۔

چنانچہ اکبر الہ آبادی مرحوم نے جو ان کے عزیز دوست تھے ان کے خلاف ہجویہ نظمیں لکھیں لیکن سر سید کے انتقال سے پیشتر ان سے بہت زیادہ انس پیدا ہو گیا اس کے بعد انھوں نے سر سید کی یاد اس طرح کی ہے

عظمت کبھی محسوس نہ اپنی ہوئی اس کو

باطن میں فرشتہ تھا وہ ظاہر میں بشر تھا

ذیل میں اسی طرح کا ایک دلچسپ مکالمہ پیش کیا جاتا ہے جو خدا کے وجود کے متعلق ایک پادری اور سر سید میں ہوا۔ سر سید سکنڈ کلاس (دوسرے درجہ) میں سفر کر رہے تھے۔ ایک پادری صاحب کو کسی طرح خبر ہو گئی کہ سر سید یہی ہیں۔ بڑے تپاک سے ملے اور کہنے لگے کہ مجھے ایک عرصہ سے ملنے کی آرزو تھی۔ اب میں آپ سے خدا کی باتیں کرنی چاہتا ہوں۔

سر سید نے کہا (کہ) میں نہیں سمجھا کہ کس کی باتیں ہیں؟ انھوں نے کہا خدا کی۔ سر سید نے کہا میری تو ان سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔ اس لئے میں ان کو نہیں جانتا۔ اس نے پوچھا، آپ خدا کو نہیں جانتے؟ سر سید نے کہا مجھ ہی پر کیا موقوف ہے جس شخص سے ملاقات نہ ہو کوئی نہیں جان سکتا۔ پھر ایک نام لے کر کہا آپ اس کو جانتے ہیں؟ پادری نے کہا نہیں۔ میں اس سے ملا تک نہیں۔ سر سید نے کہا پھر جس سے میں بھی نہیں ملا اور نہ اس کے کھانے پر مدعو کیا یا نہ خود اس کے ہاں کھانے گیا کیسے جان سکتا ہوں۔

پادری صاحب نے ایک انگریز دوست سے کہا یہ تو کافر ہے۔

سر سید نے نہ صرف علی گڑھ کالج کی بنیاد ڈال کر اپنی قوم کی خدمت کی بلکہ اردو زبان کے ادب کو بھی اپنی تصانیف سے مالا مال کر دیا۔ ان کا درجہ بلحاظ مصلح اعظم بہت بلند ہے۔

یہ ظاہر ہے کہ ہر ملک یا قوم کی جاہلیت اور پستی کا ایک دور ہوتا ہے۔ اس کی حالت میں یکایک انقلاب پیدا نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر ماحول اور انھی قوتوں کا اثر پڑتا ہے جو راہ تکامل میں مائل بہ ترقی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فی زمانہ دنیا میں چند قومیں ترقی کے اعلیٰ درجہ پر گامزن ہیں اور کچھ درمیانی منزلوں سے گذر رہی ہیں اور چند پستی کے قعرِ مذلت میں پڑی گہری نیند سو رہی ہیں۔

اسی طرح سر سید کو بھی زمانہ کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔ ان کے چندہ پر خوب پھبتیاں اڑائی گئیں اور اس طرح بیزاری کا اظہار کیا گیا۔

کالج کے لئے چندہ

ہر وقت کا یہی دھندہ

یہ کیسی  دردمندی ہے کہ لے کر نام چندے کا

گلا کاٹیں ہمارا اور پھر ہم سے گِلا باقی

لیکن کسی مصلح کی زندگی میں قوم کی آنکھیں نہیں کھلتی ہیں مگر اس کے مرنے کے بعد اس کی پوجا کی جاتی ہے۔

اسحاق محمد خان متعلم سال چہارم