گوپی ناتھ جس کا بے دام کا غلام بن چکا ہے۔ اس کا نام کشوری ہے۔ وہ تھیٹر میں کھیل کرتی ہے۔ اور اسٹیج کے اوپر بیہوشی کا پارٹ اس خوبی سے ادا کرتی ہے۔ کہ صدہا تماشائیوں کو اپنی سدھ بدھ بھول جاتی ہے۔ وہ نکّی سُر میں فرضی آہ و زاری کرتے وقت اس لہجہ سے ’’ہائے ہائے‘‘ اور ’’پیارے‘‘ وغیرہ الفاظ کو ادا کرتی ہے۔ کہ تماشائیوں کا مجمع ’’یکسائیلینٹ یکسائیلینٹ‘‘ واہ واہ کا شور مچا کر تھیٹر ہال کو سر پر اٹھا لیتا ہے۔
اوّل اوّل جب گوپی ناتھ یک لخت گھر سے غائب نہیں رہتا تھا۔ تو وہ کئی مرتبہ موہنی کے سامنے کشوری کے پارٹ ادا کرنے کی عجیب و غریب قابلیت کی تعریف کر چکا تھا۔ اس وقت اس کو یہ نہیں معلوم تھا۔ کہ اس کا شوہر کشوری پر فریفتہ ہے۔ تاہم دوسری عورت کی تعریف سن کر وہ دل ہی دل میں برا مانتی اور کڑھتی تھی۔ شوہر کی زبان سے کیا وہ کسی کی زبان سے یہ سننا گوارا نہیں کر سکتی تھی۔ کہ کسی عورت میں کوئی بھی ایسی خوبی ہے۔ جو اس میں نہیں ہے۔ رشک و حسد کی وجہ سے کئی مرتبہ موہنی نے تھیٹر دیکھنے کی خواہش ظاہر کی لیکن گوپی ناتھ نے اس کو منظور نہیں کیا۔
آخر موہنی سے نہیں رہا گیا۔ ایک روز اس نے گلبیا کو ایک روپیہ دے کر تھیٹر دیکھنے کو بھیج دیا۔ گلبیا نے واپس آ کر ناک بھوؤں سکوڑتے ہوئے تھیٹر کی اکٹرسوں کے سر پر سو جھاڑو مارنے کی خواہش ظاہر کی۔ اور ان اکٹرسوں کی نقلی خوبصورتی ناز و انداز پر فریفتہ ہونے والے مردوں کی نسبت بھی وہی رائے سنائی۔ جس کو سن کر موہنی کسی قدر بے فکر اور مطمئن ہوئی۔
اس بات کو کئی مہینے ہو چکے ہیں۔ ان دنوں گوپی ناتھ کے سر پر کشوری کا بھوت پوری طرح سوار ہے۔ آج کل وہ موہنی سے اچھی طرح بولتا تک نہیں۔ دن کو مصاحبوں سے رات کو تھیٹر سے فرصت ہی نہیں ملتی۔
موہنی نے جب سنا کہ گوپی ناتھ کشوری پر فریفتہ ہو گیا ہے۔ اور وہ دن رات اسی کے پھیر میں رہتا ہے۔ تو اس کو شبہ ہوا اور اس نے گلبیا کی اطلاع پر بے اعتباری ظاہر کی۔ گلبیا نے یقین دلانے کے لئے اپنے لڑکے کی قسم کھا کر کہا کہ کپڑے میں لپٹے ہوئے جلے کندے کی طرح کشوری کا بدن ہے۔ اور اس کا چہرہ تو بہت ہی بھدا ہے۔ موہنی کی سمجھ میں کچھ نہ آیا کہ آخر کشوری میں کونسا ایسا وصف ہے جس نے گوپی ناتھ کو فریفتہ بنا رکھا ہے۔ وہ اپنے غرور حسن و شباب سے خودبخود دل میں چوٹ کھا کر زخمی ناگن کی طرح پھنپھنکارنے لگی۔
آخر موہنی سے نہیں رہا گیا۔ وہ گلبیا کو ساتھ لے کر تھیٹر دیکھنے گئی۔ جو کام برا ہوتا ہے اس کے لئے جوش بھی بہت ہوتا ہے۔ چوری سے تھیٹر جانے سے اس کے دل میں جو ایک طرح کی دھڑکن پیدا ہو گئی تھی اس کے جوش میں اس کو وہ روشنی سے جگمگاتا ہوا آدمیوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا باجوں اور لوگوں کی آوازوں سے گونجا ہوا، خوش رنگ اور نظر فریب پردوں سے سجا ہوا تھیٹر ہال اندراسن کی طرح خوبصورت معلوم ہوا۔ دیوار سے گھرے ہوئے سنسان اور بے رونق مکان سے کیسے پر لطف اور پر رونق عالم میں آ گئی۔ تمام چیزیں اس کو مثل خواب کے معلوم ہوتی تھیں۔
اس روز ’’مان لیلا‘‘ کا تماشا دکھایا جانے والا تھا۔ گھنٹی ہوئی۔ باجے خاموش کر دیئے گئے۔ پریشان تماشائی ساکت و صامت یکسو ہو کر بیٹھ گئے۔
اسٹیج کے سامنے کی روشنی کی قطار اور بھی جگمگا اٹھی۔ پردہ اٹھایا گیا۔ خوبصورت پوشاک پہنے ہوئے سہیلیاں گانے اور ناچنے لگیں۔ تماشائی تالیاں بجا بجا کر اور واہ واہ کا شور مچا کر تھیٹر ہال کو گونجانے لگے۔ یہ دیکھ کر جوان موہنی کے جسم میں تیزی سے خون گردش کرنے لگا۔ اس گیت کی تان سن کر روشنی اور پوشاک کی زینت دیکھ کر تحسین و آفرین کا شور سن کر تھوڑی دیر کے لئے موہنی دنیا جہاں کو بھول گئی۔ اس نے سوچا کہ میں ایک ایسی جگہ آ گئی ہوں۔ جہاں حسن کے لئے کوئی قید نہیں ہے۔ اور اس کی مکمل آزادی میں کسی قسم کا کوئی نقص نہیں ہے۔
گلبیا درمیان درمیان میں پاس آ کر موہنی کے کان میں کہتی ہے کہ ’’بہو چلو گھر واپس چلو۔ بھیا جان جائیں گے تو بڑی آفت ہو جائے گی‘‘۔ لیکن موہنی اس کے کہنے پر بالکل توجہ نہیں کرتی تھی۔ اس وقت اس کے دل میں خوف کا نام بھی نہیں تھا۔
تماشا ہو رہا تھا رادھا سخت ناراض ہوئیں۔ کرشن روٹھی رادھا کو کسی طرح راضی کرنے میں کامیاب نہیں ہوتے تھے۔ منت و سماجت کرتے ہیں۔ پیروں پڑتے ہیں۔ ہاتھ جوڑتے ہیں لیکن کچھ اثر نہیں ہوتا۔ اس وقت غرور سے موہنی کا سینہ پھول اٹھا۔ کرشن کی اس عاجزی کو دیکھ کر اور دل ہی دل میں اپنے کو رادھا تصور کر کے اس کو اپنے دل میں اپنی بے انتہا قوت کا احساس ہوا۔ کسی نے اس کو اس طرح کبھی نہیں منایا۔ وہ مردود اور نظر سے گرائی ہوئی عورت ہے۔ تاہم اس نے اپنے دل میں طے کر لیا کہ اس طرح مرد کو رلانے کی طاقت اس میں بھی ہے۔ حسن کی زبردست قوت کی کیفیت اب تک اس نے صرف کانوں سے سنی بھی تھی۔ محض اس کا تصور کیا تھا لیکن آج کلکتہ کے اندر بجلی کی روشنی میں شیریں نغمہ کے ساتھ دلفریب رنگین اسٹیج کے اوپر عملی صورت میں حسن کا مرتبہ برملا دیکھنا نصیب ہو گیا۔ اس کے سر پر ایک طرح کا نشہ طاری ہو گیا۔
تماشا ختم ہو گیا۔ پردہ گر پڑا بجلی کی روشنی ماند پڑ گئی۔ تماشائی اٹھ اٹھ کر جانے لگے۔ لیکن موہنی اسی طرح سحرزدہ بیٹھی رہی۔ شاید اسے یہ خیال ہی نہ تھا کہ اسے یہاں سے اٹھ کر گھر جانا ہو گا۔ شاید وہ سمجھ رہی تھی کہ کھیل ختم نہ ہو گا۔ پردہ پھر اٹھے گا۔ کرشن پھر رادھا کو منائیں گے۔
گلبیا نے کہا بہو کیا کر رہی ہو۔ اٹھو۔ ابھی سب روشنی گل ہو جائے گی۔
اس وقت نصف شب کے بعد موہنی اپنے گھر واپس آ گئی۔ گوپی ناتھ کا پتا بھی نہ تھا۔ موہنی نے آ کر دیکھا کہ ایک گوشہ میں رکھی ہوئی لالٹین مدھم روشنی سے جل رہی ہے۔ گھر میں نہ کوئی آدمی ہے نہ آواز ہے۔ اس کو وہ اپنا پرانا مکان بالکل اجاڑ، بے لطف اور حقیر معلوم ہونے لگا۔ کہاں ہے وہ پر رونق روشنی سے معمور نغمہ سے گونجتا ہوا۔ پرلطف مقام جہاں وہ اپنے تمام کرشمے دکھا کر دنیا کے مرکز میں اپنے لئے جگہ حاصل کر سکتی ہے۔ جہاں وہ مجہول غیر معروف، حقیر معمولی عورت نہیں سمجھی جا سکتی۔
اس کے بعد سے وہ اکثر تھیٹر دیکھنے جانے لگی۔ دس پانچ مرتبہ دیکھنے سے پہلے کے شوق میں بہت کمی ہو گئی۔ اسے معلوم ہو گیا کہ تھیٹر کی عورتیں اور مرد منہ میں پاؤڈر مل لیتے ہیں۔ اس سے ان کی چمک دھمک بڑھ جاتی ہے۔ وہ دراصل اتنے خوبصورت نہیں ہیں۔ جتنے خوبصورت رات کو اسٹیج پر نظر آتے ہیں۔ اور بعض تو بالکل بد صورت ہیں۔ تماشا کی تمام چیزیں مصنوعی ہیں لیکن اس پر بھی اس کا نشہ نہیں اترا۔ جس طرح جنگی نغمہ اور جنگی باجا سن کر جنگجو آدمیوں کا دل اچھل پڑتا ہے۔ اسی طرح پردہ اٹھنے پر موہنی کے دل کی حالت ہوتی تھی۔ یہ تمام دنیا سے نرالا خوش منظر خوبصورت اسٹیج ہی سارے عالم کو مسخر کر لینے والی ملکۂ حسن کے لئے اعلیٰ اور پسندیدہ تخت ہے۔ سنہری دھاریدار پردوں سے مزین اسٹیج شاعری اور موسیقی کے اندر جال سے ہر انسان کو پھنسا لینے کی استعداد رکھتا ہے۔ ہمیشہ لاتعداد مشتاق نگاہیں اس کا حلقہ کئے رہتی ہیں۔ تماشا کے پراسرار پردوں کی بدولت وہ ایک غیر محدود راز کی صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔ اور تابناک روشنی میں سب کے سامنے نمایاں طور پر درخشاں بھی ہے۔
پہلے پہل جس روز موہنی نے گوپی ناتھ کو تھیٹر ہاؤس میں دیکھا۔ اور کسی اکٹرس کے پارٹ پر فریفتہ ہو کر اس نے برملا اپنا دلی جوش ظاہر کیا۔ تو موہنی کے دل میں گوپی ناتھ سے سخت نفرت پیدا ہوئی۔ اور ساتھ ہی ہتک آمیز خیال پیدا ہوا۔ اس نے اپنے دل میں کہا اگر میں شوہر کو اپنی صورت پر فریفتہ کر کے اپنی طرف کھینچ لوں۔ اور وہ سوختہ پروانے کی طرح میرے پیروں پر گرے۔ اور میں اس سے کنارہ کشی اور نفرت ظاہر کر کے اسے دھتکار دوں جب ہی میرا یہ بے کار حسن کارآمد اور میرا محلِ شباب نتیجہ خیز ہو سکتا ہے۔
لیکن وہ مبارک دن کہاں میسر ہو سکتا ہے؟ آجکل تو گوپی ناتھ کی صورت بھی خواب و خیال ہو رہی ہے وہ اپنی امنگ کے طوفان میں خس و خاشاک کی طرح اڑ کر اپنے رفیقوں کے ساتھ نہیں معلوم کہاں سے کہاں پہنچ گیا ہے۔
