جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

تذکرۂ جمال پاشا (حصہ دوم)

ماہِ جون کے آخری ہفتے میں شیخ اسعد شکور نے جو ہماری فوج کا مفتی تھا۔ مجھے اطلاع دی کہ سیریا میں بغاوت کے ابتدائی آثار نظر آرہے ہیں، چونکہ پہلے مجھے عبدالکریم الخلیل کی منافقانہ حرکات پر شک ہو گیا تھا اس لئے میں نے فی الفور اس معاملے کی تحقیقات کرائی جس سے ثابت ہوا کہ واقعی عبدالکریم بغاوت پھیلانے میں نمایاں حصہ لے رہا ہے۔ میں نے اس کو اور اس کے ہمراہیوں کو گرفتار کر لیا۔ ان لوگوں نے ساحل کے دو ضلعوں پر پہلے بغاوت شروع کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی تاکہ وہ سمندر کی جانب ہمارے دشمنوں سے مدد لے سکیں۔ میں نے ان باغیوں کو سخت سزا دینے کا تہیہ کر لیا۔ اسی اثنا میں خفیہ پولیس نے ایک نہایت ضروری دستاویز میرے پاس بھیجی۔ جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔

قاہرہ 27 رمضان 1332ھ1914ء                    سرکلر نمبر 409

بخدمت جناب سید افندی شکری سلمہ اللہ تعالیٰ

سلام مسنون، چونکہ جنگِ یورپ آج کل بڑے زوروں پر ہے اس لئے ہمیں اپنے ملک کو آزاد کرنے کی خاطر بہت سی قربانیاں کرنی چاہیئں، ممکن ہے کہ یہ جنگ ایشیا کے ممالک میں بھی آگ کی طرح پھیل جائے اور گنہگاروں کے ساتھ ہی بے گناہ لوگ بھی تباہ ہو جائیں، یعنی ترکوں کے ساتھ عرب بھی پس جائیں۔ اگر ترکی گورنمنٹ بھی اس جنگ میں شامل ہو گئی، تو یقیناً ان کی سلطنت تباہ ہو جائے گی کیونکہ روس فوراً حملہ آور ہو جائے گا، اور تمام ملک پر قبضہ کر لے گا۔ ترک تو اپنے ملک کے بچاؤ کے لئے ہر قسم کی مدافعت کریں گے۔ لیکن عربستان زیادہ خطرے میں پڑ جائے گا۔ اس واسطے نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی آزادی کو حاصل کرنے کے لئے مناسب تدابیر سوچیں۔ ہماری انجمن جس کے اراکین اپنی حب الوطنی اور ایثار کی وجہ سے مشہور ہے، اپنا فرض سمجھتی ہے کہ ایسے نازک وقت میں اپنے ملک اور قوم کو بچانے کے لئے مناسب انتظام کرے، اس واسطے ہم آپ کی خدمت میں مندرجہ ذیل سوالات بھیجتے ہیں جن کا جواب ہمیں فی الفور پہنچنا چاہیئے۔ (1) اگر بڑے پیمانے پر بغاوت کرنے کی ضرورت پڑے تو آپ کتنے آدمی تیار کر سکتے ہیں؟ (2) آپ بغاوت کے اخراجات کے واسطے کتنا روپیہ فراہم کر سکتے ہیں؟ (3) کیا آپ ہمارے آراکین مجلس کو جو امن بغاوت کو ملک کے مختلف حصوں میں پھیلائیں گے۔ ایک خاص وقت تک ایسی خفیہ جگہ پر رکھ سکتے ہیں۔ جہاں وہ خطرے سے محفوظ ہوں۔ (4) کیا آپ نے اپنے شہر کا کوئی معتبر نمائندہ کسی ایسے مقام پر بھیج سکتے ہیں۔ جہاں وہ ہماری ہدایات لے سکے۔ (5) اگر آپ کی طرف سے کوئی ایسا آدمی نہیں آسکتا تو کیا یہ ضروری ہو گا کہ ہم اپنا آدمی آپ کو ہدایات پہنچانے کے واسطے بھیجیں؟

براہ کرم مندرجہ بالا سوالات کا مفصل جواب ارسال کریں۔ اس وقت زیادہ تاخیر کرنی خطرناک ہو گی۔ کیونکہ ایثار و قربانی کا وقت قریب آگیا ہے۔ والسلام (الف) 

(نوٹ) ہم آئندہ ’’الف‘‘ کے نام سے دستخط کیا کریں گے۔ مگر آپ کو جواب دینے کے وقت لفافے پر پورا پتہ لکھنا چاہیئے۔ جو حسب ذیل ہو گا: ’’شیخ حکی خلف متولی مسجد شملی خانم متصل محل شریف پاشا مرحوم قاہرہ مصر‘‘

اپنے خط کسی معتبر آدمی کے ہاتھ بھیجا کریں تاکہ وہ کسی غیر ملکی ڈاک خانے میں جو ساحل پر واقع ہیں، ڈالے۔ اگر اس طرح ممکن نہیں تو پھر اپنے ہی ڈاکخانے کے ذریعے بھیج دیا کریں۔

اس خط کے پڑھتے ہی میری آنکھیں کھل گئیں۔ کیونکہ اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا، کہ ہنوز عربی سازش کنندگان نے سیریا اور فلسطین میں بغاوت کرنے کے خیال کو ترک نہیں کیا تھا۔ مگر میری سمجھ میں نہ آیا کہ عبدالخلیل اور اس کے ہمراہی ترکی حکومت کے ساتھ وفاداری سے کیوں پیش آتے تھے حالانکہ ان کی انجمن ’’اعلٰی مرکزی کمیٹی‘‘ جو مصر میں واقع تھی۔ بغاوت کرنے کے بڑے زور سے تیاریاں کر رہی تھی۔ لیکن لندن ٹائمیز میں ایک مضمون جو اٹھارہ دسمبر 1919ء کو شائع ہوا تھا، کے پڑھنے سے بخوبی واضح ہو گیا کہ شریف حسین اور برطانیہ کی خفیہ گفتگو 1915ء کی ابتدا میں شروع ہوئی تھی اور اس گفت و شنید میں شریف مذکور نے وعدہ کیا تھا کہ وہ بغاوت کرے گا تاکہ وہ اپنی خودمختار حکومت قائم کرے۔ عبدالخلیل شریف حسین کے ماتحت کام کرتا تھا۔

میری شریف حسین کے ساتھ خط و کتابت دسمبر 1914ء سے ہو رہی تھی۔ اس نے وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ نہر سویز پر حملہ کرنے کے واسطے عربوں کی ایک فوج بھیجے گا، اور اونٹ وغیرہ بھی بہم پہنچائے گا، لیکن وہ ٹال مٹول ہی کرتا رہا۔ ہمیں اپنے فوجی سامان کی نقل و حرکت کے واسطے ہزار ہا اونٹوں کی ضرورت تھی، جب میں نے اس کو لکھا کہ ہمیں اونٹ درکار ہیں تو اس نے بڑی مدت کے بعد تقریباً ایک ہزار اونٹ بھیج دیے اور یہ کہا کہ آج کل عربستان میں اونٹ نہیں مل سکتے، حالانکہ عرب میں دو تین مہینے کے اندر لاکھوں مہیا ہو سکتے ہیں، لیکن چونکہ وہ برطانیہ کے ساتھ فیصلہ کر چکا تھا کہ بجائے ہماری امداد کے وہ ہماری بیخکنی کرے گا اس واسطے نہ تو اس نے عربوں کو فوج میں بھرتی کرا کر بھجوایا اور نہ ہی سامانِ خورد و نوش سے ہماری مدد کی۔ مجھے عبدالکریم اور اس کے ہمراہیوں کے متعلق شک رہتا تھا کہ وہ پیسے کی خاطر برطانیہ سے مل کر غداری کریں گے، لیکن میں یہ یقین نہ کر سکتا تھا کہ شریف حسین جو ایک معمر اور سفید ریش تھا، اتنا خودغرض اور کمینہ ثابت ہو گا کہ دشمنانِ اسلام کی مدد کر کے تمام مسلمانوں کو قعرِ مذلت میں غرق کرے گا۔

میں اس راز کو جنگ کے دنوں میں قطعی نہ سمجھ سکا کہ ایک طرف تو مصر کی اعلیٰ مرکزی کمیٹی بغاوت کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے اور دوسری طرف اس کا نمائندہ مسمی عبدالکریم الخلیل ترکی گورنمنٹ کی طرفداری کر رہا ہے، لیکن جب میں نے فرانسیسی اخبار ٹمپس کا اٹھارہ ستمبر 1919ء کا پرچہ پڑھا تو سب حقیقت کھل گئی۔

میں اخبار مذکور سے ضروری حصے کا اقتباس کرتا ہوں: “آج ہم اس قابل ہیں کہ برطانیہ اور شریف حسین کی باہمی گفت و شنید کے متعلق مزید روشنی ڈال سکیں۔ اولاً شریف مذکور نے جولائی 1915ء میں برطانیہ کو فوجی مدد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بشرطیکہ وہ عربستان کو خودمختار حکومت تسلیم کر لے، اس کے جواب میں سرہنری میکوہن ریذیڈنٹ مصر نے لکھا کہ ابھی عربستان کے حدود کا تصفیہ نہیں ہو سکتا۔ پھر دفترِ امورِ خارجہ کی ہدایت پر ریذیڈنٹ مذکور نے شریف کو ایک اور چٹھی لکھی کہ مرسینا اور سکندریہ کے اضلاع اور سیریا کے اس علاقے کو جو دمشق، ہرنا اور حلب کے مغرب میں واقع ہے مجوزہ عربستان میں شمار نہ کرے، کیونکہ اس علاقے میں علاوہ عربوں کے اور قومیں بھی آباد ہیں۔ علاوہ ازیں، دیگر شرائط جو حدود کے متعلق ہیں، برطانیہ کو منظور ہیں اور برطانیہ وعدہ کرتا ہے کہ وہ عربوں کی آزادی حاصل کرنے کے لئے ہر قسم کی مدد دے گا۔” شریف حسین نے اس چٹھی کا جواب یوں دیا کہ وہ مرسینا اور ادانہ کے علاقوں کو چھوڑ سکتا ہے، لیکن باقی علاقے کو چھوڑنے پر بالکل تیار نہیں۔ بعد ازاں یکم جنوری 1912ء کو شریف نے ایک اور خط لکھا کہ وہ جنگ کے دنوں میں لبنان کے علاقے کو اپنے قبضہ میں رکھنے کے لئے مطالبہ نہیں کرے گا، کیونکہ ممکن ہے کہ اس سے برطانیہ اور فرانس کی باہمی تعلقات کی کشیدگی واقع ہو، مگر لڑائی کے بعد وہ اس علاقے کے متعلق اپنے دعاوی پیش کرے گا۔ 30 جنوری 1912ء کو ریذیڈنٹ مذکور نے اس کا جواب دیتے ہوئے شریف کا شکریہ ادا کیا اور اس کو یقین دلایا کہ برطانیہ اور فرانس کا ہمیشہ اتحاد قائم رہے گا۔ اس آخری خط کے بعد ان کے درمیان اور کوئی عہدنامے کے متعلق بات چیت نہ ہوئی۔

مندرجہ بالا مضمون سے ظاہر ہے کہ 1915ء کی ابتدا میں ہی شریف حسین نے ترکوں سے غداری کرنے کی ٹھانی ہوئی تھی۔ اور اپنی آزاد سلطنت قائم کرنے کی تجاویز برطانیہ کو بھیج دی تھیں۔ اس گفت و شنید کی وجہ سے ہی ماہِ جون 1915ء میں بغاوت کے آثار نظر آنے لگے، کیونکہ شریف نے عبدالکریم الخلیل اور اس کے ہمراہیوں کو بغاوت پھیلانے کے واسطے مقرر کیا ہوا تھا۔ گو شریف حسین کی دیانتداری پر پہلے ہی سے شبہ تھا۔ لیکن میں یہ ہرگز یقین نہیں کر سکتا تھا کہ وہ سلطنتوں کے ساتھ رابطۂ اتحاد قائم کرے گا جو ترکوں کو نکال کر روس کی حکومت قائم کرنا چاہتے تھے۔ اس نے محض اپنی ذاتی اغراض کی وجہ سے تمام اسلامی دنیا میں فساد ڈلوایا۔