اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

احادیث

(تہذیب الاخلاق جلدِ دوم نمبر 2 (دورِ سوم) بابت یکم ذی قعدہ 1312ھ‌26 اپریل 1895ء)

متقدمین صحابہ اور خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ اس بات کو پسند نہیں کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حدیثیں روایت کی جائیں، کیونکہ یہ بات غیر ممکن تھی کہ جو کچھ آپ نے فرمایا وہ پختہ سوائے معدود حدیثوں کے لفظ بلفظ لوگوں کو یاد رہا ہو اور اُنہیں لفظوں کو بلا تبدیل اور بلا تقدیم و تاخیرِ الفاظ لوگ بیان کر سکیں اور اُن کے بیان کرنے میں بھی نہایت شبہ تھا کہ بیان کرنے والا ٹھیک ٹھیک وہی مطلب بیان کرتا ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا یا نہیں، اور جو الفاظ کہ اُس نے بیان کئے ہیں وہ ٹھیک ٹھیک اُس مقصد کے لئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا مناسب ہیں یا نہیں۔

مگر حدیثوں کا بیان کرنا رک نہیں سکتا تھا، جو امر پیش آتا تھا اس میں بالطبع لوگ دریافت کرنا چاہتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں کیا فرمایا ہے یا آپ کے وقت میں کیا ہوتا تھا اور اسی پر دین و دنیا دونوں کا معاملہ چلتا تھا، چنانچہ خود صحابہ نے اور اُن سے تابعین اور تبع تابعین نے اور اُن سے اور لوگوں نے بہت سی حدیثیں روایت کیں، یہاں تک بڑی بڑی کتابیں حدیث کی جو اب ہمارے لئے سرمایۂ علم و عمل ہیں موجود ہو گئیں۔ ہم کو اُن بزرگوں کا جنہوں نے حدیثوں کے جمع کرنے میں کوشش کی نہایت دل سے شکر گذار ہونا اور اُن کا اور اُن حدیثوں کا ادب کرنا لازم اور ضرور ہے، مگر اسی کے ساتھ ہم کو یہ بھی جاننا چاہئے کہ وہ حدیثیں کیوں کر جمع ہوئیں اور جن لفظوں سے وہ جمع ہوئیں وہ لفظ بعینہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ ہیں یا نہیں۔

اس باب میں کہ حدیث بلفظہ روایت کرنی لازم ہے یا بالمعنی بھی روایت کرنا جائز ہے، محدثین میں اختلاف رہا ہے۔ ایک گروہ محدثین کا حدیث کو بالمعنی روایت کرنا جائز نہیں سمجھتا، بلکہ بلفظہ روایت کرنا ضروری سمجھتا تھا۔ چنانچہ فتح المغیث شرحِ الفیۃ الحدیث میں جو حافظ زین الدین عراقی کی تصنیف ہے، لکھا ہے:—

قیل لا یجوز له الروایة بالمعنی مطلقا قال طائفة من المحدثین والفقهاء والاصولیین من الشافعیة وغیرهم قال القرطبی وهو الصحیح من مذهب مالک حتی ان بعض من ذهب لهذا شدد فیه اکثر التشدید فلم یجز تقدیم کلمة علی کلمة ولا حرف باخر ولا زیادة حرف ولا حذفه فضلا عن اکثر ولا تخفیف ثقیل ولا تثقیل خفیف ولا رفع منصوب ولا نصب مجرور او المرفوع ولو لم یتغیر المعنی فی ذالک کله بل اقتصر بعضهم علی اللفظ ولو خالف اللغة الفصیحة وکذا لو کان لحنا کما بین تفصیل هذا کله الخطیب فی الکفایة۔ (فتح المغیث صفحہ 276)

(ترجمہ) ’’محدثین، فقہاء اور اصولیینِ شافعیہ وغیرہ کا ایک گروہ روایت بالمعنی کو مطلقاً روا نہیں رکھتا۔ قرطبی نے کہا ہے کہ امام مالک کا اصلی مذہب بھی یہی ہے۔ یہاں تک کہ جو اس طرف گئے ہیں اُن میں سے بعض نے اس باب میں بہت سختی کی ہے۔ پس اُن کے نزدیک ایک کلمہ کا دوسرے کلمہ پر یا ایک حرف کا دوسرے حرف پر مقدم لانا جائز نہیں ہے، نہ ایک حرف کا دوسرے حرف کی جگہ بدلنا نہ ایک حرف کو زیادہ یا کم کرنا چہ جائیکہ بہت سے حرفوں کو، نہ ثقیل کو خفیف کرنا اور نہ خفیف کو ثقیل کرنا، نہ منصوب کو رفع دینا نہ مجرور یا مرفوع کو نصب دینا۔ اگرچہ ان تمام صورتوں میں معنی نہ بدلتے ہوں، بلکہ انہوں نے لفظ ہی پر بس کی ہے۔ چاہے لغتِ فصیح کے برخلاف ہی ہو اور ایسا ہی چاہے غلط ہو۔ خطیب نے کفایہ میں اس کو مفصل بیان کیا ہے‘‘۔

اس تشدد میں جو بلفظہ حدیث کے بیان کرنے کی نسبت تھا بعض بزرگوں نے نرمی کی اور کہا کہ صرف صحابہ کو یا صحابہ اور تابعین کو بالمعنی روایت کرنی جائز ہے اور کو نہیں، چنانچہ فتح المغیث میں لکھا ہے کہ:

وقیل لا یجوز لغیر الصحابة خاصة لظهور الخلل فی اللسان بالنسبة لمن قبلهم بخلاف الصحابة فهم ارباب اللسان واعلم الخلق بالکلام حکاه الماوردی والرویانی فی باب القضاء بل جزما بانه لا یجوز لغیر الصحابی وجعلا الخلاف فی الصحابی دون غیره وقیل لا یجوز لغیر الصحابة والتابعین بخلاف من کان منهم وبه جزم بعض معاصری الخطیب وهو حفید القاضی ابی بکر فی ادب الروایة قال لان الحدیث اذا قیده بالاسناد وجب ان لا یختلف لفظه فیدخله الکذب۔ (فتح المغیث صفحہ 576 و 577)

(ترجمہ) ’’اور کہا گیا ہے کہ صحابہ کے سوا دوسروں کے لئے روایت بالمعنی کرنا روا نہیں ہے، کیونکہ زبان میں بہ نسبت اُن کے جو پہلے تھے، خلل آ گیا ہے۔ برخلاف صحابہ کے، اس لئے کہ وہ اہلِ زبان اور کلام کو خوب سمجھنے والے تھے۔ ماوردی اور رویانی نے باب القضاء میں اس کا ذکر کیا ہے، بلکہ اس بات کو زور کے ساتھ بیان کیا ہے کہ صحابی کے سوا دوسرے کو روایت بالمعنی جائز نہیں، مگر یہ اُن کا اختلاف صرف صحابی میں ہے نہ اوروں میں اور بعض کہتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین کے سوا دوسروں کو روایت بالمعنی جائز نہیں ہے اور خطیب کے ایک معاصر، یعنی قاضی ابوبکر کے پوتے نے ادب الروایۃ میں اس کو زور کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ جب حدیث میں اسناد کی قید لگائی تو یہ واجب ہے کہ لفظ نہ بدلیں، تاکہ جھوٹ داخل نہ ہو جائے‘‘۔

باوجود اس قید کے بھی یہ بات کہی گئی کہ روایت کرنے کے بعد راوی کو ایسے الفاظ کا کہہ دینا ضرور ہے جن سے معلوم ہو کہ حدیث کے بعینہ وہی لفظ نہیں ہیں جو پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔ چنانچہ فتح المغیث میں لکھا ہے کہ:

ولیقل الراوی عقب ایراده للحدیث بمعنی ای بالمعنی لفظ او کما قال فقد کان انس رضی الله عنه کما عند الخطیب فی باب المعقود لمن اجاز الروایة بالمعنی لقولها عقب الحدیث ونحوه من الالفاظ کقوله او نحو هذا او شبهه او شکله فقد روی الخطیب ایضا عن ابن مسعود انه قال سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم ثم ارعد وارعدت ثیابه وقال او شبه ذا او نحو ذا وعن ابی الدرداء انه کان اذا فرغ من الحدیث عن رسول الله صلی الله علیه وسلم قال هذا او نحو هذا او شکله ورواها کلها الدارمی فی مسنده بنحوها ولفظه فی ابن مسعود وقال او مثله او نحوه او شبیه به وفی لفظ آخر لغیره ان عمرو بن میمون سمع یوما ابن مسعود یحدث عن النبی صلی الله علیه وسلم وقد علاه کرب وجعل العرق ینحدر منه عن جبینه وهو یقول اما فرق ذالک واما دون ذالک واما قریب من ذالک وهذا کشک من المحدث والقاری ایهما علیه الاّمر به فانه یحسن ان یقول او کما قال۔ (فتح المغیث صفحہ 279)۔

(ترجمہ) ’’راوی کو حدیث بالمعنی بیان کرنے کے بعد کہنا چاہئے او کما قال1۔ خطیب نے ایک باب میں جس میں اُن کا بیان ہے جن کو روایت بالمعنی کی اجازت ہے کہا ہے کہ انس رضی اللہ عنہ حدیث کے بعد کہتے ہیں اس کے قول کی مانند یا ایسا یا اس جیسا یا اس سے ملتا جلتا۔ خطیب نے ابن مسعود سے روایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ میں نے پیغمبرِ خدا سے سنا ہے۔ پھر کانپے اور ان کا کپڑا ہلنے لگا اور کہا اس کی مانند یا اس کی مثل اور ابو درداء سے روایت کی کہ جب وہ حدیث بیان کر چکتے تو کہتے کہ یہ کہا تھا یا اس کی مثل یا اس جیسا۔ دارمی نے اپنی مسند میں یہ سب بیان کیا ہے۔ ابن مسعود کے الفاظ اس میں یہ ہیں: اس کی مثل یا اس کی مانند یا اس کے مشابہ اور دوسرے راوی نے اور الفاظ بیان کئے ہیں، چنانچہ عمر بن میمون نے کہا کہ میں نے ایک روز ابن مسعود کو حدیث بیان کرتے سنا اور اُن کو تکلیف ہونے لگی اور پسینہ اُن کی پیشانی سے ٹپکتا تھا اور وہ کہتے تھے کہ اس سے زیادہ یا اس سے کم یا اس کے قریب۔ غرضکہ ایسا لفظ کہے جس سے قاری اور محدث کا شک ظاہر ہو‘‘۔

باوجود اس کے صحابہ اور تابعین برابر حدیث کو بالمعنی روایت کرتے تھے، جیسا کہ فتح المغیث کی مندرجہ ذیل عبارت سے ظاہر ہوتا ہے:

’’وعن بعض التابعین قال لقیت اناسا من الصحابة فاجتمعوا فی المعنی واختلفوا علی فی اللفظ فقلت ذالک لبعضهم فقال لا بأس به ما لم یحل معناه حکاه الشافعی وقال حذیفة انا قوم عرب نورد الاحادیث فنقدم ونوخر وقال ابن سیرین کنت اسمع الحدیث من عشرة المعنی واحد واللفظ مختلف وممن کان یروی بالمعنی من التابعین الحسن والشعبی والنخعی بل قال ابن الصلاح انه الذی شهد به احوال الصحابة والسلف الاولین فکثیرا ما کانوا ینقلون معنی واحدا فی امر واحد بالفاظ مختلفة وما ذاک لان معوّلهم کان علی المعنی دون اللفظ (فتح المغیث صفحہ 275)۔