اردو جریدہ

شروع کا حصہ چھوئیں
Article Image

علی گڑھ میں

داروغہ صاحب نے ہیڈ ماسٹر کو سلام کیا، اور جیب سے میری فرستادہ فہرستِ کتب اور پانچ سو کے نوٹ نکال کر ہیڈ ماسٹر کی میز پر رکھ دیئے اور پوچھا۔ ’’حضور اس رقم میں کوئی کمی بیشی تو نہیں ہوگی؟‘‘۔ ’’ہیڈ ماسٹر‘‘ صاحب نے کہا۔ ’’ویل یہ رَکم (رقم)  ایک دم (بالکل) برابر (صحیح) ہے، اچھا، خان صاحب سے ہمارا سلام بولنا ــــ اب آپ جائیے۔‘‘

داروغہ امید علی، سلام کر کے میرے ساتھ باہر نکل آئے ۔ اور جیسے ہی میں برآمدے کی سیڑھیوں سے اُترنے لگا تو یہ دیکھا کہ سچ مچ کا ہیڈ ماسٹر ، تیز تیز قدم رکھتا چلا آ رہا ہے اور جھوٹا ہیڈ ماسٹر غسل خانے کے دروازے سے نکل کر، منہ رومال سے ڈھانکے، انتہائی بزدلی کے ساتھ دوسری طرف بھاگتا چلا جا رہا ہے۔ تڑاتر ، تڑاتر ۔

ہماری چند گفتنی شرارتیں بھی سُن لیجئے (ناگفتنی شرارتیں لکھ دوں تو کتاب ہی ضبط ہو جائے)

(1) ایک بار مجھے اور محسن کو یہ شرارت سوجھی کہ، چھت کے روشن دان سے، مظہر علیم صاحب کے منہ پر  پیشاب کیا جائے۔ چنانچہ، رات کے بارہ بجے، ہم دونوں چھت پر چڑھ گئے، اُن کے کمرے میں لیمپ جل رہا تھا، ہم نے جب یہ دیکھا کہ عین روشن دان کے نیچے ان کی چارپائی بچھی ہوئی ہے، تو ہم دونوں نے بڑے خضوع و خشوع کے ساتھ اپنے اپنے پائجامے کھولے اور نشانہ باندھ کر، شرشر اُن کے منہ پر دھاریں مارنے لگے۔ سوتے میں ان کے منہ پر جب گرما گرم پیشاب کی دھاریں پڑنے لگیں، وہ چیخ مار کر اُٹھ کھڑے ہوئے، اور روشن دان کی طرف سر اُٹھا کر چیخنے لگے ۔’’ارے یہ کون بدمعاش ہے ارے یہ کون بدمعاش ہے ــــ چوکی دار، چوکی دار، چوکی دار۔‘‘ وہ دروازہ کھول کر باہر آ گئے اور پھر اسی طرح چیخنے لگے۔ چوکی دار ، چوکی دار ، چوکی دار۔ چوکی دار دوڑا آیا تو انھوں نے کہا ’’یہ کون بدمعاش چھت پر چڑھا ہوا ہے۔ ــــ جاؤ اوپر جا کر دیکھو۔‘‘ یہ شور سُن کر ہم دونوں اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر، برآمدے میں آ گئے، اور اپنے صید زبوں سے بڑی معصومیت کے ساتھ ہم نے پوچھا۔ ’’کیا ہوا ماسٹر صاحب؟‘‘ انھوں نے دانت پیس کر کہا۔ ’’اس کیا ہوا ، کا صبح کو مزا چکھا دوں گا۔‘‘

صبح ، سید ولایت حسین صاحب ، پراکٹر کے سامنے ہماری پیشی ہوئی۔ پراکٹر صاحب نے ، خشونت کے ساتھ بید اُٹھا کر پوچھا ’’صاف صاف بتا دو یہ حرکت تم نے کی تھی؟ یا کسی اور نے ، اگر جھوٹ بولے تو کھال کھینچ لوں گا۔‘‘ محسن نے کہا ’’خدا کی قسم ہمیں کچھ بھی نہیں معلوم کہ یہ شرارت تھی کس کی ، ہم دونوں بے خبر پڑے سو رہے تھے۔ شور ہوا تو ہماری آنکھ کھل گئی باہر آ کر ماسٹر صاحب سے پوچھا ، کیا ہوا؟ تو وہ ، خواہ مخواہ ، اُلٹے ہم پر برس پڑے، آپ ہم کو چاہیں تو مار لیں، آپ ہمارے باپ کے برابر ہیں، مگر قصور ہمارا کچھ بھی نہیں ہے۔ اللہ جانتا ہے کہ سب پراکٹر صاحب ہم پر مفت کا الزام لگا کر ہم کو پٹوانا چاہ رہے ہیں۔‘‘

میر صاحب بڑی کشمکش میں پڑ گئے، سر جھکا کر سوچنے لگے، اور کہا۔ ’’اچھا تم دونوں جاؤ، میں پوری تحقیقات کروں گا۔ اور اگر تمہاری خطا ثابت ہو جائے گی تو اس قدر ماروں گا کہ تم دونوں عمر بھر یاد رکھو گے۔‘‘ اور ہم دونوں دل ہی دل میں ’’رسیدہ بود بلائے ، ولے بخیر گزشت‌مصیبت آئی تھی مگر خیریت سے گزر گئی‘‘ کہتے اپنے کمرے میں آئے ، اور ایک دوسرے کے گلے لگ کر خوب ہنسے۔ ــــ یہ خبرِ مسرت اثر سُن کر، شام کو جلیل ہمارے کمرے میں آئے، ہم دونوں کو مبارک باد دی۔ ــــ ہم سے کہا ’’تم دونوں کرسیوں پر بیٹھ جاؤ۔‘‘ ہم کرسیوں پر بیٹھ گئے تو انھوں نے ، ہماری کرسیوں کے عین نیچے لوبان سلگا کر ہماری گردنوں میں ہار ڈال دیئے۔ اور ’’ہپ ہپ ہرا‘‘ کہنے لگے ۔

(2) ناشتے اور دونوں وقت کے کھانے کے وقت، ہم لوگوں کو بلانے کے واسطے ، ڈائینگ ہال کے دروازے پر گھنٹہ بجایا جاتا تھا۔ ــــ ایک روز، جب رات کے آٹھ بج گئے اور ڈائینگ ہال کا گھنٹہ نہیں بجا تو تمام لڑکے پریشان ہو گئے اور ڈائینگ ہال کے برآمدے اور صحن میں جمع ہو کر شور مچانے، اور عرب لڑکے ’’روٹی، روٹی، روٹی، روٹی، روٹی، روٹی‘‘ کے نعرے لگانے لگے ۔

اس ہنگامے کو سُن کر ہمارے اور درمیانی گوشے کے دونوں سب پراکٹر مظہر علیم صاحب اور فصیح الدین صاحب بھی وہاں آ گئے اور چوکی دار سے پوچھنے لگے ’’گھنٹہ کہاں ہے ــــ؟‘‘ چوکی دار نے دیوار کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ ’’صاحب یہاں گھنٹہ لٹکا رہتا تھا، نہ جانے کون اُڑا لے گیا۔‘‘ اس پر فصیح الدین صاحب نے مظہر علیم صاحب سے کہا ’’یا مظہر العجائب‌اے عجائب کو ظاہر کرنے والے گھنٹہ غائب۔‘‘

مظہر علیم صاحب نے چونک کر کہا۔ ’’جلیل کہاں ہے؟‘‘ ہر طرف جلیل، جلیل، جلیل، کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ جلیل ہوتے تو بولتے۔ ــــ مظہر علیم صاحب نے چوکی دار کو حکم دیا کہ جلیل کو ڈھونڈ کر لاؤ۔

چوکی دار نے آ کر کہا ’’وہ تو نماز کے ہال میں بیٹھے نماز پڑھ رہے ہیں۔‘‘ مظہر علیم اور فصیح الدین حیدر صاحب وہاں پہنچے تو دیکھا کہ جلیل سجدے میں پڑے ہوئے ہیں، اور اسی عالم میں کوئی چیز، اپنے کمبل میں لپیٹ رہے ہیں۔ مظہر علیم نے کمبل کا سرا پکڑ کر زور سے جھٹکا دیا، اور گھنٹہ بڑی جھنکار کے ساتھ فرش پر گر گیا، یہ دیکھتے ہی مظہر علیم نے سر بسجود جلیل کے سر پر تڑاق سے ایک ٹیپ مار کر کہا۔ ’’اُٹھ کھڑا ہو مردود۔‘‘ جلیل نے ، دفعتاً کھڑے ہو کر چیخ ماری کہ یہ ہے اسلامی اسکول، جہاں عین سجدے کے وقت نمازی لڑکوں کے سر پر ٹیپیں ماری جاتی ہیں ۔ یہ سنتے ہی مظہر علیم چانٹا تان کر جلیل کی طرف جھپٹے اور عرب لڑکے بھی آ گئے مارنے کے واسطے ، جلیل نے یہ رنگ دیکھا تو إلا الله‌سوائے اللہ کے کہہ کر ایک لمبی جست لگائی اور چکارے کی طرح چوکڑیاں بھرتے ہال سے اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ انھیں کوئی پکڑ ہی نہیں سکا۔

(3) علی گڑھ میں بڑی دھوم دھام سے ہر سال نمائش ہوا کرتی تھی۔ ایک رات کو جب ہم پشاوری پراٹھے کباب اور خورجے کی چٹنی کھا کر نکلے تو ہماری چنڈال چوکڑی ایک ، چاقو چھری بیچنے والے دُکان کے سامنے جا کھڑی ہوئی۔ ــــ نمائش کی تیز روشنی میں چھریاں اور چاقو ایسے جگمگ جگمگ ہو رہے تھے کہ میرا جی چاہا کہ میں انھیں بڑھ کر سینے سے لگا لوں۔ میں نے پٹھان دُکان دار سے پوچھا تو اس نے کہا۔ ’’ایک رُپیہ، چار آنا۔‘‘ محسن نے کہا ’’نہیں، دس آنا‘‘ پٹھان نے کہا۔ ’’نہیں ، ایک رُپیہ، چار آنا، خوشی چاہے ٹیک (TAKE) خوشی چاہے تو نہ ٹیک (TAKE)‘‘

ان آوازوں کو سُن کر، کالج کے دوسرے لڑکے بھی اسی طرف آ گئے، اور ٹھٹ کے ٹھٹ لگ گئے، دُکان کے سامنے ــــ محسن نے پھر کہا۔ ’’دس آنا ، دس آنا۔‘‘ پٹھان نے پھر وہی جواب دیا۔ ’’نہیں نہیں، ایک رُپیہ چار آنا، ایک رُپیہ چار آنا، خوشی چاہے ٹیک، خوشی چاہے نہ ٹیک۔‘‘ یہ سُن کر محسن برافروختہ ہو گئے، تمام لڑکوں سے اشارہ کر کے کہا ’’غازیو، بڑھو، ٹوٹ پڑو اور لوٹ لو مالِ غنیمت کو۔‘‘ یہ دعوتِ عام سُن کر ٹوٹ پڑے تمام لڑکے چھریوں چاقوؤں پر، پٹھان جھپٹا، لڑکوں نے اسے دبوچ لیا، اور لُٹنے لگی دُکان دھڑا دھڑ ــــ۔  پٹھان نے پولیس، پولیس، پولیس کے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔ ــــ پولیس والے جھپٹ پڑے۔ ــــ ہم نے چھریاں تان لیں، وہ ٹھٹک گئے ۔ــــ اتنے میں ایک شامت کا مارا انگریز پولیس افسر، موٹر سائیکل پر بیٹھا اُدھر آ گیا۔ ــــ اور جب اس نے، موٹر سائیکل سے ایک پاؤں اُتار کر ہم کو ڈانٹنا شروع کر دیا تو ٹوٹ پڑے ہم سب اس پر اور اتنا پیٹا کہ وہ بے ہوش ہو کر گر گیا۔ ــــ اور ہم سب کے سب مالِ غنیمت لئے اور ’’خوشی چاہے ٹیک، خوشی چاہے نہ ٹیک۔‘‘ کے نعرے لگاتے وہاں سے بھاگ کر کالج آ گئے۔

(4) ایک روز میرے ایک لکھنوی دوست اور میرے دوست پرنس میرزا عالم گیر قدر کا بھائی جہاں گیر قدر ہمارے پاس آیا فریادی بن کر، اور کہنے لگا۔ ’’شبیر ، ایک فرسٹ ایئر فُول لڑکا فضلِ الہٰی ہے، وہ سالا اپنے حُسن پر اس قدر مغرور ہے کہ سیدھے منہ بات ہی نہیں کرتا، پٹھے پر ہاتھ ہی نہیں رکھنے دیتا، تمہاری پارٹی ماشاءاللہ بڑی تگڑی ہے، اس کو نیچا دکھاؤ تو میں تمہارا غلام ہو جاؤں۔‘‘