(ترجمہ) ’’حضرت عمرؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے پیغمبرِ خدا اِس کے تین دن بعد ملے اور فرمایا کہ اے عمر تو جانتا ہے کہ وہ سائل کون تھا۔ وہ جبریل تھا اور تمہارے پاس آیا تھا کہ تم کو تمہارا دین سکھائے‘‘۔
اور اور روایتوں میں اس طرح پر ہے:—
فی روایة ابی عوانة فلبثنا لیالی فلقینی رسول الله صلی الله علیه و سلم بعد ثلاث و لابن حبان بعد ثلاثه و لابن منده بعد ثلاثة ایام (فتح الباری جلدِ اول صفحہ 115)۔
(ترجمہ) ’’ابو عوانہ کی روایت میں ہے کہ چند راتیں گذریں، پھر مجھ سے پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم ملے بعد تین کے اور ابن حبان اور ابن مندہ کی روایت میں ہے بعد تین دن کے‘‘۔
ابو فروہ اور ابو عامر اور سلیمان کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت نے بھی اُس شخص کو نہیں جانا تھا کہ وہ جبرئیل ہے، مگر جب اس کو ڈھونڈا اور وہ نہ ملا تو آپ نے فرمایا کہ وہ جبرئیل تھا۔ اگر درحقیقت وہ شخص جبرئیل ہوتا تو ممکن نہ تھا کہ آنحضرت اُس کو نہ پہچانتے۔ نسائی کی روایت میں بھی اُس شخص کے نہ پہچاننے کا ذکر ہے۔ پھر بیان ہے کہ وہ جبرئیل تھا، دحیة الکلبی کی صورت بن کر آیا تھا۔ یہ روایت اُن تمام روایتوں سے مختلف ہے، کیونکہ دحیة الکلبی کو سب جانتے تھے۔ حضرت عمرؓ کا یا اور صحابہ کا اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا ان کو نہ پہچاننا تعجب کی بات ہے۔ یہ اختلافات ایسے ہیں کہ جن میں کسی طرح پر تطبیق نہیں ہو سکتی۔ معہذا ان سب اختلافوں کو چھوڑ دو، یہ بات کچھ کم تعجب کی نہیں ہے کہ جبرئیل کسی صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آئیں اور آنحضرت اُن کو نہ پہچانیں۔
ان تمام حدیثوں پر غور کرنے سے اصل واقعہ اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر آپ سے اسلام کو پوچھا۔ آپ نے اُس کو بتا دیا۔ جب وہ چلا گیا اور پھر اس کا پتہ نہ لگا تو کہا گیا کہ وہ جبرئیل تھا۔ اول تو بعض روایات کے سیاق سے یقین نہیں ہو سکتا کہ اُس شخص کو جبرئیل کہنا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا قول تھا، بلکہ وہ راویوں کا خیال ہے اور بعض راویوں نے اپنے خیال کو آنحضرتؐ کا قول کہہ دیا، کیونکہ جب اس کا پتا نہ ملا تب کہا گیا کہ وہ جبرئیل، یعنی فرشتہ تھا اور اگر آنحضرت ہی کا قول ہو تو بھی وہ فرمانا ایسا ہی تھا جس طرح کسی شخصِ نا معلوم کو کہہ دیتے ہیں کہ فرشتہ تھا۔ ہرگز آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصود اس قول سے یہ نہیں پایا جاتا کہ جو شخص آیا تھا وہ درحقیقت جبرئیل فرشتہ تھا، بلکہ ایک اجنبی شخص تھا آدمیوں میں سے جس نے اسلام کا حال آنحضرتؐ سے آ کر پوچھا تھا۔
بعض حدیثوں میں بیان ہے کہ فرشتے انسان کی صورت میں بن کر آنحضرتؐ کے پاس آتے تھے جیسے کہ بخاری میں حارث بن ہشام کی روایت میں ہے ’’و احیانا یتمثل لی الملک رجلا فیکلمنی فاعی ما یقول‘‘ یعنی وحی آنے کی نسبت آنحضرتؐ نے فرمایا کہ کبھی تو وہ گھنٹوں کی آواز کی مانند آتی ہے اور کبھی فرشتہ آدمی کی صورت بن جاتا ہے۔ پھر مجھ سے کلام کرتا ہے۔ پھر میں یاد کر لیتا ہوں جو کچھ کہ وہ کہتا ہے۔
اور اصابہ میں نسائی کے حوالہ سے یہ روایت نقل کی ہے۔
روی النسائی باسناد صحیح عن یحیی بن معمر عن ان عمر رضی الله عنهما کان جبریل یاتی النبی صلی الله علیه و سلم فی صورة دحیة الکلبی (اصابہ جلدِ اول صفحہ 972)۔
(ترجمہ) ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس جبریل دحیة الکلبی کی صورت میں آتے تھے‘‘۔دحیة الکلبی تمام عرب میں نہایت خوب صورت تھے اور دحیة الکلبی کی صورت میں آنے سے غالباً یہ مراد ہے کہ اچھی صورت میں آتے تھے۔
شاہ ولی اللہ صاحب نے تو تمثل سے تمثل برزخی مراد لی ہے، یعنی بین المثال و الشهادة5 جس کے معنی وہی سمجھتے ہوں گے مگر ہماری سمجھ میں تو نہیں آتے۔ غالباً اور کوئی بھی نہیں سمجھتا ہوگا۔ مگر اس امر کی نسبت کہ جب حضرت جبرئیل آدمی کی صورت بن کر رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کے پاس آتے تھے تو اُن کا اصلی جسم کیا ہوتا تھا، علمائے اسلام نے عجیب عجیب بحثیں کی ہیں۔ امام الحرمین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اُن کے جسم کی زیادتی کو فنا کر دیتا تھا اور پھر پیدا کر دیتا تھا۔ ابن عبدالسلام فرماتے ہیں کہ جسم کی زیادتی کو الگ کر دیتا تھا، فنا نہیں کرتا اور اس بات کو سب نے قرار دیا ہے کہ حضرت جبرئیل جو انسان کی صورت میں بن جاتے تھے تو ان کا اصلی جسم مر نہیں جاتا تھا، بلکہ وہ بھی زندہ رہتا تھا اور امام الحرمین سے یہ بھی منقول ہے کہ ممکن ہے کہ جبرئیل اپنی اصلی صورت میں آتے ہوں مگر وہ سکڑ کر آدمی کی صورت میں بقدرِ انسانی جثہ کے بن جاتے ہوں اور جب جاتے ہوں پھر اپنی صورت میں آ جاتے ہوں۔ اس کے ثبوت میں روئی کی مثال دی ہے کہ پھولی ہوئی روئی کو جب دباؤ تو چھوٹی ہو جاتی ہے اور جب چھوڑو تو پھر پھول کر بڑی ہو جاتی ہے۔ (فتح الباری شرحِ صحیح البخاری جلدِ اول صفحہ 20)۔
بعض علماء نے اس طرح پر بحث کی ہے کہ جب جبرئیل دحیہ کی صورت میں آتے تھے تو اُن کی روح کہاں ہوتی تھی۔ اگر وہ جسم میں ہوتی تھی جس کے چھ سو پر ہیں تو جو آنحضرتؐ کے پاس آتا تھا نہ وہ جبرئیل کا جسم ہوتا تھا اور نہ اُس کی روح اور اگر روح جبرئیل کی اُسی جسم میں ہوتی تھی جو دحیہ کی صورت میں آنحضرتؐ کے پاس آتا تھا تو حضرت جبرئیل کا اصلی جسم مر جاتا تھا یا بغیر روح کے رہتا تھا۔ آخر کو یہ قرار دیا کہ دحیہ کی صورت میں روح آنے سے اصلی جسم کا مر جانا لازمی نہیں ہے (عینی شرحِ بخاری جلدِ اول صفحہ 54)۔
غرض کہ علماء نے اس باب میں ایسی تقریریں کی ہیں کہ ہماری سمجھ تو اس کے سمجھنے سے قاصر ہے، مگر اُن علماء نے نفسِ انسانی کے خواص پر غور نہیں کی۔ انسان کے نفس میں ایسی قوتیں مخفی ہیں جن کو اس زمانہ میں قوتِ مقناطیسی سے تعبیر کیا جاتا ہے جس سے مختلف طرح کے عجائبات ظہور میں آتے ہیں۔ وہ قوت دوسرے انسان کے نفس پر اثر کرتی ہے اور خود اپنے نفس پر مؤثر ہوتی ہے، جب کہ انسان تمام دیگر تعلقات سے اپنے تئیں منقطع کر کے ایک جانب متوجہ ہوتا ہے تو اس کو ایسا استغراق ہو جاتا ہے کہ سوائے اس کے تمام دیگر موجودات اور خیالات اُس سے محو ہو جاتے ہیں اور بجز اُسی ایک حال کے اور کچھ اُس کے خیال میں نہیں رہتا۔ خواب میں وہ اُسی خیال کے متعلق بہت سے امور دیکھتے ہیں۔ جب وہ خیال ذاتِ باری اور صفاتِ باری میں منہمک ہوتا ہے تو نفس کے تقدس اور تقرب الی اللہ کی دلیل ہوتا ہے۔ وہ خدا کو دیکھتا ہے جس کا جواب موسیٰ سن چکا تھا ’’لن ترانی6‘‘ اور دیگر عجائباتِ ملکوت اُس کے خیال کے مطابق اُس کو دکھائی دیتے ہیں۔
ترمذی میں رسولِ خدا سے معاذ ابن جبل کی روایت ہے:
انی قمت من اللیل فتوضأت فصلیت ما قدر لی فنعست فی صلواتها فاستثقلت فانا بربی تبارک و تعالی فی احسن صورة (الحدیث) (ترمذی صفحہ 535)۔
’’میں رات کو اٹھا اور وضو کیا اور نماز پڑھی جتنی ہو سکی۔ پھر میں نماز میں اونگھ گیا اور بوجھل ہو گیا— دفعۃً میں نے خدا کو دیکھا اچھی صورت میں‘‘۔
اور ترمذی کی دوسری روایت میں ہے جو ابن عباس سے ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:
’’اتانی اللیلة ربی نبارک و تعالی فی احسن صورة قال احسبه فی المنام۔ (الحدیث) (ترمذی صفحہ 535)۔
(ترجمہ) ’’رات کو خدا میرے پاس آیا اچھی صورت میں— ابن عباس کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ آنحضرت نے فرمایا تھا سونے میں‘‘۔
جس طرح سونے کی حالت میں تعلقاتِ ظاہری منقطع ہو جاتے ہیں اور جس میں انسان کو انہماک ہے وہی خیالات مجسم صورت میں انسان کو دکھائی دیتے ہیں وہی حالت انسان پر بیداری میں حالتِ استغراق اور انہماک میں طاری ہوتی ہے اور بیداری میں بھی اُسی طرح سب چیزیں اپنی آنکھ سے دیکھتا ہے جیسے کہ حالتِ خواب میں دیکھتا ہے۔ وہ بن آواز دینے والے کے سنتا ہے۔ بغیر کسی موجود فی الخارج کے موجود فی الخارج دیکھتا ہے۔ بغیر موجود ہونے کسی بات کہنے والے کے ایک وجود موجود کو متکلم پاتا ہے۔ چونکہ ذاتِ پاک انبیاء علیہم السلام کی بہت زیادہ مقدس اور منہمک فی اللہ اور فی صفات اللہ ہوتی ہے اُن کو کامل استغراق فی ذات اللہ اور فی صفات اللہ ہوتا ہے، اُسی استغراق اور انہماک کے سبب کبھی بغیر کسی آواز کرنے والے کے آواز سنتے ہیں اور بغیر کسی موجود کے ایک وجود موجود کو پاتے ہیں جو اُن سے اور وہ اُس سے کلام کرتے ہیں۔ اسی حالت کے واقعات ہیں جن کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ فرشتہ آدمی کی صورت بن کر میرے سامنے آتا ہے، مجھ سے بات کرتا ہے اور جو وہ کہتا ہے اُس کو یاد کر لیتا ہوں۔ و هو الصادق المصدوق و ما قاله فهو حق نومن به و نصدقه7۔ پس یہ سب صورتیں وہی ہیں جن کو خود نفوسِ مقدسہ پیدا کرتے ہیں، نہ اور کچھ۔ اولیاء اللہ پر بھی یہ حالت طاری ہوتی ہے اور اس حالت میں جو انکشاف ان کو ہوتا ہے اُس کو مشاہدہ اور مکاشفہ اور الہام اور نفث فی الروع سے تعبیر کرتے ہیں۔ و هذا اما نفث ربی فی روعی8۔
اردو جریدہ نے یہ مضمون «مقالاتِ سر سید»، حصہ اوّل (مرتبہ محمد اسماعیل پانی پتی، مجلس ترقی ادب، لاہور)، صفحہ 128 تا 143 سے ڈیجیٹائز کیا ہے۔

