جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابوبکر خطیب بغدادی

مگر واہ! اتفاقاتِ زمانہ بھی عجیب چیز ہیں۔ ہمیشہ ایک نیا امر، ایک نئے پہلو سے ظاہر ہوا کرتا ہے۔ اتفاقاً سلطان طغرل کو خبر پہنچی کہ اس کے بھائی ابراہیم نیال نے بغاوت کی۔ اتنا سنتے ہی اس نے سرزمینِ عراق کو چھوڑ کے ہمدان کی راہ لی۔ سلطان طغرل بیگ ادھر گیا کہ بساسیری گویا منتظر ہی بیٹھا تھا۔ وہ اپنی فوجوں کے ساتھ بغداد میں آدھمکا۔ خلیفہ کو تو پناہ مل گئی مگر وزیر رئیس الرؤسا، بساسیری کے ہاتھ میں گرفتار ہو گیا۔ بساسیری کو پورا گمان ان گزشتہ مظالم کا رئیس الرؤسا ہی کی طرف تھا۔ اور عداوت تو تھی ہی۔ اس نے نہایت ظلم کے ساتھ رئیس الرؤسا کو کوڑوں سے پٹوایا، اور پھر اہلِ کرخ کے سپرد کر دیا کہ طرح طرح کے عذابوں کے ساتھ قید رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی حکم دیا کہ تمام دارالخلافت بغداد لوٹ لیا جائے۔ بغداد کی دولت کی کوئی انتہا نہ تھی۔ رومی، اشرفی، جواہرات، سونے، چاندی کے برتن لوٹ کے اس قدر جمع کیے گئے کہ ان کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اس کے بعد بیچارہ وزیر رئیس الرؤسا پھر عذاب دینے کے لیے قید خانہ سے نکالا گیا۔ ذلت کے کپڑے پہنا کے اور اونٹ پر الٹا سوار کرا کے وہ تمام شہرِ بغداد میں پھرایا گیا۔ تمام شیعہ جو سڑکوں پر تاخت و تاراج کرتے پھرتے تھے اس کی صورت دیکھ کر اسے گالیاں دیتے تھے۔ اور وہ اسی ذلت کی حالت میں بیٹھا نہایت رضا و تسلیم کے لہجے میں یہ آیت بار بار پڑھتا تھا۔ قل اللّهُمَّہ مَالكَ الملك توتی الْمُلْكَ مَن تَشَاءُکہو، اے اللہ! بادشاہی کے مالک، تو جسے چاہتا ہے بادشاہی دیتا ہے الخ۔ اس کے بعد ایک بیل کی کھال اس کو پہنائی گئی اور اُسی وضع سے اس کو سولی دے دی گئی۔ تمام علمائے بغداد جو اہل سنت تھے، ان پر سخت آفت نازل ہو گئی۔ قاضی القضاۃ ابو عبداللہ وامعانی پر تین ہزار دینار جرمانہ کیا گیا۔ اور زبردستی مستنصر باللہ فاطمی کی بیعت لی گئی۔ علاوہ بریں بغداد کے تمام مشاہیر اور کل فقہا کی ذلت میں کوئی دقیقہ نہیں اٹھا رکھا گیا۔ ابو منصور بن یوسف اور ابو الحسین بن الفراق اور دیگر اعیانِ دارالخلافت خصوصاً شرفائے خاندانِ عباسیہ سے جبراً و قہراً مستنصر علوی کی بیعت لی گئی۔

خلیفۂ بغداد القائم بامر اللہ گرفتار کر کے مہارش عجلی کے حوالہ کر دیا گیا تھا۔ اگر چہ اس پر اسی قید میں طرح طرح کی زیادتیاں تھیں مگر اتنا موقع اسے مل گیا کہ دو سطرین متضمن حالات تباہیٔ بغداد لکھ کے پوشیدہ طور پر کسی شخص کے ذریعہ سے سلطان طغرل بیگ کے پاس بھیجدیں۔ جواب میں طغرل بیگ نے ایک آیتِ قرآنی لکھی جس کا مفہوم یہ تھا کہ "ہم فوجیں لے کر آئیں گے اور انہیں ذلیل و خوار کر کے نکال دیں گے" اور اس خط کے ساتھ ہی خود بھی روانہ ہوا۔ سلطان کے آتے ہی مہارش عجلی نے حاضرِ دربار ہو کر خلیفہ کو اس کی خدمت میں پیش کیا۔ خلیفہ پھر مسندِ عزت پر بٹھایا گیا۔ اور شیعوں سے گزشتہ مظالم کی باز پرس ہونے لگی۔ بساسیری سلطان کی آمد کی خبر سنتے ہی بھاگ گیا تھا۔ لیکن براہِ ہوشیاری، طغرل بیگ نے اپنے ایک فوجی افسر کو کچھ فوج کے ساتھ ارضِ شام کی طرف روانہ کیا کہ اگر بساسیری ادھر جائے تو مقابلہ کر کے فوراً گرفتار کر لینا۔ آخر حوالیِ کوفہ میں بساسیری کا پتہ لگا۔ اور خود سلطان طغرل نے جا کے اس کا سر کاٹ لیا۔

یہ ایک ہنگامہ تھا جو شیعہ و سنی میں ہوا جس نے اسلامی وقعت کو خود اپنے ہاتھ سے کھو دیا۔ کاش دونوں متحد رہتے تو خلافتِ بغداد خواہ کسی کے ہاتھ میں ہوتی مگر آج ہمیں کسی قدر مضبوط نظر آتی۔ لیکن وہ عزت کی زندگی درکنار اب اس نکبت و فلاکت کی زندگی میں بھی ہمارے ہی شہر کے شیعہ و سنی اسی طرح لڑ رہے ہیں۔

خطیب بغدادی نے فتنہ بساسیری کے وقت دیکھا کہ مجھے بھی وہی دقتیں نصیب ہوں گی جو دیگر اہل بغداد کو نصیب ہوئیں۔ بلکہ میرا مرتبہ کس قدر بڑھا ہی ہو گا۔ اس خیال سے سوا ترکِ وطن کے ان سے اور کچھ نہ بن پڑا۔ بیچارے نے نہایت خاموشی کے ساتھ بغداد کو چھوڑا اور سرزمین شام کی راہ لی۔ اُن کا یہ سفر ایسا پُر خوف و اضطراب کا تھا کہ بیچارے کو بہت دنوں تک پھر گھر آنے کا موقع نہ ملا۔ کچھ دنوں دمشق میں رہے، پھر وہاں سے شہرِ صور میں پہنچے۔ شہرِ صور سے نکل کر طرابلسِ شام میں داخل ہوئے۔ وہاں سے حلب میں گئے الغرض خدا جانے کہاں کہاں کی خاک اُڑائی اور بارہ برس یوں ہی خانماں بربادی و سرگردانی میں گزر گئے تو بغداد آنا نصیب ہوا۔

خطیب بغدادی کی عمر یوں ہی اب آخر ہو چلی تھی۔ اس سفر نے توانائی و قوت سلب کر دی۔ فرشتۂ اجل جو جوارِ حق میں پہنچانے کے لیے مدت سے انتظام دیکھ رہا تھا، اس نے پیمانۂ عمر لبریز پایا۔ اس لیے کہ اب جو بغداد میں آئے تو عمر ستر برس سے زیادہ ہو چکی تھی۔ بہرحال بغداد میں ایک ہی سال رہے تھے کہ وسط ماہ مبارک رمضان 463ھجون 1071ء/  1070عہ میں بیمار ہوئے۔

ابوبکر خطیب کو دارالسلام بغداد کی موجودگی اور مرجعیتِ عامہ نے نہایت دولت مند اور مالدار بنا دیا تھا۔ اور خدا نے اولاد کی طرف سے بالکل مایوس رکھا تھا۔ جب انتقال کا وقت قریب ہوا تو اپنی لاولدی اور اس دولت کثیر کا خیال کر کے بہت پریشان ہوئے۔ آخر اس مضمون کی ایک عرضداشت خلیفۂ بغداد کی خدمت میں بھیجی ”خدا امیرالمؤمنین کو ہمیشہ زندہ و سالم رکھے۔ ہمارا وقت قریب آ گیا۔ دنیا میں کوشش و جدوجہد کر کے میں نے کچھ رقم فراہم کر لی ہے۔ اب مجھے سفرِ آخرت درپیش ہے اور حیران ہوں کہ کیا کروں؟ نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اور وارث ہے۔ خواہ مخواہ میرے بعد یہ سب جائداد بیت المال میں داخل ہو جائے گی۔ لہٰذا میں خواستگار ہوں کہ مجھے اپنے مال پر اختیار دیا جائے کہ اسے جس طرح اور جس کام کے لیے چاہوں خرچ کروں۔ اور جس امر خیر پر چاہوں وقف کر دوں۔“ خلیفہ نے یہ درخواست قبول کی اور خطیب نے فوراً اپنا تمام روپیہ پیسہ فقہا اور محدثین کو دے دیا۔ اپنی کتابیں طلبائے اسلام پر وقف کر دیں۔ ابوالفضل بن حیزون کو اپنے کتب خانے کا متولی مقرر کیا۔ وصیت کی کہ مجھے بشرحافی کے مقبرہ میں دفن کرنا ان سب کاموں سے فراغت کر کے روزِ شنبہ 27  ذی الحجہ 463ھ28 ستمبر 1071ء/1071عہ میں انتقال کیا۔ اور وہ وعدہ وفا کیا جو ہر جاندار بلکہ ہر مخلوق کے لیے موجود ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

قاضی ابن خلکان نے اپنی تاریخ میں حیرت کے ساتھ لکھا ہے کہ ایک ہی عہد میں دو مشہور و معروف حافظِ حدیث تھے۔ جنھوں نے دین کو فیض پہنچانے کے لیے آپس میں بانٹ لیا تھا۔ خطیب بغدادی حافظِ ارضِ مشرق میں تھے۔ اور ابن عبدالبر صاحبِ استیعاب حافظِ مغرب تھے۔ ان دونوں نے ایک ہی سال میں انتقال فرمایا۔

خیر جب خطیب نے انتقال فرمایا تھا تو مدرسہ نظامیہ کے قریب سے جہاں وہ سکونت پذیر تھے ان کا جنازہ اٹھایا گیا۔ تمام محدثین اور فقہا اور عموماً کل اہل بغداد کا بہت بڑا گروہ جنازے کے ہمراہ تھا جو مشہور اور بابرکت لوگ جنازے کو اپنے کندھوں پر اٹھائے ہوئے تھے ان میں ایک علامہ ابوالحق شیرازی بھی تھے جن کا حال ہم لکھ چکے ہیں۔ اور جنازے کے آگے اہل علم پکار پکار کے یہ الفاظ کہتے جاتے تھے ”ہذا الذی کان یذبُّ عن حدیث رسول اللہ، ہذا الذی کان ینفی الکذب عن حدیث رسول اللہ“ یہ وہ شخص ہے جو رسولِ خدا صلعم پر جو تہمتیں باندھی گئی تھیں ان کو مٹاتا تھا۔ یہ وہ شخص تھا جو حدیثِ رسول اللہ صلعم سے جھوٹ کو دفع کرتا تھا۔