(ترجمہ) پیغمبرِ خدا کے اُس کلام سے استدلال کیا جاتا ہے جس کی نسبت ثابت ہو چکا ہے کہ یہی الفاظ جو روایت کئے گئے ہیں آپ کی زبانِ مبارک سے نکلے ہیں اور یہ بہت ہی کم ہے۔ صرف چھوٹی چھوٹی حدیثوں میں ہے، ورنہ اکثر حدیثیں بالمعنی روایت ہوئی ہیں اور عجمیوں اور مولدین نے حدیثوں کو ان کے جمع ہونے سے پہلے استعمال کیا ہے۔ پھر خود ان کی عبارت حدیثوں کے مطلب کو جہاں کھینچ کر لے گئی وہیں پہنچا دیا، بڑھایا، گھٹایا، تقدیم و تاخیر کی اور الفاظ بدل دئے۔ اسی لئے ایک حدیث ایک ہی مضمون کی مختلف طور پر جدا جدا عبارتوں میں بیان ہوئی ہے اور اسی لئے ابن مالک پر اعتراض کیا گیا ہے کہ اُس نے الفاظِ حدیث سے قواعدِ نحویہ کو ثابت کیا ہے۔ ابوحیان شرحِ تسہیل میں لکھتا ہے کہ اس مصنف نے عربی زبان کے قواعدِ کلیہ کو اکثر الفاظِ حدیث سے ثابت کیا ہے اور اس کے سوا متقدمین اور متاخرین میں سے کوئی اس طریقہ پر نہیں چلا۔ علمِ نحو کے اول بانیوں اور زبانِ عربی کے قواعد کے محققوں جیسے ابو عمر ابن علاء، عیسیٰ بن عمر اور سیبویہ نے بصری نحویوں میں سے اور کسائی فراء، علی بن مبارک احمر اور ہشام الضریر نے کوفی نحویوں میں سے کسی نے ایسا نہیں کیا اور دونوں قسم کے نحوی متاخرین میں سے ہیں اور بغداد اور اندلس وغیرہ مختلف ملکوں کے نحوی بھی اسی طریق پر چلے ہیں۔ متاخرین میں سے ایک عالم کے سامنے اس کا تذکرہ آیا تو اُس نے کہا کہ علماء نے اس طریقہ کو اس لئے ترک کیا ہے کہ اُن کو ہرگز اعتماد نہیں ہے کہ یہ الفاظ بعینہ پیغمبرِ خدا کے ہیں۔ اگر وہ اعتماد کرتے تو قواعدِ کلیہ کے ثبوت میں حدیث بھی بمنزلۂ قرآن کے ہوتی اور یہ دو باعث سے ہوا۔ ایک تو یہ کہ راویوں نے روایت بالمعنی کو جائز سمجھا اور تم دیکھو گے کہ ایک واقعہ جو پیغمبرِ خدا کے زمانے میں ہوا تھا، انہی تمام الفاظ میں منقول نہیں ہوا ہے، جیسے کہیں کہ زوجتکها بما معک3 اور کہیں ملکتکها بما معک4 اور کہیں خذها بما معک5 الفاظ بیان ہوئے ہیں اور ہم یقیناً جانتے ہیں کہ پیغمبرِ خدا نے یہ تمام الفاظ نہیں کہے، بلکہ ہمیں اس کا بھی یقین نہیں ہے کہ ان میں سے کوئی لفظ کہا ہے، کیونکہ ممکن ہے کہ پیغمبرِ خدا نے ان الفاظ کا کوئی اور مرادف لفظ فرمایا ہو، پھر راویوں نے وہ لفظ نہ بیان کیا ہو اور اس کا مرادف لفظ کہہ دیا ہو اس لئے کہ مطلب تو معنی سے ہے اور خاص کر جب بار بار سنا گیا اور لکھا نہ گیا اور حافظہ پر بھروسا کیا گیا۔ پس ضابطہ وہی ہے جس نے مضمون یاد رکھا اور لفظ یاد رکھنا تو مشکل ہے، خاص کر لمبی حدیثوں میں اور سفیان ثوری نے کہا ہے کہ اگر میں تم سے کہوں کہ میں نے جس طرح یہ حدیث سنی ہے اُسی طرح تم سے بیان کرتا ہوں تو ہرگز یقین نہ کرنا، بلکہ وہ صرف حدیث کا مضمون ہے اور جو شخص ذرا ابھی حدیث پر غور کرے گا اس کو یقین ہو جائے گا کہ سب بالمعنی روایت کرتے ہیں۔ ابوحیان کہتے ہیں کہ میں نے اس مسئلہ میں زیادہ گفتگو اس لئے نہیں کی کہ مبتدی یہ نہ کہہ دے کہ نحوی عرب کے قول سے جن میں مسلم اور کافر دونوں ہی شامل ہیں، استدلال کرتے ہیں اور الفاظِ حدیث سے جو بخاری اور مسلم وغیرہ ثقہ اور معتمد لوگوں سے روایت ہوئی ہیں، استدلال نہیں کرتے۔ پس جو شخص ہمارے پچھلے بیان کو غور سے پڑھے گا اُسے معلوم ہو جائے گا کہ نحویوں نے حدیث سے کیوں استدلال نہیں کیا ------ اور ابوالحسن ابن صائغ شرحِ جمل میں کہتے ہیں کہ روایت بالمعنی کا جائز رکھنا میرے نزدیک اس بات کا سبب ہے کہ سیبویہ جیسے نحویوں نے زبان کے کلیہ قواعد ثابت کرنے میں حدیث سے سند نہیں لی اور اس باب میں قرآن اور عرب کے کلام پر اعتماد کیا ہے اور اگر علمائے حدیث روایت بالمعنی کو جائز نہ رکھتے تو پیغمبرِ خدا کا کلام زبانِ فصیح کے ثابت کرنے میں زیادہ قابلِ اعتماد تھا، کیونکہ پیغمبرِ خدا تمام عرب سے زیادہ فصیح تھے۔
علامہ عبدالقادر بغدادی نے خزانۃ الادب میں سیوطی کے قول کو نقل کر کے اس کی تصدیق کی ہے۔
علمائے علمِ حدیث نے جس قدر حدیثوں پر کوشش کی شکر اللہ سعیہم6 اُن کی کوشش صرف راویوں کے ثقہ اور معتمد ہونے کے دریافت کرنے میں ہوئی، مگر ہم کو نہیں معلوم ہوتا کہ جو حدیثیں معتبر سمجھی گئی ہیں اُن کے مضمون کی صحت اور عدمِ صحت دریافت کرنے کا کیا طریقہ اختیار کیا گیا تھا۔ حدیثوں کی تقسیم مرفوع، متصل، مستند وغیرہ پر کی گئی ہیں، مگر وہ تقسیم بھی بلحاظِ اسناد راویوں کے ہیں، نہ بلحاظِ درایت، یعنی بلحاظِ صحت یا عدمِ صحت یا مشتبہ ہونے مضمونِ حدیث کے۔
ہاں بلاشبہ موضوع حدیثوں کے پہچاننے کے لئے محدثین نے چند قواعد بنائے ہیں جن کے مطابق مضمونِ حدیث پر لحاظ کر کے اس حدیث کو موضوع قرار دیتے ہیں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ صحاحِ ستہ یا حدیث کی اور معتبر کتابوں میں کوئی موضوع حدیث ہے، مگر جب کہ یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ روایت حدیثوں کی باللفظ نہیں ہے بلکہ بالمعنی ہے اور الفاظِ حدیث کے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کے الفاظ نہیں ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ اُن حدیثوں کے مضامین کی صحت نہ جانچی جائے، تاکہ ظاہر ہو کہ جو مضمون اُس حدیث میں بیان ہوا ہے اُس کے بیان کرنے میں راوی سے تو کوئی غلطی نہیں ہوئی اور ہمارے نزدیک یہ بات کہنی کافی نہیں ہوئی ہے کہ جب وہ حدیثیں معتبر کتابوں میں لکھی گئی ہیں تو یہ تصور کر لینا چاہئے کہ اُن کے مضمونوں کی صحت بھی جانچ لی گئی ہے، خصوصاً اس صورت میں کہ خود علمائے اسلام اُن حدیثوں میں سے جو حدیث کی معتبر کتابوں میں لکھی گئی ہیں متعدد حدیثوں کو صحیح نہیں قرار دیتے۔
تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی حدیث میں مندرجہ ذیل نقصوں میں سے کوئی نقص پایا جائے تو وہ حدیث معتبر نہیں ہے، بلکہ موضوع ہے۔ چنانچہ شاہ عبدالعزیز صاحب عجالۂ نافعہ میں لکھتے ہیں کہ:
علامتِ وضعِ حدیث و کذبِ راوی چند چیز است:
اول۔ آنکہ خلافِ تاریخِ مشہور روایت کند۔
دوم۔ آنکہ راوی رافضی باشد و حدیث در طعنِ صحابہ روایت کند و یا ناصبی باشد و حدیث در مطاعنِ اہلِ بیت باشد و علیٰ ہذا القیاس۔
سوم۔ آنکہ چیزے روایت کند کہ بر جمیعِ مکلفین معرفتِ آں و عمل برآں فرض باشد و او منفرد بود بر روایت۔
چہارم۔ آن کہ وقت و حال قرینہ باشد بر کذبِ او۔
پنجم۔ آنکہ مخالفِ مقتضائے عقل و شرع باشد و قواعدِ شرعیہ آنرا تکذیب نماید۔
ششم۔ آنکہ در حدیث قصہ باشد از امرِ حسی واقعی کہ اگر بالحقیقت متحقق میشد ہزاراں کس آنرا نقل میکردند۔
ہفتم۔ رکاکتِ لفظ و معنی، مثلاً لفظی روایت کنند کہ بر قواعدِ عربیہ درست نشود یا معنی کہ مناسبِ شانِ نبوت و وقار نباشد۔
ہشتم۔ افراط در وعیدِ شدید بر گناہِ صغیرہ یا افراط در وعدۂ عظیم بر فعلِ قلیل۔
نہم۔ آنکہ بر عملِ قلیل ثوابِ حج و عمرہ نماید۔
دہم۔ آنکہ از عاملانِ خیر ثوابِ انبیاء موعود کند۔
یازدہم۔ خود اقرار کردہ باشد بوضعِ احادیث۔
امام سخاوی نے فتح المغیث میں ابن جوزی سے حدیث کے موضوع ہونے کی یہ نشانیاں لکھی ہیں۔
اول۔ جو حدیث کہ عقل اُس کے مخالف ہو اور اصول کے متناقض ہو۔
دوم۔ ایسی حدیث جو حس اور مشاہدہ اُس کو غلط قرار دیتا ہو۔
سوم۔ وہ حدیث جو کہ مخالف ہو قرآنِ مجید یا حدیثِ متواتر یا اجماعِ قطعی کے۔

