اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

علی گڑھ میں

ایم ، اے ، او ، کالج1 میں میرا داخلہ

میرا غالباً 1912ء میں وہاں کے اسکول میں داخلہ ہوا تھا ، اور مجھے ’ممتاز ہاؤس‘ کے نمبر 42  کمرے میں جگہ دی گئی تھی ۔ اس کمرے میں ، کاکوری کے دو سگے بھائی ثابت علی اور ثامن علی ، پہلے سے موجود تھے ۔ اور میرے قیام سے تثلیث پیدا ہو گئی تھی ۔ اور ان دونوں بھائیوں کے چلے جانے کے بعد ، رام پور کے دو سگے بھائی برکت اللہ خاں ، اور محسن اللہ خاں میرے کمرے میں آ گئے ۔ ہمارا وہ ’’دو سگے بھائیوں اور ایک دوسرے خاندان کے طالبِ علم والا‘‘ کمرہ ، بورڈنگ ہاؤس کے سب پراکٹر مظہر علیم صاحب ، فرید آبادی کے کمرے سے ملا ہوا تھا ۔ ہر چند مظہر علیم صاحب مہربان استاد تھے ۔ مگر ایک ناگفتنی علت کی بناء پر ہمارے مابین رقابت پیدا ہو گئی تھی ۔ اور وہ محسن اللہ خاں ، عبد الجلیل خاں اور مجھ سے ناخوش رہا کرتے تھے ۔

میرے زمانے میں قدیم وضع داری کے مکمل علم بردار نواب وقار الملک سکریٹری ، سید احمد کی آنکھیں دیکھے ہوئے ، میر ولایت حسین صاحب پراکٹر ، جن کا تمام کالج احترام کرتا تھا اور جن کی شفقت کا سکہ بیٹھا ہوا تھا سب کے دِلوں پر ۔

ہمارے دور میں کالج کے ڈاکٹر تھے شفاعت اللہ صاحب ، جن کو ہماری شریر پارٹی نے یہ دھمکی دے کر ہموار کر لیا تھا کہ اگر آپ ہم لوگوں کو ہمارے مطالبے پر فرضی بیماری کی چھٹیاں نہیں دلائیں گے اور ہماری فرضی بیماری کے مواقع پر ہمارے پرہیزی کھانوں میں کباب ، پراٹھے اور مرغِ مسلم ، تجویز نہیں کریں گے تو ہم آپ کا نام ’’ہلاکت اللہ‘‘ رکھ کر اس نام کو اس قدر شہرت دیں گے کہ معائنے کے ہنگام آپ جس بورڈنگ ہاؤس میں بھی داخل ہوں گے ، وہاں کے در و دیوار ’’ہلاکت اللہ ، ہلاکت اللہ‘‘ کے نعروں سے گونجنے لگیں گے ۔

اُسی طرح ہماری مضبوط پارٹی نے ڈاک خانے والوں کو بھی اس قدر ڈرا دیا تھا کہ جب ہم علی گڑھ سے باہر سیر کرنے جانا چاہتے تھے تو وہ ہمارے گھروں سے بلاوے کے فرضی تار ، ہمارے نام بھیج دیا کرتے تھے ۔

ہمارے خاص معلم تھے واجد علی صاحب شیدا اور قاضی عبد الجلیل صاحب مراد آبادی ۔ واجد علی صاحب بڑے مزے کے آدمی تھے ، وہ جب کسی حسین طالبِ علم کو ، ڈھیلے ہاتھ سے تھپڑ مارتے تو اس کے گالوں پر آہستہ آہستہ ہاتھ پھسلا کر ، دونوں آنکھیں میچ لیا کرتے تھے ، انھیں کی فرمائش پر میں نے ایک انگریزی نظم ’’لارڈ یولنس ڈاٹر‌Lord Ullin's Daughter‘‘ کا اُردو نظم میں ترجمہ کیا تھا ۔ وہ میری غالباً پہلی یا دوسری نظم تھی ، جو تلف ہو چکی ہے ۔ اور ہمارے دوسرے معلم قاضی صاحب بلا کے ظریف انسان تھے۔ اور ان کا یہ مزاحیہ دعویٰ تھا کہ انگریزی زبان ، اُردو کے بطن سے پیدا ہوئی ہے ۔ اور ابتدا میں ایک بوڑھا انگریز تھا جو اردو بولنے والوں کے الفاظ ، اپنے لہجے میں لکھ لیا کرتا تھا ۔ اور اس کی وہی بیاض انگریزی زبان کا سرمایہ بن گئی ۔

وہ کہتے تھے ، یہ ڈاٹر ، فادر ، مدر ، سرنڈر ، اور ڈیکوریشن ، کے الفاظ دراصل دُختر ، پِدر ، مادر ، سَر اَندر ، اور دیکھو رے شان ، سے بنائے گئے ہیں ، جن کا تلفظ بگڑ گیا ہے ۔ اور انگریزی میں طوائف کے لئے جو ’’پراسٹی چیوٹ‘‘ کا لفظ ہے ، وہ ہماری اردو کے ’’پرائے واسطے کی‘‘ کا بگڑا ہوا تلفظ ہے ۔

میرے دَور کا علی گڑھ ، ایسا نہیں تھا ، جیسا کہ آج کل کا علی گڑھ ہے ۔ اس زمانے کے طالبِ علموں میں کوئی اودھی تھا ، نہ پنجابی ، بنگالی تھا ، نہ بہاری ۔ صوبوں کے تعصبات کی کسی کو خبر ہی نہیں تھی اور جتنے بچے تھے وہ سارے ایم اے او کالج کے بچے ، اور آپس میں شیر و شکر تھے اور ان کے مابین اس قدر مضبوط اتحاد تھا کہ سارے شہر پر دھاک بیٹھی ہوئی تھی ہماری ۔ اور یہاں تک پولیس بھی لرزہ براندام رہتی تھی ہم سے ۔ اور اگر کسی لڑکے پر کوئی آنچ آ جاتی تھی تو سارا کالج دوڑ پڑتا تھا اس کی امداد کے واسطے۔

اپنی پارٹی کے تمام ارکان کے نام مجھ کو یاد نہیں رہے ہیں۔ پٹنے کے سید عباس علی ، سید مبارک علی رام پور کے ، محسن اللہ خاں جوارِ علی گڑھ کے ، عبد الجلیل خاں کے نام فراموش نہیں ہوئے۔ اور یہ بھی حافظے میں محفوظ ہے کہ اس پندرہ بیس لڑکوں کی ٹولی کے سردار تھے عبد الجلیل خاں ، اور اُن کے نائب تھے محسن اللہ خاں۔

ایک بار ، جب ہم پانچوں لڑکے ، یعنی عباس علی ، مبارک علی ، محسن اللہ ، عبد الجلیل اور میں ، سالانہ امتحان میں پاس ہو گئے تو ہم لوگوں میں یہ مسکوٹ ہوئی کہ پاس ہونے کی خوشی میں ، آگرے جا کر دیوالی دیکھیں ۔

لیکن اس عیاشی کے واسطے روپیہ کہاں سے آئے؟ اور چھٹی کیونکر ملے؟ یہ بڑا  ٹیڑھا سوال تھا۔ عباس علی نے یہ مشورہ دیا کہ ہم سب اپنے اپنے باپوں کو خط لکھ لکھ کر اپنے اپنے پاس ہو جانے کی خوش خبری سنائیں اور نئے کورس کی کتابوں کی غلط سلط لمبی چوڑی فہرست بھیج بھیج کر اپنے اپنے گھروں سے پانچ پانچ سو روپے منگائیں ۔ یہ تجویز پانچوں نے بہت ہی پسند کی ۔ سب نے اپنے اپنے باپوں کو اسی مضمون کے خط بھیجے ، میں نے بھی اپنے باپ کی خدمت میں اپنا خط روانہ کر دیا ۔

مجھے خط لکھے جب چھ سات روز ہو گئے ، تو ایک دن دیکھا کہ داروغہ امید علی چلے آ رہے ہیں ، انھیں دیکھتے ہی میرا ماتھا ٹھنکا کہ ہو نہ ہو دال میں کچھ کالا ضرور ہے داروغہ صاحب ، کمرے میں آئے ، میں نے سلام کیا ، سب کی خیریت پوچھی اور ان کے آنے کا سبب دریافت کیا ۔ انھوں نے کہا ’’خاں صاحب منی آرڈر کر رہے تھے ، مگر بڑے بھیا (میرے برادرِ بزرگ) نے کہا رقم کسی کے ہاتھ براہِ راست ہیڈ ماسٹر کے پاس بھیج دی جائے‘‘ میں سُن سے ہو کر رہ گیا، لیکن چہرے سے پریشانی ظاہر نہیں ہونے دی۔ اور محسن اللہ کے پاس جا کر، جو اس وقت جلیل کے کمرے میں گئے ہوئے تھے، سارا ماجرا بیان کر دیا۔ محسن، تھوڑی دیر غور کرنے کے بعد، آئینہ دیکھنے لگے ، میں نے کہا ماشاءاللہ میں مصیبت میں گھرا ہوا ہوں اور تم آئینہ دیکھ رہے ہو، انھوں نے مسکرا کر کہا ’’تمہاری مشکل حل کرنے کے لئے ہی آئینہ دیکھ رہا ہوں‘‘ میں نے کہا ’’یہ کیا بکواس کر رہے ہو؟‘‘۔ انھوں نے کہا ’’تم تو چُغد ہو، میری بات سمجھ ہی نہیں رہے ہو۔ میں آئینے میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ میں انگریزوں کی طرح خوب گورا چٹا ہوں اور تمہاری خوش قسمتی سے میری آنکھیں بھی انگریزوں کی طرح کرنجی ہیں‘‘ میں نے کہا ’’یہ کیا کہہ رہے ہو؟ کیا گھانس کھا چکے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا ’’تم بھی کتنی موٹی عقل کے آدمی ہو۔ ـــ جاؤ کمرے سے میرا کالا سوٹ، میرا بوٹ، ٹائی اور ہیٹ لے آؤ، مگر اس طرح کہ کوئی نہ دیکھنے پائے۔‘‘ میں نے ان سے پوچھا ’’کیوں؟‘‘ انھوں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر کہا۔ ’’خاموش، وقت ضائع نہ کرو، اور جو چیزیں میں نے کہی ہیں جلدی سے لا دو۔‘‘ میں ان کا سب سامان لے آیا۔ انھوں نے جلدی جلدی سوٹ پہنا اور سر پر ہیٹ لگا کر کہا ’’آؤ میرے ساتھ۔‘‘ میں سٹپٹا گیا، اور ان کے ساتھ ہو لیا۔ وہ سیدھے ہیڈ ماسٹر کے کمرے کے برآمدے میں داخل ہو گئے اور ہیڈ ماسٹر کے چپڑاسی سے کہا ’’ہم اس وقت ایک مذاق کرنے آئے ہیں، ابھی ہیڈ ماسٹر کے آنے میں آدھ گھنٹہ باقی ہے، تم مجھ کو اجازت دے دو کہ میں ان کی کرسی پر بیٹھ جاؤں اور جب شبیر اپنے ساتھ ایک آدمی کو لے کر یہاں آئیں تو اس کو دروازے پر روک کر میرے پاس آؤ اور پھر کمرے سے نکل کر اس آدمی سے کہو، چلئے صاحب بہادر کے پاس۔‘‘ یہ کہہ کر محسن نے چپراسی کے ہاتھ پر پانچ روپے رکھ دیئے ۔ چپڑاسی نے بات مان لی اور محسن ہیڈ ماسٹر کی کرسی پر جا کر بیٹھ گئے ۔ اور میں دوڑتا ہوا ممتاز ہاؤس گیا اور داروغہ صاحب کو لے کر آ گیا، چپڑاسی نے حسبِ ہدایت اندر جا کر اطلاع کی، اور باہر نکل کر داروغہ صاحب سے کہا ’’چلئے صاحب بہادر کے پاس۔‘‘