تہذیب الاخلاق یکم ذی الحجہ 1312ھ۔ جلد دوم نمبر 3) (دور سوم)
قال الله تعالیٰ یُوْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ اِنِّیْٓ اَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوَاتِ ولْاَرْضِ وَ عِنْدَهٗ مَفَاتِیْحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُهَآ اِلَّا هُوَ۔ عَالِمُ الْغَیْبِ والشَّهَادَةِ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (جو) غیب پر ایمان لاتے ہیں۔ میں آسمانوں اور زمین کا غیب جانتا ہوں۔ اور اسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں، انہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ غیب اور حاضر کا جاننے والا۔
غیب کا اطلاق ان حقائق پر ہوتا ہے جو انسان کے ادراک سے باہر ہیں یا جن کے وقوع سے پہلے انسان ان کو نہیں جان سکتا۔ جیسے خدا کی ذات اور اُس کی صفات، عالم کے پیدا ہونے کی کیفیت، روح اور جان کی حقیقت، موجودات کی ماہیت، ان مدبرا کی حقیقت جن کو خدا نے اس عالم کا مدبر کیا ہے۔ کوئی شخص نہیں جانتا کہ کل اس پر کیا گزرے گی اور نہ کوئی شخص جانتا ہے کہ وہ کس جگہ مرے گا۔ موت کے بعد کیا ہوگا اور قیامت کی حقیقت کیا ہے اور کب ہوگی۔
واضح ہو کہ قیامت سے ہماری مراد مضمحل ہو جانا ارکانِ عالم کا ہے اُس فطرت کے مطابق جس فطرت پر خدا نے اُس کو پیدا کیا ہے۔
عالمِ غیب کی نسبت جو کچھ ہم نے بیان کیا وہ کوئی خیالی امر نہیں ہے۔ بلکہ دنیا میں انسان ایسی چیزوں کا وجود پاتا ہے۔ جن کی حقیقتوں کو ادراک نہیں کر سکتا۔ پس وہی حقیقتیں ہیں جو عالمِ غیب سے تعبیر کی جاتی ہیں۔
مثلاً انسان و حیوان میں ایک قوت پائی جاتی ہے جس کو جان کہتے ہیں اور اُس میں اور اشجار میں ایک قوت پائی جاتی ہے جس کو نامیہ کہتے ہیں مگر اُن قویٰ کی حقیقت انسان کے ادراک سے خارج ہے۔
مقناطیس میں ہم ایک قوتِ جاذبہ اور قوتِ انحراف جانبِ قطبِ شمالی پاتے ہیں، مگر اُن کی حقیقت نہیں جان سکتے۔
ہزاروں چیزیں دنیا میں ہیں اور ایک دوسرے سے مل کر تیسری چیز ہو جاتی ہے اور ہم نہ اُن میں سے کسی کی حقیقت جانتے ہیں اور نہ یہ جانتے ہیں کہ اُن کے ملنے سے تیسری چیز بن جانے کی حقیقت کیا ہے۔
یہ تمام قویٰ اعلیٰ اور ادنیٰ، ضعیف و قوی مع اپنی تمام اقسام کے عالمِ غیب میں داخل ہیں اور قویٰ مدبرِ عالم کہلاتے ہیں۔ خدا نے بھی اُن پر مدبرات کا لفظ اطلاق کیا ہے جہاں فرمایا ہے کہ فَالْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا1 اور دوسری جگہ فرمایا ہے: فَالْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا2 اور انہی قوائے مدبراتِ عالم پر کتبِ سماوی اور زبانِ شرع میں ملِک اور ملائکہ کا اطلاق ہوا ہے۔
عبداللہ بن مسعود کی روایت میں جو صحیح مسلم میں ہے یہ لفظ ہیں ’’ثم یرسل الله الملک فینفخ فیه الروح‘‘ یعنی جب بچہ ماں کے پیٹ میں دو چلہ3 کا ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ اُس میں روح پھونک دیتا ہے۔
اور حذیفہ ابن اسید کی روایت میں یہ لفظ ہیں: یدخل الملک علی النطفة بعد ما تستقر فی الرحم باربعین او خمسة و اربعین لیلة فیقول کذا و کذا، یعنی جبکہ نطفہ رحم میں ٹھہر جاتا ہے چالیس رات یا پینتالیس رات تو ایک فرشتہ نطفہ پر داخل ہوتا ہے اور چنیں و چناں کہتا ہے۔
اور عبداللہ بن مسعود کی روایت میں یہ لفظ ہیں: اذا مر بالنطفة اثنتان و اربعون لیلة بعث الله الیها ملکا فصورها و خلق سمعها و بصرها و جلدها و لحمها و عظامها، یعنی جب نطفہ پر بیالیس راتیں گذر جاتی ہیں تو اللہ اُس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اُس کی صورت بناتا ہے اور کان، آنکھ، جلد اور گوشت اور ہڈیاں بناتا ہے۔
حذیفہ بن اسید الغفاری کی روایت میں یہ الفاظ ہیں: ان ملکا موکلا بالرحم اذا اراد الله ان یخلق شیئا باذن الله لبضع و اربعین لیلة، یعنی ایک فرشتہ عورت کے رحم میں متعین ہے۔ جب خدا چاہتا ہے کہ پیدا کرے کچھ تو خدا کے حکم سے چالیس اور چند راتوں بعد وہ فرشتہ ویسا ہی کرتا ہے جیسا خدا کا حکم ہے۔
اور حذیفہ بن اسید الغفاری کی روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں: یا رب اسوی او غیر سوی، یعنی فرشتہ جو رحم میں نازل ہوا ہے وہ خدا سے پوچھتا ہے کہ وہ بچہ سیدھا پیدا ہو یا کبڑا۔ جیسا حکم ہوتا ہے ویسا ہی کر دیتا ہے۔
اور انس بن مالک کی روایت میں یہ لفظ ہیں: ان الله قد وکل بالرحم ملکا فیقول ای رب نطفة ای رب علقة۔ ای رب مضغة۔ فاذا اراد الله ان یقضی خلقا قال قال الملک ای رب ذکر او انثی، یعنی خدا نے رحم میں ایک فرشتہ متعین کر رکھا ہے۔ وہ کہتا ہے اے پروردگار نطفہ ہی رہے، اے پروردگار علقہ ہی رہے۔ اے پروردگار مضغہ ہی رہے، پھر جبکہ خدا ارادہ کرتا ہے کہ اُس سے مخلوق پیدا کرے تو فرشتہ خدا سے پوچھتا ہے کہ لڑکا پیدا ہو یا لڑکی۔
اور سورۂ آل عمران میں خدا فرماتا ہے: هُوَ الَّذِیْ یُصَوِّرُکُمْ فِی الْاَرْحَامِ کَیْفَ یَشَاءُ، یعنی خدا وہ ہے جو تمہاری صورتیں بناتا ہے رحموں میں جیسی کہ چاہتا ہے۔
مسلم میں عبداللہ بن مسعود کی روایت میں یہ لفظ آئے ہیں: ’’و یومر باربع کلمات یکتب رزقه و اجله و عمله و شقی او سعید‘‘ یعنی جب بچہ اپنی ماں کے پیٹ میں مضغہ ہو جاتا ہے تو خدا ایک فرشتہ بھیجتا ہے جو اُس میں روح پھونکتا ہے اور چار باتوں کا اُسے حکم دیا جاتا ہے۔ وہ فرشتہ اُس کا رزق اور موت کا وقت اور اُس کا عمل کہ کیا کرے گا اور یہ کہ شقی ہوگا یا سعید لکھ دیتا ہے۔
اور انہی کی دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں: ’’ثم یقول یا رب اجله فیقول ربک ما شاء و یکتب الملک ثم یخرج الملک بالصحیفة فی یده فلا یزید علیٰ امر و لا ینقص‘‘ یعنی جب نطفہ کے رحم میں پڑنے پر بیالیس راتیں گذر جاتی ہیں تو خدا ایک فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ اُس نطفہ میں صورت اور آنکھ، کان اور گوشت اور ہڈی اور پوست اور لڑکا یا لڑکی بنانے کے بعد خدا سے اُس کی موت کے وقت کو پوچھتا ہے اور جو خدا کہتا ہے وہ لکھ لیتا ہے۔ پھر وہ فرشتہ اُس کے رزق کو پوچھتا ہے اور جو خدا کہتا ہے وہ لکھ لیتا ہے۔ پھر فرشتہ اُس لکھی ہوئی کتاب کو ہاتھ میں لئے ہوئے نکلتا ہے۔ پھر جو کچھ اُس میں ہے نہ اُس سے زیادہ ہوتا ہے نہ کم۔
ظاہر ہے کہ ان حدیثوں میں جو الفاظ یکتب اور یخرج الملک بالصحیفة کے ہیں اُن کے لغوی معنی تو کسی طرح مراد نہیں ہو سکتے۔ پس یہ تمام الفاظ کنایہ ہیں اس امر کا کہ انسان اپنی ماں کے رحم ہی میں ایک جبلت پر مجبول4 ہوتا ہے اور اسی پر ہمیشہ رہتا ہے۔ ماں کے رحم ہی میں بچہ کے اعضاء اور دل و دماغ اس طرح پر بن جاتے ہیں کہ اُس کے تمام افعال جو آئندہ اُس سے سرزد ہوتے ہیں اُسی کے مطابق ہوتے ہیں جس پر وہ مجبول ہے، یعنی اپنی ماں کے پیٹ میں بنایا گیا ہے۔ حدیث میں بھی آیا ہے، جیسا مسلم میں عمران بن حصین کی روایت میں ہے کہ: ’’کل میسر لما خلق له‘‘ یعنی ہر شخص کو اُسی کام میں آسانی دی گئی ہے جس کے لئے وہ پیدا کیا گیا ہے اور خدا نے فرمایا ہے: ’’وَ نَفْسٍ وَّ مَا سَوَّاهَا فَاَلْهَمَهَا فُجُوْرَهَا وَ تَقْوَاهَا قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰهَا وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰهَا‘‘ یعنی قسم ہے جان کی اور جس نے درست کیا اُس کو، پھر ڈالی اُس میں اُس کی برائی اور اُس کی بھلائی۔ بے شک کامیاب ہوا وہ جس نے اُس کو پاک کیا اور بے شک نامراد ہوا وہ جس نے اس کو روند دیا۔ اس قسم کے الفاظ سے مقدرات کا بیان مقصود ہوتا ہے نہ ان کے حقیقی معنوں کا۔
ان تمام روایتوں سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں قوتوں پر جو کہ خدا نے نطفہ میں اور عورت کے رحم میں رکھی ہیں، ملک کا لفظ اطلاق ہوا ہے۔ دخولِ ملک سے اُس قوت کا ظہور مراد ہے جو نطفہ اور رحم میں ہے اور لڑکا اور لڑکی کا سیدھا اور کبڑا پیدا ہونا بھی نتیجہ اُنہیں قوتوں کا ہے جو نطفہ اور رحم میں خدا نے رکھی ہیں اور اُن پر ملک کا اطلاق ہوا ہے اور گویا وہ قوتیں زبانِ حال سے خدا سے پوچھتی ہیں کہ لڑکا ہو یا لڑکی، سیدھا ہو یا کبڑا۔
خدا تعالیٰ نے فرشتوں کی تعریف میں فرمایا ہے: ’’لَا یَعْصُوْنَ الله مَا اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُوْمَرُوْنَ‘‘ یعنی وہ نہیں نافرمانی کرتے اللہ کے اُس حکم میں جو اُن کو دیا گیا ہے اور کرتے ہیں جو حکم کہ اُن کو دیا جاتا ہے۔ یہ تعریف بالکل قویٰ مدبرِ عالم پر صادق آتی ہے کہ جس کام کے لئے خدا نے اُن کو بنایا ہے وہی کرتے ہیں اور کبھی اُس میں خطا نہیں کرتے۔

