اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

العلم حجاب اکبر

(تہذیب الاخلاق جلد اول نمبر 3 (دور سوم) یکم ذی الحجہ 1311ھ‌5 جون 1894ء)

بے علمی ایک عجیب صفت معصومیت کی ہے۔ دل کو راحت میں، طبیعت کو طمانیت میں رکھنے والی جیسی بے علمی ہے ویسی کوئی اور چیز نہیں ہے۔ جو کچھ وہ جانتا ہے اس کو سچ سمجھتا ہے، جو کچھ وہ کرتا ہے اس کو ٹھیک جانتا ہے۔ ایک جھیل ہے جس میں کوئی لہر ہی نہیں، کناروں تک پانی بھرا ہوا ہے مگر ہلتا تک نہیں، نہ اُس میں کوئی مچھلی ہے کہ تیرے، نہ کوئی مینڈک ہے کہ ادھر سے اُدھر اُدھر سے ادھر غوطہ لگائے، نہ دل میں کچھ دھڑکا ہے، نہ کسی بات کے سوچنے کی حاجت، جس نے جو کہا اس کو سچ جانا اور جو جس نے بتایا اُس کو مانا۔ انھی لوگوں کا مذہب صحیح ہو یا غلط، نہایت پختہ اور مضبوط ہے جس میں ذرا سی بھی کھسر اور کچھ بھی کسر نہیں۔ ان کی زندگی اچھی ہو یا بری، راہ پر ہو یا گمراہ حیوان مطلق، بلکہ ایک جمادِ متحرک کی سی ہو، مگر وہ کیسی ہی ہو بے تردد اور بے خدشہ اور عاري عن الشبهات‌شبہوں سے خالی ہے۔

مگر جہاں علم آیا اور جس قدر آیا اتنا ہی گڑ بڑ ہوا، اندھیرا چھا گیا، پردوں پر پردے پڑ گئے، اگر ایک پردہ اٹھا تو دوسرا پڑا ہوا ہے، دوسرا اٹھا تو تیسرا پڑا ہوا ہے۔ اٹھاتے چلے جاؤ کوئی نہ کوئی پردہ پڑا ہی رہے گا۔ اسی پر کہا گیا ہے کہ: العلم حجاب اكبر‌علم سب سے بڑا پردہ ہے۔ الا من شرح الله صدره ونور قلبه واعطاه نورا من انواره1۔ وهم الانبياء ورسله2۔ لا نفرق بين احد من رسله لكن الله فضل بعضهم علىٰ بعض3۔ ونعتقد ان افضلهم محمد رسول الله خاتم النبيين و افضل المرسلين4 يا ايها الذين آمنوا صلوا عليه وسلموا تسليما5 والعلماء الراسخين في العلم ورثة الانبياء6 فليس لهم العلم حجاب اكبر بل العلم لهم نور لتنوير الظلمات وآلة لكشف الغطاء والحجابات7۔

جب تک ہماری حالت عرب کے صحرا نشین بدوؤں کی تھی ہم خوش تھے۔ یہی نیلی نیلی چھت جو ہم کو دکھائی دیتی ہے خواہ اس کا کوئی وجود ہو یا نہ ہو اسی کو آسمان سمجھتے تھے۔ اس سے کچھ بحث نہ تھی کہ وہ قابلِ خرق و التیام‌پھٹنے اور جڑنے ہے یا نہیں۔ اسی چیزِ موہوم کو سقفِ مرفوع‌بلند آسمان کہتے تھے۔ ستارے اس میں جڑے ہوئے دکھائی دیتے تھے اور یہی سمجھتے تھے کہ اس چھت میں کیلیں جڑی ہوئی ہیں۔ اوپر سے مینہ برستا تھا، ہم سمجھتے تھے کہ آسمان پر سے مینہ برستا ہے۔ اس سے کچھ بحث نہ تھی کہ اوپر سے آتا ہے یا نیچے سے چڑھتا ہے۔ ہم نے اس دنیا کے سوا دوسری قسم کی دنیا نہ دیکھی تھی نہ سمجھی تھی۔ ہم سمجھتے تھے کہ دوسری دنیا بھی ایسی ہی یا اس سے کچھ اچھی ہوگی۔ ہم سو کر پھر جاگنے اور اُٹھنے کے سوا دوسری طرح اٹھنا جانتے ہی نہ تھے اور اس لیے سمجھتے تھے کہ اپنی خوابگاہ میں سے اسی طرح اٹھ کر دوسری دنیا میں چلے جائیں گے۔ ہم جانتے ہی نہ تھے کہ جو چیزیں ہم کو دنیا میں سکھ دینے والی اور خوش رکھنے والی یا دکھ دینے والی اور رنج پہنچانے والی ہیں وہی یا اُس سے کچھ اچھی یا زیادہ بری اس دنیا میں بھی ہوں گی، یہاں تک کہ اونٹ جس سے ہم کو بہت اُلفت ہے وہ بھی وہاں ہوگا، مگر اس دنیا کے اونٹ سے زیادہ خوبصورت، زیادہ گردن ہلانے والا، بہت زیادہ تیز چلنے والا۔ خدا کو ہم نے جانا تھا، مگر کیا جانا تھا، خلق آدم علىٰ صورته‌آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ ایک بہت بڑے قد کا آدمی، بلور کی سی پنڈلیاں، چمکتی ہوئی آنکھیں، نہایت سفید لمبی داڑھی، برف کی مانند سفید سر، ہاتھ میں عصائے سلطنت، ایک بہت بڑے زمرد کے تخت پر پاؤں پھیلائے یا لٹکائے بیٹھا ہے۔ بوئی8 تخت کو کندھوں پر اٹھائے پھرتے ہیں، ہالی موالی ساتھ ساتھ ہیں۔ جس بات کو کہا ہوں! ہو گئی، جس کو کہا ہیں! مٹ گئی جیسے کہ دنیا کے بادشاہ کرتے ہیں، کیونکہ اس کے سوا اور کسی قسم کی بادشاہت کو ہم جانتے ہی نہ تھے۔ ہاں ہم نے اتنا سمجھا تھا کہ وہ بادشاہ زیادہ قوت والا اور زیادہ رعب والا اور تیز حکم والا ہوگا۔

اب ہم کو علم آیا جس نے ہمارے سارے نقشے کو مٹا دیا۔ یونانیوں کو ناحق بدنام کیا جاتا ہے۔ خود انسان جس طرح اپنے جسم میں عقل میں ترقی کرتا جاتا ہے، اسی طرح قوم بھی دماغی قوتوں میں ترقی کرتی جاتی ہے۔ انسان کی ترقی اُس کی محدود عمر کے سبب محدود ہوتی ہے، مگر قوم کو اگلوں کی جمع کی ہوئی ترقی کا سرمایہ مل جاتا ہے اور وہ اس کو اور ترقی دیتے جاتے ہیں۔ پس اگر ہم کو یونانیوں سے کچھ نہ ملتا تو ایک زمانے میں ہم خود ہی وہاں تک پہنچ جاتے اور کوئی نہ کوئی اسباب اس کے لیے مہیا ہو جاتے۔ اس وقت یونانیوں کے علوم ہی وہ اسباب ہو گئے۔

خیر کچھ ہی سبب ہو، وہ ہمارے دل کا سب نقشہ مٹ گیا، اندھیرا چھا گیا، پردے پر پردے پڑ گئے اور ہم چلا اُٹھے کہ العلم حجاب اكبر۔

اتنا تو ہم نے جان لیا تھا کہ وہ شئے یا خیال یا اعتقاد جس کو لوگ مذہب کہتے ہیں انسان کا امرِ طبعی ہے، اس لیے کہ کوئی فردِ بشر اس سے نہ خالی تھا اور نہ خالی ہے اور نہ خالی ہو سکتا ہے۔ یہ بھی ہم نے جان لیا تھا کہ وہ مذہب جس کو اسلام کہتے ہیں اور مذاہب سے عمدہ اور سچا ہے، مگر ہم کو، نہ صرف ہم کو، بلکہ ہمارے بڑے بڑے علماء اور فضلاء کو وہاں بڑی مشکل پیش آئی جہاں عقل یا علم مذہبی باتوں سے لڑ گیا اور دونوں کا سچ ہونا ناممکن معلوم ہوا اور یہ خیال پیدا ہوا کہ اس طرح پر تو یہ گاڑی چلنے والی نہیں۔

جب اس طرح دلدل میں گاڑی پھنس گئی تو بہتوں نے جوا ہار دیا اور دو فریق ہو گئے۔ ایک نے کہا کہ عقل میں اتنی قوت ہی نہیں کہ مذہب کے رموز کو پہچانے، پس عقل کو بیکار سمجھنا چاہئے اور اسی کو جو مذہب میں ہے بے دلیل سچ ماننا چاہئے، یعنی اپنی حالت ایک جمادِ متحرک کی سی کر لینی چاہئے، مگر یہ نہ بتایا کہ علم کے آنے کے بعد وہ ہو کیونکر سکتی ہے اور نہ یہ جواب تسلی بخش ہو سکتا ہے کہ العلم حجاب اكبر۔

دوسرا فریق عقل و نقل کے متحد کرنے پر آمادہ ہوا، کسی نے ’’كتاب العقل و النقل9‘‘ لکھی، کسی نے ’’التفرقة بين الاسلام والزندقة10‘‘ اور ’’المضنون به علىٰ اهله و علىٰ غير اهله11‘‘ لکھی، کسی نے ’’درر وغرر12‘‘ لکھی، کسی نے ’’فصل المقال و تقرير ما بين الشريعة والحكمة من الاتصال13‘‘ لکھی اور علیٰ ہذا القیاس، مگر ہم بتاتے ہیں کہ انہوں نے کیا اصول قائم کیا۔

امام غزالیؒ کا تو سب سے چلتا اصول یہ ہے کہ انہوں نے وجود کی پانچ قسمیں بنائی ہیں: وجودِ ذاتی، یعنی حقیقی وجود کہ خارج میں موجود ہو اور حس اور عقل کے سمجھنے کے قابل۔

وجودِ حسّی۔ یعنی ایسا وجود جو آنکھ سے محسوس ہوتا ہو، مگر خارج میں اس کا وجود نہ ہو۔

وجودِ خیالی۔ یعنی جو صرف خیال ہی خیال میں ہو۔

وجودِ عقلی۔ یعنی ایک چیز کی حقیقت اور اس کی غایت۔

وجودِ شبہی۔ یعنی نہ وہ وجود ہو نہ في الخارج‌خارج میں نہ في الحس‌حس میں نہ في الخيال‌خیال میں نہ في العقل‌عقل میں، بلکہ ایسی چیز موجود ہو جو اس کی کسی خاصیت یا صفت میں مشابہ ہو۔ اب وہ کہتے ہیں کہ جس چیز کے وجود کی رسول نے خبر دی ہے ان پانچوں قسموں میں سے کسی قسم میں اس کا وجود مان لینا کافی ہے۔ بے شک یہ ایسا اصول ہے کہ بہت کچھ عقل و نقل کے تعارض کو رفع کرتا ہے، مگر جمادِ متحرکہ تو اس کو کبھی نہیں ماننے کے۔

علامہ شریف مرتضیٰ علم الہدیٰ نے (جس کی عزارۃ علم‌علمی وسعت سے سُنّی بھی انکار نہیں کر سکتے) یہ اصول قرار دیا ہے کہ جو امر دلیلِ عقلی سے ثابت ہو تو واجب ہے کہ جو خبر، یعنی نقل بظاہر اس کے خلاف ہو تو خبر کو دلیلِ عقلی کے مطابق کر لیں گے اور اُس کی ظاہری مراد کو چھوڑ دیں گے۔ اُس میں کوئی شرط لگا دیں گے یا اس کی تخصیص کر دیں گے یا اس میں تفصیل کر دیں گے اور جب ہم قرآن میں ایسا کرتے ہیں تو حدیثِ احاد میں جو مفیدِ یقین نہیں ہیں، ایسا کرنے میں کیا تامل ہے، پھر اگر کوئی حدیث اس طرح پر بھی موافق دلائلِ عقلی نہ ہو سکے تو اسے پھینک دیں گے۔