ابو بکر بغدادی کی خطابت اور شہرت و ناموری کے عہد میں بغداد ایک بہت بڑے فتنہ و فساد کا مرکز بن گیا تھا۔ ایک اسلامی شہر میں جہاں کسی غریب مذہب کی حکومت کا کسی قسم کا اثر نہیں پہنچ سکتا تھا۔ وہاں سوا سنی اور شیعہ کے تنازعات کے اور کون فساد ہو سکتا ہے؟ ہم اس ہنگامۂ روح فرسا کے مختصر حالات بھی نقل کیے دیتے ہیں تاکہ ہمارے شہر کے سنی اور شیعہ اس ہنگامہ کو دیکھ کر عبرت پکڑیں۔ ایران کے تاجروں میں سے کسی سوداگر کے پاس ایک ہوشیاراور لائق غلام تھا ’’ابوالحارث ارسلان بیساسیری۔ اس غلام کو بہاء الدولہ بن عضد الدولہ ویلمی نے خرید کر لیا۔ چونکہ ذکی، ہوشیار، چالاک اور خوش سلیقہ تھا، لہٰذا شاہی مہربانی اس کی نسبت روز بروز بڑھتی گئی۔ ہوتے ہوتے اتنا بڑا شخص ہو گیا کہ تمام امور ملکی اور کل پولٹیکل معاملات میں سے کوئی امر بغیر اس کے مشورے کے اجرا نہ پاتا تھا۔۔ آخر الامر وہ بغداد کا ایک بہت بڑا رکن اور صاحب اثر شخص ہو گیا۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ ایک غلام کو بہت بڑی ترقی ہو جائے گی تو وہ خواہ مخواہ جامۂ انسانیت سے گزر جائے گا۔ اس مرتبہ پر پہنچ جانے کا یہ نتیجہ ہوا کہ القائم بامراللہ خلیفۂ عباسی کے نامور وزیر، رئیس الرؤسا سے حسد کرنے لگا۔ اور ان کی خرابی کے درپے ہو گیا۔ رئیس الرؤسا نے اسے دبانا چاہا تو وہ اور ابھرتا گیا حتی کہ خود خلیفہ کی اطاعت چھوڑ کر بغاوت پر آمادہ ہو گیا۔ اور بغداد چھوڑ کے علاقۂ سواد کی راہ لی۔ اور اہلِ بغی کی طرح اطراف و جوانب میں فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے لگا۔ بہت سے گاؤں میں آگ لگا دی اور اکثر مقامات تباہ و برباد کر دیے۔ خلیفہ نے یہ بھی چاہا کہ وہ راضی ہو کر بغداد میں چلا آئے اور ان ہتھکنڈوں سے دست بردار ہو۔ مگر اس نے ایک نہ مانی، بلکہ اپنے پاس بہت سی فوجیں مرتب کر لیں۔ اور قزاقی سے ملک گیری کی حیثیت میں آگیا۔ اور اب یہاں تک نوبت پہنچی کہ بلادِ عراق کے اکثر منبروں پر خطبہ میں خلیفہ کے نام کے بعد اس کا نام پڑھا جانے لگا۔ خلافت کی فوج اس فتنے کو فرو کرنے کے لیے کافی نہ معلوم ہوئی، اور یہ بھی یقین تھا کہ عربوں سے اس امر میں کچھ مدد نہ مل سکے گی۔ لہذا خلیفہ نے چاہا کہ سلطان طغرل بیگ سلجوقی کے ذریعہ سے اس فتنے کو دفع کرائے۔ دارالخلافہ بغداد کے فرمان کے بموجب سلطان طغرل بیگ بغداد میں آ پہنچا۔۔ طغرل بیگ کا نام سنتے ہی بساسیری کے دل میں لرزہ پڑ گیا۔ وہ سمجھ گیا کہ میں ایسے قوی سلطان کا مقابلہ ہرگز نہیں کر سکتا۔ اب اس نے اور منصوبہ ٹھہرایا۔ وہ یہ کہ مصر میں خلفائے بنی فاطمہ کا دور دورہ ہے، ان کی قوت بھی ترقی پر ہے اور بنی عباس کے پورے حریف ہیں اُن سے اس امر میں اعانت لی جائے ۔ لهذا عراق سے مصر میں گیا اور رحبہ میں ٹھہر کر ایک عرضداشت خلیفہ المستنصر باللہ عبیدی کی خدمت میں روانه کی۔ مستنصر بالله اس کی عرضداشت دیکھ کے نہایت خوش ہوا۔ اس کے نام ترجمہ کی گورنری اور اپنی نیابت کا ایک فرمان بھیج کر بنو عباس سے مقابلہ کرنے کی تاکید کی اور خلافتِ بغداد کے تباہ کرنے پر اس کو بہت کچھ زیادہ کیا۔ اور مدد کا وعدہ کیا۔
ادھر طغرل بیگ کا حال یہ ہے کہ اس نے بہت سی جرار فوج کے ساتھ شرقی بغداد میں منزل کی۔ اور جمعہ کی نماز میں خطیب بغدادی نے خلیفہ بغداد کے حکم کے بموجب خطبہ میں خلیفہ القائم بامراللہ کے نام کے بعد طغرل بیگ کی ثنا و صفت بیان کی۔ اور اس کے بعد دولتِ دیالمہ کے پچھلے بادشاہ، ملک رحیم کا نام لیا۔ اتفاقاً اسی زمانہ میں عوامِ بغداد اور طغرل بیگ کے ہمراہی ترکوں میں ایک ایسا سخت فساد ہو گیا کہ بہت سے ترک قتل ہو گئے۔ اور سلطان طغرل بیگ کی فوج کو بہت بڑا صدمہ پہنچا۔ اور بیشک اس کی وجہ صرف شیعوں کی زیادتی تھی۔ اس لیے کہ سلطان طغرل کے ہمراہی سنی تھے اور خاندانِ دیالمہ کے لوگ اور متعلقین عموماً شیعہ تھے جن کو طغرل بیگ کا آنا ناگوار گزرا اور یہی خیال خود سلطان کو بھی ہوا کہ خود مالک رحیم کے اشارے سے یہ ساری خرابیاں ہوئیں۔ اس نے حکم دے دیا کہ دیلمی لوگوں میں سے جو کوئی ملے، بے تامل قتل کر ڈالا جائے۔ اور خلیفہ سے خود ملک رحیم کو طلب کیا۔ خلیفہ نے ملک رحیم کو بچانا چاہا مگر طغرل بیگ کو ایسا غصہ نہ تھا کہ یوں ہی فرو ہو جاتا۔ مجبوراً خلیفہ نے اپنے ہمراہیوں کے ساتھ ملک رحیم کو طغرل بیگ کے پاس بھیجا۔ ترکمانوں کی نظر جیسے ہی ملک رحیم پر پڑی، انھوں نے کسی کا بھی خیال نہ کیا اور فوراً ملک رحیم اور نیز ہمراہانِ خلیفہ کو لوٹ لیا۔ اور ملک رحیم کو قید کر لیا۔ اسی وقت سے خاندانِ دیالمہ تباہ ہو کے گمنامی کے پردے میں غائب ہو گیا۔
ترکمانوں اور بغداد کے عوامِ اہلسنت کو یہ موقع ان کے جوشِ تعصب کے موافق ہاتھ لگا۔ انھوں نے تمام شیعوں پر دستِ ستم دراز کیا۔ بغداد کا محلہ کرخ جس میں عموماً دیالمہ اور شیعہ رہا کرتے تھے، اس کی چھتوں پر سے دیالمہ کا علمِ سبز گرا دیا۔ اور بنو عباس کے عام معرکہ کے موافق سیاہ پھریرے اڑا دیے۔۔ قصہ خوانوں اور نقیبوں کو حکم دیا گیا کہ تمام کرخ میں فضائلِ خلفائے ثلاثہ علیٰ الاعلان بیان کریں۔ الغرض شیعوں پر اس مرتبہ سخت ظلم و جور ہوا۔ اور ان کی تباہی میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔
ابو عبداللہ بن جلاب جو شیعوں کے بہت بڑے عالم اور مقتدا تھے اور باب الطلاق واقع محلۂ کرخ میں رہتے تھے قتل کر ڈالے گئے۔ شیخ ابو جعفر طوسی، صاحبِ استبصار جو اس فتنہ کے خوف سے بھاگ کے جزائر میں پناہ گزین ہوئے تھے۔ ان کے گھر میں آگ لگا دی گئی اور اُن کا بیش قیمت کتب خانہ جلا کے خاک کر دیا گیا۔ جس کرسی پر بیٹھ کر وہ درس دیا کرتے تھے، اس میں خاص آگ لگائی گئی۔ یہ فتنہ اس حد سے بھی گزر گیا۔ حتیٰ کہ کاظمین شریفین بھی لوٹ لیے گئے۔ اور ان مقبروں میں بھی آگ لگ گئی۔ خاندانِ دیالمہ کے قدیم ناموروں کی قبریں کھود ڈالی گئیں۔ کہ سڑی گلی ہڈیاں بھی مل جائیں تو ان سے انتقام لیا جائے۔ اس کے ساتھ آلِ عباس میں سے قدیم نامور خلفا اور زبیدہ خاتون کے مقبروں کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا گیا۔ اگرچہ سنیوں کی اتنی زیادتی تھی مگر شیعہ بھی خاموش نہ تھے، ان کے بنائے جو کچھ بنا، بلا تامل وہ بھی کر گزرے۔ اُنہوں نے بھی علمائے اہل سنت کی اکثر قبروں کے ساتھ ایسا ہی سلوک کیا۔ اور اکثر قبریں کھود ڈالیں۔
