جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

سورج مل

اسی وقت دہلی کی بھی حالت بالکل ابتر ہو گئی، یعنی غازی الدین جو کہ بادشاہ دہلی کا وزیر تھا، اس نے بادشاہ کو قید کر لیا اور سلیم گڑھ کو بھیج دیا، اور دہلی کے تخت پر کسی شاہزادہ کو عالم گیر ثانی کا لقب دے کر تمام ملک میں اعلان کروا دیا۔ اب سررج مل کے لئے بھی ضرور تھا کہ غازی الدین سے مل جائے کیونکہ اس وقت غازی الدین اتنا با رسوخ وزیر ہو گیا تھا کہ ساری سلطنت اس کے ہاتھ میں آچکی تھی، اور بالکل سیاہ و سفید کا مالک ہو چکا تھا۔ لہذا سورج مل نے اس سے بھی صلح کر لی اور اپنی سلطنت کے انتظام میں لگا رہا۔ معلوم ہوتا ہے کہ غازی الدین اور سورج مل میں یہ صلح 1754ء میں ہوئی ہے۔

دہلی کی حالت ازحد خراب تھی، بدانتظامی پھیلی ہوئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ 1757ء میں احمد شاہ ابدالی نے دہلی پر چڑھائی کی تھی۔ متھرا، آگرہ وغیرہ مقامات کو بھی سخت نقصان پہنچایا۔ مگر سررج مل نے اپنی سلطنت کا کچھ اس قدر سخت انتظام کر رکھا تھا کہ ابدالی کے حملہ سے اس کی سلطنت کو بالکل نقصان نہ ہونے پایا، اور حتی الامکان غازی الدین کو بھی امداد دی، جس کی وجہ سے غازی الدین اس کا ازحد مرہون منت ہوا۔

نجیب خان روہیلا اور شجاع الدولہ غازی الدین کے سخت مخالف تھے، اور شب و روز کوششیں ہو رہی تھیں کہ کسی نہ کسی طرح غازی الدین کو نکال کر سلطنت دہلی کو اپنے ہاتھ میں لے لیں، چنانچہ انہوں نے پھر احمد شاہ ابدالی کو بلوایا۔ ادھر غازی الدین نے بھی ملہار راؤ ہولکر اور سررج مل کو اپنی طرف کر لینے کے علاوہ دکن مرہٹوں کو بھی اپنی امداد کے لئے بلا لیا۔ پانی پت پر سخت جنگ ہوئی، مگر اس میں مرہٹوں کو سخت شکست ہوئی۔ اسی جنگ کے بارے میں ایک مرہٹہ مورخ لکھتا ہے کہ اگر مرہٹہ سردار سورج مل کی رائے پر عمل کرتے تو مرہٹوں کو ہرگز شکست نہ ہوتی اور ہزاروں جانوں کی قربانی نہ ہوئی ہوتی۔ سورج مل کا طرزِ جنگ بالکل مرہٹوں سے علیحدہ تھا۔ اس کے بعد جبکہ مرہٹوں کا رسوخ دہلی کے تخت پر زیادہ ہو گیا اور مرہٹوں نے اپنی زیادتیوں کو بڑھانا شروع کیا تو سورجمل نے مرہٹہ سرداروں کو خوب ہی روکا، مگر سورجمل کی کوئی سنتا ہی نہ تھا۔ ابدالی نے تو دہلی کو لوٹا تھا مگر مرہٹوں نے تو محل کے پتھر تک نہیں چھوڑے۔ یہ معاملہ دیکھ کر سورجمل اپنے ملک کو واپس چلا آیا۔ خیر۔

جس وقت پانی پت کے میدان سے مرہٹہ فوج شکست کھا کر پراگندہ بھاگی ہے، وہ وقت مرہٹوں کے لئے بڑی ہی مصیبت کا تھا۔ اتنے دور دراز ملک میں ان کا نہ کوئی دوست تھا اور نہ کوئی مددگار۔ جس طرف مرہٹہ سپاہی جاتے تھے ہر طرف دشمن ہی دشمن نظر آتے تھے۔ سررج مل کی رائے پر عمل نہ کرنے سے یہ نوبت ہوئی تھی، مگر اس پر بھی سورج مل ہی نے جہاں تک ممکن تھا مرہٹہ سرداروں اور سپاہیوں کو اپنے حدود میں پناہ دی، اور ہر طرح سے ان کی خدمت کی۔ ہفتوں تک ان کو اپنے پاس رکھا، اور دشمنوں کے ہاتھ سے قتل نہ ہونے دیا۔ یہ ایک ایسا احسان ہے کہ مرہٹہ سپاہی تادم زیست نہیں بھول سکتے۔

پانی پت کی جنگ کے بعد دہلی کی حالت ناگفتہ بہ ہو گئی تھی، اور ہر طرف سخت بدانتظامی اور ابتری پھیل گئی تھی۔ مگر اس ابتری کی وجہ سے سررج مل نے بھی اچھا خاصا فائدہ حاصل کر لیا، یعنی متھرا، آگرہ وغیرہ کے تمام ضلعے اپنے قبضہ میں لئے، قلعہ آگرہ میں جو اکبر کے وقت کی دولت بھری ہوئی تھی وہ بھی اپنے قبضہ میں کر لی، اور اپنی حدود کو زیادہ تر پھیلانے لگا، یعنی الور دو آب کے درمیان کا تمام حصہ ہریانہ اور چنبل ندی کے دکن کی طرف سارا ملک اپنی سلطنت میں داخل کر لیا۔ سورج مل کے پاس اس وقت بارہ ہزار سوار، تیس ہزار پیدل سپاہی تھے۔ سورج مل اپنی فوج میں غیر اقوام کے سپاہی ہرگز داخل نہیں کرتا تھا۔

پانی پت کی جنگ کے بعد نجیب خان کے سوا اب کوئی سررج مل کا مخالف نہ تھا، اکثر جاٹوں اور روہیلوں میں چقماق چھڑا کرتی تھی۔ چونکہ جاٹ اب زیادہ قوی ہو چکے تھے، لہذا نجیب خان بھی سخت پریشان ہو گیا اور سورج مل کی قوت کو توڑنے کی کوششیں کرنے لگا۔

1763ء میں سررج مل نے فرخ نگر کے فوجدار پر چڑھائی کی، قلعہ فتح کیا اور موسیٰ خان نامی فوجدار کو قید کر کے دیگ کے قلعہ کو بھیج دیا۔ مگر موسیٰ خان کا جو نائب تھا، یہ فوراً نجیب خان کے پاس امداد مانگنے دہلی چلا گیا۔ نجیب خان نے یعقوب خان کو جو کہ احمد شاہ ابدالی کا بھائی یا کوئی رشتہ دار تھا، سورج مل کے پاس اس غرض سے روانہ کیا کہ سورج مل موسیٰ خان کو چھوڑ دے اور فرخ نگر پر اپنا قبضہ نہ رکھے، مگر سورجمل نے یعقوب خان کی بالکل پرواہ نہ کی، بلکہ اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہ دیکھا۔ اس حرکت پر یعقوب خان کو سخت رنج ہوا، دہلی آکر نجیب خان سے ساری حقیقت بیان کی، جس کے سننے سے نجیب خان کو بھی بہت ہی رنج ہوا، لہذا اس نے فوج جمع کرنے کا حکم دیا۔ نجیب خان کی فوج میں سب روہیلے اور مغل سپاہی تھے۔ ادھر سورجمل بھی ان کا منتظر ہی بیٹھا تھا، اپنے تمام جاٹ سپاہیوں کو سامانِ جنگ سے آراستہ کر کے دہلی کی طرف روانہ ہوا اور دہلی سے کوئی چھ میل پر شاہدرہ مقام پہنچ کر مغلیہ فوج کا انتظار کرنے لگا۔ مغلیہ فوج بھی کسی جگہ گھات ہی میں تھی۔ پڑاؤ ڈالے چونکہ بہت روز ہو چکے تھے اور مغلیہ فوج مقابلہ کے لئے سامنے نہ آتی تھی، یہ دیکھ کر سورجمل سمجھا کہ اب ان میں لڑنے کی تاب نہیں۔ ایک روز انہیں بے فکری کے خیالات میں اپنے ہمراہ کچھ اپنے شکاری سوار لے کر جنگل کی طرف شکار کے لئے چلا گیا۔ مغلیہ فوج تو اپنے انتظام میں لگی ہوئی تھی، انہیں خبر ملتے ہی مغلیہ فوج کا ایک معقول دستہ سورجمل جدھر گیا روانہ کیا گیا۔ سورجمل کو گھیر لیا اور اس کا سر اتار کر نجیب خان کے روبرو پیش کیا گیا۔ جاٹوں کو یہ خبر پہنچتے ہی ساری فوج میں گھلبلی پڑ گئی۔ اور جاٹوں کا جوش انتہا درجہ کو پہنچ گیا۔ دونوں فریق میں جنگ چھڑ گئی۔ مگر مغلیہ فوج کا انتظام چونکہ عمدہ تھا لہذا جاٹوں کو شکست ہوئی اور جاٹ بھاگ نکلے اور اس طرح سے 31 دسمبر 1763ء کو سورجمل کی کارروائیوں کا اختتام ہو گیا۔

سررج مل کے بعد اس کا بیٹا جواہر سنگھ گدی نشین ہوا۔ جواہر سنگھ بھی اپنے باپ کے مانند سورما اور دلیر سپاہی تھا، اپنے باپ کا بدلہ نجیب خان سے اچھی طرح لیا۔ مغلیہ سلطنت میں ہر طرف لوٹ مچا دی، قلعہ آگرہ میں جو سیاہ سنگ مرمر کا تخت رکھا ہوا تھا، اٹھا کر اپنی سلطنت میں لے آیا، اور یہ تخت اب تک دیگ کے گوپال بھون میں نظر آتا ہے۔ اسی خاندان میں آج تک بھرت پور کی سلطنت چلی آرہی ہے۔ جب تک جاٹ قوم دنیا میں زندہ ہے، اس وقت تک سورج مل کا نام بھی سورج سا روشن رہے گا۔ راجپوتانہ کی تاریخ سورج مل کی بہادری اس کی خداداد طاقت کے کارناموں سے لبریز ہے۔ ایسے سورما اب دنیا میں بہت ہی کم پیدا ہوتے ہیں۔