اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

اکٹرس

چیت کی پورنماسی4 کے روز موہنی بسنتی رنگ کی ساڑھی پہنے چھت پر بیٹھی تھی۔ اس کا آنچل کامدیو (شہوت کے دیوتا) کے پھریرے کی طرح ہوا میں لہرا رہا تھا۔ اگرچہ گھر میں شوہر کی آمد و رفت بہت کم ہو گئی ہے۔ پھر بھی موہنی الٹ پلٹ کر ادل بدل کر روز نئے کپڑے اور گہنے پہنتی ہے۔ ہیرا موتی کے مرصع زیورات اس کے تمام اعضا میں ایک طرح کا نشہ پیدا کر دیتے تھے۔ جگمگ جگمگ کر کے اس کی ہر چہار جانب شوق کی لہریں نمودار کر دیا کرتے تھے۔ آج موہنی نے ہاتھوں میں جڑاؤ بازو بند گلے میں موتیوں کا کنٹھا اور بائیں ہاتھ کی چھ انگلیوں میں ہیرے کی انگوٹھی زیب کی ہے۔ گلبیا پیروں کے پاس بیٹھی ہوئی موزوں، نازک اور کنول کی طرح سرخ پیروں کو ہاتھوں سے سہلاتی اور غیر معمولی جوش کے ساتھ کہتی تھی کہ آہا بہو جی اگر میں مرد ہوتی تو ان دونوں پیروں کو کلیجہ سے لگا کر واری ہو جاتی۔ موہنی نے فخر کے ساتھ ہنس کر کہا کہ تو شاید کلیجے سے لگائے بغیر ہی تجھے مرنا پڑتا۔ پھر کیا میں اس طرح پاؤں پھیلا دیتی؟ اچھا اب فضول باتیں نہ کر وہی گانا گا۔

چاندنی سے بقعۂ نور بنی ہوئی چھت پر گلبیا نے گانا شروع کیا۔

چرن تیرے ہیہ میں رہت میری پیاری

اتی لو کمار جان جئے اپنے راکھے ہر دے منجھاری

بنا دام کے ہے گلام یہ ناگر رسک بہاری

اس وقت رات کے دس بجے تھے۔ گھر کے باہر بیٹھک میں بھی سناٹا تھا۔ اسی حالت میں ’’اوٹو دل آرا‘‘ کی خوشبو سے گھر کو معطر کرتا ہوا گوپی ناتھ چھت پر آیا۔ گلبیا اسے دیکھتے ہی دانتوں سے زبان کاٹ کر ہاتھ بھر کا گھونگھٹ بڑھا کر وہاں سے جان لے کر بھاگی۔

موہنی نے سوچا۔ آج میرے دن پھرے ہیں۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا بھی نہیں۔ وہ رادھا کی طرح سخت ناخوش ہو کر بیٹھ رہی۔ لیکن سین نہیں بدلا۔ پردہ نہیں اٹھا۔ کوئی روتے روتے قدموں پر نہیں گر پڑا۔ کسی نے محتاج کی طرح آگے کھڑے ہو کر یہ نہیں کہا۔

مانگت بھچا درس کی جھولی پلک پسار

تیرے منگن جوگی نین یہ کر ان کو ستکار

(آنکھیں پلکوں کی جھولی پھیلا کر تیرے دیدار کی بھیک مانگ رہی ہیں۔ ان کو بھیک دے)

موسیقی سے بالکل معرا، اس سے بالکل خالی آواز میں گوپی ناتھ نے کہا۔ ذرا کنجیوں کا گچھا چاہیے۔ موسم بہار کی چاندنی رات میں اتنے دنوں کی جدائی کے بعد کیا پہلی ایسی ہی ہونی چاہیے؟ نظموں، ڈراموں، ناولوں میں جو کچھ لکھا جاتا ہے۔ وہ سب از اول تا آخر جھوٹ ہے۔ محض تماشا میں اسٹیج کے اوپر ہی عاشق اپنی معشوقہ کے پیروں پر گرتا ہے۔ اور جو تماشائی باہر ایسے تماشا کو دیکھ کر فریفتہ ہو جاتا ہے۔ وہی بہار کی شبِ ماہ میں کوٹھے کے اوپر اپنی حد سے زیادہ خوبصورت اور جوان بیوی کے پاس جا کر اشارے سے محض کنجیوں کا گچھا مانگتا ہے۔ اس کنجی کے مانگنے میں نہ موسیقی ہے نہ محبت ہے نہ کوئی پیار ہے۔ اور نہ ملائمت ہے۔

عین اسی وقت دنیا بھرے بے قدر شاعر کے سینے سے نکلی ہوئی سانس کی طرح ٹھنڈی ہوا کا ایک جھونکا آ کر نکل گیا۔ گملے میں لگے ہوئے بیلے کی خوشبو تمام چھت پر پھیل گئی۔ موہنی کے سر کے آگے کے چھوٹے چھوٹے بال ہلنے لگے۔ اور بسنتی ساڑھی کا آنچل بے قرار انداز سے ادھر ادھر اڑنے لگا۔ موہنی اپنی تمام شان کو پس پشت ڈال کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ اور شوہر کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔ ’’میں کنجی دیتی ہوں۔ تم کمرے میں چلو‘‘۔ موہنی نے عزم بالجزم کر لیا ہے۔ کہ آج وہ روئے گی اور رولائے گی۔ آج اپنے تمام ارادے پورے کرے گی۔ اور اپنے تمام آلات و سلاح کو کام میں لا کر فتح حاصل کرے گی۔

گوپی ناتھ نے کہا۔ میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا۔ تم کنجی دو۔

موہنی نے کہا۔ میں کنجی دوں گی اور کنجی تالے کے اندر جو کچھ ہے وہ سب بھی دے دوں گی۔ لیکن آج رات تم کہیں جانے نہ پاؤ گے۔

گوپی ناتھ نے کہا۔ یہ نہیں ہو سکتا۔ مجھے ضروری کام ہے۔

موہنی نے کہا۔ تو میں کنجی نہ دوں گی۔

گوپی ناتھ نے کہا۔ دو گی کیسے نہیں؟ دیکھوں کیسے نہیں دیتی۔

یہ کہہ کر گوپی ناتھ نے موہنی کے آنچل میں دیکھا۔ اس میں کنجی نہیں تھی۔ کمرے کے اندر گھس کر شیشے کے نیچے کے بکس کی دراز کھولی۔ اس میں کنجی نہ ملی۔ گوپی ناتھ نے زور کر کے موہنی کا وہ چھوٹا بکس توڑ ڈالا۔ جس میں اس کی چوٹی گوندھنے کا سامان، کاجل، سندور کی ڈبیا سر کے ڈورے وغیرہ تھے۔ اس میں بھی جب کنجی نہ ملی تو گوپی ناتھ نے بستر الٹ کر دیکھا۔ الماریاں توڑ کر آفت مچا دی۔

موہنی دروازہ پکڑے سنگی مورت کی طرح چھت کی طرف دیکھ رہی تھی۔ گوپی ناتھ غصہ میں چور موہنی کے پاس آیا۔ اور کڑک کر کہا میں کہتا ہوں کہ کنجی دے دو۔ ورنہ اچھا نہ ہو گا۔ موہنی نے کچھ جواب نہ دیا۔ تو گوپی ناتھ نے اسے پکڑ کر ہاتھ سے بازو گلے سے کنٹھا اور انگلی سے انگوٹھی اتار لی۔ اور اوپر سے ایک لات مار کر باہر نکل گیا۔

گھر کے اندر یا باہر کسی کو کچھ خبر نہ ہوئی۔ کسی ہمسایہ کی نیند نہیں کھلی۔ شبِ ماہ بدستور نور کی بارش میں مصروف رہی۔ ہر طرف مکمل خاموشی طاری تھی لیکن اگر دل کے شور و شیون باہر سنے جا سکتے۔ تو چیت کی وہ چاندنی رات دردناک فریاد سے یک بیک گونج اٹھتی۔ اسی طرح چپ چاپ ایسی دلدوز وارداتیں بھی دنیا میں ہو جایا کرتی ہیں۔

لیکن وہ رات بھی گزر گئی۔ ایسی ذلت و رسوائی کی بات موہنی گلبیا سے بھی نہ کہہ سکی۔ پہلے اس نے اپنے دل میں کہا کہ خودکشی کر کے اور اس بے بہا حسن و شباب کے جواہر کو اپنے ہاتھ سے پارہ پارہ کر کے اپنی اس ناقدری کا انتقام پورا کرنا چاہیے۔ پھر اس نے سوچا کہ ایسا کرنے سے دوسرے کا کیا بگڑے گا۔ دنیا میں اس سے کسی کا کیا نقصان ہو گا۔ جس کو زندگی میں کوئی راحت نہیں ہے۔ اسے مرنے پر بھی اطمینان نہیں ہے۔

اس کے بعد موہنی گلبیا کو لے کر چلی گئی۔ جاتے وقت سائیس کی بیوی سے کہہ گئی۔ کہ میں اپنے میکے جاتی ہوں۔ موہنی کا میکہ بنارس میں تھا۔ ادھر گوپی ناتھ بھی مصاحبوں کے گروہ کے ساتھ کشتی پر سوار ہو کر کچھ روز کے لئے معلوم نہیں کہاں چلا گیا۔

مہارانی تھیٹر کمپنی کے تماشوں میں اکثر گوپی ناتھ جایا کرتا تھا۔ اور اپنے مصاحبوں کے گروہ کے ساتھ اگلی قطار میں بیٹھا کرتا تھا۔ جب کشوری سامنے آکر اپنے حصہ کا پارٹ کرتی تو گوپی ناتھ بے اختیار ہو کر بلند آواز سے واہ واہ کی صدا بلند کرتا۔ اور انعام کے طور پر اکثر سو سو دو دو سو کے نوٹ کشوری کے سامنے پھینک دیتا۔ کبھی کبھی شور و غل کر کے گڑ بڑ بھی مچا دیا کرتا۔ تماشائیوں کو بہت ناگوار معلوم ہوتا تھا۔ لیکن کمپنی کے منیجر وغیرہ کو کچھ کہنے کی جرات نہ ہوتی تھی۔

ایک روز گوپی ناتھ نے شراب زیادہ پی لی تھی۔ ’’گرین روم‘‘ کے اندر جا کر اودھم مچا دیا۔ اور بزعم خود اپنی اہانت سمجھ کر تماشا کرنے والی ایک طوائف کو مار بیٹھا۔ اس کے چلانے اور گوپی ناتھ کے گالی گلوچ کرنے سے تمام تماشائی چونک پڑے۔

اس روز کمپنی کے منیجر سے نہیں رہا گیا اور اس نے پولیس کی مدد سے گوپی ناتھ کو باہر نکال دیا۔

گوپی ناتھ نے اس توہین کے انتقام لینے کا عزم کیا۔ کلکتہ میں درگا پوجا کے موقع پر کدار میں بڑی دھوم دھام ہوتی ہے۔ مہارانی کمپنی نے ایک مہینہ قبل ہی سے بڑے شدومد کے ساتھ اشتہار دیا۔ کہ اس موقع پر شہرۂ آفاق ’’موہنی‘‘ ڈراما کا تماشا بڑے زور و شور کے ساتھ دکھایا جائے گا۔ کلکتہ شہر کو گویا اشتہاروں کا ہار پہنا دیا گیا۔

اس کھیل میں کشوری موہنی کا پارٹ ادا کیا کرتی تھی۔ اور اسی کی تمام دھوم دھام تھی۔ اسی درمیان میں گوپی ناتھ کشوری کو لے کر پانی کے راستے نامعلوم کہاں چل دیا۔

تھیٹر والے بڑی مشکل میں پڑ گئے۔ کچھ روز کشوری کے آنے کا انتظار کر کے انہوں نے دوسری عورت رکھ لی۔ اور اسے موہنی کا پارٹ سکھلایا۔ اس میں انہیں کچھ دیر بے شک ہوئی۔

لیکن کچھ حرج نہیں ہوا۔ جس روز سے موہنی ڈراما نئے ساز و سامان کے ساتھ کھیلا جانے لگا۔ اس روز سے ایسی بھیڑ ہونے لگی۔ کہ اسٹیج کے اندر تل رکھنے کو جگہ نہیں ملتی تھی۔ اور جگہ نہ ملنے کی وجہ سے صدہا آدمی تھیٹر ہال کے پھاٹک سے واپس چلے جاتے تھے۔ اخباروں میں بھی اس ڈراما اور تماشا کی تعریف میں متعدد مضامین شائع ہوئے۔