(ترجمہ) ’’ایک تابعی کہتے ہیں کہ میں بہت سے صحابیوں سے ملا ہوں جو معنی میں متفق اور الفاظ میں مختلف تھے۔ میں نے ایک صحابی سے کہا تو کہنے لگے کیا مضائقہ ہے اگر معنی نہ بدلیں۔ یہ شافعی کا بیان ہے اور حذیفہ کہتے تھے ہم قومِ عرب ہیں، جب حدیث بیان کرتے ہیں الفاظ آگے پیچھے کر دیتے ہیں۔ ابن سیرین کہتے ہیں کہ میں دس آدمیوں سے حدیث سنتا تھا۔ معنی یکساں اور الفاظ جدا جدا ہوتے تھے۔ تابعین میں سے حسن، شعبی اور نخعی روایت بالمعنی کرتے تھے۔ ابن صلاح کہتے ہیں کہ صحابہ اور سلفِ اولین کے حالات اس پر شاہد ہیں کہ وہ اکثر ایک مطلب کو مختلف الفاظ میں بیان کرتے تھے، کیونکہ اُن کا زیادہ تر خیال مضمون پر ہوتا تھا، نہ الفاظ پر‘‘۔
قال الحسن لو لا المعنی ما حدثنا وقال الثوری لو اردنا ان نحدثکم بالحدیث کما سمعناه ما حدثناکم بحرف واحد۔ (فتح المغیث صفحہ 277)
(ترجمہ) ’’حسن رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اگر روایت بالمعنی کی اجازت نہ ہوتی تو ہم حدیث نہ بیان کر سکتے اور ثوری کہتے ہیں کہ اگر ہم حدیث اُسی طرح تم سے بیان کرنا چاہیں جس طرح سنی ہو تو ایک حرف بھی نہیں بیان کر سکتے‘‘۔
بالآخر حدیثوں کا بعض شرطوں سے بالمعنی روایت کرنا محدثین کے نزدیک جائز قرار پایا، چنانچہ امام سخاوی فتح المغیث میں لکھتے ہیں:
ولیروا بالالفاظ التی سمع بها مقتصرا علیها بدون تقدیم ولا تاخیر ولا زیادة ولا نقص لحرف فاکثر ولا ابدال حرف او اکثر بغیره ولا مشدد بمثقل او عکسه من لا یعلم مدلولها ای الالفاظ فی اللسان ومقاصدها وما یحل معناها والمحتمل من غیره والمرادف منها وذالک علی وجه الوجوب بلا خلاف بین العلماء۔ (فتح المغیث صفحہ 275)۔
(ترجمہ) ’’اس باب میں سب کا اتفاق ہے کہ جو شخص عربی زبان کے الفاظ کے مدلول اور اس کے مقاصد اور معنی کے متغیر ہونے اور محتمل اور غیر محتمل معنی اور مرادف کو نہیں جانتا اس کے لئے ضرور ہے کہ انہی الفاظ سے روایت کرے جو اس نے سنے ہیں، بغیر تقدیم و تاخیر کے اور بغیر ایک حرف کی بھی زیادتی یا کمی کے اور بغیر ایک حرف کے بھی بدلنے کے اور مشدد کی جگہ ثقیل اور ثقیل کی جگہ مشدد لانے کے‘‘۔
واما غیره من یعلم ذالک ویحققه فاختلف فیه السلف واصحاب الحدیث وارباب الفقه والاصول فالمعظم منها اجاز له الروایة بالمعنی اذا کان قاطعا بانه ادی معنی اللفظ الذی بلغه سواء فی ذالک المرفوع او غیره کان موجبه العلم او العمل وقع من الصحابی او التابعی او غیرهما حفظ اللفظ ام لا صدر فی الافتاء والمناظرة او الروایة اتی بلفظ مرادف له ام لا کان معناه غامضا او ظاهرا حدیث لم یحتمل اللفظ غیر ذالک المعنی وغلب علی ظنه ارادة الشارع بهذا اللفظ ما هو موضوع له دون التجویز فیه والاستعارة۔ (فتح المغیث صفحہ 275)
(ترجمہ) اور جو لوگ ان لوگوں کے سوا ہیں جو ان سب باتوں کو جانتے ہیں اُن کے روایت بالمعنی کرنے میں اہلِ حدیث، اہلِ فقہ اور اہلِ اصول میں اختلاف ہے۔ بہت سے لوگوں نے اُن کو بالمعنی روایت کرنے کی اجازت دی ہے۔ اگر روایت کرنے والا قطعاً سمجھتا ہو کہ جو لفظ اس نے سنا اُس کے معنی پورے پورے ادا کر دئے ہیں اور روایت مرفوع یا غیر موضوع علم پر دلالت کرتی ہو یا عمل پر، صحابی سے ہو یا تابعی سے یا اُن کے سوا کسی اور سے منقول ہو۔ راوی نے الفاظ یاد رکھے ہوں یا نہیں۔ افتاء اور مناظرہ میں ہو یا روایت میں، اس کا مرادف لفظ بیان کیا ہو یا نہیں۔ اس کے معنی مبہم ہوں یا ایسے ظاہر کہ اس لفظ سے دوسرے معنی کا احتمال نہ نکلے اور اس لفظ سے جو کچھ شارع نے مراد لی ہے، راوی کا ظنِ غالب بھی اسی طرف گیا ہو اور اس معنی لینے میں مجاز ہو نہ استعارہ۔
ان روایتوں سے بخوبی ظاہر ہے کہ ابتداء، یعنی صحابہ و تابعین کے زمانہ سے حدیث کی روایت بالمعنی کرنے کا دستور تھا اور جو حدیثیں صحاحِ ستہ اور دیگر کتبِ حدیث میں لکھی ہیں سوائے شاذ و نادر چھوٹی حدیثوں کے وہ سب بالمعنی روایت کی گئی ہیں یعنی آنحضرت نے جو بات جن لفظوں سے فرمائی تھی وہ لفظ بعینہ و بجنسہ نہیں ہیں بلکہ راویوں نے جو مطلب سمجھا اُس کو ان لفظوں میں جن میں وہ بیان کر سکتے تھے بیان کیا۔ پھر اسی طرح دوسرے راوی نے پہلے راوی کے اور تیسرے راوی نے دوسرے راوی کے اور چوتھے راوی نے تیسرے راوی کے بیان کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اور علیٰ ہذا القیاس۔ پس حدیث کی کتابوں میں جو حدیثیں لکھی گئیں وہ اخیر راوی کے لفظ ہیں اور معلوم نہیں ہوتا کہ اس درمیان میں اصلی الفاظ سے کس قدر لفظ ادل بدل اور الٹ پلٹ ہو گئے اور کچھ عجب نہیں کہ کسی نے حدیث کے اصل مطلب کو سمجھنے میں بھی غلطی کی ہو اور اصلی حدیث کا مطلب بھی بدل گیا ہو اور اس کے یعنی غلط مطلب سمجھنے کی مثال میں متعدد حدیثیں بھی موجود ہیں۔ خود صحابہ نے حدیثِ سماعِ موتی اور حدیثِ تعذیب المیت ببکاء اهله2 کا مطلب غلط سمجھا تھا۔
اسی باعث سے کہ حدیثوں کی روایت کے جو الفاظ ہیں وہ اخیر راویوں کے ہیں جبکہ اصلی زبانِ عرب میں علمائے علمِ ادب نے حدیثوں کو سند نہیں سمجھا۔ چنانچہ کتاب الاقتراح میں لکھا ہے:—
واما کلامه صلی الله علیه وسلم فیستدل منه بما ثبت انه قاله علی اللفظ المروی وذالک نادر جدا انما یوجد فی الاحادیث القصار علی قلة ایضا فان غالب الاحادیث مروی بالمعنی وقد تداولتها الاعاجم والمولدون قبل تدوینها فردوها بما ادت الیه عبارتهم فزادوا ونقصوا وقدموا واخروا وابدلوا الفاظاً بالفاظ ولهذا تری الحدیث الواحد فی القصة الواحدة مرویا علی اوجه شتی بعبارات مختلفة ومن ثم انکر علی ابن مالک اثباته القواعد النحویة بالالفاظ الواردة فی الحدیث قال ابو حیان فی شرح التسهیل قد اکثر هذا المصنف من الاستدلال بما وقع فی الاحادیث علی اثبات القواعد الکلیة فی لسان العرب وما رایت احدا من المتقدمین والمتاخرین سلک هذه الطریقه غیره علی ان الواضعین الاولین لعلم النحو المستقرئین للاحکام من لسان العرب کابی عمر بن العلا وعیسیٰ بن عمر والخلیل وسیبویه من ائمه‘‘ البصریین والکسائی والفراء وعلی بن مبارک الاحمر وهشام الضریر من ائمه الکوفیین لم یفعلوا ذالک وتبعهم علی هذا المسلک المتاخرون من الفریقین وغیرهم عن نحاة الاقالیم کنحاة بغداد واهل الاندلس وقد جری الکلام فی ذالک مع بعض المتاخرین الاذکیاء فقال انما ترک العلماء ذالک لعدم وثوقهم ان ذالک لفظ الرسول صلی الله علیه وسلم اذ لو وثقوا بذالک لجری مجری القرآن فی اثبات القواعد الکلیة وانما کان ذالک لامرین احدهما ان الرواة جوزوا النقل بالمعنی فتجد قصة واحدة قد جرت فی زمانه صلی الله علیه وسلم لم تنقل بتلک الالفاظ جمیعها نحو ما روی من قوله زوجتکها بما معک من القرآن ملکتها بما معک خذها بما معک وغیر ذالک من الالفاظ الواردة فی هذه القصة فنعلم یقیناً انه صلی الله علیه وسلم لم یلفظ بجمیع هذه الالفاظ بل لا نجزم بانه قال بعضها اذ یحتمل انه قال لفظاً مرادفاً لهذه الالفاظ غیرها فاتت الواردة بالمرادف ولم تات بلفظه اذ المعنی هو المطلوب ولا سیما مع تقادم السماع وعدم ضبطه بالکتابة والاتکال علی الحفظ فما لضابط منهم من ضبط المعنی واما ضبط اللفظ فبعیدٌ جداً لا سیما فی الاحادیث الطوال وقد قال سفیان الثوری ان قتلت لکم انی احدثکم کما سمعت فلا تصدقونی انما هو المعنی ومن نظر فی الحدیث ادنیٰ نظر علم علم الیقین انهم انما یروون بالمعنی ------ و قال ابوحیان انما امعنت الکلام فی هذه المسئلة لئلا یقول المبتدی ما بال النحویین یستدلون بقول العرب و فیهم المسلم و الکافر و لا یستدلون بما روی فی الحدیث بنقل العدول کالبخاری و مسلم و اضرابهما فمن طالع ما ذکرناه ادرک السبب الذی لاجله لم یستدل النحاة بالحدیث انتهی کلام ابن حیان بلفظه ------ و قال ابو الحسن ابن الصائغ فی شرح الجمل تجویز الروایة بالمعنی هو السبب عندی فی ترک الائمه کسیبویه و غیره الاستشهاد علی اثبات اللغة بالحدیث و اعتمدوا فی ذالک علی القرآن و صریح النقل عن العرب و لولا تصریح العلماء بجواز النقل بالمعنی فی الحدیث لکان الاولی فی اثبات فصیح اللغة کلام النبی صلی الله علیه وسلم لانه افصح العرب و هکذا فی خزانة الادب للعلامة عبدالقادر البغدادی ناقلا عن السیوطی و مصححاله۔ (الاقتراح للسیوطی۔ (صفحہ 19، 20، 21)

