(اردو جریدہ۔ یہ کہانی مشہور انگریزی مصنف H. G Wells کے کلاسک ناول The Diamond Maker کا ترجمہ ہے)۔
کسی ضرورت سے مجھے رات کو دس بجے تک چانسری لین میں ٹھہرنا پڑا۔ اور اس کے بعد سر میں درد کا احساس ہوا تو میں نے دوسرے کام یا تفریح کرنے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔ جب آمدو رفت کم ہوئی اور رات کسی قدر پُر سکون ہو گئی تو میں نے ارادہ کیا کہ دریا کے کنارے جا کر اس کی سطح کی مختلف النوع جھلملاہٹ کو دیکھ کر آنکھوں کو سرور اور دل کو فرحت پہنچاؤں۔ بلا شبہ اس مقام کی تفریح کے لیے رات کا وقت بےحد موزوں اور پُر سکون ہوتا ہے۔ ایک ترحم آگیں تاریکی پانی کی گرد آلود سطح کو اپنے دامن سے ڈھک لیتی ہے۔ واٹر لو کے پُل کی کمانوں میں سے سینکڑوں روشن چراغوں کی قطاریں دریا کی لہروں کو اپنی آغوش میں کھلاتی ہیں اور اس کے اوپر ویسٹ منسٹر کے مینار، تاروں کی روپہلی روشنی میں جھلمل جھلمل کرتے نظر آتے ہیں۔ دریا سکوت کے ساتھ بہتا رہتا ہے۔ کبھی کبھی کوئی شریر اور شوخ لہر اُٹھ کر اس کے سکوت کو درہم برہم کر دیتی ہے اور روشنی کی مسلسل شعاعیں منتشر ہو جاتی ہیں۔
”کیسی خوشگوار رات ہے''۔ میرے قریب ہی سے آواز آئی۔
میں نے سر گھما کر دیکھا۔ ایک آدمی پُل کی منڈیر پر میرے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس کے چہرے سے شرافت کے آثار نمایاں تھے۔ وہ بدہیئت نہ تھا، گو اس کے چہرے پر غم و الم کے بادل ضرور چھائے ہوئے تھے۔
میں اسے مستفسرانہ انداز سے دیکھنے لگا۔ پھر میں نے اپنے دل میں سوچا۔ کیا وہ مجھ سے کوئی کام کی بات بھی کہہ سکتا ہے یا یونہی بے کار آدمی ہے۔۔ ایسا بے کار آدمی جسے اپنی کہانی بھی کہنی نہ آتی ہو۔۔ اس کی پیشانی اور آنکھوں میں مجھے ایک غیر معمولی کیفیت کا احساس ہوا۔ اور اُس کے مرجھائے ہوئے ہونٹوں پر ایک خاص قسم کا ارتعاش جس نے مجھے جواب دینے پر مجبور کر دیا۔
“بہت خوشگوار؟” میں نے کہا، “لیکن یہاں ہمارے لیے تو کچھ ایسی زیادہ خوشگوار نہیں ہے“۔
”نہیں“ دریا کی سطح پر دیکھتے ہوئے اُس نے جواب دیا، “اس وقت یہاں کی فضا بہت خوشگوار ہے۔
بہت لطیف ہے؟” اس نے تھوڑی دیر کے بعد کہا۔ ”لندن میں ایسی خوشگوار چیز پانا بہت غنیمت ہے۔ کوئی شخص جو اپنی مصروفیتوں کی وجہ سے تمام دن مارا مارا پھرا ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ ایسی جگہ کے علاوہ اور کیا چاہے گا؟ وہ ایک جملے کے بعد دوسرا جملہ بہت دیر کے بعد کہتا تھا۔ “تمھیں تکلیف دہ محنت و مشقت کے متعلق بھی کچھ جاننا چاہیے۔ ورنہ تمہاری زندگی دنیا میں اجیرن ہو جائے گی۔ لیکن مجھے یقین نہیں ہے کہ تم میری طرح خستہ حال اور تھکے ہوئے ہو گے۔ اوہ بعض وقت میں خیال کرتا ہوں کہ کیا اس کھیل کی کوڑی برابر بھی قدر ہو سکتی ہے۔ میری طبیعت چاہتی ہے تمام کاموں کا بار اپنے سر سے اُتار کر پھینک دوں۔ تمام دولت اور شہرت کی تمنا سے نجات پا جاؤں۔ اور کوئی ادنیٰ درجے کی تجارت شروع کر دوں۔ لیکن میں جانتا ہوں کہ اگر میں اپنی اس ہوس سے باز آ جاؤں تو مجھے تمام عمر کفِ افسوس ملتے رہنا پڑے گا“۔
وہ ساکت ہو گیا، میں نے اس کو تعجب کی نظروں سے دیکھا۔ اگر میں نے کبھی کسی آدمی کو انتہا درجہ مایوس دیکھا تھا تو وہ یہی آدمی تھا۔ اس کے جسم پر چیتھڑے لگے ہوئے تھے۔ اور اس کے سر کے بال اور داڑھی بہت بڑھی ہوئی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ ایک ہفتہ تک کسی کوئلے کی کان میں رہ چکا ہو۔ وہ مجھ سے ایک بہت بڑی تجارت کے تکلیف دہ واقعات کے متعلق گفتگو کر رہا تھا۔ میں اس کی باتوں پر ہنس پڑا۔ وہ کوئی دیوانہ تھا یا اپنی غربت کا خود ہی مضحکہ اُڑا رہا تھا؟
”اگر بلند مقاصد اور بلند مراتب والے”، میں نے سوچا، “سخت محنت اور پریشانی سے مستثنیٰ نہیں ہیں تو ان کا بدل بھی ملتا ہے۔ نیک کام کرنے کی استعداد، غریب اور مفلس کی امداد اور اس کی نمائش میں بھی ایک طرح کا اطمینان مستور ہوتا ہے“۔
میرا اجنبی دوست، موجودہ حالت میں سخت پریشان حال اور شکستہ خاطر نظر آ رہا تھا اور میں اُس کی گفتگو اور اُس کی حالت کے بالکل برعکس باتیں کر رہا تھا۔ لیکن جب میں اس سے باتیں کر رہا تھا تو مجھے افسوس بھی ہو رہا تھا۔
وہ مضمحل ہو گیا ۔ لیکن میری طرف اطمینان سے دیکھ کر بولا، “میں اپنے تئیں بھول گیا ہوں، در حقیقت آپ نہ سمجھیں گے”۔ اس نے ایک لمحہ تک مجھے سر تاپا دیکھا۔ “بلا شبہ یہ ایک مہمل بات ہے اور اگر میں آپ سے کہوں تو آپ یقین نہ کریں گے اور اس لیے آپ سے کہنے میں کوئی ہرج نہیں ہے اور ہر کسی سے کہنے میں بھی ایک طرح کی راحت ہے۔ حقیقت میں میرے پاس ایک بہت بڑی تجارت ہے۔ بہت بڑی تجارت۔ لیکن اس وقت چند مشکلات آ پڑی ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں ہیرے بناتا ہوں”۔
”میں خیال کرتا ہوں،” میں نے جواب دیا، “کہ اس وقت شاید تمہارے پاس کوئی کام نہیں ہے”۔ “میں اپنی بے اعتمادی کی وجہ سے جو لوگوں میں میری طرف سے پیدا ہو گئی ہے، بہت بیزار ہو گیا ہوں”، وہ بے صبری سے بول اُٹھا اور فورًا اپنے پھٹے ہوئے کوٹ کے بٹن کھول اُس نے کپڑے کی ایک تھیلی نکالی، جو ایک ڈوری میں بندھی ہوئی اس کی گردن میں آویزاں تھی۔ اس تھیلی سے اس نے بادامی رنگ کا ایک چھوٹا سا پتھر نکالا اور بولا، “مجھے تعجب ہے کہ آیا تم کو اس کا بھی علم ہے کہ یہ کیا چیز ہے؟” اس نے پتھر میرے ہاتھ میں دے دیا اور کہنے لگا، “اب سے ایک سال یا اس سے کچھ زیادہ زمانہ گذرا کہ میں نے اپنے ایامِ فرصت، لندن یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری حاصل کرنے میں صرف کیے تھے۔ اس لیے مجھے طبیعیات اور معدنیات کے متعلق تھوڑے بہت حالات معلوم ہیں”۔ یہ پتھر کسی قدر ایک تراشے ہوئے ہیرے سے مشابہ تھا۔ وہ بہت بڑا، تقریبًا انگوٹھے کے پورے ناخن کے برابر تھا۔ میں نے اُسے ہاتھ میں لے کر دیکھا۔ اس کی شکل ہشت پہلو تھی، اور متعدد انواع کی قیمتی معدنیات کی طرح منقوش تھی۔ میں نے اپنا قلم تراش نکالا اور اس پتھر پر نشان ڈالنے کی سعی کی لیکن میں اپنی اس سعی میں کامیاب نہ ہوا ۔ برقی لیمپ کی روشنی کی طرف بڑھ کر میں نے اپنے شیشۂ ساعت پر اس کا امتحان لیا اور اس پر نہایت آسانی سے ایک لکیر بنا دی۔
میں نے اپنے اجنبی دوست کو زیادہ مستفسرانہ انداز سے دیکھا۔ یہ تو تقریبًا ہیرے کی مانند ہے اور اگر یہ سچ ہے تو اس کو ہیروں کا سردار کہا جا سکتا ہے۔ تم کو یہ کہاں ملا؟
میں آپ سے سچ کہتا ہوں کہ اس کو خود میں نے بنایا ہے۔ لایئے واپس دے دیجئے ۔ اس نے ہیرا لے کر بعجلتِ ممکنہ اس کو جیب میں رکھ کر بٹن لگا لیے۔ میں اس کو آپ کے ہاتھ ایک سو پاؤنڈ میں فروخت کر دوں گا۔ اس نے آرزو مند لہجہ میں کہا۔ اس کے ساتھ ہی میرے شکوک عود کر آئے ۔ ممکن ہے یہ چیز صرف کورنڈم ہو جو تقریبًا اتنی ہی سخت اور اکثر صورتوں میں ہیرے سے مشابہ ہوتی ہے۔ اگر یہ ہیرا ہے تو اسے کہاں سے ملا؟ اور وہ ایک سو پاؤنڈ میں اس کو کیوں فروخت کر رہا ہے۔
ہم نے ایک دوسرے کو آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔ وہ اس کو فروخت کرنے کا بہت متمنی معلوم ہو رہا تھا۔ اس وقت مجھے یقین آیا کہ وہ در حقیقت ہیرا ہے جسے وہ فروخت کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ تا ہم میں ایک غریب آدمی ہوں، ایک سو پونڈ سے یقیناً میری بدمعاشی کو ایک زبر دست ضرب لگتی۔ اور کوئی ہوش مند، ایک چیتھڑے پہننے والے آدمی سے قندیل کی روشنی میں، صرف اُسی کی ضمانت پر ہیرا خریدنا، مناسب نہ خیال کرے گا۔ تا ہم اتنے بڑے ہیرے کے خیال سے کئی ہزار پونڈ کا تصور آنکھوں میں سما رہا تھا۔ پھر میں نے سوچا ایسا پتھر مشکل ہی سے کہیں ہو گا، جس کا تذکرہ جواہرات کی کتابوں میں نہ کیا گیا ہو۔ اور پھر میں نے پُرانے قصوں اور اس کے چالاک کافروں اور آوارہ گردوں کی داستانوں کو یاد کیا اور اس ہیرے کو خریدنے کا خیال ترک کرتے ہوئے پوچھا، “یہ تم کو کیسے مل گیا؟” “میں نے خود اس کو بنایا ہے”، اس نے جواب دیا۔
میں نے مشہور کیمیا داں، موائسان کے متعلق سنا تھا کہ اُس نے ہیرے بنائے تھے، لیکن اُس کے مصنوعی ہیرے بہت چھوٹے تھے۔ میں نے اپنے سر کو جنبش دی۔
