معلوم ہوتا ہے کہ اس قسم کی چیزوں کا تمھیں کچھ علم ہے۔ “خیر میں تم کو اپنے متعلق کچھ بتانا چاہتا ہوں اور شاید میرے حالات سُن کر تم اس کو خریدنے پر آمادہ ہو سکو“۔
اس نے اپنی پشت دریا کی طرف پھیر دی۔ اپنے ہاتھ جیب میں ڈالے، ایک سرد آہ کھینچی اور پھر بولا، “میں جانتا ہوں کہ آپ میری باتوں پر یقین نہ کریں گے“۔
اس کے بعد وہ اپنی داستان بیان کرنے لگا۔ اور جب اس نے بیان کرنا شروع کیا تو اس کا لہجہ پہلے کی طرح خشک اور غیر دلچسپ نہ تھا۔ بلکہ اب اس کے اظہار میں ایک تعلیم یافتہ شخص کی سی خوبی، اور معنی آفرینی موجود تھی۔ “کاربن ایک موزوں دباؤ کے تحت، ایک خاص حد تک پگھلا کر آمیزہ سے علیحدہ کی جاتی ہے، کاربن کی قلمیں، سیاہ سیسہ یا کوئلہ کے سفوف میں نہیں بلکہ ہیروں میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ ہیرے کے متعلق صرف اتنا ہی علم، عرصہ دراز سے موجودہ کیمیا دانوں تک چلا آیا ہے۔ لیکن اب تک کسی نے کاربن کو پگھلانے کے لیے بالکل سیال شے تلاش نہیں کی یا زیادہ مفید نتائج حاصل کرنے کے لیے بالکل موزوں دباؤ کی جستجو کی۔ اس وجہ سے عام طور پر کیمیا دانوں کے بنائے ہوئے ہیرے دھندلے، نیم شفاف اور چھوٹے ہوتے ہیں اور زیادہ قیمتی نہیں ہوتے۔ اب تم کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے اس نظریہ کے لیے اپنی زندگی صرف کر دی۔ ساری زندگی اسی کے لیے وقف!
جب میں 17 سال کا تھا تو میں نے بعض شرائط پر ہیرا بنانا شروع کیا۔ اور اب 32 برس کا ہوں۔ مجھے ایسا محسوس ہوا کہ یہ صنعت 10 یا 20 سال تک ایک آدمی کی تمام قوت اور اس کے تمام خیالات کو اپنے اندر جذب کر سکتی ہے۔ فرض کرو کہ کسی نے آخر کار ٹھیک طریقہ معلوم کر لیا تو اس سے قبل کہ یہ راز سب پر منکشف ہو جائے اور ہیرے کی قیمت کوئلہ کے برابر ہو جائے ایک شخص لاکھوں پیدا کر سکتا ہے، لاکھوں!“
وہ چُپ ہو گیا اور میری طرف ایسی نظروں سے دیکھا جو مجھ سے رحم اور ہمدردی کی طلب گار معلوم ہو رہی تھیں اور آنکھیں چمک رہی تھیں۔ “میں اس راز کے بالکل قریب پہنچ گیا ہوں”، وہ بولا۔
”میرے پاس 21 سال کی عمر میں ایک ہزار پونڈ موجود تھے۔ میں نے سوچا کہ یہ رقم، جو میں نے لڑکوں کو پڑھا کر حاصل کی تھی، مجھے آیندہ تحقیقات جاری رکھنے میں مدد دے گی۔ ایک یا دو سال مطالعہ میں، برلن میں گذرے اور پھر میں خانگی طور پر مطالعہ کرتا رہا۔ ‘راز’ سب سے بڑی مصیبت تھی۔ سُنا تم نے؟ اگر میں ایک ہی بار اس راز کو ظاہر کر دیتا کہ میں کیا کر رہا ہوں تو ممکن تھا کہ دوسروں کو یقین آ جاتا اور وہ بھی میرے خیال کی تقلید شروع کر دیتے، پھر اُس وقت میں ہرگز اپنے آپ کو اس دھوکہ میں نہیں کہہ سکتا تھا کہ میں ہی اس ذہنیت کا آدمی ہوں، جو اس دوڑ میں سب سے آگے نکل سکتا ہے۔ اور سُنا تم نے؟ یہ امر بھی لازمی تھا کہ اگر در حقیقت میں ہیروں کا ایک انبار لگانا چاہتا تھا تو عوام الناس کو ہرگز اس امر کا نہ علم ہونے دیتا کہ وہ مصنوعی طور پر بنائے گئے ہیں۔ اس لیے مجھے تنہا محنت کرنی پڑتی تھی۔ پہلے تو میرے پاس ایک چھوٹا معمل تھا۔ لیکن جب آمدنی کے ذرائع گھٹنے لگے تو مجھے اپنے تجربے کنٹش ٹاون کے ایک خراب اور ردّی کمرے میں کرنے پڑتے تھے۔ جہاں مجھے اپنے آلات کے پاس ایک چٹائی پر سونا پڑتا تھا۔ روپیہ پانی کی طرح بہہ گیا۔ میں نے سائنس سے متعلقہ اشیاء کے سوا باقی تمام چیزوں سے اپنے آپ کو محروم کر لیا۔ میں نے کوشش کی کہ لڑکوں کو پڑھا کر اس کی اُجرت سے اس کام کو جاری رکھوں۔ لیکن بد قسمتی سے میں ایک اچھا معلم نہیں ہوں۔ نہ میرے پاس یونیورسٹی کی کوئی ڈگری ہے اور نہ میں نے کیمیا کے علاوہ دوسرے مضامین میں کافی تعلیم پائی ہے، اور مجھے معلوم ہوا کہ تھوڑے، مگر قیمتی روپیہ کو حاصل کرنے کے لیے مجھے بہت کافی محنت کرنی ہو گی اور بہت وقت صرف کرنا پڑے گا۔ لیکن میں اس راز سے قریب اور قریب تر ہوتا گیا۔ چنانچہ تین سال گذرے کہ میں نے سیال کی تیاری کا کلیہ دریافت کر لیا ہے اور اس کا ٹھیک دباؤ بھی۔ میں نے اس سیال کو کاربن کی ایک قلیل مقدار کے ساتھ، بندوق کی نلی میں رکھ کر پانی بھر دیا۔ پھر اس کو مضبوطی سے بند کر کے گرم کیا۔ اس کا نتیجہ ہیرے کی شکل میں برآمد ہوا۔
وہ ساکت ہو گیا۔
کس قدر خطرناک تجربہ ہے!“ میں نے کہا۔
“ہاں بندوق پھٹ گئی اور تمام کھڑکیاں ٹوٹ گئیں اور بہت سے آلات برباد ہو گئے۔ تا ہم اس سے میں نے ہیرے کا سفوف ضرور حاصل کر لیا۔ پگھلی ہوئی اشیاء پر زیادہ دباؤ ڈال کر قلموں میں تبدیل کرنے کے قاعدے کے مطابق میں نے پیرس کے معمل میں ڈابیری کے متعلق کچھ تحقیقات کیں۔ اس نے ڈائنا مائٹ کو ایک بہت مضبوط آہنی استوانہ میں رکھ کر، دھماکا کیا (EXPLODED) اور میں نے دیکھا کہ وہ اس طرح چٹانی پتھروں کو ایک نمناک مادہ میں تبدیل کر سکتا تھا جو جنوبی افریقہ کے اس مادہ سے بالکل مشابہ تھا جس میں ہیرے پائے جاتے ہیں۔ یہ میرے ذرائع میں ایک بہت مفید اضافہ تھا۔ میں نے اپنے مقصد کے تحت اسی نمونہ کا ایک استوانہ بنوایا۔ میں نے تمام ضروری چیزیں اور دھماکہ خیز اشیاء اس کے اندر رکھ دیں۔ بھٹی میں آگ سُلگائی۔ تمام ضروری آلات ترتیب دیے، اور پھر تفریح کو باہر چلا گیا”۔
میں اس کے اس طرزِ عمل پر ہنسے بغیر نہ رہ سکا۔ “کیا تم نے یہ نہیں سوچا کہ اس سے سارا گھر اُڑ جائے گا؟ کیا گھر میں اور لوگ بھی تھے؟
“گھر میں کئی آدمی تھے، ان میں ایک خط لکھنے والا منشی، اور دو گُل فروش عورتیں بھی مقیم تھیں۔ یہ نادانی کی بات ضرور تھی۔ لیکن ان میں سے تقریبًا ہر ایک گھر سے باہر گیا ہوا تھا۔
جب میں واپس آیا تو تمام چیزیں ویسی ہی رکھی تھیں، جیسے میں انھیں چھوڑ کر گیا تھا۔ یعنی سُرخ تپتے ہوئے کوئلوں میں دھماکہ خیز اشیاء سے نلی پھٹی نہیں تھی اور اب میرے لیے ایک اور معمہ حل طلب درپیش تھا۔ تم جانتے ہو کہ قلماؤ کے عمل میں وقت ایک بہت ضروری عنصر ہے۔ اگر تم جلدی کرو تو قلمیں چھوٹی بنیں گی، اس عمل کو دیر تک جاری رکھنے سے قلمیں کسی قدر بڑی بنتی ہیں۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس تیار شدہ آلہ کو دو سال تک ٹھنڈا ہونے دوں، تاکہ حرارت بتدریج کم ہوتی جائے۔ اور اب میرے پاس روپیہ بالکل نہ تھا۔ اس کے علاوہ گھر کا کرایہ بھی چڑھ گیا تھا۔ اور مجھے اپنا پیٹ بھی پالنا تھا۔ اور اب دنیا میں ایک پیسہ بھی میرے پاس نہ تھا۔
میں آپ کو نہیں بتا سکتا کہ جب میں ہیرے بنا رہا تھا تو مجھے کیسے کیسے دشوار حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میں نے اخبار فروخت کرنے کی نوکری کی ہے۔ لوگوں کے گھوڑے پکڑنے کی خدمت انجام دی ہے، اور گاڑیوں کے دروازے تک کھولنے کا کام کیا ہے۔ کئی سال تک میں نے محض لفافوں پر پتے تحریر کر کے اُجرت پیدا کی ہے۔ مجھے ایک شخص کے یہاں گاڑی کی ملازمت مل گئی۔ یعنی جب گاڑی سڑک پر گزرتی تھی تو میں لوگوں کو آوازیں دیتا رہتا تھا کہ وہ کنارے ہٹ جائیں۔ ہفتہ میں ایک روز مجھے بالکل فرصت رہتی تھی۔ اور میں اس روز بھیک مانگتا تھا۔
ایک روز کا واقعہ سنئے کہ آگ بجھنے جا رہی تھی، اور میں نے دن بھر کچھ نہیں کھایا تھا۔ ایک چھوٹے لڑکے نے بازار کی سیر کرانے کے لیے مجھے چھ نپس دیے۔ میں نے خدا کا شکر ادا کیا۔ جب میں سڑک پر سے گذرا تو مچھلی کی دکان سے بہت اچھی اچھی خوشبو آ رہی تھی۔ لیکن میں نے وہ چھ نپس بھی کوئلوں پر صرف کر دیے، اور پھر بھٹی کو سُرخ انگاروں سے دہکا دیا۔ ہاں بھوک ایک آدمی کو بیوقوف بنا دیتی ہے۔
آخر کار تین ہفتے گزرے، کہ میں نے آگ بجھ جانے دی۔ میں نے استوانہ کو کھولا۔ وہ اس وقت بھی اس قدر گرم تھا کہ میرے ہاتھ میں چرکے لگے۔ میں ایک چمچہ نما سلاخ سے اس لاوا کی مانند مادے کو کھرچنے لگا۔ اور ایک آہنی سِل پر رکھ کر ہتھوڑے سے توڑ کر ایک سفوف بنا لیا اور اس طرح میں نے تین بڑے اور پانچ چھوٹے ہیرے حاصل کیے۔جب میں نیچے کے کمرے میں بیٹھا ہوا ہتھوڑے چلا رہا تھا تو میرا دروازہ کھلا اور میرا ہمسایہ، خطوط نویس داخل ہوا۔ وہ نشہِ شراب سے سرشار تھا۔ جیسا کہ اُس کی ہمیشہ عادت تھی۔ “معدن تلاش،” وہ بولا، “تم نشہ میں ڈوبے ہوئے ہو؟” میں نے جواب دیا۔
”بدمعاش۔ ناصح،” اُس نے پھر کہا، “اپنے باپ کے پاس جاؤ۔” میں بولا۔
