(1)
ارسطو فلسفہ کی تعلیم ٹھل ٹھل کے دیتا تھا لیکن اگر وہ فلسفیانہ مسائل کی تشریح ہنس ہنس کے کرتا تو دنیا ان کو بازیچہ اطفال بنا لیتی اور فیلسوف کی جگہ وہ ایک خوش طبع ظریف کا لقب پاتا۔ لیکن اکبر نے قوم کو اخلاق تمدن اور طرز معاشرت کے جو دقیق نکتے سکھائے ان کی تلقین تعلیم میں بھی غلطی کی۔ اس لئے قوم نے ان کے کلام کو صرف اس حیثیت سے دیکھا کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں کیونکر کہتے ہیں۔ ان کے کلام کو کسی نے اس حیثیت سے نہیں پڑھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ لیکن صورت اور مادہ میں تفریق و امتیاز بالکل ممکن ہے اور ”کیونکر“ سے ”کیا“ کو نہایت آسانی کے ساتھ جدا کیا جا سکتا ہے۔
اکبر کا دیوان دو قسم کے کلام پر مشتمل ہے: سنجیدہ و ظریفانہ۔ اگرچہ ظریفانہ حیثیت سے بھی انہوں نے محض تمسخر آمیز نقالی نہیں کی ہے بلکہ قوم کو تمدنِ جدید و تعلیمِ نو کے خطرات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم قوم نے ان کے کلام کے اس حصے کو کبھی اس حیثیت سے نہیں پڑھا کہ وہ ایک قابل عمل حقیقت ہے، بلکہ سب نے صرف اس چاٹ سے اس کی تلاوت کی کہ وہ ایک مہذب ظرافت ہے۔ لیکن ان کے ان تیز فقروں نے بزم ادب میں وہ آتشباریاں چھوڑیں کہ ان کی روشنی نے اہل محفل کی نگاہ کو بالکل خیرہ کر دیا اور ان کے سنجیدہ کلام کے رموز و اسرار اور حقائق و معارف کسی کو بھی نظر نہیں آئے۔ معارف نے ان کے کلام پر ایک بسیط تنقید شائع کی لیکن اس نے بھی ان کے اسی کلام کے عیب و ہنر دکھائے جو ظریفانہ مضامین پر مشتمل تھے۔ اب اس تنقید سے اسی کمی کا پورا کرنا مقصود ہے۔ اس میں صرف ان کے سنجیدہ کلام پر نظر ڈالی گئی ہے تا کہ تصویر کے دونوں رخ نمایاں ہو جائیں۔
رنگ کلام
عموماً تمام شعراء کا ایک رنگ ہوتا ہے جس میں ان کا کلام ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ امیر کا ایک خاص رنگ ہے جو داغ سے بالکل مختلف ہے۔ ناسخ و آتش اگرچہ ایک ہی شہر کے رہنے والے تھے لیکن سلاستِ زبان اور مضمون آفرینی نے دونوں کے کلام کو ایک دوسرے سے بالکل ممتاز کر دیا ہے۔ یہ رنگ بعض اوقات اس قدر وسعت اختیار کر لیتا ہے کہ شاعری کے مختلف اسکول قائم ہو جاتے ہیں۔ ناسخ و آتش، داغ و امیر کے تلامذہ کے کلام سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ دونوں نے مختلف مدرسوں میں تعلیم پائی ہے۔ شعراءِ دہلی اور لکھنو کے کلام کے مطالعہ سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان دونوں کالجوں کی خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل الگ تھیں، لیکن اکبر کی ہمہ گیر طبعیت نے اس کلیہ کو بالکل باطل کر دیا ہے۔ صرف یہی نہیں کہ انہوں نے سنجیدگی و ظرافت کو اس حیثیت سے بنایا ہے کہ ان کا قالب میر و انشا دونوں کی روح کی جلوہ گاہ بن گیا ہے، بلکہ سنجیدہ کلام میں بھی اس قدر بوقلمونی نظر آتی ہے کہ گویا داغ و امیر دونوں ایک ہی بزم میں ترنم ریز نظر آتے ہیں۔ اور دہلی اور لکھنو دونوں کالجوں کے پروفیسر گویا ایک ہی ہال میں درس دے رہے ہیں۔ بعض اشعار اور بعض غزلوں میں لکھنو کا رنگ اس قدر نمایاں ہے کہ ان کو ناسخ و امیر کے دیوان میں بلاتکلف شامل کر دیا جا سکتا ہے۔ مثلاً:
|
اترا دریا میں پئے غسل جو وہ غیرتِ گل |
شورِ امواج کو میں شورِ عنادل سمجھا |
|
خطِ موہوم کو ہے نقطۂ فرضی سے اک نسبت |
تمھی اپنے دہن سے کچھ کرو وصفِ کمر اپنا |
|
نزاکت کے اثر سے شعر میں بھی بندھ نہیں سکتا |
بچا جاتا ہے پہلو مجھ سے مضمونِ کمر اپنا |
|
ہماری سرخیٔ داغِ جگر سے زرد رُو ہوں گے |
جمائیں گے وہاں کیا رنگِ اُلفت اہلِ زر اپنا |
|
درد ہوتا ہے یہ کہہ کر، کئے کان آپ نے بند |
حال میرا نہ ہوا، قطرہ سیماب ہوا |
|
فکر رنگین سے ہوئی مدحتِ ندانِ صنم |
دیکھئے لعل سے پیدا در نایاب ہوا |
|
گردش بخت سے آنسو ہی نکلتے ہیں مدام |
اس میں بھی کیا اثر گردش دولاب ہوا |
|
خیال زلف میں اے دل نہ طے کر منزل الفت |
اندھیری رات میں ناداں کوئی راہ چلتا ہے |
|
لاغراس درجہ ہوا ہوں کہ جو لیٹوں میں کبھی |
تارِ بستر مجھے وسعت میں بیاباں ہو جائے |
|
سبز باغ آپ مرے اشک رواں کو نہ دکھتا میں |
موج پر رنگ جمے گا نہ کبھی کائی کا |
|
پیدا وہ جفا کے جو نئے ڈھنگ کریں گے |
تیغ نگہ ناز سے چورنگ کریں گے |
|
کافی ہیں وہ مستانہ نگاہیں وہ خطِ سبز |
اب ہم نہ کبھی شوق مہ و بنگ کریں گے |
|
ان کے دہنِ تنگ کا مضمون نہیں بندھتا |
اب قافیۂِ شعر کو ہم تنگ کریں گے |
|
کر لے گا جگہ مثلِ شرر، جذبہ الفت |
وہ سخت جو دل کو صفتِ سنگ کریں گے |
|
دم سازوں سے ملنے بھی تو پائیں کبھی اے چرخ |
آراستہ پھر بزمِ نے و چنگ کریں گے |
|
نالے دلِ پُر داغ کو سکھلائیں گے موزوں |
طاؤس کو ہم مرغِ خوش آہنگ کریں گے |
|
میلے ہیں حسینوں کے پریزادوں کے جمگہٹ |
اب جا کے قیام اپنا لبِ گنگ کریں گے |
|
ارشاد جو ہوتا ہے کہ لکھ وصفِ دہن کچھ |
معلوم ہوا آپ مجھے تنگ کریں گے |
|
اکبرؔ نہ ہو دمسازِ بتاں بہرِ خدا تم |
دل دو گے تو وہ جان کا آہنگ کریں گے |
لیکن بالکل اس کے برعکس بعض اشعار غزلوں کو پڑھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ بزم میں ہر طرف سے صرف داغ ہی داغ کی آواز آرہی ہے۔ مثلاً
|
دل تو پہلے لے چکے اب جان کے خواہاں ہیں آپ |
اس میں بھی مجھ کو نہیں انکار اچھا لیجئے |
|
غیر کو تو کر کے ضد کرتے ہیں کھانے میں شریک |
مجھ سے کہتے ہیں آکر کچھ بھوک ہو کھا لیجیئے |
|
آپ کے سر کی قسم میرے سوا کوئی نہیں |
بے تکلف آئیے کمرے میں تنہائی تو ہے |
|
جب کہا میں نے تڑپتا ہے بہت اب دل میرا |
ہنس کے فرمایا تڑپتا ہو گا سودائی تو ہے |
|
یوں مروت سے تمہارے سامنے چپ ہو رہیں |
کل کے جلسوں کی مگر ہم نے خبر پائی تو ہے |
|
مجھ سے غمِ پنہاں کا بیان ہو نہیں سکتا |
دل سینہ میں ہے، منہ میں زباں ہو نہیں ہو سکتا |
|
تم غیر کے پہلو میں ہو، میں بزم میں بیٹھوں |
مجھ سے تو یہ اے جانِ جہاں، ہو نہیں سکتا |
|
آنکھوں نے جو دیکھا ہے ترے حسن کا عالم |
واللہ زبانوں سے بیاں، ہو نہیں سکتا |
|
کس طرح کلیسا میں پڑھوں سورۂ اخلاص |
ظاہر ہے کہ یہ کام یہاں، ہو نہیں سکتا |
|
اکبرؔ تری باتیں کبھی ہوتی ہی نہیں ختم |
کیا حال ہے تیرا کہ بیاں ہو نہیں سکتا |
|
بتوں سے میل خدا پر نظر یہ خوب کہی |
شبِ گناہ و نمازِ سحر، یہ خوب کہی |
|
تمہاری خاطر نازک کا ہے خیال فقط |
دگر نہ مجھ کو رقیبوں کا ڈر، یہ خوب کہی |
|
جناب شیخ کا ہو جاؤں معتقد معقول! |
نگاہ یار رہے بے اثر، یہ خوب کہی |
|
شباب و بادۂ فکرِ مآل کا رچہ خوش |
جنون عشق و خیالِ خطر، یہ خوب کہی |
|
سوال وصل کروں یا طلب ہو بوسہ کی |
وہ کہتے ہیں مری ہر بات پرِ یہ خؤب کہی |
|
آہ جو دل سے نکالی جائے گی |
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی؟ |
|
اس نزاکت پر یہ شمشیرِ جفا |
آپ سے کیونکر سنبھالی جائے گی؟ |
|
کیا غم دنیا کا ڈر مجھ رند کو |
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی |
|
شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا |
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی |
بعض غزلوں کو پڑھ کر میر درد کا سوز و گداز یاد آتا ہے۔ مثلاً
|
وقتِ طلوع دیکھا، وقتِ غروب دیکھا |
اب فکرِ آخرت ہے، دنیا کو خوب دیکھا |
|
اُس نے خدا کو مانا، وہ ہو رہا بتوں کا |
یا اُس نے خوب سمجھا یا اِس نے خوب دیکھا |
|
نامِ خدا کو اکثر زیبِ زبان تو پایا |
عشقِ بتاں کو لیکن نقش قلوب دیکھا |
|
اوروں پہ معترض تھے لیکن جو آنکھ کھولی |
اپنے ہی دل کو ہم نے گنجِ عیوب دیکھا |
|
ہر ارادے میں نظر آتی ہے اک صورتِ یاس |
شغل اب کچھ بھی نہیں فسخِ عزیمت کے سوا |
|
اس کو تھا ناز کہ حاصل ہے مجھے راحت و عیش |
میں نے جانچا تو نہ تھا کچھ بھی وہ غفلت کے سوا |
|
سُکھ ملا جس کو زمانے میں مبارک ہو اسے |
ہم نے تو کچھ بھی نہ پایا غم و حسرت کے سوا |
|
مطمئن ہو کے لگاتا ہوں لحد میں بستر |
اب اٹھاتا ہے مجھے کون قیامت کے سوا |
|
عکس دنیا کے مرقع کا پڑا آنکھوں میں |
دل میں اتری نہ کوئی شے تری صورت کے سوا |
