ایک روز طلعت بے میرے پاس آیا اور کہا کہ ہمیں شیخ عبدالعزیز سادیش نے باہمی مصالحت کے لیے مدعو کیا ہے، اور چونکہ مجھے عربوں کے متعلق اپنی بغداد کی گورنری کے دوران میں کافی تجربہ ہو چکا تھا، اس واسطے اس نے مجھے گورنمنٹ کی جانب سے اس ملاقات میں شامل ہونے کے لیے کہا۔ میں جائے مقررہ پر گیا، وہاں میرا عبدالکریم الخلیل سے تعارف کرایا گیا۔ جو عربوں کی خفیہ سیاسی جماعت کا صدر تھا۔ اس کے چہرے سے ذہانت ٹپکتی تھی۔ اور وہ ایک دلیر آدمی نظر آتا تھا۔ اس کا سن اٹھائیس سال کا ہوگا ۔ کھانے کے بعد باقاعدہ طور پر گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے شروع ہی سے بھانپ لیا تھا کہ عبدالکریم اپنے چند دوستوں کو ذمہ دار عہدے دلانا چاہتا تھا، اور بس اس کے رویہ کو دیکھ کر مجھے سخت صدمہ ہوا، کہ عربوں کے لیڈر محض اپنی ذاتی اغراض کی خاطر قوم کو گمراہ کر رہے ہیں ۔ وہ فی الواقعہ کسی قسم کی اصلاحات نہیں چاہتے تھے ۔ تاہم، کچھ بحث مباحثے کے بعد، ایک اقرار نامہ لکھا گیا، جس میں مندرجہ ذیل شرائط کا خاص طور پر ذکر کیا گیا۔
(1) عربی صوبجات کے انتظامی عہدے عربوں کے سپرد کیے جائیں۔ (2) ان صوبجات میں سیکنڈری تعلیم عربی زبان میں جاری کی جائے۔ (3) عربی زبان کو ترکی زبان کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے فیصلہ جات میں استعمال کیا جائے۔ (4) چند ایک عرب سرداروں کو پارلیمنٹ، شاہی کونسل، عدالتِ اپیل و دیگر اعلیٰ عہدوں پر مقرر کیا جائے۔ اس گفتگو کے بعد کئی دفعہ عرب لیڈروں سے ان امور کے متعلق بات چیت ہوتی رہی۔ بالآخر حکومت نے یہ تمام تجاویز منظور کر لی، اور ان پر اقرار کے بموجب عملدرآمد ہو گیا۔
چونکہ اب عربوں کے متعلق ذکر چھڑ گیا ہے، اس واسطے ایک نہایت اہم معاملے کے متعلق مختصر ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔ جن دنوں میں انور پاشا وزیر جنگ تھا، اور میں محکمۂ تعمیرات کا وزیر تھا۔ مصر کا ایک باشندہ مسمی عزیز علی بے، فوج میں میجر تھا۔ وہ اس بات کو سخت ناگوار سمجھتا تھا، کہ عربی تنازعات میں عبدالکریم الخلیل کا حکام بالادست کے ساتھ کیوں اتنا رسوخ پیدا ہو گیا۔ حالانکہ گورنمنٹ نے اس سے کبھی ان معاملات میں مشورہ نہ لیا۔ چنانچہ اس نے اعلانیہ کہنا شروع کر دیا، کہ جن عربوں نے ترکی گورنمنٹ کے ساتھ اصلاحات کے متعلق مصالحت کی ہے، وہ قوم کے اصلی نمائندے نہیں ہیں۔ اس نے نیا راگ الاپنا شروع کیا کہ عرب حقیقت میں آزاد ہونے چاہییں ۔ وہ اتنا مغرور تھا کہ دنیا میں شاید ہی اس کا کوئی ثانی ہو ۔ وہ اپنے آپ کو ہر معاملے میں بینظیر مدبر اور سیاست دان سمجھتا تھا۔
میں عزیز علی بے کو 1904ء سے جانتا تھا جبکہ وہ فوجی اسکول سے فارغ ہو کر کپتان کے عہدے پر مامور کیا گیا تھا۔ اس نے ملازمت کے دوران میں بڑی جانفشانی سے فوجی خدمات کیں۔ اور مختلف اوقات پر گورنمنٹ نے اس کی بہادری کا اعتراف بھی کیا۔ بعد ازاں وہ انجمن اتحاد و ترقی کا ایک رکن ہو گیا، جہاں اس نے بڑی بہادری سے اپنا فرض منصبی ادا کیا، خاص کر جب سلطان عبدالحمید کو تخت سے معزول کیا گیا، اور ملک میں ایک عام فساد ہو گیا تھا، تو اس نے انجمن کی جانب سے بڑی شجاعت دکھائی۔ مجھے ان دنوں علم نہ تھا کہ یہ شخص عربی النسل ہے۔ مجھے صرف ایک دفعہ قسطنطنیہ میں اس سے ملنے کا اتفاق ہوا۔ میں ان دنوں ادانا میں گورنر تھا۔ دورانِ گفتگو میں، میں نے ایک اخبار “اقدام” کے نامہ نگار احمد شریف بے کو جس نے گورنمنٹ کے خلاف مضامین لکھے تھے، کچھ برا بھلا کہا، تو فوراً عزیز علی بے نے میری بات کاٹ کر مجھے جواب دیا کہ عرب سچ کہتے ہیں اور وہ حق پر ہیں۔ آپ نے ان کے ساتھ سخت بے انصافی کی ہے۔ آپ ہم سے نفرت کرتے ہیں۔ اور ہر وقت ہماری بیخ کنی پر آمادہ ہیں۔ اس قسم کی اس نے بہت سی فضول باتیں کیں۔ میں اس کی باتیں سن کر کچھ حیران سا ہو گیا۔ کیونکہ مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ درپردہ ترکوں کے خلاف ہے ۔ بایں ہمہ، میں نے اس کو یقین دلایا کہ ترک عربوں کی بہت عزت کرتے ہیں ۔ چنانچہ، انہوں نے بلا حیل و حجت عربوں کی تمام تجاویز کو منظور کر لیا ہے، اور وہ ہر وقت مزید اصلاحات کے واسطے کوشاں ہیں، اور اگر آپ جیسے تعلیم یافتہ آدمیوں کا یہ خیال ہے، تو پھر ملک میں ابتری پھیل جانے کا اندیشہ ہے۔ جس سے ترکی حکومت کو سخت نقصان پہنچے گا ۔ اس واقعہ کے بعد عزیز علی بے کو اس کی خواہش کے مطابق جرنیل عزت پاشا کے اسٹاف پر مامور کیا گیا۔ جہاں اس نے عربوں کے بھڑکانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ جب اٹلی نے طرابلس پر حملہ کیا۔ تو وہ بھی انور بے، مصطفیٰ کمال بے کے ہمراہ عربوں کی طرف سے لڑتا رہا۔ اس نے بنغازی کی محافظت میں وہ جوہر دکھائے کہ اٹلی کے افسران بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے ۔ چونکہ عزیز علی بے عربوں کی بغاوت میں نمایاں حصہ لیا تھا، اس واسطے میں اس کی تمام خدمات اور نقائص کا ذکر کروں گا۔
جب وہ طرابلس میں تھا، تو انور بے کے ماتحت کام کرتا تھا، لیکن وہ برداشت نہیں کر سکتا تھا، کہ انور بے اس پر حکومت کرے۔ اس نے عربی افسروں کو اس کے برخلاف بھڑکانے کی بہت کوشش کی، لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا ۔ جب اٹلی کے ساتھ صلح ہو گئی، تو انور بے ترکی میں واپس آگیا، اور اپنے بجائے عزیز علی بے کو طرابلس کی فوجوں کی کمان پر مامور کیا، اور اسے ہدایت کی کہ وہاں عربی حکومت قائم کرے، لیکن اس نے اپنی بدانتظامی سے اول شیخ سنوسی کو ناراض کیا، اور پھر اپنے ماتحت افسروں کو اتنا مخالف بنا لیا کہ اس کا طرابلس میں رہنا دشوار ہو گیا ۔ چنانچہ، تھوڑے ہی عرصے کے بعد ترکی واپس آگیا ۔ قسطنطنیہ میں آکر اس نے اپنی عادت کو نہ بدلا ۔ ان دنوں اس کا یہی کام ہوتا تھا کہ جب ترکی افسروں کے پاس بیٹھتا تھا تو انور بے کے خلاف زہر اگلتا تھا۔ اور جب عربی افسروں کی مجلس میں ہوتا تھا تو تمام ترکوں کو بے نقط گالیاں سناتا تھا۔ لیکن جب انور بے وزیرِ جنگ ہو گیا تو عزیز علی بے کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی۔ کہ اس کا ہمراہی تو وزیرِ جنگ کے عہدے پر مامور ہو۔ اور وہ محض میجر ہی رہا ہے۔
چنانچہ اس نے حسداً خفیہ سازشیں کرنی شروع کیں۔ انور پاشا نے پہلے تو بہت صبر کیا۔ اور اسے کچھ نہ کہا لیکن جب اس کی حرکات خطرناک صورت اختیار کرنے لگیں تو اس نے عزیز علی بے کو گرفتار کر لیا اور ایک سنگین مقدمے میں کورٹ مارشل کے سپرد کر دیا۔
ترکی حکومت نے آغازِ جنگ میں عزیز علی بے کو طرابلس کے عربوں کی مدد کے واسطے بیس ہزار پونڈ دیے تھے۔ افسر مذکور نے اس رقم میں بہت سا حصہ ہضم کر لیا تھا۔ اور اپنی حکومت کو خاطر خواہ حساب نہ بھیجا۔ جب اس کے حساب کی پڑتال کی گئی۔ تو اس کی بد دیانتی میں کوئی شک نہ رہا۔ اس کی گرفتاری کی خبر سنتے ہی ہر طرف سے عربوں کے وفد حکومت کے پاس آنے شروع ہو گئے۔ کورٹ مارشل نے سزائے موت دی۔ لیکن وزارتِ جنگ نے عبورِ دریائے شور کی سفارش کی۔ اس اثنا میں میرے پاس بھی وفد آیا۔ اور مجھ سے درخواست کی، کہ اگر میں نے اپنے رسوخ سے عزیز علی بے کو رہا کرا دیا۔ تو اس سے عربوں پر اچھا اثر پڑے گا۔ جس دن اس مقدمہ کے کاغذات سلطان المعظم کے پاس برائے دستخط پیش کیے گئے تھے۔ اسی دن فرانسیسی سفارتخانے میں ایک دعوت میں تمام وزرا، غیر ملکی سفیر اور فرانسیسی امرا مدعو تھے۔ میں بھی وہاں گیا ہوا تھا۔ وہاں مجھے جارج ریمانڈ جو ایک مشہور فرانسیسی اخبار کا مدیر تھا، ملا۔ اس نے دورانِ گفتگو میں ذکر کیا کہ اگر عزیز علی بے کو محض انور پاشا کے ذاتی عناد کی وجہ سے پھانسی پر لٹکایا جاتا ہے تو میں یہ کہے بغیر نہیں رہ سکتا۔ کہ اس ملک میں قانون کو بالائے طاق رکھ کر افسرانِ بالا دست کی مرضی کے مطابق احکام صادر کیے جاتے ہیں۔ عزیز علی بے کے برخلاف جو الزام لگایا جاتا ہے، وہ صرف یہ ہے کہ اس نے سرکاری روپے کا غبن کیا ہے۔ اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ انقلاب پسند ضرور ہے، لیکن وہ چور ہرگز نہیں۔ اگر آپ چاہیں تو اس کو اس سزا سے بچا سکتے ہیں۔ میں نے اس کی باتوں کا کوئی جواب نہ دیا۔ اور خاموش رہا۔ لیکن اس کے بعد میرے کئی ترکی اور فرانسیسی احباب نے اس دعوت میں مجھے مجبور کیا، کہ میں عزیز علی بے کی خاطر کوشش کروں۔ میں نے فوراً تاڑ لیا، کہ عوام الناس انور پاشا کو اس معاملے میں لعن طعن کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں عزیز علی بے ایک بہادر افسر ہے۔ اس واسطے میں نے اس کو معافی دلوانے کا ارادہ کر لیا۔ اور گھر آتے ہی انور پاشا کو ایک خط لکھا۔ جس کا یہ مضمون تھا: ”میرے پیارے انور، باوجود اس کے کہ کورٹ مارشل میں عزیز علی بے کے برخلاف سنگین شہادت گزری ہے، لیکن پھر بھی پبلک آپ کے رویہ کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اور اگر عزیز علی کو پھانسی پر لٹکایا گیا تو اس سے آپ کی شہرت پر برا اثر پڑے گا۔ برائے مہربانی کوشش کر کے اس کو معافی دلوائیں، اور اگر اس کا قصور معاف ہو گیا، تو اس کو قسطنطنیہ سے خارج کرنا میرا ذمہ ہے“۔ دوسرے دن انور پاشا نے مجھے اطلاع دی، کہ سلطان المعظم نے عزیز علی بے کو بالکل معاف کر دیا ہے۔ اسی شام کو عزیز علی بے کا بھائی جارج ریمانڈ کو ساتھ لے کر میرے پاس آیا۔ ان دونوں نے میرا شکریہ ادا کیا۔ میں نے انہیں کہا کہ اب عزیز علی بے کو فی الفور مصر چلا جانا چاہیے، اور آئندہ ترکی سیاسیات میں کبھی دخل اندازی نہ کرے۔ عزیز علی بے نے وعدہ کیا کہ وہ ترکی سیاسیات میں حکومت کے برخلاف کبھی حصہ نہیں لے گا۔ لیکن جنگ عظیم کے دوران میں میں نے سنا، کہ عزیز علی بے نے شریف حسین والئی حجاز کے ساتھ مل کر ترکوں کے خلاف بغاوت کرنے میں نمایاں حصہ لیا۔ شریف حسین وہ شخص ہے جس نے خلیفۃ المسلمین کے برخلاف بغاوت کر کے اسلامی دنیا میں ایک خوفناک انقلاب پیدا کیا۔ اسلامی ممالک جو آج کل غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں، یہ شریف حسین کی شرارتوں کی ایک ادنیٰ مثال ہے۔ جب مجھے عزیز علی بے کی حرکات یاد آتی ہیں، تو مجھے افسوس ہوتا ہے، کہ میں نے کیوں اس کی رہائی میں اتنی کوشش کی۔
