جس حصے کا عکس بنانا ہو اُسے چھوئیں
Article Image

ابوبکر خطیب بغدادی

جس زمانے میں ابو بکر کا صور میں قیام تھا، بیت المقدس کی زیارت کے لیے اکثر چلے جایا کرتے تھے۔ اور وہاں عبادتِ الٰہی اور وظائفِ مسنونہ میں زیادہ سرگرمی دکھاتے تھے۔ انھیں دنوں اتفاق سے اس قافلہ کا صور میں ہو کے گزر ہوا جو سرزمین شام سے حاجیوں کو مکہ معظمہ لیے جاتا تھا۔ علامہ ممدوح کا ایسا پر جوش دیندار اور آزاد منش شخص کیونکر اس مقدس و مبارک قافلہ کا ساتھ چھوڑ سکتا تھا۔ ان کے دل میں بھی زیارتِ بیت اللہ کا شوق ہوا۔ اس قافلہ کے ہمراہ عازمِ زیارتِ بیت اللہ شریف ہوئے۔ وہیں سے احرام حج باندھا۔ اور شرف حج سے ممتاز ہوئے۔ مناسک حج سے فراغت کرنے کے بعد ایک روز اتفاقاً چاہِ زمزم پر گزر ہوا۔ اس کی صورت دیکھتے ہی یاد آیا کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اس کے پانی کی نسبت فرمایا ہے، ”ماء زمزم لما شرب له“ یعنی زمزم کا پانی جس غرض کے لیے انسان پیے اللہ جل شانہ اُس غرض کو پورا کر دے گا۔ پیغمبر صلعم کے اس وعدہ برحق کا یاد آنا تھا کہ دل کی ساری آرزویں اور تمنائیں یک بیک ابھر پڑیں۔ یہی مقام اس راست باز اور دیندار عالم کی نفسانی حالتوں کے اندازہ کرنے کا ہے۔ اگر اس مقام پر اور کوئی شخص ہوتا تو اس کی خواہش ہمارے عام خیال کی بنا پر یا تو دولت مندی سے متعلق ہوتی یا کسی حور وش کے وصال کی تمنا ہوتی اور خاص حالتوں میں بھی کسی نہ کسی دنیاوی ہی امر کی آرزو کرتا۔ لیکن ابو بکر بغدادی نے اس موقع پر کھڑے ہو کے تین چلو آب زمزم کے پیے اور ہر چلو پر ایک دعا کی۔ اول یہ کہ میں ایک نہایت ہی مکمل اور مسلم الثبوت تاریخ بغداد لکھ سکوں، دوسری میں بغداد کی سب سے اعلیٰ درجہ کی اور مشہور مسجد جامع منصور میں احادیث و روایت کا درس دوں، تیسرے میرے مرنے کے بعد مجھے دفن ہونے کے لیے مقبرۂ بشر حافی میں جگہ ملے۔ خدا اپنے خاص بندوں کی دعا قبول ہی کرتا ہے۔ چنانچہ خطیب بغدادی کی یہ تینوں دعائیں قبول ہوئیں۔ جس زمانے میں ابوبکر بغدادی بیت اللہ شریف کی زیارت کو تشریف لے گئے تھے اُسی زمانے میں مشہورِ زمانہ محدث ابو عبداللہ محمد بن سلام، جن کی طرف ساری دنیا کا مرجع تھا، وہ بھی بغرضِ حج بیت اللہ میں تشریف لائے۔ ابوبکر بغدادی کو یہ موقع غنیمت معلوم ہوا۔ ان کے سامنے ادب سے جا کر بیٹھے اور شاگردی کی درخواست کی۔ انھوں نے قبول کیا اور بہت سی روایاتِ احادیث ان کو سنائیں اور اجازت دی۔

تعلیمِ نسواں اس عہد میں ترقی پر تھی۔ اور جس طرح مردوں میں اساتذۂ فن اور اہلِ کمال موجود تھے، اسی طرح بڑی بڑی باکمال عورتیں بھی موجود تھیں۔ چنانچہ کریمہ بنت احمد بن ابی حاتم اس عصر کی مشہور محدثہ اور مدرّسہ تھیں۔ اور اس کمال کی محدثہ کہ خطیب بغدادی کے ایسے منتہی اور اعلیٰ درجہ کے طالب علم کو ان سے درس لینے کا شوق ہوا۔ کریمہ ممدوحہ نے بھی تمام دنیاوی تعلقات چھوڑ کے مجاورتِ حرمِ محترم اختیار کرلی تھی اور جن دنوں خطیب بغدادی کعبۂ معظمہ میں تھے، انھیں دنوں وہ بھی وہاں موجود تھیں۔ ابوبکر بغدادی ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور صحیح محمد بن اسماعیل بخاری علیہ الرحمہ، جو صحیح بخاری کے نام سے مشہور ہے، اس کو اوّل سے آخر تک کریمہ کی خدمت میں پڑھ کر سند حاصل کی۔

اس تکمیل کے بعد ابو بکر بغدادی نے مکہ معظمہ سے سفر کر کے وطنِ مالوف دارالسلام بغداد کی راہ لی۔ اب جو بغداد میں پہنچے تو ان کے تبحر اور وسعت کا یہ عالم تھا کہ جمہور محدثین میں سے کوئی شخص ان کی برابری کا دعوی نہیں کرسکتا تھا۔ ابنِ اکولا جو خود بھی بہت بڑا مستند و معروف محدث ہے، کہتا ہے۔ ’’دارالسلام بغداد کو دارِ قطنی کے بعد پھر خطیب بغدادی کا ایسا کوئی محدث نصیب نہیں ہوا۔‘‘ ابن ماکولا ہی پر کیا منحصر ہے۔ تمامی علمائے اسلام جو بعد گزرے، سب خطیب بغدادی کی مدح سرائی میں انتہا سے زیادہ زورِ قلم دکھا رہے ہیں۔

ابو بکر بغدادی اس دفعہ جو اپنے وطنِ مالوف دارالسلام بغداد میں آئے تو خوب جم کر رہے اور بیشک انھیں اپنے وطن سے بڑی محبت تھی۔ اس سے زیادہ کیا ہو گا کہ اس کی ایک مکمل تاریخ لکھنے کے لیے انھوں نے ماءِ زمزم پی کر حضرت رب العزت سے دعا کی تھی۔ اس کے علاوہ اس مرتبہ اہل بغداد نے انھیں گزشتہ ایام کی طرح ایک طالب علم نہیں پایا بلکہ اب وہ ایک علامۂ زماں اور محدثِ دوراں تھے۔ بغداد میں ابوبکر کو جو اطمینان کے ساتھ رہنے کا موقع ملا تو انھوں نے تاریخِ بغداد لکھنا شروع کردی۔ اسلامی تواریخ میں یہ کتاب نادر، بے مثل اور نہایت ہی مستند و معتمد ہے۔ اس تاریخ میں ابتدائے اسلام سے اس عہد تک جبکہ خطیب ممدوح نے اپنی کتاب لکھی تمام حالاتِ بغداد و اطرافِ بغداد درج ہیں۔ کل علما، مشاہیر، اہلِ دول اور دیگر اقسام کے باکمال لوگوں کے حالات نہایت تفصیل سے لکھے ہیں۔ احادیث کے سلسلہ میں جن رجال کے نام آئے ہیں اُن کا بھی بخوبی پتہ لگایا ہے۔ فقہا اور محدثین میں سے ہر ایک کے نام و نسب کو خوب واضح طور پر بتایا ہے۔ پھر ان لوگوں کے حالات سے بحث کی ہے جو دیگر اطرافِ عالم سے آ کر بغداد میں سکونت پذیر ہو گئے۔ ان کی زندگی کے واقعات کو بھی خوب عمدگی سے بتایا ہے۔ ان لوگوں کی تصنیفات کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ یہ تاریخ دس جلدوں میں ہے۔ اس تاریخ کو انھوں نے اپنی زندگی  ہی میں پھیلا دیا تھا۔ اور اپنے عہد کے مشہور آئمۂ فن کو دکھا کر ثابت کردیا ہے کہ گویا تمام پبلک نے اس کتاب پر اعتبار کر لیا۔ اور واقعی تاریخِ خطیب بغدادی ایسی مقبول ہوئی کہ اسلامی عہد کے تصنیفات میں سے بہت کم کتابوں کو وہ مقبولیت عامہ نصیب ہوئی ہو گی۔ ابو سعید سمانی اور محب الدین ابن نجار وغیرہ کے ایسے مشہور زمانہ علمائے اسلام نے اس تاریخ پر اضافہ کر کے ضمیمہ اور ذیل بڑھائے۔

یاقوت حموی کا بیان ہے کہ اتفاقاً خطیب بغدادی کو چند اوراق ہاتھ لگے جن میں وہ روایات لکھی ہوئی تھیں جو خلیفۂ وقت قائم بامراللہ عباسی کو دیگر اساتذہ سے پہنچی تھیں۔ ان اوراق کو ہاتھ میں لے کر خطیب ممدوح دارالخلافت کے دروازے پر گئے اور خلیفہ کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ ”ابوبکر آستانِ دولت پر حاضر ہے اور علمِ حدیث کو حضور سے حاصل کرنا چاہتا ہے“۔ حجاب نے جب خلیفہ کی خدمت میں یہ پیغام عرض کیا تو خلیفہ نہایت ہی متحیّر ہوا اور خطیب صاحب کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ ’’آپ آج تمام عراق و شام بلکہ ساری دنیائے اسلام میں باعتبارِ نقلِ روایات و تبحّرِ علمی کے مشہور ہی نہیں، بے مثل مانے جاتے ہیں۔ مجھ سے آپ کی کوئی ایسی غرض نہیں متعلق ہو سکتی۔ آپ کا جو کام ہو اس کو صحیح  صحیح بلا تامل ارشاد فرمائیے۔‘‘ یہ سن کے ابو بکر بغدادی نے کہا ”ہاں اس تمہید سے میری اور غرض تھی۔ حضور کو معلوم ہو کہ میں نے اپنی ساری عمر علمِ حدیث کے پڑھنے پڑھانے میں صرف کی ہے۔ اور اسی کے متعلق میں نے مشہور اور مستند استادوں سے سن سن کر میں نے بہت سے فوائد اور نکات اپنے ذہن کے خزانہ میں فراہم کر رکھے ہیں۔ اب ان کے رواج دینے اور پھیلانے کی ضرورت ہے۔ میں امیرالمومنین سے صرف اس قدر چاہتا ہوں کہ مجھے جامع منصور میں حدیث کا درس دینے کی اجازت دی جائے۔ تا کہ وہاں ایک نہایت ہی عمدہ علمی محفل مرتب کر کے میں قولِ رسولؐ کو اس کے سچے مستحقوں تک پہنچاؤں“۔ ابوبکر کی اس درخواست کو خلیفہ قائم بامراللہ نے قبول کیا اور انھوں نے جامع منصور میں ایک اتنی بڑی محفل علمی مرتب کی جس کی شہرت دور دور تھی اور جس کو زمانہ اور شائقان علم ہمیشہ یاد کرتے رہیں گے۔ ابو بکر بغدادی کی دو دعائیں تو پوری ہو چکیں۔ تیسری دعا باقی ہے، اگرچہ ان کا کوئی دوست اس دعا کی مقبولیت سے ڈرتا ہو گا مگر خدا اپنے اس مقبول بندے کی دعا کو قبول کرے گا۔