اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

عالمِ غیب

کوئی شخص یہ کہہ سکتا ہے کہ اگر قویٰ مدبرِ عالم پر ملائک کا اطلاق ہوا ہے جیسے کہ مذکورہ بالا حدیثوں میں ملک سے کوئی قوت منجملہ قویٰ مدبرِ عالم مراد لی ہے تو ملک کے وجودِ مستقل جداگانہ ہونے سے بھی انکار کرنا لازم آئے گا، اس لئے کہ قویٰ مدبرِ عالم مادہ میں ہوتے ہیں اور خارج از مادہ اُن کا کوئی وجودِ مستقل نہیں پایا جاتا۔ پس اُن حدیثوں کی نسبت کیا کہا جائے گا جن میں فرشتوں کی نسبت ایسے افعال بیان ہوئے ہیں جو وجودِ مستقل اور جوہرِ قائم بالذات سے صادر ہوتے ہیں۔

مگر یہ بات جاننی چاہئے کہ اگلے زمانہ کے یونانی فلاسفر مثل افلاطون وغیرہ کے اعیانِ ثابتہ غیر مادی کو مانتے ہیں۔ یہودی اور عیسائی اور عرب کے بت پرست بھی فرشتوں کو مجسم اور متحیز مانتے تھے اور اُن کے جسم کے مادہ کو انسان کے جسم کے مادہ سے ایک جداگانہ قسم کا مادہ اور اُس سے اعلیٰ قرار دیتے تھے۔ اُن کا یہ بھی خیال تھا کہ فرشتے انسان کی صورت بن جاتے ہیں اور انسانوں کے پاس آتے ہیں اور انسانوں کو دکھائی بھی دے جاتے ہیں۔

اس قسم کے خیالات کا انسان میں پیدا ہونا ایک امرِ طبعی ہے۔ انسان جب کسی ایسی شے کا خیال کرتا ہے جس کو نہیں دیکھتا تو خواہ نخواہ اپنے ذہن میں اُس کی ایک صورت تصور کر لیتا ہے اور رفتہ رفتہ وہ خیال ایسا مستحکم ہو جاتا ہے کہ وہ خیالی صورت بطور اصلی اور واقعی صورت کے اُس کے خیال میں جم جاتی ہے۔ تمام دیوتا اور دیویوں کی مورتیں جو بت پرستوں نے بنا لی ہیں وہ اسی منشاء سے بنائی گئی ہیں۔ عرب کے بت پرستوں نے بھی اسی منشاء سے اپنے بتوں کی صورتیں بنا لی تھیں۔

مگر یہ مسئلہ کہ صرف قویٰ ہی مدبرِ عالم ہیں جو مادہ کے ساتھ ہوتی ہیں اور اُن کا کوئی وجودِ مستقل خارج از مادہ نہیں ہے ایسا نازک اور دقیق ہے کہ عام آدمی اُس کو سمجھ نہیں سکتے۔ برخلاف اس کے اگر اُس کو اس طرح بیان کیا جائے کہ گویا وہ ایک جداگانہ وجودِ مستقل ہیں تو ہر شخص اس کو بخوبی سمجھ سکتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام کو ہدایتِ عامہ مقصود ہوتی ہے اس لئے اس امر کو صاف طرح پر بحث میں لانا جو عام لوگوں کی سمجھ سے خارج ہے، بلاشبہ اُن کے کام میں جس کے لئے وہ مبعوث ہوئے ہیں ہرج ڈالنے والا تھا اور اس امر کے ماننے سے کہ اُن کا کوئی وجود فی الخارج بھی ہے اُن کے کام میں اور اُس امر کی ہدایت میں جس کے لئے وہ مامور تھے کچھ ہرج ڈالنے والا نہیں تھا، اس لئے انبیاء علیہم السلام کو اس امر کی نسبت کسی خاص بحث کی ضرورت نہ تھی۔ ہاں البتہ ان کو ایسے الفاظ میں اور تمثیلوں میں اُس کا بیان کرنا ضرور تھا کہ جو حقیقت ہے وہ بھی اُس سے پائی جائے اور عام لوگوں کی بھی سمجھ کے لائق ہو جیسے کہ اُن حدیثوں سے ظاہر ہے جن کو ہم نے ابھی بیان کیا۔

باقی رہیں وہ حدیثیں جن میں فرشتوں کی نسبت ایسے افعال بیان ہوئے ہیں جو وجودِ مستقل اور جوہرِ قائم بالذات سے صادر ہوتے ہیں اُن کی نسبت اول تو ہم اس بات کی طُمانیت چاہتے ہیں کہ اُن حدیثوں کے وہی الفاظ ہیں جو پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔ اس پر طمانیت ہونا نہایت مشکل قریب ناممکن کے ہے، اس لئے ہم قبول کرتے ہیں کہ اُن کے الفاظ وہی ہیں جو پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ و سلم کی زبانِ مبارک سے نکلے تھے یا کم سے کم یہ کہ راوی نے یہی سمجھا تھا کہ وہی لفظ یا اُس کے مرادف یا اُس کے ہم معنی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائے تھے۔ تو بھی ہم کو کچھ شبہ نہیں ہے کہ وہ سب بطور استعارہ اور تمثیل کے بیان ہوئے ہیں نہ بطور بیانِ حقیقتِ واقعہ کے۔ چنانچہ تمثیلاً اُن حدیثوں کو جن میں اس قسم کے الفاظ پائے جاتے ہیں اس مقام پر بیان کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ اُن لوگوں کے مؤید جو ملائک کو مخلوقِ جداگانہ مانتے ہیں وہ حدیث ہے جو حضرت عمرؓ سے روایت کی گئی ہے اور جس میں بیان کیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نہایت سفید چٹے کپڑے پہنے ہوئے نہایت سیاہ بالوں والا جس پر کچھ سفر کی علامتیں بھی نہیں معلوم ہوتی تھیں آیا اور پوچھا کہ اسلام کیا چیز ہے۔ حضرت نے اُس کو بتایا جس کی تفصیل حدیث میں ہے۔ اُس کے بعد یہ لفظ ہیں۔ ’’ثم انطلق فلبثت ملیا ثم قال یا عمر اتدری من السائل قلت الله و رسوله اعلم قال فانه جبرئل اتاکم یعلمکم دینکم‘‘ یعنی جب وہ چلا گیا تو تھوڑی دیر ہم ٹھہرے۔ پھر آنحضرت نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمر تو جانتا ہے کہ پوچھنے والا کون تھا۔ میں نے کہا اللہ اور رسول جانتا ہے۔ آنحضرت نے فرمایا کہ وہ جبرئیل تھا۔ تمہارے پاس آیا، تاکہ تم کو تمہارا دین سکھلاوے۔

یہ لفظ مسلم کے ہیں اور بخاری میں ہے ’’ثم ادبر فقال ردوه فلم یروا شیئا فقال هذا جبریل جاء یعلم الناس دینهم‘‘ یعنی جب وہ پیٹھ پھیر کر گیا تو آنحضرت نے فرمایا کہ اُس کو پھیر لاؤ۔ تو پھر کچھ نہیں دکھائی دیا۔ پھر آنحضرت نے فرمایا کہ یہ جبرئیل آیا تھا تاکہ سکھائے لوگوں کو اُن کا دین۔

قبل اس کے کہ ہم اس کے معنی بتائیں ہم کو دکھانا چاہئے کہ اس باب میں کس قدر اختلافات ہیں۔ فتح الباری شرحِ بخاری میں یہ روایتیں لکھی ہیں۔

و فی روایة ابی فروة و الذی بعث محمدا بالحق ما کنت باعلم به من رجل منکم و انه جبریل۔

وفی حدیث ابی عامر ثم ولی فلم نر طریقه قال النبی صلی الله علیه و سلم سبحان الله هذا جبریل جاء لیعلم الناس دینهم و الذی نفس محمد بیده ما جاءنی قط الا و انا اعرفه الا ان تکون هذه المرة۔

و فی روایة سلمان التیمی ثم نهض فولّٰی فقال رسول الله صلی الله علیه و سلم علی بالرجل فطلبناه کل مطلب فلم نقدر علیه فقال هل تدرون من هذا۔ هذا جبریل اتاکم یعلمکم دینکم خذوا عنه فوالذی نفسی بیده ما شبه علی منذ اتانی قبل موتی هذه و ما عرفته حتی ولّٰی (فتح الباری جلدِ اول صفحہ 115)۔

(ترجمہ) ابو فروہ کی روایت میں ہے کہ قسم اُس خدا کی جس نے محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو دینِ حق دے کر بھیجا کہ میں تم سے کسی آدمی سے زیادہ اس کو نہیں جانتا تھا اور یہ بیشک جبرئیل تھا۔

اور ابو عامر کی حدیث میں ہے کہ وہ چلا گیا اور ہم نے نہیں دیکھا کہ وہ کدھر گیا۔ آنحضرت نے فرمایا کہ یہ جبرئیل تھا اور اس لئے آیا تھا کہ لوگوں کو دین سکھائے اور قسم ہے اُس خدا کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے کہ اس دفعہ سے پہلے وہ کبھی اس طرح نہیں آیا کہ میں نے نہ پہچانا ہو۔

اور سلیمان تیمی کی روایت میں ہے کہ وہ پھر اُٹھ کر چلا گیا۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اس کو میرے پاس پھر لاؤ۔ ہم نے اس کو ہر طرف ڈھونڈا، مگر اُس کو نہیں پا سکے۔ پھر آنحضرت نے فرمایا کہ کیا تم جانتے ہو کہ یہ کون تھا۔ یہ جبرئیل تھا۔ تمہیں تمہارا دین سکھانے آیا تھا۔ تم اُسی سے دین سیکھو۔ قسم ہے خدا کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اس دفعہ سے پہلے جب سے وہ آتا ہے کبھی بے شناخت کئے نہیں رہا اور جب تک وہ نہیں گیا میں نے اس کو نہیں پہچانا‘‘۔

اور نسائی میں یہ الفاظ ہیں:—

ثم قال لا و الذی بعث محمدا بالحق هدی و بشیرا ما کنت باعلم به من رجل منکم و انه لجبریل علیه السلام نزل فی صورة دحیة الکلبی (نسائی صفحہ 597)۔

(ترجمہ) ’’پھر فرمایا کہ نہیں قسم ہے جس نے محمد کو دینِ حق کے ساتھ ہادی اور خوشخبری دینے والا کیا ہے، میں تم میں سے کسی آدمی سے زیادہ اس کو نہیں پہچانتا تھا اور بے شک وہ جبرئیل تھا جو دحیہ کلبی کی صورت میں نازل ہوا تھا‘‘۔

اور نسائی میں یہ روایت بھی ہے:—

قال عمر فلبثت ملیا ثم قال لی رسول الله صلی الله علیه و سلم یا عمر هل تدری من السائل قلت الله و رسوله اعلم قال فانه جبریل (نسائی صفحہ 597)۔

’’حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میں تھوڑی دیر ٹھہرا پھر آنحضرت نے مجھ سے فرمایا کہ اے عمر! تو جانتا ہے کہ یہ پوچھنے والا کون تھا؟ میں نے کہا کہ خدا اور خدا کا رسول خوب جانتا ہے۔ فرمایا کہ یہ جبریل تھا۔

اور ترمذی کی روایت میں ہے:—

قال عمر فلقینی النبی صلی الله علیه و سلم بعد ذالک بثلاث قال عمر هل تدری من السائل ذاک جبریل اتاکم یعلمکم دینکم (ترمذی صفحہ 440)۔