بغداد میں ابو بکر کو اس قدر شہرت ہوئی کہ آخر میں وہ خطیبِ بغداد مقرر ہوئے۔ جو اُن دنوں ایک بہت بڑا علمی عہدہ تھا۔ اس منصب پر ممتاز ہونے کی یہ وجہ تھی کہ ان سے اور وزیرِ رئیس الرؤسا علی بن حسین بن محمد سے نہایت دوستی تھی۔ وہ ان کی بہت زیادہ قدر و منزلت کرتا تھا۔ جو اعتماد وزیر مذکور کو اس نامور استاد الکل اور سند الوقت عالم کے ساتھ تھا۔ اس کا آخر میں یہ نتیجہ ہوا کہ وزیر نے عام طور پر حکم دیا کہ کوئی قصہ خوان اور کوئی واعظ کسی روایت و واقعہ کو نہ بیان کرے جب تک اس کو علامہ ابو بکر بغدادی کے سامنے پیش کر کے سند نہ لے لے۔ اتفاقاً اسی عہد میں ایک یہودی صاحب پیدا ہوئے جنہوں نے ایک کاغذ وزیر مذکور کے سامنے لا کر پیش کیا۔ اس کی عبارت سے معلوم ہوتا تھا کہ خاص رسول اللہ ﷺ کے سامنے وہ کاغذ لکھا گیا۔ اس میں لکھا تھا کہ آنحضرت علیہ السلام نے خیبر کے یہودیوں کو جزیہ معاف کر دیا اور اس پر بہت سے جلیل القدر صحابہ کے دستخط تھے۔ اس یہودی کا دعویٰ تھا کہ یہ ایک عہدنامہ جو رسول اللہ ﷺ نے یہودِ خیبر کے ساتھ کیا تھا۔ اور جنابِ علی مرتضی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔ اس دعوے نے تمام علمائے بغداد میں ایک تشویش پیدا کر دی۔ اس لیے کہ سلطنت پر اس کا بہت بڑا اثر پڑتا ہے اور یہود سے جزیہ اور محاصل معاف ہوئے جاتے ہیں۔ اور اس وقت تک خاصی اسلامی دنیا، کیا باعتبارِ سلطنت اور کیا باعتبارِ رعایا، اسلام کی مطیع و منقاد تھی۔ الغرض رئیس الرؤسا نے گھبرا کر خطیب بغدادی کو لکھا۔ یہ ایک ایسا خیال تھا جس کی وجہ سے تمام دنیائے اسلام کو ایک حرکت ہو گئی تھی اور اگر خطیب بغدادی غور کر کے اس کی اصلاح نہ کرتے تو کوئی شک نہیں کہ شروعِ اسلامی میں ایک بہت بڑا رخنہ پڑجاتا-
وہ کاغذ جب خطیب بغدادی کے پاس پہنچا تو انھوں نے کسی قدر غور کر کے فرمایا ”رئیس الرؤسا کا اقبال روز افزوں ہو اور یہ کاغذ جعلی ہے۔ اور یہ یہودی بے ایمان اور دغاباز ہے۔ اس نے حضرت رسول ﷺ اور یارانِ رسول پر تہمت باندھی ہے۔ وہی صحابہ جن کی شہادت اس کاغذ پر لکھی ہے ان میں سے دو کے مقدس نام کاغذ کے جعلی ہونے کا ثبوت دے رہے ہیں۔ اول تو، معاویہؓ ابن ابی سفیان کی شہادت لکھی ہے۔ لیکن خیال کرنے کی بات ہے کہ غزوۂ خیبر 7ھ میں ہوا ہے۔ حالانکہ اس وقت تک معاویہ کا شمار مشرکین میں تھا۔ اور 8ھ میں جب کہ مکہ فتح ہوا، اس وقت ایمان لائے۔ دوسری شہادت سعد بن معاذ کی ہے جنھوں نے غزوۂ خندق کے زمانے میں یعنی 5ھ میں انتقال فرمایا۔ پھر وہ غزوۂ خیبر کے وقت جو 7ھ میں ہوا کیوں کر موجود ہو گئے۔ ان دو باتوں سے صاف ظاہر ہے کہ یہ کاغذ جعلی اور بنایا ہوا ہے۔‘‘
یہ تقریر سن کر وزیر کو نہایت ہی مسرت ہوئی اور بے اختیار چلا کر کہہ اٹھا ”اے ابوبکر تم پر ہزار آفرین کہ مجھے اس جعلساز، دغاباز کے فریب سے بچا لیا“۔ اس کے بعد سے وزیرِ رئیس الرؤسا کو ابوبکر خطیب کی نسبت حسنِ اعتقاد بڑھتا ہی گیا اور اس کے ساتھ روز بروز دونوں میں ربط و ضبط اور انس و محبت کو بھی ترقی ہوتی گئی۔ ایک ایسے با اختیار رئیس کے معتقد ہو جانے کی وجہ سے ان کی مرجعیت بھی زیادہ ہونے لگی۔ اور ان کا مرتبہ بھی عام ملک کی نظر میں بہت با وقعت ہو گیا۔ اور آخر اسی نے اُن کے نام خطابتِ بغداد کا فرمان جاری کیا۔ اور خطابِ خطیب جو ان کے نام کے ساتھ قیامت تک چلا جائے گا اس کی بنا وہی وزیرِ رئیس الرؤسا تھا۔
ابو بکر بغدادی نے چونکہ علم کو بڑے مصائب اور بے انتہا مشقتوں کے ساتھ حاصل کیا تھا۔ لہٰذا ان کے دل میں علم اور طالبانِ علم کی بڑی قدر تھی۔ مشہور ہے کہ اُن کو اپنے تلامذہ اور عموماً طلبا کے بسر اوقات کا نہایت خیال رہا کرتا تھا۔ اور کوئی شائد امرائے شہر سے سفارش کر دیتا ہو مگر وہ اپنی جیبِ خاص سے طالبعلموں کی خبرگیری کرتے رہتے تھے۔ مگر یہ تمام باتیں نہایت مخفی طور پر عمل میں آتی تھیں۔
ابو زکریا تبریزی جو مشہور لغوی ہے اس کا بیان ہے کہ جن دنوں خطیب بغدادی کے تبحر اور کمالات کا شہرہ تمام اطرافِ عالم میں پھیلا ہوا تھا، میں دارالسلام بغداد میں بطور طالبعلمی کے داخل ہوا۔ اور ان کی درس گاہ میں گیا۔ چونکہ جیسے استاد کو میں ڈھونڈتا تھا، خطیب ممدوح مجھے ویسے ہی بلکہ اس سے بدرجہا بڑھ کر نظر آئے۔ لہذا میں نے ان کا دامن اس مضبوطی سے پکڑا کہ ہزار جورِ زمانہ ہوئے مگر نہ چھوڑا۔ روز ان کی خدمت میں حاضر ہوتا تھا اور ان کی تعلیم و تقریر سے فائدہ حاصل کرتا تھا۔ اس زمانے میں میں جامع بغداد کے مینار کے نیچے ایک حجرہ میں رہا کرتا تھا۔ ایک دن اسی حجرہ میں بیٹھا مطالعہ دیکھ رہا تھا کہ کیا دیکھتا ہوں کہ جناب استاد حضرت خطیب تشریف لاتے ہیں۔ کھڑے ہو کے میں نے تعظیم کی اور نہایت عزت سے بٹھایا۔ فرمانے لگے ’’میں تم سے ملنے کا نہایت مشتاق تھا۔ ہمیشہ آنے کا ارادہ کرتا تھا مگر مصروفیاتِ زمانہ سے مہلت نہ ملتی تھی۔۔‘‘ اس کے بعد ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ آخر فرمانے لگے ’’بھائیوں اور دوستوں کی خدمت میں ہدیہ اور تحفہ لے جانا شریعتِ اسلامیہ میں نہایت ہی عمدہ کام ہے۔ اور اس امر میں بہت سی احادیث اور خبریں مروی ہیں۔ صرف ان حدیثوں کی تعمیل کرنے کے لیے میں کچھ تھوڑی سی رقم آپ کو ہدیتہً و تحفتہً دینے کے لیے لیتا آیا ہوں تاکہ آپ اسے اپنے مصارفِ قلم و داوات وغیرہ میں صرف کریں‘‘ یہ کہہ کر کاغذ کی ایک بہت بڑی پڑیا میرے سامنے رکھ دی اور اٹھ کر چلے گئے۔ ان کے جانے کے بعد میں نے کھول کے دیکھا تو اس کاغذ میں پانچ سو درہم لپٹے ہوئے تھے۔ اسی طرح ابو زکریا لغوی کہتے ہیں کہ یوں ہی ایک مرتبہ اور میں اپنے حجرہ میں تھا کہ خطیب ممدوح تشریف لائے اور ایک کاغذ لپٹا ہوا رکھ کے فرمانے لگے ’’اس رقم کو تم قبول کرو۔ احادیثِ رسول اللہ لکھنے کے لیے تم کو کاغذ کی ضرورت خواہ مخواہ ہو گی۔ اسی رقم سے کاغذ منگوانا۔‘‘
