ہماری پارٹی ، لنگر لنگوٹ کس کر جہاں گیر قدر کی مدد کے واسطے آمادہ ہو گئی۔ اتوار کے دن جہاں گیر قدر کو دولھا بنا کر، اور ہار پھول، دوپٹہ، مصنوعی داڑھی اور ڈھولک لے کر ہم دس پندرہ لڑکے براتیوں کی طرح، کچی بارک پہنچ کر، فضلِ الہٰی کے کمرے میں مبارک باد، مبارک باد کے نعروں کے ساتھ درانہ گھس پڑے، فضلِ الہیٰ نے۔ ــــ جس کے متعلق ’ساری دنیا اِک طرف ، فضلِ الہیٰ اک طرف‘ کا غلغلہ ہر طرف بلند تھا۔ ــــ تیوریوں پر بل ڈال کر کہا۔ ’’میں نے تو آپ لوگوں کو نہیں بلایا تھا؟‘‘ ــــ جلیل نے کہا۔ ’’دُلہنیں بھی کسی کو بلایا کرتی ہیں جنیا، ہم جہاں گیر قدر دولھا سے تمہارا نکاح پڑھانے آئے ہیں۔‘‘
اس لڑکے نے کوشش کی بھاگ نکلنے کی، ہمارے ساتھیوں نے اسے پکڑ لیا، دوپٹہ اس کے سر پر ڈال دیا، جہاں گیر قدر کو ہار پھول پہنائے، جلیل نے جیب سے مصنوعی داڑھی نکال کر منہ پر لگائی اور قاضی بن کر اس لونڈے کا جہاں گیر قدر سے نکاح پڑھا دیا، اور نکاح پڑھا دینے کے بعد، ساتھیوں نے ڈھولک بجا بجا کر نیچے سروں میں شادیانے گانا شروع کر دیئے۔ ــــ برآمدے میں لڑکوں کا میلا لگ گیا اور ہر طرف قہقہے گونجنے لگے ۔
اتنے میں کسی نے یہ دیکھ کر کہ ہیڈ ماسٹر راؤنڈ لگاتا چلا آ رہا ہے، ہم کو آگاہ کر دیا ہم سب خوف زدہ ہرنوں کے مانند بھاگ کھڑے ہوئے ۔ــــ اور دولھا میاں ابھی اُٹھ ہی رہے تھے کہ ہیڈ ماسٹر سر پر آ پہنچا۔ ــــ فضلِ الہیٰ نے اُس سے فریاد کی۔ اس نے جہاں گیر قدر سے پوچھا ’’تم کون ہو؟‘‘ ــــ جہاں گیر قدر کی زبان سے گھبراہٹ میں نکل گیا ’’SIR I AM BRIDE GROOM‘‘ (جناب میں دولھا میاں ہوں)۔ ــــ ہیڈ ماسٹر نے ’’ول مسٹر برائڈ گروم، ول مسٹر برائڈ گروم۔‘‘ کہہ کہہ کر بیدوں پر دھر لیا۔
براتی تو صاف بچ کر نکل گئے، اور بے چارے برائڈ گروم صاحب پٹ گئے۔2 اور اس واقعے کے ایک ہفتے کے اندر، ہم تینوں لڑکوں، یعنی محسن اللہ خاں، عبد الجلیل خاں اور آگے چل کر حضرتِ جوش ملیح آبادی بننے والے شبیر حسن خاں کو بھی اسکول سے نکال دیا گیا۔
|
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے |

