چہارم۔ جس میں تھوڑے کام پر وعیدِ شدید یا اجرِ عظیم کا وعدہ ہو۔
پنجم۔ رکتِ معنی اس روایت کی جو بیان کی گئی۔
ششم۔ رکت یعنی سخافت راوی کی۔
ہفتم۔ منفرد ہونا راوی کا۔
ہشتم۔ منفرد ہونا ایسی روایت میں جو تمام مکلفین سے متعلق ہو۔
نہم۔ یا ایسی بڑی بات ہو جس کے نقل کرنے کی بہت سی ضرورتیں ہوں۔
دہم۔ جس کے جھوٹ ہونے پر ایک گروہِ کثیر متفق ہو۔
یہ جو کچھ ہم نے بیان کیا یہ خلاصہ ہے اُس کا جو ابن جوزی نے بیان کیا ہے، لیکن ہم اس مقام پر ابن جوزی کی عبارت بعینہ جو فتح المغیث میں نقل کی گئی ہے، نقل کرتے ہیں:
قال ابن الجوزی و کل حدیث رأیته یخالفه العقول او یناقض الاصول فاعلم انه موضوع فلا یتکلف اعتباره ای لا تعتبر رواته ولا تنظر فی جرحهم او یکون مما یدفعه الحس و المشاهدة او مباینا لنص الکتاب او السنة المتواترة او الاجماع القطعی حیث لا یقبل شیء من ذالک التاویل او یتضمن الافراط بالوعید الشدید علی الامر الیسیر او بالوعد العظیم علی الفعل الیسیر و هذا الاخیر کثیر موجود فی حدیث القصاص و الطرقیة و من رکة المعنی لا تاکلوا القرعة حتی تذبحوا و لذا جعل بعضهم ذالک دلیلا علی کذب راویه وکل هذا من القرائن فی المروی قد تکون فی الراوی کقصة غیاث مع المهدی و حکایة سعد بن طریف الماضی ذکرهما و اختلاق المامون بن احمد الهروی حین قیل له الا تری الشافعی و من تبعه الخراسان ذاک الکلام القبیح حکاه الحاکم فی المدخل قال بعض المتاخرین و قد رئیت رجلا قام یوم الجمعة قبل الصلوة فابتدأ لیوروه فسقط من قامته مغشیا علیه۔ او انفراده عن لم یدرکه بما لم یوجد عند غیره او انفراده لشیء مع کونه فیما یلزم المکلفین علمه و قطع العذر فیه کما قرره الخطیب فی اول الکفایة۔ او بامر جسیم بتوفر الدواعی علی نقله کحصر العدد للحاج عن البیت او بما صرح بتکذیبه فیه جمع کثیر یمتنع فی العادة تواطئهم علی الکذب و تقلید بعضهم بعضاً (فتح المغیث صفحہ 113)۔
(ترجمہ) ’’ابن جوزی نے کہا کہ جو حدیث عقل کے مخالف ہے یا اصول کے برخلاف ہے اس کو موضوع جانو۔ اُس کے راویوں کی جرح و تعدیل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے یا حدیث میں ایسا بیان ہو جو حس و مشاہدہ کے برخلاف ہے یا قرآن یا حدیثِ متواتر یا اجماعِ قطعی کے برخلاف ہے جن میں سے ایک کی بھی تاویل نہیں ہو سکتی یا تھوڑے سے کام پر بہت سے عذاب یا ثواب کا ذکر ہو اور یہ اخیر مضمون قصہ گویوں اور بازاریوں کی حدیثوں میں بہت کثرت سے پایا جاتا ہے یا معنی رکیک و سخیف ہوں جیسے اس حدیث میں کہ کدو کو بغیر ذبح کئے نہ کھاؤ، اسی لئے اس رکتِ معنی کو بعض نے راوی کے کذب پر دلیل گردانا ہے اور یہ سب قرینے تو روایت میں ہوتے ہیں اور کبھی راوی میں ایسا قرینہ ہوتا ہے جیسے غیاث کا قصہ مہدی کے ساتھ اور سعد بن طریف کی حکایت جن کا ذکر ہو چکا ہے اور ابن احمد ہروی کا وہ بیہودہ کلام (نسبت امام شافعی کے) گھڑ لینا جب اُس سے کہا گیا کہ کیا تو شافعی کو نہیں دیکھتا اور اُن کو جو اس کے تابع ہیں۔ خراسان کے حاکم نے اس کو مدخل میں بیان کیا ہے اور متاخرین میں سے ایک نے کہا ہے کہ میں نے ایک مرد کو دیکھا کہ جمعہ کے دن نماز سے پہلے کھڑا ہو کر چاہا کہ اُس کو بیان کرے پھر بیہوش ہو کر گر پڑا یا راوی کا منفرد ہونا ایسی حدیث میں جو اوروں کے پاس نہیں ہے، ان لوگوں سے جنہوں نے اس حدیث کو نہیں سنا یا اس کا منفرد ہونا ایسی حدیث میں جس کے مضمون کا جاننا تمام مکلفین کو نہایت ضروری ہے یا ایسے عظیم الشان واقعہ کا بیان جس کے نقل کرنے کی بہت سے لوگوں کو ضرورت ہے جیسے کعبہ کے حاجیوں کے ایک گروہ کا روکا جانا یا ایسا بیان جس کو اتنی بڑی جماعت نے جھٹلا دیا ہے جن کا جھوٹ پر اتفاق کرنا اور ایک دوسرے کی تقلید کرنا عادۃً ناممکن ہے۔
نسبت صحت اور عدمِ صحتِ حدیث کے اس بات کی بحث کہ اُس کے راوی ثقہ اور قابلِ اعتماد ہیں یا نہیں ایک جدا بحث ہے۔ اس مقام پر راویوں سے بحث کرنی ہم کو مقصود نہیں، بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ جن راویوں کو معتبر مان کر ان کی حدیث نقل کی گئی ہے ان حدیثوں کے مضمون پر درایۃً غور کرنا ضرور ہے کہ ان میں بھی کوئی نقص نقصہائے مذکورۂ بالا میں سے ہے یا نہیں، تاکہ ان کے مضمون کی صحت پر بھی طمانیت کی جا سکے اور اگر کسی حدیث کے مضمون میں کچھ نقص ظاہر ہو تو وہ حدیث نہیں مانی جائے گی اور نہ وہ جنابِ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت منسوب ہوگی، بلکہ یہ خیال کیا جائے گا کہ راوی سے الفاظ کے یا مضمون کے بیان کرنے میں کچھ تبدیلی یا غلطی ہوئی ہے۔ غرضیکہ ہمارے نزدیک حدیثوں کی صحت کا مدار بہ نسبت راویوں کے زیادہ تر درایت پر منحصر ہے، فقط۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 41 تا 59 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

