اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

اکٹرس

گوپی ناتھ تھوڑے ہی فاصلہ پر تھا۔ اسے بھی یہ خبر معلوم ہوئی۔ اس کا خیال تھا کہ کشوری کے بھگا لے جانے کے بعد تھیٹر والے سر پر ہاتھ رکھ کر روئیں گے۔ تماشا نہ کر سکیں گے۔ اس کے برعکس تماشا ہونے اور اس کی دھوم مچ جانے سے گوپی ناتھ کو بڑا تعجب ہوا۔ کس طرح کیا ہوا۔ اس کو دریافت کرنے کے لئے گوپی ناتھ کلکتہ آ کر تماشا دیکھنے لگا۔

پہلا پردہ اٹھنے پر تماشا کے شروع میں موہنی ایک غریب عورت کی صورت میں لونڈی کی طرح اپنی سسرال میں نظر آتی ہے۔ متانت و سنجیدگی اور لجاجت کے ساتھ وہ اپنا کام کاج کرتی ہے۔ اسے کچھ بولنا نہیں پڑتا۔ اور تماشائیوں کو اس کی صورت بھی اچھی طرح دکھائی نہیں دیتی۔

لیکن تماشا کے آخری حصہ میں موہنی کا شوہر موہنی کو اس کے میکے بھیج دیتا ہے۔ اور مال کے لالچ سے کسی لکھپتی کی اکلوتی لڑکی سے شادی کر لیتا ہے۔ شادی کے بعد شوہر دیکھتا ہے کہ یہ عورت بھی وہی موہنی ہے۔ صرف وہ لونڈی کی سی حالت نہیں ہے۔ آج وہ رانیوں کی طرح لباس اور زیور پہنے ہوئے ہے۔ آج اس کا تابناک حسن زیورات سے آراستہ ہو کر ہر طرف روشنی پھیلا رہا ہے۔ بچپن میں موہنی کو اس کے والدین کے گھر سے، اسے چرا لے گیا تھا۔ اس کے بعد وہ ایک غریب کے گھر پلی۔ اور وہیں سے اس کی شادی ہوئی۔ بہت روز کے بعد موہنی کے حقیقی والدین کو موہنی کا سراغ مل گیا۔ اور انہوں نے دوسری مرتبہ نہایت دھوم دھام سے موہنی کی شادی اس کے شوہر کے ساتھ کر دی۔

اس کے بعد روٹھی ہوئی موہنی کو اس کا شوہر منانے لگا۔ اسی درمیان میں سخت ہل چل مچی۔ موہنی جب تک ذلیل حالت میں اپنا منہ چھپائے رہی اس وقت تک تو گوپی ناتھ خاموش تماشا دیکھتا رہا لیکن جب وہ اعلیٰ درجے کی پوشاک اور زیورات میں چاروں طرف حسن کی شعاعیں پھیلاتی ہوئی اسٹیج پر نمودار ہوئی۔ اور اس نے عجیب و غریب غرور و ناز کے ساتھ گردن خم کر کے تماشائیوں کی طرف بالخصوص سامنے بیٹھے ہوئے گوپی ناتھ کے روبرو اس نے بجلی کی طرح بے پناہ دلدوز تیر پھینکا۔ تو تمام تماشائی تو اس ادا کو دیکھ کر جوش و خروش کے ساتھ تالیاں بجا کر اظہار خوشی کر رہے تھے۔ مگر گوپی ناتھ بے ساختہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔ اور ’’موہنی موہنی‘‘ کہہ کر چیخنے لگا۔ اور چاہتا تھا کہ دوڑ کر اسٹیج پر چڑھ جائے کہ باجا بجانے والوں نے اسے پکڑ لیا۔

یک بیک اس طرح تماشا میں ہلچل پڑتے دیکھ کر تمام تماشائی انگریزی اور دیسی زبان میں ’’دور کر دو دور کر دو‘‘ چلانے لگے۔

گوپی ناتھ بار بار چلا کر کہنے لگا۔ مجھے چھوڑ دو میں اس کو مار ڈالوں گا۔

پولیس نے گوپی ناتھ کو گھسیٹ کر باہر نکال دیا۔ کلکتہ کے تمام تماشائی تھیٹر کی اکٹرس کی صورت میں دل کھول کر موہنی کا تماشا دیکھنے لگے۔ صرف بدقسمت گوپی ناتھ کو وہاں جگہ نہیں ملی۔