الغرض جنازہ محلۂ کرخ سے گزر کر جامعِ منصور میں زمین پر رکھا گیا۔ قاضی ابوالحسن مہتدی نے نمازِ جنازہ پڑھائی۔ اور وہاں سے اٹھا کر باب الحرب میں لے گئے جہاں بشر حافی کا مقبرہ تھا۔ اب یہ وہ موقع ہے جب کہ خطیب بغدادی کی تیسری دعا کی مقبولیت ظاہر ہونا چاہئے۔ اتفاقاً احمد بن علی طریشیشی نے بشرحافی کی قبر کے برابر اپنے لیے ایک قبر پہلے سے کھدوا رکھی تھی اور وہاں روز دن بھر میں ایک دفعہ جا کر تلاوتِ قرآنِ مجید کیا کرتے تھے۔ لوگوں نے چاہا کہ خطیب کو اسی قبر میں دفن کر دیں۔ احمد نے روکا اور کہا ”مدتیں ہو گئیں کہ میں نے اس قبر کو اپنے لیے کھود رکھا ہے۔ اور روز یہاں بیٹھ کر تلاوت قرآن مجید کیا کرتا ہوں۔ اور بہت سے ختمِ کلام اللہ کر چکا ہوں۔ میں کسی کو یہاں نہ دفن ہونے دوں گا۔“ ابوالبرکات اسماعیل ابنِ ابی سعید صوفی کا بیان ہے کہ جب اس نزاع کی خبر میرے والد ابو سعید کو پہنچی تو انھوں نے احمد کو بلایا اور کہا ’’صاحب اگر خود بشر حافی زندہ ہوتے اور تم اور خطیب بغدادی دونوں ان کے پاس جاتے تو تم دونوں میں سے وہ کس کا اپنے پاس اور برابر بیٹھنا پسند اور گوارا کرتے؟“ احمد نے کہا ’’نہیں۔ نہیں۔ میری کیا مجال تھی کہ خطیب سے تقدم کی جرات کرتا۔ اور ان کے ہوتے بشر کے پاس جا کے بیٹھ جاتا۔‘‘ ابوسعید نے یہ جواب سن کے فرمایا ”تو اے احمد، یہ یقین جانو کہ اولیاء اللہ کی زندگی اور موت دونوں یکساں ہیں۔ جس پاسِ ادب کو تم ان کی زندگی میں مرعی رکھتے اب بھی اس کے مطابق عمل کرو۔“ اس جملہ نے احمد پر ایسا اثر کیا کہ سکوت کر گئے۔ لوگوں کی درخواست قبول کی۔ اور یوں خطیب بغدادی کی آخری دعا پایۂ اجابت کو پہنچی۔ تمام لوگوں نے خطیب کو اسی قبر میں دفن کیا۔
خطیب بغدادی کے انتقال سے اہلِ علم اور تمام عامۂ اہل اسلام کو بہت بڑا صدمہ ہوا۔ اکثر شعرا نے ان کے مرثیہ میں طبع آزمائیاں کر کے اپنی حسرت و اندوہ کے جوش کو ظاہر کیا۔ خصوص اسی عہد کے کسی شاعر نے یہ شعر کیا خوب کہا ہے جو واقعی آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہے۔
|
لا زلت تداب فی التّاريخ مجتهدًا |
حتی راتيك فی تاريخ مكتُوباً |
|
ترجمہ آپ تاریخ میں ہمیشہ محنت کرتے رہے، یہاں تک کہ آپ کو لکھی ہوئی تاریخ میں دیکھا گیا۔ |
|
یعنی تو نے ہمیشہ اپنے اوپر رنج و غم اور مصیبتیں اٹھا کر تاریخ میں کوششیں کیں یہاں تک کہ کیا دیکھتا ہوں کہ خود تیرا نام صفحاتِ تواریخ پر لکھا ہوا ہے۔ خطیب کی تصانیف کو اسلام اور دنیا نے ہمیشہ وقعت اور فخر کی نگاہوں سے دیکھا۔ ابن جوزی ان کی چوّن تصانیف بتاتے ہیں۔ اور اکثروں کا نام بھی لکھا ہے۔ ان کی تاریخِ بغداد کا حال تو ہم بیان کر چکے۔ باقی تصانیف صرف اصول و فنونِ حدیث سے متعلق ہیں۔ جن کی فہرست بتانا شاید عام ناظرین کو دلچسپ نہ معلوم ہوگا۔ لہذا اس یکتائے عصر اور مرجع و مقتدائے دہر کی سوانحِ عمری کو ہم یہیں پر تمام کرتے ہیں۔
